کتاب ‘ چین سے چین تک ‘ ----- کتنی اس کی تعریف کروں

(Munir Bin Bashir, Karachi)
کچھ دنوں قبل مجھے ایک کتاب موصول ہوئی ہے جس کا نام ہے ’ ـچین سے چین تک ‘مصنف ہیں جناب محمد کریم احمد -
۔ جناب محترم تین سال تک ( 2015 سے 2018 تک ) چین کے بین الاقوامی ریڈیو اسٹیشن پر اردو ماہر کے طور پر خدمات سر انجام دیتے رہے ٴ اور اس کے بعد چین کے بارے میں اپنے مشاہدات و تاثرات کو کتابی شکل میں چھاپا ہے ۔ لیکن یہ مشاہدات چھاپنے کے لئے وہ تحقیقاتی مراحل میں سے بھی گزرے اور خوب چھان پٹک کر کے ایک شاندار کتاب سامنے لائے ہیں جس میں آج کے تناظر میں چین کے حالات کا جائزہ لیا گیا ہے
یہ کتاب مجھے کیوں موصول ہوئی ٴ اس کی بھی لمبی کہانی ہے - بس یوں سمجھیں کہ اس میں بھی ان کی تحقیق کا دخل ہے -
انہوں نے معلوم کیا کہ کون ہیں جو چین کے معاملات پر تجزئیے کرتے رہتے ہیں اور اس سلسلے میں میرے لکھے ہوئے مختلف کالم ان کی نظر سے گزرے - انہوں نے اس کتاب کی ایک جلد مجھے بھیجی تاکہ میں جدید چین کے ان جدید ترین پہلؤوں سے بھی آگاہی حاصل کر لوں - اور میں تسلیم کرتا ہوں کہ جدید چین کے ان پہلؤوں سے میں آشنا نہیں تھا اور مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب پڑھنے والے کتاب پڑھ کر مجھ سے متفق ہوجائیں گے -

بچپن میں طلسم ہوش ربا کی ایک کہانی پڑھی تھی ’’عمرو عیار کی زنبیل ‘‘ ۔۔۔۔۔۔ کیا حیرت انگیز کہانی تھی وہ کہانی جتنی تجسس والی تھی اس سے زیادہ اس کہانی کی زنبیل تھی۔ زنبیل فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی چمڑے کی تھیلی ۔ عمرو کو جب بھی کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو اس زنبیل سے نکال لیا کرتا تھا - یہ کتاب بھی ایک قسم کی زنبیل ہے ۔ پاکستان کن مسائل سے نبرد آزما ہے ۔ کن کن معاملات میں لوگ پریشان ہیں - چین نے اپنے ان مسائل سے کیسے رہائی پائی - ان پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے - زنبیل کی طرح کتاب کھولیں اور ان تمام سوالات کے جوا ب پائیں -

ملک میں آج کل مصنوعی کھاد کا بڑا واویلا مچا ہوا ہے ۔ چین کی ایک زرعی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے ایک طالب علم نے کتاب کے مصنف سے کہا کہ پاکستان میں ضرورت سے زیادہ کھاد استعمال کی جاتی ہے ۔ پاکستان میں پودا صرف 25 فیصد کھاد استعمال کرتا ہے باقی 75 فیصد کھاد ضائع جاتی ہے ۔ یہ ضائع شدہ کھاد آلودگی کا باعث بنتی ہے - - - کتاب میں پندرہ صفحات چین میں زراعت کے مسائل پر مختص کئے گئے ہیں جن سے پاکستان بھی مستفید ہو سکتا ہے

کتاب کچھ ایسی معلومات بھی مہیا کرتی ہے جو حیرت کے دروازے وا کر دیتی ہیں ۔ ہم نے کیا سوچا تھا یہ کیا نکل رہا ہے ۔ مثلاً چین میں مساجد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ساری بند ہیں ایک آدھ ہی کھلی ہے لیکن کتاب کے مصنف کہہ رہے ہیں کہ وہ مختلف مساجد میں جاکر نماز کی ادائیگی کرتے رہے کہیں روک ٹوک نہیں ہوئی بلکہ اپنے ایک دوست کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ نماز کے پابند تھے اور نماز قضا کر نے سے پرہیز کرتے تھے چنانچہ سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر جہاں جگہ ملتی نماز پڑھا کرتے تھے کبھی کبھار ذیلی سڑک اور بڑی سڑک کے درمیان واقع چھوٹے سے لان میں نماز اادا کر لیا کرتے تھے ۔ ایک پاکستانی کے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے یہیں ایک گاؤں کی مقامی لڑکی سے شادی کی ہے ۔ لڑکی نے شادی سے پہلے اسلام قبول کیا ۔ شادی کی تقریب میں مقامی حکومت کے نمائندے بھی شریک ہوئےتھے اور ٹی وی چینل پر اس بارے میں خبر بھی دی گئی۔ اس معاملے میں ماضی میں اتنی گرد اڑائی گئی تھی کہ کچھ نظر نہیں آتا تھا لیکن 2020 میں چھپنے والی یہ کتاب مختلف واقعات بیان کر کے گرد صاف کر دیتی ہے اور بتاتی ہے کہ چین کی مسجدوں میں پاکستانی امام بھی نظر آتے ہیں ۔

ڈاکٹر مرتضیٰ مغل اپنے کالم مطبوعہ نوائے وقت تاریخ 5 مارچ 2021 میں کہتے ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ دنیا سے شر مکمل طور پر ختم ہو گیا ہو - خیر اور شر کی جنگ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی ۔ اس میں کسی خاص خطے یا علاقے کی تخصیص نہیں ہے ۔ اسی سبب سے ملکی امور میں بعض اوقات کرپشن کے معاملات در آتے ہیں ۔ پاکستان میں ایسے معاملات کے مسائل حل کر نے کے لئے سابق حکمران جنرل مشرف نے ایک احتساب کا ادارہ بنایا تھا جس کا مخفف نام ’نیب ‘ تھا ۔ یہ اب بھی کام کر رہا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ ہمیشہ تنقید کی زد میں ہی رہا ہے - اس کے اختیارات پر مکالمے ہوتے رہتے ہیں ۔ جب مان لیا گیا ہے کہ خیر و شر صدا سے ہیں اور صدا تک رہیں گے تو چین بھی اس سے مبرا نہیں ہے ٴ وہاں بھی ایسے کرپشن کے قصے اٹھتے رہتے ہیں ۔ وہاں بھی اس طرح کے امورکو طے کرنے کے لئے ایک ’نیب‘ قسم کا ادارہ بنایا گیا ہے ۔ جناب محمد کریم احمد صاحب نے ان کا تذکرہ کیا ہے اور چین کے اس ’نیب‘ کے اختیارات کے بارے میں بات چیت کی ہے ۔ اس کا مطالعے سے ایک فرد صحیح قسم کے نتیجے پر پہنچ سکتا ہے اور یہ بھی فیصلہ کر سکتا ہے کہ پاکستان میں نیب کو جو اختیارات دئے گئے ہیں وہ کم ہیں یا زیادہ -

پاکستان کی فلمی صنعت کے مسائل سے ہر ایک آشنا ہے ۔ عیدالفطر 2022 کے موقع پر کراچی کے ایک سینما میں پہلے دن اور پہلے شو میں صرف دو ہی افراد تھے اور وہ بھی تماش بین نہیں تھے بلکہ اخبار کے رپورٹر تھے اصل تماش بین ایک بھی نہیں تھا ۔ مصنف نے چینی سینماؤں اور وہاں کی فلمی صنعت کے بارے میں کافی روشنی ڈالی ہے - چین میں بھارتی فلمیں اور ڈرامے بہت مقبول ہیں ۔ یہ فلمیں اور ڈرامے چینی زبان میں ڈب کئے ہوتے ہیں - ایک پاکستانی نے ایک چینی فلم میں ولن کا کردار بھی ادا کیا ہے - ایک اور پاکستانی چینی زبان میں ٹی وی چینلز پر گائیکی بھی کرتے ہیں

کتاب میں اتنے سارے موضوعات پر مباحث کئے گئے ہیں کہ یہ کالم سب کو سمو نہیں سکتا ۔
دنیا کی سب سے بڑی دوربین میں انہوں نے کیا دیکھا اور کیا سنا ۔
ایشیا کی سب سے بڑی لائبریری میں کیا مشاہدات ہوئے اور ہم بحیثیت قوم کہاں کھڑے ہیں ۔
کرائے کی سائیکلوں کےکمپیوٹر سے مربوط نظام سے لوگوں کے نقل و حرکت کے مسائل کیسے حل ہوئے ۔
وہاں لوگوں میں توہمات اور رسومات کے کیا احوال ہیں اور اس کے لئے وہ کیا کیا اعمال کرتے ہیں ۔ انہیں پڑھ کر کبھ کبھی تو قاری کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آجاتی ہے

دقیق تکنیکی معاملات کی تشریح کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے لیکن مصنف اس میدان میں نہایت چابک دستی سے نمٹ کر قاری کو مختلف الجھنوں سے بچاتے ہوئے صحیح صورتحال سے آگاہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں اس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب میں انہیں اس کتاب میں خالصتاً تکنیکی موضوع ’ کمپیوٹر کے ذریعے کثیر مقدار میں موجود اعداد و شمار ( ڈیٹا ) کے تجزیہ کرنے والے پروگرامنگ کی تفصیل بتا تے ہوئے دیکھتا ہوں


سناروں کے پاس ایک پتھر ہوا کرتا تھا جس کی مدد سے سونے کی پرکھ یعنی جانچ کیا کرتے تھے کہ کتنا خالص ہے ۔ یہ کتاب بھی سونے جیسی ہے اس لئے آئیے اسے بھی کسوٹی سے پرکھتے ہیں ۔ زاہدہ حنا ابھی حال ہی کے ایک لکھے کالم میں فرماتی ہیں کہ وہ اادیب جو تخلیقی عمل کے دوران معلومات سے استفادہ کرتے ہیں ان کی تحریریں شوق سے پڑھی جاتی ہیں ـ اگر اس کتاب کا جائزہ لیا جائے تو اس کسوٹی پر سو فیصد پوری اترتی ہے ۔ جناب محمد کریم احمد اس کی تخلیق کے دوران معلومات کے دریاؤں میں بھی تیرے ‘ اعداد و شمار کی بھول بھلیوں میں سے بھی گزرے ‘ تاریخ کے حوالوں کے پہاڑ بھی پار کئے اور تب جاکر یہ کتاب وجود میں آئی ۔

ایک گھر میں ایک خاتون خانہ نے اس کتاب کا مطالعہ کیا اور بے ساختہ کہا کہ یہ تو ’ دادی جان کی پٹاری‘ ہے - شوہر جو میر امن دہلوی کا قصہ حاتم طائی پڑھ رہے تھے نے سوال کیا اے خانم خانہ اس پٹاری کا کیا ماجرہ ہے بیان کرو تاکہ خلق خدا تک پہنچاوٗں اور مرد با د یا نت و ا ما نت کہلواوٗں جو کلام سود مند سنتا ہے اور خلق خدا تک پہنچاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً پچاس برس پہلے ایک عورتوں کا رسالہ چھپتا تھا اس میں ہر ماہ ایک کالم آتا تھا ’دادی اماں کی پٹاری سے ‘ جس میں کوئی بوڑھی خاتون عورتوں کو گھریلو ٹوٹکے بتاتی تھیں ٴ بچوں کی عمومی بیماریاں ‘خواتین کی صحت کے مسائل وغیرہ وغیرہ ٴ سو یہ کتاب ’چین سے چین تک ‘ بھی بھی اسی پٹاری کی طرح موجودہ چین کے تمام پہلوٗوں کے بارے میں بتاتی ہے جس سے پاکستان میں کلیدی مناسب پر فائز افراد پاکستان کے لحاظ سے کام کے موتی چن کر ملک کو ترقی کی شاہراہ کی طرف لے جا سکتے ہیں - حکومت کو چاہیئے کہ اس کتاب کی ایک جلد مختلف وزارتوں کی لائبریریوں اور جامعات کی لائبریریوں میں رکھوائے اور ہو سکے تو اس کا سندھی ترجمہ بھی کروائے - اس کے علاوہ پاکستان کی مختلف جامعات اور درسگاہوں میں اس کتاب کی بابت سیمینار اورمکالماتی مجالس منعقد کی جانی چاہیئں تا کہ طلبہ و طالبات آ نے والے وقتوں میں اٹھنے والے مسائل خوش اسلوبی سے حل کر سکیں ۔
یہ کتاب فکشن ہاوس والوں نے شائع کی ہے ۔ کتاب میں ایک آدھ مقام پر پروف کی غلطیاں تھی جن کی میں نے جناب محمد کریم احمد صاحب کو نشان دہی کردی ہے اور انہوں نے اگلے ایڈیشن میں انہیں دور کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔
انہوں نے ریڈیو بین الاقوامی چین کی عمارت بہت تعریف کی ہے ۔ کہتے ہیں کہ وہ ایک کھلی کتاب کی طرح دکھتی ہے لیکن اس کی کوئی تصویر نہیں چھاپی ۔ وہ بھی چھاپ دیتے تو اچھا تھا ۔ میں نے بھی گوگل کے ذریعے اس کی تصویر دیکھی - کتاب کی قیمت مناسب ہے یعنی چھ سو روپے

کتاب میں تحریر ایک تبصرے پر اپنی بات کہے بغیر کالم ختم کر دوں دل نہیں مانتا ۔ کیوں کہ یہ پاکستان کی بنیادوں کو توانائی پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے ۔ پاکستان اسٹیل مل کے حالات سنبھالنے کے لئے ایک مرتبہ جنرل صبیح قمرالزماں کو بھیجا گیا جو خود بھی انجینئر تھے لیکن انتظامی امور میں بھی پوری طرح مہارت رکھتے تھے ۔ ان کے کئی فیصلے اتنے متاثر کن تھے کہ بعد میں کسی بھی فرد نے انہیں نہیں چھیڑا ۔ ان کے دور میں اسٹیل ٹاوٗن میں ایک لائبریری قائم کی گئی ۔ یہ لائبریری ائیرکنڈیشنڈ تھی ۔ ایک مرتبہ کسی نے صبیح قمرالزماں سے کہا کہ دوپہر دو بجے سے چار بجے تک یہاں آنے والوں کی تعداد اپنی پیک پر (یعنی اپنی انتہا پر) ہوتی ہے جس میں اکثریت طلبہ کی ہوتی ہے ۔ صبیح قمر الزماں صاحب نے کہا کہ کوئی بات نہیں کسی بہانے تو بچے کتابیں پڑھ رہے ہیں ۔ کتاب ’چین سے چین تک ‘ میں مصنف کتابوں کے بہت بڑے مال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہاں اپنی ماوٗں کے ساتھ ٓنے والے بچے ریکس (الماریوں ) کے درمیان فرش پر بیٹھ کر ہی مختلف کتابیں پڑھ رہے تھے ۔ کسی نے انہیں باور کرانے کی کوشش نہیں کی کہ وہ وہاں بیٹھ کر مفت میں کتاب کیوں پڑھ رہے ہیں ۔
کیا ہمارے اخبار فروش حضرات یا کتب کا کاروبار کرنے والے حضرات چھوٹے پیمانے پر ایسا کر سکتے ہیں ؟
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Munir Bin Bashir

Read More Articles by Munir Bin Bashir: 121 Articles with 250225 views »
B.Sc. Mechanical Engineering (UET Lahore).. View More
17 Jun, 2022 Views: 880

Comments

آپ کی رائے