کشمیرمیں خاندان لوہر کوٹ کی حکومت ۔۔۔۔۔ ایک نظر میں(حصہ دوئم)

(Amir Jahangir, )

راجہ ادت کرش کی خود کشی کے بعد ہرش دیو نے عنان حکومت سنبھالی۔راجہ ہرش دیو نے حکومت سنبھالتے ہی عوامی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کیے۔بجے مل کو منصب وزارت عطا کیا۔امیروں اور وزیروں کو امور مملکے چلانے کے لیے مختف محکمہ جات دیتے ہوئے مکمل اختیارات دیے تاکہ کی ملکی معاملات کو بہتر بناتے ہوئے عدل و انصاف قائم کیا جا سکے۔درباریوں اور دیگر افراد کو لباس ظاہری اور بدنی کی صفائی کا خیال رکھنے کا حکم دیا۔امور مملکت احسن طریقے سے چلنے لگے لیکن فسادیوں نے راجہ ہرش دیو اور بجے مل کے درمیان اختلافات پیدا کیے۔بجے مل نے راجہ ہرش دیو کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور لڑائی کے لیے تیار ہو گیا۔ہرش دیو کی فوج نے اس کے دانت کھٹے کیے اور بھاگ کر داردستان چلا گیا۔بجے مل نے دوبارہ فوج جمع کرتے ہوئے موسم بہار کی ابتدا ء میں کشمیر پر چڑھائی کر دی۔درہ کوہستان سے گزرتے ہوئے ایک برفانی تودہ بجے مل کی فوج پر آ گرا اور ساری فوج اور بجے مل جان بحق ہوگئے۔ہرش دیو بجے مل کے شر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔

بجے مل کی اس قدرتی موت نے راجہ ہرش دیو کی زندگی میں ایک حیرت انگیز تبدیلی آئی۔راجہ ہرش دیو عیش و عشرت میں اس قدر مشغول ہوا کہ ہر وقت عیاشی کرنے میں مصروف ہو گیا۔اوباشوں اور قلاشوں کی صحبت میں رہنے لگا۔دن رات عیش و عشرت میں غرق امور مملکت سے بے خبر رہنے لگا۔شہوت پرستی کی تمام حدود بار کر گیا۔محل میں ہر وقت رقص وسرور کی محفلوں کے لیے رقاصوں، قوالوں،مسخروں اور خوشامدیوں کی موجودگی عام کر دی گئی تھی۔عیش و عشرت میں تمام ملکی خزانے خالی کر چکا تھا۔دانشمنداور مخلص وزیروں کو پاس نہیں آنے دیتا تھااور کم عقل اور کمینے لوگ راجہ کے قریب ترین ساتھی گردانے جاتے تھے۔چند کم عقلوں کے مشورے سے علاقہ داردستان پر حملے کی تیاری کی۔راجہ داردستان بھی مقابلے کے لیے آگے بڑھااور درہ کوہستان میں معرکہ کے لیے صف بندی ہوئی۔لڑائی سے قبل ہی شدید برف باری اور بارش کی وجہ سے راجہ ہرش دیو کی فوج بے دلا اور خائف ہوگئی۔راجہ داردستان نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے۔راجہ ہرش دیو کی فوج ہر حملہ کر دیا۔راجہ ہرش دیو کی فوج بھاگنے پر مجبور ہو گئی اور قریب تھا کہ ہرش دیو گرفتا ہو جاتا۔لیکن راجہ ہرش دیو کے چچا زاد بھائیوں سوسل اور اوسچل فوج لے کر ہرش دیو کی مدد کے لیے آ گئے۔مخالفین کو پسپا کرتے ہوئے راجہ کو ہمراہ لیتے ہوئے واپس محل میں پہنچ گئے۔کچھ عرصہ بعد جب راہ بھون نے لوہر کوٹ پر حملہ کیاتو ہرش دیو نے اپنے سپہ سالار گندھرپ کو اس کی سرکوبی کا حکم دیا۔گندھرپ نے راجہ بھون کو جوانمردی سے مغلوب کیا۔اس کے بعد والئی راجوری راجہ سنگرام پال نے سرکشی کی لیکن کامیب نہ ہو سکا اور ہتھیار ڈال دیئے۔

راجہ ہرش دیو کے دور میں شدید بارشیں اور برف باری ہوئی تمام ملک میں طوفان اور سیلاب برپا ہوا۔فصل کو شدید نقصان ہوا اور قحط عظیم بھیل گیا۔اشیاء خورد و نوش ختم ہو گئی اور ہزاروں جانیں تلف ہوئی۔پنڈت کلہن نے راجہ ہرش دیو کے حوالے سے مختلف قصے بیان کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راجہ عقل سے بالکل عاری تھا اور سنی سنائی باتوں پر زیادہ عمل کرتا تھا۔راجہ کے اس عمل کی بدولت اراکین سلطنت میں ابتری پھیل گئی شاہی رعب ودبدبہ مکمل طور پر ختم ہو گیا۔اقوام ڈانگر کی سرکشی کی سرکوبی کی اور ڈانگروں کے ساتھ ساتھ برہمنوں کے سر بھی کاٹ لیے اور اس طرح راجہ کا خوف چھا گیا۔راجہ کے جاہ وجلال کو دیکھ کر سوسل علاقہ لار اور اوسچل راجوری کی طرف بھاگ گئے۔اوسچل نے قوم ڈانگر اور لون کی مدد سے کشمیر پر چڑھائی کی اور سوسل بھی اپنی فوج لے کر اس کے ہمراہ ہو گیا۔راجہ ہرش دیو نے مقابلہ کیا اور دونوں بھائیوں کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔عاسل اور اوسچل نے ایک مرتبہ بھر قوم ڈونگر اور لون کی مدد سے کشمیر پر زور دار حملہ کیا اور اس بار راجہ ہرش دیو کو گرفتار کرتے ہوئے قتل کر دیا۔راجہ ہرش دیو نے1114ء تک کشمیر پر 11سال 8ماہ حکومت کی۔مشہور تاریخ دان پنڈت کلہن کا باپ راجہ ہرش دیو کے وزیروں میں شامل تھا۔

راجہ ہرش دیو کی موت کے بعد اوسچل قوم ڈانگر و لون اور اپنے بھائی کی آشیرباد سے کشمیر کا حکمران بنا۔راجہ اوسچل نے حکومت سنبھالتے ہی عدل وانصاف کا بول بالا کیا۔اپنے بھائی سوسل کو لوہر کوٹ کی حکومت عطا کی۔قوم ڈانگر کو اعلی حکومتی مناصب عطا کیے۔عالموں ،فاضلوں،اور ہنرمندوں کی خوب عزت افزائی کرتاتھا۔فسادیوں اور فتنہ پروروں کی حوصلہ شکنی کی۔ظالموں کی جائدادیں ضبط کیں،ملکی حالات کو یکسر تبدیل کر دیا۔زراعت، کھیتی باڑی کو فروغ دیا،شفاخانے،منادر اور معابد خانوں کی مرمت کروائی۔اراکین سلطنت کو رشوت خوری سے روکااور خود لباس تبدیل کر کے راتوں کو چکر لگاتا تھا۔راجہ اوسچل نے ملکی معاملات عدل و انصاف سے چلاتے ہوئے خزانہ عامرہ بھر دیا۔راجہ اوسچل مں بے شمار خوبیوں کے ساتھ ساتھ دو بری عادتیں تھیں جو تمام خوبیوں پر بھاری تصور ہوتی تھیں۔ایک برہ عادت یہ تھی کے راجہ کی زبان بہت گندی تھی۔ہر کسی سے بدکلامی اور بدزبانی سے پیش آتا تھا۔اور دوسری یہ عادت تھی کے اراکین دولت اور لوگوں کو آپس میں لڑا کر اپنے معاملات سیدھے کرتا تھا۔ابتداء میں راجہ اوسچل نے امن و امان اور عدل و انصاف سے حکومت کی اور بعد میں اس کے ذہن میں اس قدر غرور و تکبر چھانے لگا اور کہ ہر وقت اراکن سلطنت کے تغیر و تبدل میں رہتا تھا۔ان حالات کے باعث قوم ڈانگر جو اس کی سب سے زیادہ حامی تھی اس کے خلاف ہونا شروع ہو گئی۔یہ صورت حال دیکھتے ہی سوسل کے دل میں حکومت ملک کی خواہش نے انگڑائی لی اور اوسچل نے فوج تیار کر کے کشمیر پر حملہ کر دیا۔راجہ اوسچل نے اپنے سپہ سالار ککنہ چندر کو مقابلے کے لیے بھیجا ۔ بارہ مولہ کے مقام پر ایک خون ریز معرکہ ہوا جس میں سوسل کو شکست ہوئی ۔سوسل بھاگ کر علاقہ داردستان کی طرف نکل گیااور بعد مہں براستہ کرناہ لوہر کوٹ پہنچا۔راجہ دارد نے بھی کشمیر پر حملہ کیا لیکن باکام لوٹا۔ سوسل کی بغاوت سے راجہ اوسچل کی اپنوں سے اس قدر بدگمان ہوا اورہرش دیو کا پوتا بکھاچر جو عالم طفولیت میں تھا کے خاتمے کا منصوبہ بنایا تاکہ مستقبل میں کوئی بھی اس کے خلاف سر نہ اٹھائے۔ان ہی دنوں کی بات ہے کہ سوسل کے ہاں دختر نگرکوٹ کے بطن سے ایک لڑکے نے جہنم لیاجس کا نام جے سنگھ رکھا گیا۔جے سنگھ کی پیدائش کے بعد دونوں بھائیوں میں اتفاق پیدا ہوا۔اسی دوران راجہ سنگرام والئی راجوری کا انتقال ہوا اور راجہ اوسچل نے اس کی جگہ اس کے بیٹے سوم پال کو راجوری کا حکمران مقرر کیا۔

راجہ اوسچل کی حکومت کے آخری ایام میں اس کی بد زبانی اور فتنہ پروری کی وجہ سے لوگ متنفر ہو گئے۔قوم ڈانگر نے راجہ سے انتقام لینے کی ٹھان لی اور راجہ کا کام تمام کرنے کے لیے تدابیر سوچنے لگے۔بالآخر 1024ء میں ایک دن راجہ اوسچل تن تنہا حرم سرا کو جا ریا تھا کہ ایک سائل نے راجہ کے سر کے بال مضبوطی سے پکڑ لیا اورروڈ نے ایک ہی وار میں راجہ کا سر تن سے جدا کر دیا۔اوسچل کے سپہ سالارنے دونوں بھائیوں روڈ اور چھوڈجو راجہ یوششکر کی اولاد میں سے تھے کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔راجہ اوسچل کے قتل کے ساتھ ہی اس کی10سال 4ماہ کی حکومت کا خاتمہ1125ء میں ہوا۔

(جاری ہے)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: AMAR JAHANGIR

Read More Articles by AMAR JAHANGIR: 33 Articles with 15082 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 May, 2018 Views: 342

Comments

آپ کی رائے