کراچی کا کچرااور دلہن کا المیہ ۔

(Rao Imran Salman, )

جمہوریت اور حکمرانی عوام کے لیے اس وقت بامعنی ہوتے ہیں جب ان کی زندگیوں میں بہتری کے امکانات روشن ہو،اور جب جمہوریت کا مطلب پیسے والے لوگوں کی آپس میں جنگ بن جائے تو بھلا ایک غریب آدمی کو اس سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے ،ہم نے اکثر لوگوں اور بزرگوں کو یہ کہتے ضرورسنا ہوگا کہ ہم اسے ہی ووٹ ڈالیں گے جو ہماری گلیاں بنوائے گا اور جو ہمارے سیوریج کے نظام کو بہتر کریگا۔ دیگر بنیادی سہولیات کے حصول کے ساتھ یہ وہ آس اور امیدیں ہیں جو حکومت اور ایک عام آدمی کے درمیان مثبت رشتے کی بنیاد رکھ سکتی ہیں ، اور جب کسی غریب کو یہ سب چیزیں نہیں مل پاتی تب وہ ہی غریب آدمی ریاست سے خوف تو رکھ سکتا ہے مگر احترام کا رشتہ قائم نہیں رکھ سکتا، اس طرح جب عوام ریاستی اور حکومتی اداروں کا احترام ختم کردے تو پھر وہ جمہوریت کیسے فروغ پاسکتی جس کی طاقت کا منبہ خود عوام ہی ہو؟۔ مختلف شہروں میں موجود جابجا کچرا اور سیوریج کا بوسیدہ نظام جہاں ایک عام آدمی کو حکومت سے باغی کرتاہے وہاں گلی محلوں میں بسنے والے پڑوسیوں کے رشتے اور تعلقات بھی متاثر ہوتے ہیں، کس کا دل نہیں کرتا کہ وہ کسی اچھے اور صاف ستھرے مقام پر جاکر رہے ہر کسی کے دل میں یہ خواہش ہے کہ اس کا گھر ایسے مقام پر ہو جہاں اسے صاف پانی میسر ہو اس جگہ گندگی کے ڈھیر نہ ہو اس کی گلی میں سیوریج کا پانی نہ کھڑاہو ، جب آدمی کی جیب اجازت نہیں دے سکتی تو وہ بھلا کس طرح سے صاف ستھرے علاقوں میں جاکر رہ سکتاہے ۔بنیادی سہولیات سے محروم شہروں اور علاقوں میں انسانی رشتے بھی بری طرح سے متاثر ہورہے ہیں میں نے ان علاقوں میں بارھا بارایسے جھگڑوں کو دیکھاہے کہ جس کی بنیادی وجہ میں "یہ گندہ پانی تمھارے گٹر سے آرھا ہے "یہ کچرے کی تھیلی تمھارے گھر کی ہے اور میرے دروازے پر کیوں رکھی گئی ہے" غربت اور ٹیکسوں کی ماری عوام ان ہی باتوں پر توں توں اور میں میں پر اتر آتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے بات ڈنڈے سوٹوں پر چل نکلتی ہے جس کااختتام تھانوں یا پھر عدالت میں جاکر ہی ہوتاہے۔یعنی ان معاملات کی وجہ سے انسانی رشتوں کی تباہ کاریوں کا سلسلہ بھی جاری رہتاہے ۔میں اپنے پڑھنے والوں کی خدمت میں کراچی میں گندگی کے باعث ایک نئے شادی شدہ جوڑے پر بیتنے والا واقعہ بیان کرنا چاہونگا، جس کی نوبت اب طلاق تک جاپہنچی ہے،ابھی کچھ ہی ماہ پہلے کی بات ہے کہ ایک بارات لاہور سے کراچی کے علاقے ناظم آباد کے ایک علاقے میں آئی تھی ، لاہور سے آنے والے دلہے کے ہمراہ اس کے والدین سمیت منچلے دوستوں کی کثیر تعداد موجود تھی جو سارے راستے تو دولہے سے ہنسی مذاق کرتے ہی رہے تھے جبکہ کراچی پہنچ کر تو انہوں نے دلہے کی ایسی درگت بنائی کہ دلہا عین نکاح کے وقت بھی شرمسار ہی دکھائی دیا ہوا یو ں کہ جب بارات پہنچی تو بس کے ڈرائیور نے ایک بہت بڑے کوڑے کے ڈھیر کے سامنے بس کو لاکر روکا جہاں بدبواور تعفن اٹھ رہا تھا اس سے پوری باراتیوں کی بس نے ہی لڑکی والوں کو اپنی ناگواری کااحساس دلایا جبکہ دلہن کے گھر کے باہر لگے شامیانوں تک پہنچنے تک تمام راستوں میں کھلے گٹر اورسیوریج زدہ گلیوں سے گزرنا پڑاجس پر دلہے کے دوستوں نے دلہے کی مذاق مذاق میں وہ درگت بنائی کہ اﷲ کی پناہ سب یہ ہی سمجھتے رہے کہ سب کچھ مذاق ہی ہے اور کوئی ایسی بڑی بات نہیں ہے مگر دلہے کو اس واقعے کے بعد ایسی چپ لگی کہ نکاح کے وقت بھی بار بار ہی دلہے صاحب کو مخاطب کرنا پڑا،خیر سے نکاح ہوگیا، لاہور اور کراچی کے 24گھنٹے کے سفر نے باراتیوں کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی دلہن کے گھر والوں نے اپنی خواہش بیان کی کہ وہ بارات کو ایک رات کے لیے ٹھرانا چاہتے ہیں اس بہانے باراتیوں کی تھکاوٹ بھی دور ہوجائے گی اور دن کی روشنی میں دلہن کو بھی رخصت کردیا جائے گا،مگر کئی گھنٹوں سے خاموش دلہے کے ظبط کا بندھن اب ٹوٹ چکا تھا اور وہ اپنے منچلے دوستوں سے مزید بے عزتی کروانے کے موڈ میں نہیں تھا دلہے نے یہ ہی ضد لگائے رکھی کہ وہ ایک پل بھی سسرال نہیں رکے گااور اسی وقت واپس جانا چاہتا ہے ،یہاں تک دلہے نے غصے میں یہ تک کہہ ڈالا کہ دلہن کو بھی رہنے دومیں یوں ہی چلا جاؤنگا،گو کہ ماحول اسقدر سنگین نہیں تھا مگر حساس دل دولہا جو کم عمر بھی تھا دلہن اور اس کے والدین کے جزبات کومسلسل ٹھیس پہنچاتا رہا ،اس وقت میراایک جاننے والا سارے ماحول اور واقعے کو بھانپ چکاتھا اس نے دولہے کو سمجھا بجھا کر اپنی گاڑی میں بٹھایا اور رات اپنے ہی گھر میں ٹھہرانے کے لیے اپنے ساتھ لے گیا،خیر رات گزر گئی اور اگلے روز دوپہر میں بارات کی واپسی کا عمل شروع ہوگیا دولہے کے دوستوں نے اس بار کوئی مذاق نہیں کیا کیونکہ بارات کے ساتھ آئے چند بزرگوں نے لڑکوں کو سمجھا بجھا دیا تھا کہ وہ کوئی ایسی حرکت نہ کرے کہ جس کی وجہ سے پھر سے دولہے کے بھڑکنے کے امکانات روشن ہو خیر بارات کی بس دولہن کو لیکر لاہور آگئی ،شادی کے تین دن کے بعد لڑکی کے گھر والوں نے رسم کے مطابق اپنے ساتھ لیجانے کا کہا مگر لڑکے نے پھر اپنی ضد اور ہٹ دھرمی دکھانا شروع کردی کہ وہ دلہن کو اب کراچی نہیں جانے دیگا اور اگر اس کے ساتھ زبردستی کی تو پھر وہ دوسرا راستہ اختیار کریگا لڑکے کے والدین نے اسے نا سمجھ سمجھتے ہوئے لڑکی کو زبردستی اس کے بھائیوں کے ساتھ بھیج دیا اور کہاکہ وہ سب سنبھال لینگے ۔ مگر آج اس شادی کو چار ماہ سے زائد کا عرصہ بیت چکاہے اور دلہا آج بھی اپنی ضد پر اڑاہواہے ، کہ وہ اب دلہن کو واپس نہیں لائے گا اور یہ کہ کچھ اور گھریلو ناچاکیوں کے سبب بات اب طلاق پر آن پہنچی ہے ۔بات صرف یہ ہے کہ کس طرح سے جہاں گندگی اور بوسیدہ ماحول ریاست اور عوام کے درمیان دوریاں پیدا کررہاہے وہاں اسی انداز میں انسانی رشتے بھی بری طرح متاثر ہورہے ہیں گو کہ اس شادی شدہ جوڑے کی ازواجی زندگی کی خرابی دوستوں کے مذاق سے ہی شروع ہوئی مگر اس مذاق کی بنیادی وجہ تو شہر قائد میں کھلے گٹر اور گندگی ہی تھے۔اس ملک کے حکمران کو صرف اتنا ہی تو کرنا ہے کہ وہ بس عوام کا پیسہ عوام پر خرچ کریں کونسا انہیں اپنی جیب سے نکال کر لوگوں کی گلیاں اور عوام کے لیے صاف ستھری سڑکیں بنانا ہے کونسا ان حکمرانوں کو عوام کو پینے کا صاف پانی اپنی جیب سے مہیا کرناہے ان تمام سہولتوں کی بہتر دستیابی کے لیے انہیں وہ ہی پیسہ عوام پر لگاناہے جو ٹیکسوں کی مد سے ان سے وصول کیا جارہاہے جو اس ملک کے وسائل سے حاصل کیا گیاہے اور اگر ایسا کرنا حکومت نے شروع کردیاتو یقین جانئے نہ تو پھر گلی محلوں میں گندگی اور پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے آپس میں جھگڑے ہونگے ، نہ ہی کسی دلہن کو اس گندگی کی وجہ سے کسی المیے سے گزرنا پڑیگا۔آپ کی فیڈ بیک کا انتظار رہے گا
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rao Imran Salman

Read More Articles by Rao Imran Salman: 75 Articles with 36528 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Apr, 2018 Views: 1951

Comments

آپ کی رائے