70سالوں سے بہتا ہوا ناسور․․․

(Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed, Karachi)

 27 اکتوبر1947کو پاکستان سے کیا گیا مہاراجہ کشمیرکامعاہدہِ قائمہ، ہندوستان کے مسٹر ایم کے گاندھی اور پنڈت جوہر لال نہرو نے لارڈ ماؤنٹ بٹن کی ملی بھگت سے مہاراجہ کو پریشر رائز کر کے اوربغیر سابقہ معاہدے کے خاتمے کے، ہندوستان میں شمولیت کے معاہدے پر جمہوری اصولوں کو پیروں تلے روندتے ہوئے کرالیا ۔ہندوستانی رہنماؤں نے جن کا نعرہ ،جمہوریت و سیکولرزم تھا۔اس نعرے کو خود ہی پامال کر دیا۔ جس کے تحت کشمیر کی 83%مسلمان آبادی کوغلام بنانے کی دستاویز پر غیر جمہوری انداز میں دستخط کرا کے ساری دنیا کی آنکھون میں دھول جھونکنے کی کوشش کی۔بڑی اہم بات یہ کہ کشمیر سے ہندوستان کی کوئی راہ داری نہ ہونے کے سبب رات کی تاریکی میں سات لاکھ سے زیادہ ہندو فوجیں سرینگر کے ایئر پورٹ پر،میرے کشمیر جنت نظیر کو جہنم کی وادی میں تبدیل کرنے کی غرض سے اتار دیں۔وہ دن ہے اور آج کا دن ہے ،گژشتہ ستر سالوں سے بہتا ہوا ناسورآج ہندوستان کے لئے کینسر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جنت نظیر وادی میں آگ اور خون کا مسلسل کھیل ہندو فوجوں کی طرف سے جاری ہے۔ کشمیری 23مارچ 1940کی قرار دادِ پاکستان کی منظوری کے بعد سے ہی یہ نعرہ لگاتے چلے آئے ہیں ’’کشمیربنے گا پاکستان،بٹ کے رہے گا ہندوستان‘‘ 1948میں جب ہندوستان کو کشمیر ہاتھوں سے نکلتا ہوا محسوس ہوا توپنڈت نہرو بھاگے ہوئے اقوامِ متحدہ پہنچے جہاں سے ان کی اس وعدے پر غلو خلاصی ہوئی کہ وہ کشمیر میں بہت جلد استصواوابِ رائے کرائیں گے۔

ہندوستان کشمیر میں اپنی فوجی قوت سے لاکھوں کشمیری مسلمان شہید کر چکا ہے۔ مگر مجال ہے کہ ہندوستان کی جکڑی ہوئی صحافت اس مسلمان قتلِ عام پر،اور ان کی اہنساء ذہنیت کشمیری مسلمانوں کے اس ظالمانہ قتلِ انسانیت کی مذمت کرتی ہو! ہمیں ہندو صحافت سے زیادہ ہندوستان کی مسلم صحافت پر افسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی اپنے مسلمان بھائیوں کی بلی چڑھتے دیکھ کر خاموش رہتے ہیں۔علامہ اقبال تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں’’نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے ،ہندستاں والو!!! تمہاری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں‘‘ ہندوستان نے کشمیر پر قبضہ جاری رکھ کر جو ہندو پاکستان کی معیشت پر گہرے گھاؤ لگائے ہیں اُن کو تاریخ کبھی فراموش نہ کر سکے گی۔جس کے بعد اُس نے ایٹمی قوت بن کراور میزائلوں ں کی دوڑ میں شامل ہو کر ایک جانب کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جاری رکھنے کی کوششیں کیں تو دوسری جانب پا کستان کو بھی اسی را ہ پر چلنے پر مجبور کر دیا۔جبکہ آج کا ہر کشمیری نوجوان برملاپاکستان کا پر چم اُٹھا کر کہتا ہے ’’تم کتنے وانی مارو گے ؟ ہر گھر سے وانی نکلے گا‘‘اور کہتا ہے کہ ’’ہند کے فوجی لٹیرو جان لو ’’کشمیر بنے گا پاکستان!‘‘

ہندوستان پاکستان کی ترقی روکنے،اور کشمیریوں کو غلام رکھنے کے لئے سب کچھ کر سکتا ہے۔ایک جانب وہ پاک چین دوستی سے خائف ہے تو دوسری جانب ہندوستانیوں نے امریکہ کی غلامی کا طوق گلے میں ڈال کر روس جیسے مخلص ہندوستان کے دوست کی پیٹھ میں چھر گھونپ دیا ہے،جس سے ہندوستان اور امریکہ اتحاد قائم ہو گیاہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہندوستان کو امریکہ، برطانیہ،فرانس اور دیگر ممالک کی کی بحرِ ہند کے گرد بحری بیڑوں کی موجودگی پر تو اعتراض نہیں ،البتہ چین اس کی آنکھ کا شہتیر بنا ہوا ہے،جس کی بڑی وجہ پاکستان کی مخالفت ہی تو ہے۔ اس وقت ہندوستان نے جمہوریت اور سیکولرزم کو چھوڑ کر ہندو توا کو اپنے گلے کا ہار بنایا ہوا ہے۔جس سے ایک جانب ہند وستان کا مسلمان بے زار ہے تودوسری جانب کشمیری مسلمان ہندو تو کا شکار بنائے جا رہے ہیں۔ہندوستان نے گذشتہ پانچ دنوں سے کشمیریوں پرپیلٹ گنوں کے ذریعے بیس سے زیادہ کشمیریوں کو شہادت کی نیند سلا دیا ہے اور سیکڑوں بے گناہ کشمیریوں کو زخمی کر کے موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا کر دیا ہے۔کیا ان مظالم سے ہندوستان کشمیریوں کے دل جیت لے گا؟

ہندوستانی جارحیت پر وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے ہندوستانی ریاستی دہشت گردی اورکشمیری مالمانوں کے قتلِ عام کی شدید الفاط میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ظلم اور جبر سے حقِ خود ارادیت کی جدو جہد کوروکنا ممکن نہیں۔عوام کی جدوجہدِ آزادی کو دہشت گردی سے جوڑا نہیں جا سکتا ہے۔ہندوستان اقوامِ متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دے۔اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہندوستان منفی پرپیگنڈے سے کشمیریوں کی آواز دبا نہیں سکتا ہے! مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف ہندوستانی جارحیت پر کہتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پرہندوستانی قابض فوج کی بے رحمانہ فائرنگ اور درجنوں کشمیریوں کی شہادت ریاستی دہشت گردی کی قابلَ مذمت مثال ہے۔ حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کرتے کشمیریوں کو نشانہ بنانا ساری دنیا کے انسانی ضمیرکیلئے چیلنج ہے۔ پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس حوالے سے ہندوستانی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کو ردہشت گردی سے جوڑا نہیں جاسکتا ہے۔کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پرفائرنگ سے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔جس کی پاکستان سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ہرپاکستانی اور دنیا کے با ضمیر طبقات70سالوں سے بہتے ہوئے اس ناسور پر ناصرف فکر مند ہیں۔بلکہ ہندوستان کی بے گناہ کشمیری عوام پر وحشت و بربریت کو ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

ہندوستان کو چاہئے کہ جمہوری اصولوں کو پیشِ نظر رکھ کر مسئلہ کشمیرپر نہتے لوگوں کے ساتھ جارحیت کرنے کی بجاسئے جیو اور جینے دو کے اصولوں پراہلِ کشمیر کو حقِ خود ارادیت دے کر اپنے بونے قد کو بلند کرلے۔ورنہ اگر صدیوں تک بھی اس کی جارحیت جاری رہی تو ہندوستان کشمیریوں کو ہمشہ اپنی آزادی کے معاملے پر الرٹ پائے گا۔لہٰذا جلد از جلد کشمیر سے اپنی تھکی ماندی فوجوں کو نکال کر انسانیت کے ساتھ خیر سگالی کا مظاہر کر کے ساری دنیا کو حیران کر سکتا ہے۔ مگر جس طرح افغانستان میں امریکہ اپنی عسکری شکست سے خائف ہے۔اسی طرح ہندوستان بھی دنیا کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں اپنعسکری شکست کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed

Read More Articles by Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed: 285 Articles with 117457 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Apr, 2018 Views: 316

Comments

آپ کی رائے