کشمیریوں کا لندن اتحاد اور محمود مسافر کی کہانی

(Tahir Ahmed Farooqi, muzaffarabad azad kashmir)

برطانوی دارالحکومت لندن دولت مشترکہ تنظیم کے اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی شریک تھے جہاں اندر اجلاس جاری تھا اور باہر کشمیریوں کی طرف سے بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں قتل عام اور معصوم آصفہ کے ساتھ انتہاء پسند ہندو تنظیم کے کارندے کے ہاتھوں زیادتی کے خلاف سراپا احتجاج تھے جو مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد آزادی کے حق اور بھارتی مظالم کیخلاف نعرے بازی کرتے ہوئے اجلاس میں شریک 53سربراہان ممالک اور بین الاقوامی میڈیا کی ان کی طرف مرکوز توجہ کے لمحوں میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہے تھے ایک عالمی نوعیت کے ایونٹ کے دوران ہزاروں کشمیریوں کا احتجاج جہاں منفرد اہمیت کا حامل تھا وہاں آزاد خطہ کے اندر قومی جماعتوں مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی ، تحریک انصاف ، جماعت اسلامی کے قائدین کا شریک ہونا کشمیر کے محاذ پر ایک ہیں کا پیغام زیادہ اہمیت وافادیت رکھتا ہے جس میں بطور وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حید ر، اپوزیشن لیڈر چوہدری یاسین کا ایک ساتھ بیٹھ کر مقاصد یکجہتی کو فروغ دینا ان سمیت تحریک انصاف کے سربراہ بیرسٹر سلطان محمود ، جماعت اسلامی کے ممبر اسمبلی عبدالرشید ترابی کے علاوہ ن لیگ کے وزراء حکومت محترمہ نورین عارف ، احمد رضا قادری ، فاروق طاہر ، مسعود خالد ، چوہدری سعید ، تحریک انصاف کے ممبر عبدالماجد خان کے علاوہ لبریشن فرنٹ سمیت تمام ہی جماعتوں کے مقامی قائدین ہزاروں تارکین وطن کشمیری آزاد کشمیر کا جھنڈا اُٹھائے شریک تھے ان کا جذبہ ولولہ اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق میں ایک ہو جانا سنگ میل پیشرفت ہے جس کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے مقاصد کی صحیح معنوں میں ترجمانی اثرات کی حامل ہو سکے گی جس کیلئے شریک مظاہرہ ہر کشمیری تحسین ومبارکباد کا حق دار ہے اگرچہ سابق وزیراعظم بیرسٹر سلطان محمود اپنی سیاست کے آغاز سے ہی بین الاقوامی سطح پر آواز کشمیر بلند کرنے میں متحرک کردار ادا کرتے چلے آرہے ہیں اور اپوزیشن لیڈر چوہدری یاسین بھی سرگرم کردار بن چکے ہیں یہ اچھی پیش رفت ہے کشمیر کی آواز بلند کرنے کی جانب صحت مندانہ مقابلے کی فضاء ہموار ہو رہی ہے اس کے انداز آزاد کشمیر اسمبلی کی اندر باہر تعلیم کے فریضے کو سنوارنے میں اختیار کر لیے جائیں تو سارے ملک کیلئے مثال پیش کی جا سکتی ہے یہاں سارے آزاد کشمیر خصوصاً مظفرآباد پونچھ ڈویژن میں بارشوں کے تسلسل نے اپریل میں دسمبر کا سماں جگا دیا ہے پہاڑوں سمیت بلند مقامات پر برف کے نظاروں نے دلوں کو مہکانے والے رنگ بکھیر رکھے ہیں دارالحکومت مظفرآباد کے اسٹیبلشمنٹ زون نیو سیکرٹریٹ کے مین گیٹ سے داخل ہوتے ہوئے پہلے بڑے بند گیٹ کے ساتھ کھلے چھوٹے دروازے سے گزرتے ہی وزراء سیکرٹریز کے آمنے سامنے بلاکوں کے درمیان کیاریوں میں سرخ اور گلابی رنگوں کے پھول نظر آتے ہیں تعداد ان کی بھی دس بارہ ہے جن پر نظر پڑتے ہی خوشگوار احساس بیدار ہوتا ہے ایسی ہی کیفیت میں نیا وزراء میں شامل وزیر بلدیات راجہ نصیر خان کو اپنی مرضی کا قلمدان ملنے پر ان کے آبائی ضلع کوٹلی خصوصاً حلقہ انتخاب سہنسہ میں صحیح معنوں میں شیان شان استقبال کا جشن ہوا ہے جو ان کے عوامی لیڈر ہونے کا آئینہ دار ہے تو موسٹ سینئر پارلیمنٹرین راجہ عبدالقیوم خان سمیت کابینہ میں نئے شامل ہونے والے وزراء کے دفاتر رنگ وروغن کرتے ہوئے تیار کیے جارہے ہیں جنکی کیفیت شاعرہ ریحانہ روحی کے اس شعر جیسی ہے
دورائے پر کھڑی ہو کر سوچتی ہوں
جائے امان کدھر ہے کدھر جانا چاہیے

سورج کے سامنے ڈھال بنتے بارش کے اثرات کی رم جھم جیسے خوشگوار ماحول میں دارالحکومت میں دو سال سے قبرستان سے لیکر 3ہفتوں سے کھلے گٹروں کا مسئلہ حل نہ ہونے جیسی باتیں خوش نما ء ہواؤں کی دل آزاری ہو گی آج کل شاعر مزاج سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق وزارت عظمیٰ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اس بار سارا فنگشنل سٹاف بھی حاضر ہے گو کہ یہ وہاگہ بارڈر پر کھڑے سپاہی بن چکے ہیں مگر طارق فاروق شاعر کی طرح محتاط اور زمہ دار انداز میں وزرات عظمیٰ کے فرائض کی بجا آوری میں اجلاسوں کی صدارت کرتے ہوئے ہدایات دیتے اور فیصلے کرتے رہے تقریبات سے خطاب کیا تو میڈیا سے بات چیت میں لندن کشمیریوں کے اتحاد اور لیڈر شپ کے اتفاق پر تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کردار مانگا نہیں جاتا بنایا جاتا ہے کشمیریوں کا کیس بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے حکومت پاکستان پشت بان ہے جو کام وزیراعظم نے اب شروع کیا ہے ہم چھ ماہ پہلے سے توجہ دلا رہے تھے جس کا بین الاقوامی سطح پر نظر آتا اظہار خوش آئند ہے ان کی بات میں پوشیدہ اعتماد وہ راز ہے جو اندر باہر تضاد سے پاک جذبہ کا تاج ہوتا ہے مگر جب سارا سماج ہی دو عملی میں لٹ پٹ جائے تو سچی باتیں کرتے ہوئے آواز بلند کرتا محمود مسافر دیوانہ کہلاتا ہے ، شاید سماج کے اس رخ کے بارے میں وسیم بریلوی نے کہا تھا
ہمارے گھر کا پتہ پوچھنے سے کیا حاصل
اداسیوں کی کوئی شہریت نہیں ہوتی
انکا ایک اور خوبصورت شعر ہے
غلط فہمی کی نہیں گنجائش سچی محبت میں
جہاں کردار دہلکا ہو کہانی ڈوب جاتی ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 204 Articles with 68538 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Apr, 2018 Views: 318

Comments

آپ کی رائے