اوٹ پٹانگ قصے

(Amjad Siddique, Lahore)

الیکشن کمیشن کاادارہ یوں تو ہمیشہ متازعہ رہا۔مگر جس طرز کی بے ضابطگیوں کے الزامات اس پر الیکشن دوہزار تیرہ کے معاملے میں لگے۔مثال نہیں ملتی۔پیپلزپارٹی والے اسے مینڈیٹ کی چوری کہتے ہیں۔اور تحریک انصاف والے اسے آر او الیکشن قرار دیتے ہیں۔عمران خاں الیکشن کے دو سال بعد تک دھاندلی کے الزاما ت لگاتے رہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کو ایک منصوبہ بندی کے ساتھ ہروایا گیا۔پلاننگ کے ساتھ ایسے آراو ز کا تقررکیا گیاجو ان کے مخالفین سے ملے ہوئے تھے۔خاں صاحب نے انتخابات میں دھاندلی ہونے کے الزام پر الیک لانگ مارچ بھی کیا تھا۔جسے آزادی مارچ کہا گیا۔اگر چہ عدالت کے ایک فیصلے میں دھاندلی سے متعلق تحریک انصاف کا موقف مسترد کردیا گیا مگراس عدالتی فیصلے کو قبول کرنے کا اعلان کرنے کے باوجود عمران خان نے دھاندلی دھاندلی کا شور مچانا بند نہیں کیا۔ الیکشن کمیشن میں تقرریاں حکومت اور اپوزیشن کی مشاورت سے ہوئی تھیں۔چیف الیکشن کمیشن کانام بھی مسلم لیگ (ن) کی طرف سے نہیں آیا۔اور نہ ہی نگران و زیر اعلیٰ پنجاب کانام ان کی طرف سے تجویز ہوا۔تب پی پی حکومت مرکز میں قائم تھی۔اس نے اپنے اتحادیوں اور اپوزیشن سے مشاورت کے بعد یہ انتظامات کیے۔ان دنوں پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے تعلقات کو کسی طور دوستانہ نہیں قراردیا جاسکتا۔دوسری طرف تحریک انصاف کی ان دنوں تیز یاں طراریاں اس کا ثبوت تھیں کہ ڈوریاں ہلانے والوں کا جھکاؤکس طر ف ہے۔ یہ کہہ دینا کہ تب آراو کی تقرری مسلم لیگ (ن) کی پسند پر کی گئی درست نہ ہوگا۔

ان دنوں پھر آنے والے انتخابات کے لیے تیارکیے جانے والے بندوبست کو لے کر بحث مباحثے ہورہے ہیں۔نئی حلقہ بندیوں پر جس طرح سے عدم اطمینان کیا جارہاہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ سب اچھا نہیں۔اس نئی حد بندیوں میں بلا کی کباحتیں ڈھونڈی جاسکتی ہیں۔اگر کسی بھی وقت کوئی بڑی جماعت سڑکوں پر آگئی تو حیرت نہ ہوگی۔قریبا سبھی جماعتیں ان نئی حلقہ بندیوں کو اپنے خلاف سازش قرار دے رہی ہیں۔ان نئی حلقہ بندیوں کے بعدقریبا تمام حلقوں میں نئی ترتیب سامنے آئی ہے۔اب امیدواروں کا وہ پینل جو پچھلے حلقوں کے حساب سے ترتیب دیا جاتارہاتھا۔غیر موثر ہوچکا۔نئی حد بندیوں کے حساب سے نئے پینل ترتیب دینا پڑیں گے۔ اس نئی حلقہ بندی کے خلاف حکمران جماعت میدان میں اتری ہوئی ہے۔اسے گلہ ہے کہ نئی حلقہ بندیاں اسے الیکشن میں نقصان پہنچانے کے لیے ترتیب دی گئی ہیں۔سب سے زیادہ ادل بدل پنجا ب میں ہوا۔جس میں سات قومی اسمبلی کی نشستیں کم ہوئیں۔مسلم لیگ (ن) موقف ہے کہ اسے مردم شماری کے نتائج سے گلہ نہیں مگر اعتراض یہ ہے کہ ان نتائج کو بنیاد بنا کر ہیرا پھیریاں کی جارہی ہیں۔کہا جارہا ہے کہ آبادی کے حساب سے نئے حلقے ترتیب دیے گئے ہیں۔مگر یہ ترتیب بڑی اوٹ پنانگ ہے۔کہیں ساڑھے گیارہ لاکھ آبادی کا قومی اسمبلی کاایک حلقہ بنادیا گیا۔اور کہیں چھ چھ لاکھ کے قومی اسمبلی کے حلقے بنوادیے گئے۔مسلم لیگ (ن) والے پنجاب میں ہونے والی اس بڑی ادل بدل کو اپنے خلاف سازش قراردے رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کو الزامات کا سامنا ہے۔پچھلے الیکشن پر اسے پی پی اور تحریک انصاف کی طرف سے الزاما ت سننے پڑے تھے۔لگتاہے اگلے الیکشن کے بعد مسلم لیگ (ن) کا واویلہ بھی سننے کو ملے گا۔الیکشن کمیشن کہنے کو تو ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے مگر جانے کیوں ا پنے خاموشی اور بے بسی پر رویہ اپنائے رکھنے سے اسے بھی پتلی تماشے کا حصہ سمجھا جانے لگاہے۔اپوزیشن اسے حکومت کی جیب کی گھڑی کہتی ہے۔اور حکومت اسے کسی اور طرف سے ہدایات پانے والا کوئی ادارہ۔اس ادارے کی ساکھ ان دنوں پھر سے متنازعہ ہورہی ہے۔اس وقت الیکشن کمیشن اور عدلیہ میں قریبا ایک سے معاملات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔دونوں ادارے مختلف ممبران کی اہلیت سے متعلق کیسزسن رہے ہیں۔دونوں کو مناسب ریسپانس نہیں مل رہا۔بالخصوص جس طرح کچھ لیڈران اور سیاسی جماعتیں غیرسنجیدہ لے رہی ہیں۔وہ افسوس ناک ہے۔یہ بھی ایک نامناسب بات ہے کہ جو معاملات صرف او رصرف الیکشن کمیشن میں طے ہونے تھے۔وہ عدلیہ میں لے جائے جارہے ہیں۔جو ہر آنے والے کو ویلکم کہہ رہی ہے۔الیکشن کمیشن کے بلاووں کو جس طرح بعض لوگوں نے بے فکری سے لیا۔وہ افسوس ناک ہے۔نہ صرف پیشی سے غیر حاضری ہورہی ہے۔بلکہ الیکشن کمیشن کا مذاق بھی اڑایا جارہا ہے۔الیکٹروریل سسٹم سے متعلق تمام تر معاملا ت جو صرف اور صرف الیکشن کمیشن میں طے ہونے چاہییں دوسری جگہ پر طے ہورہے ہیں۔دوسرے اداروں کو الیکشن کمیشن کے اختیارات اور دائرہ کارمیں مداخلت کا غیر آئینی رویہ ترک کرنا ہوگا۔اس سلسلے میں خود الیکشن کمیشن بھی اپنے پاؤں مضبوط کرے۔اگر یہ تاثر ملے گا کہ نئی حلقہ بندیاں الیکشن کمیشن کی اپنی سوچ نہیں بلکہ کہیں سے آئی پرچی کی دین ہیں تو بات نہیں بنے گی۔اگر یہ حد بندیاں برابری اور تناسب کے درست معیار پر ہوتیں تو انگلیاں نہ اٹھتیں۔تمام صوبوں۔تمام اضلاع میں مساوی پیمانہ ہونا چاہیے۔جب تک کسی مخصوص علاقے یا کسی مخصوص سیاسی جماعت کو کمزور کرنے کے اوٹ پٹانگ قصے لکھے جاتے رہیں گے۔ادارے مضبوط نہ ہوپائیں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amjad Siddique

Read More Articles by Amjad Siddique: 222 Articles with 65229 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Mar, 2018 Views: 141

Comments

آپ کی رائے