طیب رجب اردگان مشعل راہ ! (حصہ دوم)

(Shahzad Saleem Abbasi, )

اردگان کے کچھ مزید کارنامے کہ جن کی بدولت وہ آج نہ صرف خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہے بلکہ اس نے ترکی کو خوشحال فلاحی ریاست کے روپ میں ڈال کر کشکول کا خاتمہ کر دیا ہے۔(17) 10 سال قبل ترکی کی برآمدات 23 ارب ڈالرتھیں۔ اب اس کی برآمدات 153 ارب ڈالر ہیں جو کہ دنیا کے 190 ممالک میں پہنچتی ہیں۔ ان برآمدات میں پہلے نمبر پر گاڑیاں اور دوسرے نمبر پر الیکٹرانک کا سامان آتا ہے۔ یورپ میں بکنے والی الیکٹرانک اشیاء میں ہرتین میں سے ایک ترکی کی بنی ہوئی ہوتی ہے۔(18) ترکی حکومت نے توانائی اور بجلی کی پیداوار کے لیے کوڑے کی ریسائکلنگ کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ اس سے ترکی کی ایک تہائی آبادی مستفید ہو رہی ہے۔ ترکی کے شہری اور دیہی علاقوں کے 98 فیصد گھروں میں بجلی پہنچ چکی ہے۔(19) 2009 میں ہونے والی دافوس اقتصادی کانفرنس میں جب اسرائیلی صدر پیریز نے غزہ پر حملے کا جواز پیش کیا اور لوگوں نے اس پر تالیاں بجائیں تو اسرائیل کے اس دوست اردگان نے تالیاں بجانے والوں پر شدید تنقید کی اور یہ کہہ کر اس کانفرنس سے اٹھ گئے کہ '' تمہیں شرم آنی چاہیے کہ ایسی گفتگو پر تالیاں بجاتے ہو! حالانکہ اسرائیل نے غزہ میں ہزاروں بچوں اور عورتوں کی جانیں لی ہیں۔(20) اردگان وہ واحد شخص ہے جس نے اپنہ اہلیہ کے ساتھ برما کا دورہ کیا اور میانمار کے ستم رسیدہ مسلمانوں سے ملاقاتیں کیں۔(21) 9 دہائیوں پر محیط سیکولر دور حکومت کے بعد اردگان نے ترکی کی یونیورسٹیوں میں قرآن اور حدیث کی تعلیم دوبارہ شروع کی۔(22) اردگان نے یونیورسٹیوں اورعدالتوں میں حجاب پہننے کی آزادی دی۔(23) اردگان ترکی کے نصاب میں عثمانی رسم الخط کو واپس لا رہا ہے جو درحقیقت عربی رسم الخط ہے۔

حالات حاضرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اردگان نے ہنگامی دورے شروع کر دیے ہیں ۔جس میں سر دست اس نے افریقی ممالک کا انتخاب کیا ہے ۔ان میں سے 16ممالک بہت اہم ہیں جہاں پر عالمی طاقتوں کی بے ایمانی ساری کی ساری دولت اور ریزروز ہتھیانے کی کوششیں کر رہی ہیں ۔ خاص کر انگولا ، اتھوپیا ، ڈی آر سی،نائیجریا ، مصر گانا،کینیا، موریشیس، زمبیا،موروکو، مزنبیق،سنیگال، ساؤتھ افریقہ،تنزانیا اور یوگانڈا ’انوسٹمنٹ پوٹینشل‘ہونے کی وجہ سے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔اسی لیے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے 26 فروری سے 2 مارچ تک افریقہ کے چار ممالک (الجزائر، موریتانیہ، سینیگال اور مالی) کے سرکاری دورے کیے۔دوروں کے دوران اقتصادی تعلق کو اور مضبوط کرنے کے لیے ترکی کی بڑی کاروباری شخصیات بھی صدارتی وفد میں شامل ہوتی ہیں۔

غور طلب معاملہ یہ ہے کہ1923میں پہلی جنگ عظیم کے بعداتحادی قوتوں نے خلافت عثمانیہ کے ساتھ جبرا ایک معائد ہ طہ کیا۔فرانس ، جرمنی اور برطانیہ وغیرہ نے اس وقت ترکی کے سربراہ سلطان کے ساتھ 100سالہ معائدے کو مشروط کیا۔’’مشروط معائدے کی وجہ سے سلطان کی ساری املاک ضبط ہوگئیں، تین برااعظموں پر پھیلی خلافت عثمانیہ کے اثاثوں پر قبضہ اور خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہو گیا،ترکی کو سیکولر اسٹیٹ کا درجہ دے دیا گیا اور اسلام اور خلافت پر پابندی لگا دی گئی، پٹرول کی ڈرلنگ پر پابندی لگا کر بند رگاہ باسفورس کو پبلک پراپرٹی ڈیکلئیر کر دیا گیا۔ خلافت عثمانیہ جو تین برّاعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اس کا خاتمہ کر دیاگیا اور چالیس ممالک وجود میں آئے۔ خلافت عثمانیہ 1299میں وجود میں آئی تھی اورسو سالہ معائدہ 2022تک لاگو ہے۔ آج خلافت عثمانیہ ایک دفعہ پھر اپنی شان و شوکت ، مسلمانوں کے حقوق اور اسلامی نظام کے بول بالا کی صدائیں دے رہی ہے۔جو ں جوں 2022قریب آرہا ہے امریکہ کو فکر پڑھ گئی ہے کہ اگر عثمانی خون ترکی کی شکل میں جاگ گیا تو شاید ترکی عالمی سطح پر خود کو منانے میں کامیاب ہو جائے اور مسلمانوں کی حکومت ایک بار پھر لوٹ آئے!! لیکن امریکہ ، اسرائیل اور بھارت ٹرائیکا جو کہ اردگان کی نسبت کو بخوبی جانتا ہے اور کچھ بھی کر کے مصطفی کے چاہنے والوں کو ڈرانے دھمکانے کے سامان کرتے رہتے ہیں ۔ یا د رہے آج اردگان انہیں ممالک کے ہنگامی دورں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جو خلافت عثمانیہ کی وحدت پارہ پارہ ہونے کے بعد بکھر گے تھے۔اور ہم امید واثق کرتے ہیں کہ اردگان اور پاکستان مل کر اسلامی ممالک کی قیادت کرنے میں کامیاب ہو ں گے ۔ اے اردگان تجھے سلام، تم حقیقی معنوں میں مشعل راہ ہو!! ۔۔۔ختم شد۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahzad Saleem Abbasi

Read More Articles by Shahzad Saleem Abbasi: 139 Articles with 52285 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Mar, 2018 Views: 370

Comments

آپ کی رائے