سانحہ نیلم وادی (میرا کیا قصور تھا )

(Mona Shehzad, Calgary)

میں نے فیس بک پر لاہور ڈینٹل کالج کے طلبا و طالبات کی پل پر کھڑی مسکراتی تصویر دیکھی. چالیس ہنستے مسکراتے لڑکے لڑکیاں آنکھوں میں روشن مستقبل کے خواب سجائے کھڑے تھے. ان لڑکوں میں سے ایک لڑکا اپنے گونگے بہرے ماں باپ اور معذور نانا نانی کا سہارا بھی تھا. کچھ کے ارمان ماں باپ کا بازو بننے کے تھے. کچھ کسی کے پیار کے دھاگے میں پروئے ہوئے نئی زندگی کے منتظر تھے. جہاں راوی امن ہی امن لکھتا ہے. یک لخت ایک زوردار آواز سے پل ٹوٹ جاتا ہے. سارے خواب زوردار دریائے نیلم کے برد ہوجاتے ہیں. چھ طلبا اور طالبات کو بچا لیا گیا وہ زخمی ہیں مگر زندہ ہیں. باقی لاپتہ ہیں. کچھ کی لاشیں مل گئی ہیں. میں ایک ماں ہوں میرے دل پر ان تمام ماوں کی دہشت سوار ہے جنہوں نے اپنے جگر گوشے کھو دئیے.

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس حادثے کا ذمہ دار کون ہے؟

کیا حکومت کی ذمہ داری میں کشمیر کا جنت نظیر خطہ نہیں آتا؟ اتنے سالوں میں حکومت آزاد کشمیر میں ڈھنگ کے پل تک نہیں بنا سکی. یہ ترقی کی کونسی قسم ہے جس میں میٹرو کی ضرورت ہے مگر ندی نالوں پر پل غیر ضروری ہیں؟

کاش ارباب اختیار کا کوئی "اپنا" بھی اس ڈوبنے والوں میں شامل ہوتا. یہ ایک برا خیال ہے مگر جس ملک میں عوام الناس کو کیڑے مکوڑے سمجھا جائے وہاں پر کوئی اور کیا گمان کرسکتا ہے.

اگر یہ پل بوسیدگی کے بجائے زیادتی وزن کے باعث گرا تو بھی محکمہ سیاحت کی طرف سے وہاں کوئی چیک پوسٹ کیوں نہیں تھی؟

کیا وزیر امور سیاحت نے استعفے دے دیا ہے کہ ان کی قیادت میں یہ اندوہناک واقعہ رونما ہوا ہے؟

مگر یہاں لاشوں پر رو کر سب خاموش ہوجائنگے. میڈیا کو کوئی اور خبر مل جائے گی جس کی انہوں نے کوریج کرنی ہوگی. کیا ان طلبا وطالبات کے والدین ان بچوں کو بھلا پائنگے جو ایک تفریحی مقام کی سیاحت کے دوران اپنی جانیں کھو بیٹھے. اب کون سوال کرئے گا.

میرا کیا قصور تھا؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 175017 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
14 May, 2018 Views: 582

Comments

آپ کی رائے