ہم کسی سے کم نہیں

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: فخر الدین، پشاور
اس وقت کو کیا سما بپا ہوا ہوگا ، لوگوں کو کتنی خوشی محسوس ہوئی ہوگی، وہ دن بھی کیا عجیب دن ہوگا، معلوم نہیں اس وقت ہم کہاں تھے۔ شاید اپنے بستر پر یا پھر ماں کی گود میں۔۔۔ بہت افسوس ہوتا ہے کہ کاش اس وقت ہم سمجھدار اور عاقل و بالغ ہوتے۔ ہم بھی فخر سے سر اٹھا کر پاکستان زندہ باد اور نعرہ تکبیر، ’’اﷲ اکبر‘‘ کے نعرے لگاتے۔ ہم بھی شکرانے کے طور پر نوافل ادا کرتے، ہم بھی سوشل میڈیا پر ’’پاکستان زندہ باد‘‘ اور اس طرح کے دوسرے فخریہ پوسٹس شیئر کرکے دنیا کو بتاتے کہ ہم کسی سے کم نہیں، اوہ معذرت! اس وقت تو سوشل میڈیا کا سرے سے وجود ہی نہیں تھا۔ وہ وقت تو 1998 ء کا تھا جبکہ سوشل میڈیا تو اکیسویں صدی میں عروج کو پہنچا ہے۔

جب 28 مئی 1998ء کو جمعرات کے دن عصر کے قریب جب سورج زردی مائل تھا اور بلوچستان چاغی کے مقام پر پاکستان نے انڈیا کے 5 ایٹمی دھماکوں (جس کی قوت 43 کلو ٹن تھی) کے جواب میں پاکستان نے 6 ایٹمی دھماکے ( جس کی قوت 50 کلو ٹن تھی) کرکے حریف ملک بھارت کے غرور کو خاک میں ملا دیا تھا۔ بھارت نے 1974 میں ایٹمی دھماکے کر کے پاکستانی سالمیت کو نہ صرف خطرے میں ڈالا تھا،بلکہ جوش میں آکر اپنی فوج کو کشمیر بارڈر پر جمع کرنا شروع کیا تھا جس سے ایک حقیقی جنگ ہوتا نظر آرہا تھا ، لیکن پاکستان نے کامیاب ایٹمی دھماکے کرکے نہ صرف اپنی سالمیت کی دفاع کی بلکہ حریف ملک بھارت کے گندھے عزائم کو خاک میں ملا دیا تھا۔ اس وقت پاکستان کئی مشکلات سے دوچار تھا اور بڑی طاقتوں کی طرف سے ایٹمی دھماکے نہ کرنے کی دھمکیاں بھی مل رہی تھیں۔

امریکی صدر کلنٹن بار بار پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو فون کرکے ایٹمی دھماکے نہ کرنے کی ترغیب اور ساتھ ساتھ اقتصادی پابندیاں لگانے کی دھمکیاں دے رہا تھا ، لیکن پاکستانی عوام اور حکومت نے بروقت سے ہی قدم اٹھایا اور ایٹمی قوت رکھنے والا دنیا کا ساتواں جبکہ عالم اسلام کا پہلا ملک بنا۔ اس دن کو ’’یوم تکبیر‘‘ سے موسوم کیا گیا ہے۔ یہ 14 اگست 1947 ء کے بعد دوسرا قومی دن ہے کیوں کہ 14 اگست 1947 کو پاکستان بنا تھا اور 28 مئی 1998 کو پاکستان نے اپنی بقا کی جنگ جیتی تھی۔ یہ دونوں دن پاکستان کیلئے تاریخی اور بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ 14 اگست 1947 کے دن کا بانی قائد اعظم محمد علی جناح تھے اور آج کے دن کا بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہے جنہوں نے اپنے ملک کی بقا کی خاطر اپنی ٹیم کے ساتھ شب وروز محنت کرکے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا اور پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کیا۔

آج 28 مئی کو یوم تکبیر منایا جارہا ہے۔ یہ یوم تفاخر ہے اور ہماری قومی تاریخ کا انمٹ باب ہے۔ آج جگہ جگہ جلسے جلوس بھی ہوں گے پروقار تقاریب کا انعقاد بھی ہوا ہوگا، مختلف تقاریب میں بڑے بڑے سیاستدان دوسروں کے لکھے ہوئے پرجوش تقاریر سنا کر لوگوں سے خوب داد بھی وصول کریں گے مگر اس دن کے منانے کا جو اصل مقصد ہے وہ ہم نہیں جانتے۔ بے شک آپ بازار،گلی یا محلے وغیرہ میں 100 لوگوں سے پوچھے کہ 28 مئی کے دن کو ہم کیوں مناتے ہیں؟ اس دن کیا ہوا تھا؟تو تقریباً پچاس لوگ سے ہی جواب دیں گے باقی غلط۔ یہاں تک تو ٹھیک پھر آپ یہ سوال پوچھئے کہ اس دن کے منانے کا مقصد کیا ہے ؟ تو میرے اندازے کے مطابق 100 میں سے 10 لوگ بھی صحیح جواب نہیں دے پائیں گے۔ اکثر لوگ اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ اس دن پاکستان ایٹمی طاقت بنا تھا اس لئے۔ یہاں تک تو سب کو معلوم ہونا چاہیے جو پھر بھی ہے نہیں،لیکن ساتھ ساتھ اس دن کو منانے کا مقصد سامنے رکھ کر اس دن کو منانا چاہیے۔

یہ بھی صحیح ہے کہ ہم اس دن کی یاد میں مناتے ہیں مگر ہم کو اس دن سے سبق حاصل کرنا چاہیے ، اس دن ہمارے جذبات اور خواہشات پاکستان کو عالم اسلامی میں نہیں بلکہ پورے دنیا میں بہترین مقام کے حصول کا ہونا چاہیے۔ تو آؤ آج کے دن عہد کرتے ہیں کہ سرزمین پاکستان کی خاطر نہ تو ہم ڈریں گے نہ بکیں گے ، نہ کسی کی باتوں میں الجھیں گے اور نہ کسی کی خاطر اپنے ملک کی عزت کو داؤ پر لگائیں گے ، آج سے ہم عہد کرے کہ آج کے بعد ہر وہ کام نہیں کریں گے جس میں ہمارے ملک کو نقصان ہو جس مقصد کے لیے یہ ملک بنا تھا اس مقصد کے حصول کیلئے دن رات ایک کرینگے اور جن مقاصد کے حصول کی خاطر یہ پاک سرزمین وجود میں آیا تھا وہ حاصل کر کے رہیں گے۔

اب آپ خود سوچئے کی پاکستان کو قائداعظم اور علامہ اقبال کے خوابوں کا پاکستان بنانے کے لئے آپ کو کیا کرنا ہے بس سوچئے اور عمل (جہد مسلسل کے ساتھ) شروع کیجئے وہ بھی آج سے۔اگر ہم نے ایسا کیا تو انشاء اﷲ وہ دن دور نہیں جب پاکستان کو عالم اسلام اور عالم دنیا کی نمائندگی حاصل ہوگی اور ہم سر اٹھا کر فخر سے کہیں گے کہ ’’بھائی اب آپ کیا سوچ رہے ہو اٹھو اور نعرہ لگاؤ ہم ’’ہم کسی سے کم نہیں‘‘۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1226 Articles with 497940 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 May, 2018 Views: 244

Comments

آپ کی رائے