ابلاغ عامہ کے موضوع پر ڈاکٹر شبیر احمد خورشیدکی تصنیف ۔ایک جائزہ

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

ابلاغ عامہ یا ماس کمیونی کیشن(Mass Communication)بنیادی طور پر جرنلزم ہے، وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کا عمل آگے بڑھا ،انفارمیشن ٹیکنالوجی نے جہاں دیگر شعبوں کو اپنی گرفت میں لیا وہاں صحافت کا شعبہ بھی کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کے ہاتھوں ایسا گرفت میں آیا کہ اس نے جرنلزم سے ماس کمیونی کیشن کا روپ اختیار کر لیا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ علم کے مختلف شعبوں میں ترقی ہوئی لیکن ابلاغ عامہ کے شعبے نے تمام علوم سے زیادہ اپنے آپ کو وسیع سے وسیع تر کرکیا۔ابلاغ عامہ آج گھر گھر کی ضرورت اور ہر گھر میں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ آج انسان کی زندگی ابلاغ عامہ کے بغیر ممکن نہیں تو غلط نہ ہوگا۔ لمحہ موجود میں ابلاغ نے جو صورت اختیار کر لی ہے اس کے بارے میں ماضی میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا، آج وہ کچھ ممکن ہوچکا ہے جس کے بارے میں خیال تھا کہ یہ ممکن نہیں۔ گویا انسانی تحقیق اور جستجو نے نا ممکن کو ممکن بنادیا ہے۔ اس لیے کہ انسان کو تحقیق کر نے جستجو کرنے کی ہدایت اللہ تعالیٰ نے خود کی ، جس پر عمل کرتے ہوئے آج دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ سمٹ کر رہ گئی ہے، کسی بھی غریب سے غریب بستی، اونچے نیچے علاقوں، پہاڑوں، سمندر میں سفر کرتے ، میلوں دور رہتے ہوئے بھی ایک شخص دوسرے شخص سے نہ صرف رابطے میں بلکہ اسے دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گفتگو بھی کر رہا ہے۔ ہم اپنے گھر میں ہیں موبائل بند اس کے باوجود ہماری لوکیشن چھپی ہوئی نہیں کہ ہم کہاں ہیں، کیا کر رہے ہیں۔گویا ابلاغ نے انسان کو غیر محفوظ بھی کردیا ہے۔ یہی سب کچھ ابلاغ عامہ ہے جس کے بارے میں ڈاکٹر شبیر خورشید نے اپنی تصنیف میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔

کتاب کے مصنف پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید سے میرے برادرانہ اور پیشہ ورانہ تعلقات ہیں۔ ہم ریٹائرڈ لائف سے قبل بھی اور ریٹائر ہونے کے بعد بھی ایک ہی کشتی کے سوار ہیں ، وہ کشتی ہے لکھاریوں کی ، مصنفین کی۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی اپنی ریٹائر لائف میں لکھنے کی جانب توجہ دی اور اب ان کے مشاغل میں لکھنا ہے اور وہ کالم نگار بھی ہیں، ہر موضوع پر خوب کالم لکھتے ہیں۔ ہماری ویب رائیٹرز کلب میں ہمارے قدم بہ قدم ہیں۔ہمارا مقصد خود لکھنا اور نئی نسل کو لکھنے کی جانب مائل کرنا ، ان کی رہنمائی کرنا، انہیں لکھنے یا چھپنے میں جو مشکلات آئیں ان میں ان کی مدد کرنا ہے۔ ہماری وب رائیٹرز کلب کا بنیادی مقصد یہی ہے میرے علاوہ ڈاکٹر صاحب اس ٹیم ک ایک اہم حصہ بھی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا اصل موضوع تو پاکستان اسٹڈیز رہا ، پاکستان اسٹڈیز کا مطلب پاکستان کی تاریخ، سیاست ، معیشت، عمرانیات غرض پاکستان کے حوالے سے ہر پہلو کو مطالعہ۔ جس کا مطالعہ وسیع ہو اس کے لیے کسی بھی موضوع پر لکھنا مشکل نہیں ہوتا ۔ڈاکٹر صاحب نے لمح�ۂ موجود کے ایک اہم موضوع ’ابلاغ عامہ‘ کو اپنی کتاب کا موضوع بنایا اور اس پر جو مواد فراہم کیا ، گویا انہوں نے اس کا حق ادا کردیا۔ اردو زبان میں ایسے پیشہ ورانہ اور فنی موضوعات پر لکھنا مشکل ہوتا ہے لیکن ڈاکٹر صاحب خوبصورتی اور مہارت کے ابلاغ عامہ کو ایک آسان موضوع بنا کر پیش کردیا ہے۔

ابلاغ کی جو تعریفیں بیان کی گئی ہیں ان میں ایک تعریف یہ بھی ہے کہ ’ابلاغ عامہ اطلاعات کا مطالعہ ہے ‘۔ ’’پاکستان میں ابلاغ عامہ ‘‘ کے عنوان سے پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید کی یہ تصنیف پاکستان میں ابلاغ عامہ پر وسیع معلومات کے ساتھ ساتھ ابلاغ عامہ کے نصابی ضروریات کو بھی پورا کرتی ہے۔ کتاب کے عنوان سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ یہ کتاب الیکٹرانک میڈیا یا ٹی وی چینلز اور اینکر پرسنز، مائک اور موبائل سے بحث کرتی ہے ، یہ ذرائع جدید ذرائع ضرور ہیں لیکن صحافت کی ابتدا تو پرنٹ میڈیا تھی اور آج بھی پرنٹ میڈیا کی ضرورت اور اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اخبارات ماضی کے مقابلے میں زیادہ شائع ہورہے ہیں، ٹی وی چینلز کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ کتاب کے سرورق پر مختلف ٹی وی اینکرز کے ساتھ اگر پرانے اخبارات کی تصویر یں بھی شامل ہوجاتیں تو ٹائیل میں چار چاند لگ جاتے۔

ڈاکٹر شبیر خورشید کی یہ تصنیف ابلاغ عامہ کے موضوع پر تفصیلی مواد فراہم کرتی ہے۔ کتاب 16ابواب میں تقسیم ہے،ہر باب کو ذیلی موضوعات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جیسے پہلا باب ’ ابلاغِ عامہ مقاصد اور عمل‘ میں ابلاغِ عامہ کی تعریفیں، آواز اور ابلاغ ، ابلاغ کی اہمیت، ابلاغ کیوں ضروری ہے، ابلاغ کی اقسام، صحافت اور ابلاغ عامہ میں فرق، مقصداور صحافت کے ذرائع شامل ہیں۔ باب2 ’جنوبی ایشیا اور مغرب میں ابلاغ عامہ کا ارتقاء‘سے بحث کرتا ہے ، جس میں برصغیر میں ابلاغ کے ارتقاء کی تاریخ، ہندوستان کی مقامی زبانوں میں ابلاغ ، شمالی ہندوستان میں ابلاغ، پاکستان کے خطوں میں ابلاغ کا آغاز، ہندوستان کے دیگر علاقوں میں ابلاغ کا ارتقاء، مسلم ابلاغ ، 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد مسلم ابلاغ شامل ہے۔ باب3 ’ابلاغِ عامہ کا بنیادی تصور‘کی تفصیل بیان کرتا ہے جس میں اقسام، اخبارات، کتب و پریس، طباعتی ذرائع، بصری ذرائع ابلاغ، خصوصیات، رسائل، مقاصد، میڈیا کے اثرات عمرانیات پرشامل ہیں۔ باب4’ذرائع ابلاغ اور ان کی اہم اقسام ‘ پر مبنی ہے ۔اس باب میں رسائل ، اخبارات ویڈیو گیمز، ریڈیو، فلمی صنعت، ٹیلی ویژن اور اس کی اہمیت، انٹر نیٹ اس کی تعریف شامل ہے۔ باب5 ’انٹر نیٹ جدید ابلاغ‘ بھی انٹر نیٹ سے متعلق مواد فراہم کرتا ہے۔ باب6’ابلاغی عمل اور اس کی ترقی‘سے بحث کرتا ہے۔ باب7’رائے عامہ‘کے بارے میں اس کی تعریف، تشکیل، اثرات اور تاریخی پس منظر ، مقاصد، طریقہ کار، ذرائع پروپیگنڈہ اور اس کے مقاصدکی وضاحت کرتا ہے۔ باب8’صحافت و میڈیا ، قیام پاکستان‘پر تفصیلی مواد فراہم کرتا ہے۔ اس میں 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد مسلم صحافت، ہندوستان میں مسلم صحافت، مختلف اخبارات کا ذکر ہے، سرسید احمد اور سائنٹیفک سوسائیٹی کی خدمات، مولانا ظفر علی خان ، محمد علی جوہر، منشی محبوب عالم، حمید نظامی، عنایت اللہ، میر خلیل الرحمٰن کا صحافت میں کردار پر روشنی ڈالتا ہے۔ باب9’قیام پاکستان کے بعد ہماری صحافت کا قومی یکجہتی میں کردار‘ کے موضوع پر تفصیلی مواد فراہم کرتا ہے۔ باب10’صحافتی قوانین اور آزادیِ صحافت‘سے متعلق ہے۔ باب11’ گروہی اور پارٹی سیاست میں ابلاغ عامہ (میڈیا) کا کردار‘سے بحث کرتا ہے اس میں مسلم لیگ اور قائد اعظم محمد علی جناح پرنٹ میڈیا کے حوالے سے ، میڈیا کا سیاسی جماعتوں کی الیکشن مہم میں جانبداری پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ سوشل میڈیا کا پاکستان میں کردار اور 2013ء کے انتخابات اور سوشل میڈیا کے کردار کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ باب12’اسلام اور ابلاغ عامہ کا تصور‘سے بحث کرتا ہے ۔ اس میں عرب سیاسی حالات اور ابلاغ اسلامی کے بارے میں مواد فراہم کیا گیا ہے۔ باب13 ’اداریہ نگاری‘ کے بارے میں ہے۔ اہمیت ، نقائص، اوصاف، افادیت کا ذکر ہے۔ باب 14’ فیچر نگاری ، کالم نگاری‘کی وضاحت کرتا ہے۔ اس کا مفہوم، اقسام، خصوصیات،کالم نگاری کیا ہے، مختلف کالم نگاروں کی رائے درج ہے ، کالم اور خبر کا فرق بیان کیا گیا ہے۔ باب15 ’تبصرہ نگاری ‘ کے بارے میں ہے۔تبصرہ نگاری ادب کی اہم صنف ہے ۔ اس میں مکتوب نگاری اور ایڈیٹر کے نام خطوط کا پس منظر بھی بیان کیا گیا ہے۔ مراسلات کی اقسام بھی اس باب کا حصہ ہیں۔ کتاب کا آخری باب16 کتاب میں استعمال شدہ ’ اصطلاحات ‘پر مبنی ہے ۔
 
ابلاغ عامہ کے موضوع پر اردو میں ایک اچھی اور کامیاب کوشش ہے۔ مصنف نے عام روایت سے ہٹ کر یہ کام کیا کہ کتاب کے بارے میں نہ تو کسی دوسرے شخص کی رائے یا تبصرہ جسے عرف عام میں پیش لفظ کہتے ہیں شامل کیا اور نہ ہی از خود کتاب کا تعارف تحریر فرمایا جس سے یہ وضاحت ہوجاتی کہ مصنف نے یہ کتاب عام قاری کے لیے لکھی ، اس کے ذہن میں ابلاغ عامہ کے طالب علم تھے یا عام قاری یا کچھ اور ۔

فہرست
ابواب میں لفظ ابواب لکھا ہوا نہیں جس سے اندازہ ہوسکے کہ نیا باب یہاں سے شروع ہوا ، بس موضوعات، ذیلی موضوعات کے سامنے صفحہ نمبر درج ہیں۔ باب 6کی تفصیل فہرست میں نہیں آسکی یعنی صفحہ181 سے 190کی تفصیل فہرست میں درج ہونے سے رہ گئی ہے۔ اچھا ہوتا کہ فہرست میں باب نمبر بھی درج کردئے جاتے تاکہ پڑھنے والا متعلقہ باب تک آسانی سے پہنچ جاتا ہے۔جو مواد فراہم کیا گیا ہے اُسے دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ مصنف نے کتاب کی تدوین میں بہت محنت ، مشقت اور عرق ریزی سے کام لیا ہے، ابلاغ عامہ پر اردو میں اتنا تفصیلی مواد ایک جگہ مشکل ہی سے ملتا ہے۔ جس کے لیے مصنف قابل مبارک باد ہیں۔ کتاب کراچی سے عبداللہ برادرز نے شائع کی ہے ،487 صفحات پر مشتمل ضخیم کتاب کی قیمت بھی مناسب ہی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 785 Articles with 780143 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
01 Feb, 2018 Views: 6963

Comments

آپ کی رائے
Aslam.o.alikum sir how can i download this book
By: Muhammad Rafiq, Zhob on Oct, 15 2018
Reply Reply
0 Like
بہت عمدہ تبصرہ - دریا کو کوزے میں بند کرنا اسے کہتے ہیں - میں آپ سے متفق ہوں کہ اگر سرورق پر پرانے قدیم اخبارات کی تصویریں بھی شامل ہوجاتیں تو ٹائئل میں چار چاند لگ جاتے۔
آپ نے تحریر کیا ہے کہ باب8 سرسید احمد اور سائنٹیفک سوسائیٹی کی خدمات، مولانا ظفر علی خان ، محمد علی جوہر، منشی محبوب عالم، حمید نظامی، عنایت اللہ، میر خلیل الرحمٰن کا صحافت میں کردار پر روشنی ڈالتا ہے۔ میں نے کتاب نہیں پڑھی ہے لیکن فخر ماتری روزنامہ “حریت “ کے ایڈیٹر کا تزکرہ ضرور ہونا چاہئے تھا -انہوں نے اردو صحافت کو ایک نیا رنگ دیا تھا -

By: Munir Bin Bashir, Karachi on Feb, 01 2018
Reply Reply
0 Like