زندگی کے ڈھنگ

(Hukhan, karachi)

سوچتا ہوں ایسا منظر کہاں سے لاؤں
بہار سی مسکراہٹ کہاں سے لاؤں
جانے وہ چہرہ اس کی اداسی کیسے بھلاؤں
اس کے لبوں کی مسکراہٹ کیسے لٹاؤں
اس کے حسین پلوں کا قرض میں کیسے لٹاؤں
اسکی شب روز کی دعاؤں کو کیسے بھلاؤں
اس کے موتی جیسے آنسو آنکھوں کی امانت کیسے لٹاؤں

میں یہ سوچتا ہوا حیران تھا کہ زندگی لمحوں میں آگے بڑھ جاتی ہے،،،انسان اس
تیزی سی آگے نہیں بڑھ پاتا،،،اسی لیے زندگی سے پیچھے رہ جاتا ہے،،،!!

کل ہی کی بات ہے،،ماں کی گود کی گرمی چاند کی چاندنی سے بھی ٹھنڈی لگتی
تھی جیسے ہی اس گود کو من میں بسایا تو گود چھوٹی پڑگئی،،،!!

بہار آئی پھول ہی پھول،،،پھر ساون،،،پھر آندھی خزاں،،، پھر بار بار یہی منظر انسان کے
سامنے دوہرائے جانے لگے،،ایسا لگنے لگا جیسے یہ منظر ہمیشہ سے ذات کاحصہ
ہو گئے ہوں،،،پھر پتا چلا کہ منظروں کی طرح ماں بھی بے وفا ہوتی ہے،،،!!

اسے جتنا کہو کہ ماں میں اب بھی اندھیرے سے ڈرتا ہوں،،،ماں وعدہ کروکہ،،آپ
بھی بابا بھی طرح چھوڑ کر آسمانوں پر نہیں جاؤگی،،،بابا کتنا بھی بلائیں گے،،مگر وہ
شوہر کی چوکھٹ پر قربان ہونے آئی تھی بھلا میری کیا سنتی بابا کے پاس چلی گئی
آسمانوں پر،،،‘‘اب تم طاقتور ہو بابا بوڑھے ہیں انہیں میری ذیادہ ضرورت ہے‘‘،،،!!

میں بلکتا رہا،،،کہتا رہا،،چینختا رہا میں تو خود ان کےکاندھے کا سوار ہوںانکی انگلی
سے راستہ منزل ٹھوکر سے بچنا سکھایا،،،وہ کیسے کمزور ہوسکتے،،،مگر ماں بےوفا
نکلی،،،بہار کے پھولوں کی طرح،،،چاند کی چاندنی کی طرح،،،رات کی رانی کی خوشبو
کی طرح ،،اور سفید سے لباس کو یہ کہہ کر پہن لیاکہ،،،‘‘بابا نے بھی یہی رنگ آخر،،
میں پسند کیا میری بھی پسند یہی ہے،،،!!!

پھر وہ بہار کی طرح ٹکی ہی نہیں اور چل دی،،،پھر بہار تو آگئی مگر وہ نہیں آئی،،،!!!
بہار جب بھی آتی ہے بہت سی یادوں کو ساتھ لاتی ہے،،،یہ بھی حقیقت ہے ہریاد
کے ساتھ جڑی اک کہانی ،،،اور کہانی کے بہت سے کردار،،،،!!

زندگی ایسے ہی آگے بڑھتی ہے اس کے قدم سے قدم ملا کر چلو تو کامیاب،،مگر
بہت سے لوگ جن کی رفتار کم ہو،،،مگر جو آپ کے اپنے ہوں وہ پیچھے رہ جاتے
ہیں،،،ان کی رفتار کم کی جاسکتی ہے مگر تھم جانا ایسے ہی ہے،،،جیسے سانس،،،
رک جائے،،،رک جانے والوں کا وجود سب پر بوجھ بن جاتا ہے،،،اسی لیے،،،!!

میں بن کر تیرا خیال تیرے وجود سے بندھ جانا چاہتا ہوں
ہوں تجھ سے الگ مگر تیرے سنگ رہنا چاہتا ہوں
یاد میں تو تم رہتے ہی ہو مگر میں تیرے گمان میں رہنا چاہتا ہوں
کتنی عجیب سی خواہش ہے مگر اس خواہش سے بندھےرہنا چاہتا ہوں
اب رخصتِ بہار کے بعد بھی مسکرانا چاہتا ہوں

اگر زندگی کو سہی سے جینا ہے اور مسکرا کر آنے والے وقت کو خوش آمدید کہنا ہے
تو زندگی کو اس کے ہر لمحے میں جیو،،،
صحیح وقت پر صحیح فیصلے زندگی کے سفر کو آسان اور تھکن کو کم کر دیتےہیں،،،

سب سے بہتر کمال یہ کہ زندگی کے ہر رنگ کو،،ہرڈھنگ،ہر غم کو جینا سیکھو،،زندگی
کبھی صبح کی طرح نرم،،کبھی رات کی چاندنی کیطرح پرسکون،،کبھی سردیوں کی زرد،،
شاموں کی طرح رنجیدہ،،،اور کبھی صحرا کی دھوپ کی طرح جھلسا دیتی ہے،،،مگر یہ
سفر مالکِ کائنات کے حکم کے بغیر رکنا نہیں چاہیے،،،

زندگی میں چھوٹے چھوٹے غول بنالیے پھر کامیابی سمیٹنے کے بعد اس کا چھوٹا سا
جشن بھی ضرور منائیے،،،!!

ہر لمحے کو جینا چاہتا ہوں
ہر لمحے خود کو کھوجنا چاہتا ہوں

اپنے اندر لیڈر شپ کی خاصیت پیدا کیجئےاگر ایسا مشکل لگے تو اچھا سا لیڈر چننے
میں ہی ماہر ہو جائیں،،،اسی طرح ٹائم اور کامیابی دونوں مل سکتی ہیں،،،!!

چھوٹی چھوٹی پریشانیاں ایسی ہی ہیں جیسے سڑک پر پھیلے بریکرز،،،،بس اپنی رفتار
میں تبدیلی پیدا کیجئے،،،جھٹکا نہ کھائیے،،،اور متوازن سفر جاری رکھیے،،،!!

تنقید سے نہ گھبرائیے ،،،غلطی بھی کیجئے کیونکہ آپ انسان ہو فرشتے نہیں،،،مگر
غلطی نہ دوہرائیے کیونکہ آپ انسان ہیں شیطان نہیں،،،،

اپنے بزرگوں دوستوں بچوں کو ہمیشہ ساتھ رکھیے،،ہمسفروں کے ساتھ سفر ہمیشہ
آسان اور دلچسپ رہتا ہے،اسی لیے اللہ نے بھی جوڑے پیداکیے،،،کیونکہ وہ جانتاہے
سفر میں ہمسفر ہونا بھی ضروری،،،!!

کمزور کو دیکھ کر گھبرائیے نہیں،،،طاقتور کو دیکھ کر ڈرئیے نہیں،،،ایسانہ ہوکہ آپ
کو دیکھ کر کوئی یہ شعر پڑھے،،،

پہلوان کو دیکھ کر دوڑ جاتا ہوں
کمزور کو دیکھ کر اکڑ جاتا ہوں
میری تربیت دیکھیے یہ میں کیا چاہتا ہوں

یاد رکھیے زندگی گزارنے کے لیے آپ کو ڈیلی کچھ خوراک،،،چند کپڑے،،،اور چھوٹی
سی سواری درکار ہے ،،،اپنے آج کو کل کے لیے اتنا قربان نہ کیجئےگاکہ فریزرگوشت
سے بھرا ہو مگرآپ نہ ہوں کھانے کے لیے،،،،!!!

آج دریا کوکوزے میں بند کر دیتا ہوں
کوزہ نہ بھرئیے گا ورنہ ابھی سے سیلاب کی خبر دیتاہوں،،،،!!!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 861359 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 May, 2018 Views: 1123

Comments

آپ کی رائے
Sad + Instructive,,,,,very nice as usual,,,,
By: Mini, mandi bhauddin on May, 12 2018
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on May, 14 2018
0 Like
its sad
By: sohail memon, karachi on May, 07 2018
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on May, 14 2018
0 Like