افغانستان میں امریکی شکست۔۔۔۔نوشتہ دیوار (آخری قسط)

(Sami Ullah Malik, )

پینٹاگون نے ٹرمپ کویہ بھی بتایا ہے کہ شام اور عراق میں داعش کے خلاف استعمال کی گئی حکمت عملی کو طالبان کے خلاف استعمال کرنا بھی اس منصوبے کا حصہ ہے لیکن اس کیلئے امریکا کو بھی ماضی کے مقابلے میں سنجیدگی اور مختلف انداز سے سوچنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ کیونکہ امریکا کو دوسرے ممالک کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔

افغانستان میں جنگ کودومحاذوں پرلڑنے کی ضرورت ہے،ایک عسکری محاذ اور دوسرا سفارتی محاذ جو مشکل محاذ بھی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اپنے اتحادیوں کوابھی تک یہ کہہ کرگمراہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے کہ جنگی نقطہ نظر سے افغانستان پر امریکی برتری واضح نظرآرہی ہےلیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکااورتمام مغربی اتحادی اس بات کوبھی تسلیم کرتے ہیں کہ طالبان پرتزویراتی فتح حاصل کرنے کیلئے دو علاقائی کردار پاکستان اور چین کو ساتھ ملانا ہو گا۔اوراس کے ساتھ ہی طالبان کوافغانستان کی مستقبل کی حکومت کاحصہ بنانے کی خواہش کو قبول کرنا ہوگا، اگر ٹرمپ انتظامیہ ان باتوں سے اتفاق کرتی ہے توفوری طورپرایک اورامریکی پالیسی بنانے کی اشد ضرورت ہے جس میں ان نکات کو اہمیت دی جائے ۔ اس پالیسی میں طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اقدامات کرنے پر پاکستان اور چین کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔

امریکی دفاعی وسیاسی تجزیہ نگارمسلسل ٹرمپ انتظامیہ کواپنی موجودہ پالیسیوں کوتبدیل کرنے کامشورہ دے رہے ہیں ۔ان کاکہناہے کہ افغان تنازعے کے حوالے سے امریکا کیلئے سب سے حوصلہ افزا بات یہ ہوسکتی ہے کہ موجودہ حالات میں چین کو پاکستان اور وسط ایشیائی ممالک میں بیلٹ اور روڈ منصوبے کی کامیابی کیلئے فوری طور پر افغانستان میں استحکام کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان اورچین پہلے دن سے ایران کوبھی اس منصوبے میں شمولیت کی دعوت دے چکے ہیں۔ چین کی حکومت نے اس حوالے سے بڑے سیاسی اور اقتصادی وعدے کرکے بہت کچھ داؤ پر لگا دیا ہے۔ چین تسلیم کرتا ہے کہ طالبان بنیادی طور پر افغانستان کی مستقبل کی حکومت میں کردار چاہتے ہیں۔ داعش کے برعکس طالبان عالمی جہاد کو افغانستان لانے کے خواہش مند نہیں ہیں۔ چین کے طالبان سے درپردہ رابطوں کی وجہ بھی یہی تھی،اس کے ساتھ ہی چین کو مکمل طور پر ادراک ہے کہ صوبے سنکیانگ کے شدت پسندوں نے طالبان سے طویل عرصے سے تعلقات قائم کررکھے ہیں،جس کے ذریعے وہ سیاسی طاقت کو فروغ دینے کی کوشش کررہے ہیں،اس معاملے میں پاکستان نے چین کی بھرپور مددکی ہے۔ پاکستان چین کو بڑی طاقت کے طورپراہمیت دیتاہے اورچین اس خطے میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت کوتسلیم کرتے ہوئے پاکستان کوایک مستحکم اورمضبوط طاقت دیکھنے میں پوری طرح مددگارہونے کاعملی یقین دلا چکاہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کو ’’ہر موسم‘‘ کا دوست تسلیم کرتے ہیں۔ ادھر پاکستانی سیاسی مقتدرقوتیں اورعسکری طاقت اس معاملے میں یہ فیصلہ کر چکےہیں کہ روایتی پاک امریکا تعلقات کی غیر موجودگی میں چین کی تزویراتی ترجیحات کا ساتھ دیا جائے۔ اس طرح پاکستان کی افغان امن عمل میں کردار ادا کرنے کی خواہش بھی پوری ہوجائے گی۔ اس لئے ٹرمپ انتظامیہ کیلئےیہ بہت ضروری ہے کہ بھارت کا کردار بڑھائےپاکستان کو افغانستان میں مستحکم کرنے میں مددفراہم کی جائے۔ پاکستان پہلے ہی مصدقہ اورٹھوس شواہد کی بناء پراقوام متحدہ ،امریکااوریورپی یونین کواس بات سے آگاہ کرچکاہے کہ بھارت افغانستان میں سفارتی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بلوچستان کے حالات خراب کررہاہے۔ امریکا کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان کیلئے افغانستان میں بھارت کے سفارتی اور فوجی اہلکاروں کی موجودگی میں اضافہ سرخ جھنڈے کی طرح ہے۔ افغانستان میں بھارت کی موجودگی پر پاکستانی تشویش کو دور کرنے کیلئے اوباما اورٹرمپ نے کبھی اقدامات نہیں کیے لہٰذا امن مذاکرات میں پاکستان کو دوبارہ شامل کرنے کیلئے پاکستان کی بھارت کے حوالے سےتشویش پرغور کیا جاناچاہیے۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ دونوں پڑوسی جنوبی ایشیائی ممالک کو ایک دوسرے سےتعاون کر نے کیلئے اکسایاجائے۔

انہوں نے اپنی تشویش کااظہارکرتے ہوئے یہ بھی مشورہ دیاہے کہ۴جنوری کو محکمہ خارجہ کی جانب سے پاکستان کی سیکورٹی امداد معطل کرنے کے اعلان سے خارجہ پالیسی کے حوالے سے ٹرمپ کی خالص کاروباری سوچ ظاہر ہوگئی ہے۔ اس عمل کے بارے میں ٹرمپ نے چند دن قبل ٹویٹ کر کے وارننگ دی تھی کہ’’امریکا نے پاکستان کو۳۳؍ارب ڈالر دے کربے وقوفی کی،جس کے بدلے کچھ حاصل نہیں ہوا‘‘۔امریکا کو توقع ہے کہ پاکستان پردباؤڈال کرکام کرایاجاسکتا ہےمگردباؤپاکستان کی مزاحمت میں اضافہ کرے گا۔ یہاں اس بات کی نشاندہی ضروری ہے کہ ٹرمپ امریکا کے دوستوں کے ساتھ بھی خالص کاروباری سوچ کے ساتھ معاملات طے کررہے ہیں۔ بہرحال اتحادیوں اور مخالفین کو پاکستان اور چین کے تعاون کی ضرورت ہے، ان دونوں ممالک کے تعاون کرنے کی بنیادی وجوہات بھی موجود ہیں۔ پاکستان اور چین افغانستان میں استحکام اور امن چاہتے ہیں۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ خاموش سفارت کاری کی جائے نہ کہ عوامی سطح پر لعنت ملامت کی جائے۔ افغانستان میں استحکام کیلئے پاکستان اور چین کا تعاون حاصل کرنے میں امریکی محکمہ خارجہ اور دفاع کا کردار بہت اہم ہوگا۔ ٹرمپ کی جانب سے محکمہ خارجہ کی اہمیت کو کم کرتے ہوئے اس کے بجٹ میں کٹوتی کرنا اور علاقائی تنازعات کے حل کیلئے فوج پر انحصار کرنا امریکا کو درپیش سنگین چیلنجوں میں سے ایک ہے ۔ افغانستان میں استحکام کیلئے ٹرمپ انتظامیہ نئی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت کا اندازہ ہی نہیں کرسکی ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کی جگہ سی آئی اے چیف مائیک پومپیو کو پاکستان، جنوبی ایشیا اور چین کے حوالے سے سفارتی تجربہ نہیں ہے۔ وزیر دفاع جیمز میٹس اس حوالے سے کافی تجربہ کار ہیں۔ ان کو کوئی اہم کردار سونپا جاتاتوبہترتھا۔ افغانستان میں امن و استحکام کے طویل مدتی امریکی وعدے کو پورا کرنے کیلئے پاکستان اور چین کو سیاسی معاملات میں یقین دہانی کرانا ہوگی، جو امریکی محکمہ خارجہ صبر آزما اور پیچیدہ مذاکرات کے ذریعے کروا سکتا ہے۔ ٹیلرسن کو عہدے سے ہٹایا جانا اس بات کی علامت ہے کہ امریکا اس خطے سے نکلنے سے قبل مسئلے کا فوری اور جزوی حل چاہتا ہے۔ افغان تنازعے کے حل کیلئے امریکا کو مختلف طریقے اپنانا ہوں گے۔ ورنہ مکمل شکست کا امکان ہمیشہ موجود رہے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 226962 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Mar, 2018 Views: 395

Comments

آپ کی رائے