سرور صاحب کا عقد ثانی

(Mona Shehzad, Calgary)

آج سرور صاحب کی بیوی کو اس جہان فانی سے گزرے ہوئے پورے دو سال ہوگئے تھے. وہ پینسٹھ سال کے صحت مند شخص تھے. ان کی شادی بیس سال کی عمر میں ہوگئی تھی. وہ اکیس سال کے تھے جب اللہ نے ان کو پہلے بیٹے سے نوازا تھا. پهر اللہ نے پھولوں اور کلیوں سے ان کا آنگن بهر دیا. ان کے پانچ تابعدار بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں.

ساری عمر انہوں نے ایمانداری اور محنت کو اپنا شعار بنانے رکھا. بچوں کی تمام معاملات بہت ہی احسن طریقے سے انہوں نے انجام دئے. بہوؤں اور دامادوں کو انہوں نے اور ان کی اہلیہ نے ہمیشہ عزت دی. ماشاءاللہ اللہ نے پوتے، پوتیوں،نواسے، نواسیوں سے ان کا آنگن بهر دیا تھا. مگر اپنی اہلیہ کی وفات کے بعد سرور صاحب بہت اکیلا اکیلا محسوس کرنے لگے. اگرچہ بہوئیں،بیٹے ان کا خیال رکھتے تھے مگر ان کو رفاقت کی کمی محسوس ہوتی تھی. رات گئے جب اپنے کمرے میں جاتے تو کمرے کی دیواریں ان کو کاٹنے کو دوڑتیں. کبھی کبھی ان کو یہ وہم ہوتا کہ اگر رات میں وہ گزر گئے تو گھر والوں کو تو شاید اگلے دن دوپہر تک بھی پتہ نہیں چلے گا. ان کو اپنی مرحومہ بیوی کی یاد آتی جو ان کے لمبے لمبے ہزار بار کے سنائے ہوئے قصے ہر دفعہ اسی شوق سے سنتی تھیں جیسے کہ پہلی مرتبہ سن رہی ہوں. ان کو ایسا محسوس ہوتا جیسے کہ وہ ایک خلا میں معلق ہیں.

آج جب وہ اپنے پرانے محلے گئے تو انہوں نے اپنے قریبی دوست عمر صاحب سے تفصیلی اپنے احساسات اور خالی پن کا زکر کیا. عمر صاحب نے جھجکتے ہوئے ان سے کہا کہ وہ دوسری شادی کرلیں. ایک لمحے کے لیے تو سرور صاحب چکرا گئے اور انهوں نے بڑی سختی سے انکار کردیا. لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا خالی پن بڑھتا گیا. ان کے بیٹے، بہوئیں ان کے کھانے پینے اور کپڑوں کا دھیان تو رکھتے مگر ان کی کہانیاں سننے کا وقت کسی کے پاس نہیں تھا. ان کو ایسا محسوس ہوتا کہ وہ ایک روبوٹ میں بدل گئے ہیں جو وقت مقررہ پر ہر کام انجام دیتا ہے.

آج جب وہ اپنے پرانے محلے گئے تو عمر صاحب نے ان کو بتایا کہ ان کی خالہ زاد بہن بلقیس جس سے ماضی میں وہ شادی کے خواہشمند تھے مگر اس کی شادی کہیں اور ہوگئی تھی وہ بیوه ہوکر واپس اپنے بھائی کے گھر آگئی ہے. عمر صاحب نے سرور صاحب کو قائل کیا کہ ان دونوں کو ہی سہارے اور رفاقت کی ضرورت ہے. باقی کے معاملات کیسے طے ہوا پتا ہی نہ چلا اور پچپن سالہ خوش شکل اور خوش اطوار بلقیس بیگم ان کی شریک حیات بن گئیں.

شادی کو دو مہینے گزر چکے تھے. بلقیس بیگم کے اصرار پر آج سرور صاحب ان کو اپنے گھر لے کر گئے. جن بچوں کی خوشی اور پرورش میں انهوں نے ساری زندگی گزاری تھی وہ آج تن کر ان کے سامنے کھڑے ہوگئے. بیٹیوں نے بھی رودهو کر ان سے قطع تعلق کا اعلان کردیا. کیونکہ ان کی مرئی ہوئی ماں کے اوپر وه سوتن لے آئے تھے. بہوئیں معنی خیز انداز میں آنکھوں آنکھوں میں سو باتیں ایک دوسرے سے کر رہی تھیں.

سرور صاحب چکرا گئے انهوں نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا کہ ان کے بچے اس قسم کا ردعمل ظاہر کرینگے. ان کے بچے ان سے اس بات پر ناراض تھے کہ وہ ان کی مرئی ہوئی ماں پر سوتن لے آئے تھے. ان کا بڑا جان سے پیارا بیٹا ان پر چلایا :
"اباجی! آپ نے تو ہماری عزت خاک میں ملا دی ہے. اب لوگ ہم پر آوازیں کسیں گے. یہ آپ کی اللہ اللہ کرنے کی عمر تھی اور آپ نے یہ چاند چڑھا دیا ہے. "
منجھلا بیٹا بھی بولا :
"اب کچھ عرصے میں آپ ہمیں کوئی جائیداد میں حصہ دار پیدا ہونے کی خبر بھی سنائیں گے." چھوٹی بہو کی یہ سرگوشی بھی ان کے کان میں پڑی
"بابا جی کی آگ اس عمر میں بھی نہیں بجهی. "
سرور صاحب نے کھڑے ہوکر تحکمانہ انداز میں اپنے بچوں سے کہا :
اب میں کسی کہ منہ سے ایک لفظ نہیں سنا چاہتا. میں نے نکاح کیا ہے. اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق. اگر تم لوگوں کی عزت نکاح سے ختم ہوتی ہے اور میرے کسی ناجائز زریعے کے استعمال سے نہیں ختم ہوتی ہے تو اللہ تم سب پر رحم کرے. میں تمہاری ماں کے آگے شرمندہ نہیں ہو کیونکہ وہ جانتی ہے کہ میرے اس نکاح کا محرک کیا ہے. مجھے اس عمر میں ایک دوست، ایک رفیق کی ضرورت ہے جو مجھے رفاقت دے سکے. میرے ساتھ وقت بتا سکے. میری ضروریات صرف روٹی کپڑا نہیں ہیں. تم میں سے کس کے پاس وقت ہوتا ہے کہ وہ بوڑھے باپ کے ساتھ وقت بتائیں؟

میں نے نکاح کیا ہے کوئی زنا نہیں کہ میں تم لوگوں کے آگے جواب ده ہوں. یہ نکاح کسی جسمانی آگ کو بجھانے کے لئے نہیں ہے یہ صرف ایک رفیق کے ساتھ کے لیے ہے. ہم والدین ساری زندگی تم بچوں کی خوشی کے لیے مصروف رہتے ہیں.تمهاری ضروریات، خواہشات، خوشیاں ہم مقدم رکھتے ہیں. مگر تم لوگ بڑے ہوکر ہماری ساری قربانیاں بهلا کر ہمارے سامنے ہی کھڑے ہوجاتے ہوں."

انهوں نے بلقیس بیگم کا ہاتھ پکڑا اور دہلیز پار کرلی. پیچھے آنگن میں صرف ایک سوال گونج رہا تھا. کیا ایک عمر رسیدہ شخص کی دوسری شادی گناہ ہے؟

یہ کیسا معاشرہ ہے جو نکاح پر انگلی صرف اس لئے اٹھاتا ہے کہ اس کو کرنے والا مرد یا عورت عمر رسیدہ ہے. خدارا نکاح کو کسی کے لئے بھی مذاق اور تنقید کا ذریعہ نہ بنائیے. آپ کا کیا خیال ہے؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 178929 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
03 Apr, 2018 Views: 2926

Comments

آپ کی رائے