طیب رجب اردگان مشعل راہ ! (حصہ اول)

(Shahzad Saleem Abbasi, )

ترکش باشندے کہتے ہیں کہ’’ اردگان تم اصل حقیقت ہو۔تم وہ ستارہ ہو جو افق پر چڑھ کر سب کوترقی ،خوشحالی اور امن کی طرف بلا رہا ہے۔ طیب رجب اردگان تم نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی ہے وہ گھرانہ خوش قسمت ہے ، جس معاشرے میں جنم لیا وہ معاشرہ پر رونق ہے، جس ملک میں ہوش سنبھالا وہ ملک چشم ما روشن دل ماشاد کی مانند ہے اور جس دور اور زمانے میں آنکھ کھولی و ہ دور بھی تیری حیران اور مسحور کن شخصیت سے متاثر ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی تیرے دشمن اور نامراد ہش ہش کیے چلے جاتے ہیں۔ توں آخر چاہتا کیا ہے؟ دنیا کے ہر اسلامی ملک کی نظر تجھ پہ ہی آکر کیوں ٹکتی ہیں؟ سعودیہ اور گلف بھی تجھ پر فدا ہیں۔پاکستان کا تقریباََ ہر سول و عسکری طبقہ اور حاکم تیری حکمرانی ، بہادری اور اسلام سے محبت کی مثالیں دیتا ہے۔ ایسا کیا ہے تجھ میں جو ہر طاقت ، ہر مصلحت، ہر ندا ، ہر بھلائی تیر ی طرف سے کچھی چلی آتی ہے۔ آج لوگ ترکی کو تیرے نام سے ہی پہچانتے ہیں۔ آخر کیا چل رہا ہے تیرے دماغ میں، تیرے بیرونی دوروں میں ایسی کیا خاص بات ہے جو توں ہر کمزور ملک کے حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کرتا ہے اور تنبیہ کرنا پھرتا ہے؟‘‘ ترکی کے کارناموں پر طائرانہ نظر دوڑائیں تو مندرجہ ذیل کام رجب اردگان کی تعریف کی تائید کرتے ہیں۔ طیب رجب اردگان مخالفین کو اس لیے کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے کہ اس نے29ایسے کارنامے دیکھائے ہیں جو اس سے پہلے کبھی کوئی ترکی کا حکمران نہ دکھا سکا۔

(1) 2013 میں ترکی کی کل ملکی پیداوار ایک ٹریلین ،سو ملین ڈالر تھی جو کہ مشرق وسطی کی مضبوط ترین تین اقتصادی قوتوں یعنی ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مجموعی پیداوار کے برابر ہے۔ (2) اردگان نے سالانہ تقریبا 10 پوائنٹس کے حساب سے اپنے ملک کی معیشت کو 111 نمبر سے 16 نمبر پر پہنچا دیا، جس کا مطلب ہے کہ ترکی دنیا کی 20 بڑی طاقتوں (G-20) کے کلب میں شامل ہوگیا ہے۔(3) اردگان نے ترکی کو دنیا کی مضبوط ترین اقتصادی اور سیاسی قوت بنانے کے لیے سن 2023 کا ہدف طے کیا ہے۔(4) استنبول ایئرپورٹ یورپ کا سب سے بڑا ایئر پورٹ ہے۔ اس میں یومیہ 1260 پروازیں آتی ہیں۔ مقامی ایئر پورٹ کی صبح کی تعداد 630 فلائٹس اس کے علاوہ ہیں۔(5) ترک ایئر لائن مسلسل تین سال سے دنیا کے بہترین فضائی سروس ہونے کا اعزاز حاصل کر رہی ہے۔ (6) 10 سالوں کے دوران ترکی نے جنگلات اور پھل دار درختوں کی شکل میں 2 بلین 770 ملین درخت لگائے ہیں۔(7) اپنے دور حکومت میں ترکی نے پہلا بکتر بند ٹینک، پہلا ایئر کرافٹ، پہلا ڈرون اور پہلا سیٹلائٹ بنایا ہے، یہ سیٹلائٹ عسکری اور بہت سے دیگر امور سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔(8) اردگان نے 10 سالوں کے دوران 125 نئی یونیورسٹیاں، 189 سکول، 510 ہسپتال اور 1 لاکھ 69 ہزار نئی کلاسیں بنوائیں تاکہ طلبہ کی تعداد فی کلاس 21 سے زیادہ نہ ہو۔ (9) گذشتہ مالی بحران کے دوران جب امریکا اور یورپ کی یونیورسٹیوں نے بھی اپنی فیسیں بڑھا دی تھیں ان دنوں میں بھی اردگان نے حکم نامہ جاری کیا کہ تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تعلیم مفت ہوگی اور سارا خرچہ حکومت برداشت کرے گی۔

(10) 10 سال پہلے ترکی میں فی فرد آمدن 3500 ڈالر سالانہ تھی جو 2013 میں بڑھ کر 11 ہزار ڈالر سالانہ تک پہنچ گئی تھی۔ یہ شرح فرانس کی فی فرد شرح آمدن سے زیادہ ہے، اس دوران ترکی کرنسی کی قیمت میں 30 گنا اضافہ ہوا۔ (11) ترکی کی بھرپور کوشش ہے کہ سن 2023 ء تک علمی تحقیقات کے لیے 3 لاکھ سکالرز تیار کیے جائیں۔(12) اہم ترین سیاسی کامیابیوں میں یہ بھی شامل ہے کہ اردگان نے قبرص کے دونوں حصوں میں امن قائم کیا اور کرد کارکنوں کے ساتھ برابری کی سطح پر مذاکرات کے ذریعے خون خرابے کو روکااور آرمینیا کے ساتھ مسائل کو سلجھایا۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کی فائلیں گذشتہ 9 دہائیوں سے رکی ہوئی تھیں۔ (13) ترکی میں تنخواہوں اور اجرتوں میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مزدور کی کم از کم تنخواہ 340 لیرہ سے بڑھ کر 957 لیرہ ہوگئی ہے۔ کام کی تلاش میں پھرنے والوں کی شرح 38 فیصد سے گھٹ کر 2 فیصد پر آگئی ہے۔ (14) ترکی میں تعلیم اور صحت کا بجٹ دفاع کے بجٹ سے زیادہ ہے۔ یہاں استاد کی تنخواہ ڈاکٹر کے برابر ہے۔ (15) مسلم ترکی میں 35 ہزار ٹیکنالوجی لیب بنائی گئی ہیں جہاں نوجوان ترکی تربیت حاصل کرتے ہیں۔(16) اردگان نے 47 ارب کا بجٹ خسارہ پورا کیا اور اس کے ساتھ ساتھ گذشتہ جون میں بدنام زمانہ ورلڈ بینک کے قرضے کی 300 ملین ڈالر کی آخری قسط بھی ادا کردی اور ورلڈ بینک سے کہا کہ اگر اب تمہیں قرضہ چاہیے تو مجھے سے مانگ لینا۔صرف یہی نہیں بلکہ ترکی نے ورلڈ بینک کو 5 ارب ڈالر قرضہ دیا۔ مزید برآں ملکی خزانے میں 100 ارب ڈالر کا اضافہ کیا، جبکہ اس دوران بڑے بڑے یورپی ممالک اور امریکا جیسے ملک قرضوں، سود اور افلاس کی وادی میں حیران و سرگرداں ہیں۔ ۔۔ ۔۔( جاری ہے)۔۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahzad Saleem Abbasi

Read More Articles by Shahzad Saleem Abbasi: 141 Articles with 54193 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Mar, 2018 Views: 371

Comments

آپ کی رائے