خلائی مخلوق یا دوسرا ڈان لیکس ؟

(Roshan Khattak, Peshawar)

 انسان ہر وقت کچھ نہ کچھ سوچ رہا ہوتا ہے اس کی اچھی سوچ ایک اچھے معاشرے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے اور بری سوچ معاشرے کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بھی بن سکتا ہے۔دراصل انسان کی سوچ ایک بہتے ہوئے پانی کی طرح ہے جو ہر وقت بہتا رہتا ہے اس کے بہاؤ کو کاٹ کر فائدہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے اور بعض اوقات یہی بہاؤ نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے ۔جب پانی ٹہر جائے تو وہ پینے کے قابل نہیں رہتا بلکہ اس سے بد بو اور بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں ،جب انسان کی سوچ صرف اور صرف اپنی ذات تک محدود ہو جائے اور اس میں لالچ، ہوسِ زر اور ذاتی مفاد کو تر جیح دینے لگے تو اس کو انسانی سوچ کا ٹھہر جانا کہتے ہیں۔جس طرح ٹھہرا ہوا پانی بد بواور بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے ۔اس طرح انسانی سوچ خصوصا کسی قوم کی لیڈر شِپ کی سوچ کا ٹہراؤ بھی اچھے معاشرے کی تعمیر میں مددگار ثابت نہیں ہو سکتی بلکہ بگاڑ کا باعث بن جاتی ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے سابق اور نااہل وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی سوچ میں بھی اسی طرح کا ٹہراؤ آگیا ہے انہوں نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ ان کا مقابلہ پیپلز پارٹی یا تحریکِ انصاف سے نہیں، بلکہ خلائی مخلوق سے ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’ خلائی مخلوق اپنی مرضی کی پالیمنٹ لانا چاہتی ہے ‘‘سابق وزیراعظم کے اس بیان کے بعد پاکستانی سیاست میں ، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس پر بحث ہو نے لگی ہے۔موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے بھی سپیکر اسمبلی کی طرف سے دی گئی عشائیہ میں اس حوالہ سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا ’’ انتخابات نگران حکومت نہیں ، بلکہ خلائی مخلوق کروائے گی مگر ہم پھر بھی اس کا حصہ بنیں گے ‘‘ مگر اس بحث میں سب سے زیادہ چونکا دینے والا او ر قابلِ غور بیان سابق وزیرِ داخلہ چودھری نثار کا ہے ،انہوں نے پریس کانفرنس میں اپنا بیان دیتے ہو ئے کہا کہ ’’نواز شریف کا خلائی مخلوق والا بیان دوسرے ’’ڈان لیکس ‘‘ کے مترادف ہے ‘‘ ان کے اس بیان میں یقینا بہت بڑا وزن ہے ، ہر ذی شعور پاکستانی یہ جانتا ہے کہ نواز شریف کا خلائی مخلوق سے مراد ’’ فوجی اسٹیبلشمنٹ ‘‘ ہے۔مگر ڈر کی وجہ سے وہ براہ راست فوج کا نام لینے کی بجائے اشاروں میں اسکا تذ کرہ کرتے ہیں۔درحقیقت انہوں نے اپنے اس بیان میں پاک آرمی کو موردِ الزام ٹہرایا گیا ہے ۔ جس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ نواز شریف پاکستان کے فوج کو دنیا کے سامنے جمہوریت دشمن قوّت ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔ اس سے قبل ڈان اخبار میں شائع شدہ ایک خبر کے ذریعے پاک فوج کی بد نامی کی مذموم کو شش کی گئی تھی۔سب جانتے ہیں اور اس میں کو ئی دو رائے نہیں کہ وطنِ عزیز میں اگر کوئی مضبوط ادارہ ہے تو وہ پاک فوج ہے ،ملک کے دیگر تمام اہم ادارے تو سیاست کی مداخلت کی وجہ سے بالکل تباہ ہو چکے ہیں ،اگر یہ ادارہ بھی خدا نخواستہ دوسرے اداروں کی طرح برباد ہو جائے تو پاکستان کو تباہ ہونے سے نہیں بچایا جا سکتا۔یہی بات ملک کے بیرونی دشمنوں کو خوب معلوم ہے ،اسی لئے وہ پاک فوج کو بد نام کرنے، کمزور کرنے کے درپے ہیں ،ان کی خواہش ہے کہ جتنا جلد ممکن ہو سکے ،پاکستانی فوج کی طاقت کو آسودہ خاک کیا جائے۔کیونکہ افواجِ پاکستان ہی پاکستان کی سلامتی کی ضامن ہے۔سب کو معلوم ہے کہ پاکستان اس وقت نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے۔۔

اندریں حالات اگر تین بار منتخب ہونے والا وزیراعظم ملک دشمن عناصر کی آواز میں آواز مِلا کر عساکرِ پاکستان کو بدنام کرنے میں جان بوجھ کر یا اپنے نادانی اور ذاتی مفاد کے خول میں محبوس ہو کر ’’خلائی مخلوق ‘‘ جیسے بیانات داغ رہا ہے تو یقینا ایسے بیانات وطنِ عزیز کے مفاد میں نہ ان کے اپنے ذاتی مفاد میں ہیں، سپریم کورٹ سے نااہل ہو نے کے بعد انہوں نے عدلیہ کے خلاف مہم شروع کی اور اب افواجِ پاکستان کو ’’خلائی مخلوق‘‘ سے تشبیہہ دے کر بد نام کرنے کی ناکام سعی کر رہے ہیں۔ان کے جو بھی مشیر یا وزراء انہیں ’’ٹکراؤپالیسی‘‘ کا مشورہ دے رہے ہیں ۔وہ ان کے دوست ہیں نہ ملک کے وفادار، عدلیہ مخالف اور فوج مخالف پالیسی نہ صرف یہ کہ ان کے لئے نقصان دہ ثابت ہو گی بلکہ وطن دشمن عناصر کے لئے نھی معاون و مددگار ثابت ہو گی ‘ جس کی وجہ سے ملک کو بھی نا قابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔مناسب ہو گا کہ نواز شریف اور اس کی پارٹی بلیم گیم کی بجائے صاف ستھری ،حکیمانہ اور دانشمندانہ سیاست کرے تاکہ ان کا اپنا بھی ااور وطنِ عزیز کا مستقبل بھی محفوظ اور روشن رہے۔۔۔۔۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 385 Print Article Print
About the Author: roshan khattak

Read More Articles by roshan khattak: 237 Articles with 122619 views »
I was born in distt Karak KPk village Deli Mela on 05 Apr 1949.Passed Matric from GHS Sabirabad Karak.then passed M A (Urdu) and B.Ed from University.. View More

Reviews & Comments

Language: