میرا دلارا بیا.

(Mona Shehzad, Calgary)

پردیس کا دکھ کیا ہوتا ہے. یہ وہی جانتا ہے جس کا سب کچھ دیس میں رہ گیا ہو. جب میں اپنے میاں اور چھ ماہ کے بیٹے کے ساتھ کینیڈا آئی. تو اللہ کی طرف سے معاشی تنگی کے باعث چودہ سال میں اور میرے میاں پاکستان نہیں جاسکے. دیس کے لوگوں کا خیال تھا کہ وہاں جاکر ہمارا خون سفید ہوگیا ہے. جب کہ درحقیقت ہم اس درخت کی مانند تھے جو نئی زمین میں اپنی جڑیں بچهانے کی کوشش میں مصروف تھا. میرا ایک ہی چھوٹا بھائی ہے اس کی شادی کی تقریب میں بھی میں نہ جاسکی اور اس کا قلق مجھے تاحیات رہے گا. مگر کوئی شکوہ زندگی سے نہیں ہے. میرے دلارے بهائی کی شادی والے دن میں نے ایک نظم شروع کی تھی. آج گیارہ سال بعد اس کو مکمل کیا ہے. یہ چند سطریں ہیں جو میرے بھائی اور بهابهی کے لیے ہیں.
"♡♡میرا بهیا ♡♡"
دلارا پیارا میرا بهیا. ..
آنکھوں کا تارا میرا بهیا ...
منتوں مرادوں سے مانگا میرا بهیا ....
روشن ستارہ سا میرا بهیا ...
دلہا بنا میرا بهیا ...
دور کینیڈا کی سرزمین سے یہ بہن بهیجے دعاوں کا پیام
ہو تیری خانگی زندگی پهولوں کا چمن...
جس کو نہ ہو کبھی اندیشہ خزاں. .
رہے محبت، وفا،پاسداری ہمیشہ تم دونوں کے درمیاں .....
رہے تم دونوں پر سوہنے رب کی عطا.
بهابهی! خوش آمدید اس چمن میں تمہارا.
رہے اٹوٹ بندھن ہمیشہ ہمارا....
رہے محبت کے چراغ سے جلتے..
کبھی نہ آئے دلوں میں عداوت کا دھواں. .
بهری رہے گود تمہاری ...
مہکتا رہے یہ گلستان تمہارا.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 175696 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
25 Apr, 2018 Views: 561

Comments

آپ کی رائے