دل کی کھڑکی!

(عزیر امین, حسن ابدال)

جب اندھیرا گھُپ ہو جاۓ تو بجاۓ اس کے کہ انسان روۓ، پیٹے اور واویلا کرے۔ اسے روشنی ایجاد کر لینی چاہیے۔ مگر اس قندیل کو جلانے کے لیے خوابوں کا تیل لگتا ہے ، ہمت اور جرأت کی بازی لگتی ہے ، جذبات کا خوں ہوتا ہے ۔ کیونکہ جب دل میں گھُٹن ڈیرا ڈالنے لگے تو احساس کی کھڑکیوں پر سے محبت کے پھول دار ، دبیز پردے اٹھانے پڑتے ہیں ۔ جیسے بے بسی ، توقعات اور خوابوں سے اکتایا ہوا شخص صبح انگڑائیاں لیتا ہوا اٹھتا ہے اور تیزی سے کھڑکی پر سے پردے سرکاتے ہی بستر پر گِرتا ہے۔ اور خواب کے وہ سارے مناظر اپنے ذہن میں پھر سے دُہراتا ہے۔ اسی اثناء میں سورج کی ٹھنڈی روشنی کمرے کے ایک اک گوشے کو منور کر دیتی ہے۔اور اس کے دل سے وہ سارے غم مٹا دیتی ہیں جن سے وہ چاہتے ہوۓ بھی نہ بچ پاتا تھا۔ مگر وہ خواب رہ رہ کر اسے اذیت دینے آتے ہیں۔ اور وہ جھٹ سے جھٹک دیتا ہے۔وہ سارے خوف اسے پھر سے دکھتے ہیں مگر وہ اب ان پر یقین ہی نہیں رکھتا۔ جب سورج کی کرنیں ماحول کے باریک ذروں پر پڑتی ہے تو ہر سمت کہکشاں کا گماں ہونے لگتا ہے۔روشنی ایجاد ہو چکی تھی۔ محبت اور سکون کی جنگ میں اندھیرا ہار چکا تھا۔مگر اب باہر بادل چھا رہے تھے ، سورج چھپ رہا تھا۔ آندھی آنے کو تھی۔شاید روشنی کی قیمت تھی۔اک آزمائش کی بجلی تھی جو ہر اس شخص کے آنگن میں گِرتی ہے جو روشنی سے محبت کرتا ہے۔جو نفرتوں سے لڑتا ہے۔ اچانک اک گلدان گِرا ۔۔۔ جو اس نے بہت سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔ جس میں رکھا اک اک پھول کسی کی امانت تھا۔ طوفان کے خوف سے اُس کا دماغ پھٹا جا رہا تھا۔ اُس کا بستر دھول سے اٹ گیا تھا۔وہ گھبرایا ، ایک نظر آسمان کی طرف دیکھا۔ فوراً بجلی چمکی تو جھٹ سے اس نے کھڑکی بند کی اور لمبے لمبے سانس لینے لگا۔اب پھر وہی اندھیرا تھا ، وہی صورت اور آنکھوں میں پھر وہی خواب تھے ۔۔۔ وہ شخص ہار گیا تھا ۔ اندھیرا جیت گیا تھا۔ وہ دل اک بُت خانہ تھا۔حسرتوں اور آرزوؤں کا بُت خانہ ۔ تو اس میں آندھی کا گُزر کیا معنی !وہ فقط اک امتحان تھی-روشنی والوں کے لیے اللّٰہ تعالیٰ جب انسان کا سینہ ہدایت کے لیے کھولتا ہے تو پہلے آزماتا ہے۔ جو صبر کر لیتے ہیں وہ کامیاب ہو جاتے ہیں اور ان کے لیے اللّٰہ راہیں کھولتا ہے اور جن لوگوں کو خواب زیادہ عزیز ہوں تو وہ ان کو ٹوٹتا نہیں دیکھ سکتے ۔ جبکہ اللّٰہ پہلے بوسیدہ خواب توڑتا ہے اور پھر نئ امنگیں اور نۓ ولولے عطا کرتا ہے۔۔۔
اس دنیا میں نہ جانے دلوں کے کتنے کواڑ کھلتے اور بند ہوتے ہیں ۔۔۔ کتنے خواب ٹوٹنے ہیں اور کتنے ہی خواب بُنے جاتے ہیں ۔ روشنی اور اندھیرا ہمیشہ سے نبرد آزما ہیں ۔۔۔ کبھی اندھیرا جیت جاتا ہے اور کبھی روشنی ۔ اور جب گھُپ اندھیرا ہو جاۓ تو روشنی ایجاد کر لینی چاہیے!!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عزیر امین

Read More Articles by عزیر امین: 4 Articles with 3493 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Apr, 2018 Views: 707

Comments

آپ کی رائے