وردی، اختیار اور تشدد: سڑک پر قانون نافذ ہو رہا ہے یا خوف؟

سوات میں ایک ٹریفک اہلکار کی جانب سے مبینہ طور پر ڈرائیور پر تشدد کی ویڈیو سامنے آئی۔ اس کے بعد پشاور کے چونگی چوک کی ایک اور ویڈیو وائرل ہوئی جس میں مبینہ طور پر ٹریفک اہلکار گاڑی کے شیشے توڑتے اور ڈرائیور پر تشدد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک تیسری ویڈیو میں ایک اہلکار مبینہ طور پر موٹر سائیکل سوار کا ہیلمٹ توڑ دیتا ہے۔اگر یہ ویڈیوز درست ہیں تو سوال صرف یہ نہیں کہ غلطی کس کی تھی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی بھی سرکاری اہلکار کو قانون نافذ کرنے کے نام پر تشدد کا اختیار حاصل ہے؟

قانون کی عملداری اور طاقت کے استعمال میں واضح فرق ہے۔ اگر کوئی شہری ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے لیے جرمانہ، چالان، گاڑی ضبط کرنا یا قانونی کارروائی موجود ہے۔ لیکن کسی شہری کو مارنا، گاڑی کے شیشے توڑنا، اس کی تذلیل کرنا یا اس کا سامان نقصان پہنچانا قانون نافذ کرنا نہیں بلکہ قانون کو ہاتھ میں لینا ہے۔یہ معاملہ صرف چند ویڈیوز تک محدود نہیں۔ یہ ایک ایسے رویے کی عکاسی کرتا ہے جس میں بعض سرکاری اہلکار خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتے ہیں۔ ریاست کسی اہلکار کو اختیار دیتی ہے تاکہ وہ شہریوں کا تحفظ کرے، نہ کہ انہیں خوفزدہ کرے۔

یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ ہر ویڈیو میں دکھائی دینے والا ڈرائیور یا موٹر سائیکل سوار بے قصور ہو، ایسا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ ممکن ہے کسی نے قانون توڑا ہو، بدتمیزی کی ہو یا مزاحمت کی ہو۔ لیکن پاکستان کے کسی قانون میں یہ نہیں لکھا کہ ٹریفک خلاف ورزی کی سزا موقع پر تشدد، توہین یا املاک کو نقصان پہنچانا ہے۔ سزا صرف عدالت یا قانون کے مطابق مجاز اتھارٹی دے سکتی ہے۔شہریوں کی شکایت یہ بھی ہے کہ ٹریفک پولیس کی موجودگی اکثر ان مقامات پر زیادہ نظر آتی ہے جہاں چالان آسانی سے کیے جا سکتے ہیں۔ رکشہ، موٹر سائیکل اور سوزوکی ڈرائیور اکثر خود کو زیادہ سخت کارروائی کا نشانہ سمجھتے ہیں، جبکہ یہ تاثر بھی عام ہے کہ بااثر افراد یا بڑی گاڑیوں کے خلاف کارروائی نسبتاً کم ہوتی ہے۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو یہ قانون کی مساوی عملداری پر سوال اٹھاتا ہے۔ اس تاثر کو دور کرنے کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوتی ہے۔

پشاور کے مختلف مقامات پر شہری اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ ٹریفک جام، غیر قانونی پارکنگ اور اہم شاہراہوں کی بندش کے مسائل اپنی جگہ موجود رہتے ہیں، لیکن نفاذ کا زور نسبتاً کمزور طبقے پر زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو اس کا اطلاق بھی بلاامتیاز ہونا چاہیے۔ایک اور بحث یہ بھی چلتی ہے کہ ٹریفک اہلکار شدید گرمی میں ڈیوٹی دیتے ہیں، اس لیے ان کی مشکلات کو بھی سمجھنا چاہیے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ 45 سے 47 ڈگری سینٹی گریڈ میں کھڑے ہو کر ڈیوٹی دینا آسان کام نہیں۔ انہیں مناسب سہولیات، آرام، تربیت اور تحفظ ملنا چاہیے۔ لیکن سخت موسم کسی اہلکار کو شہری پر تشدد کا قانونی یا اخلاقی جواز فراہم نہیں کرتا۔

اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ پولیس اور ٹریفک پولیس کے اہلکار اپنی جان خطرے میں ڈال کر بھی فرائض انجام دیتے ہیں۔ بہت سے اہلکار دوران ڈیوٹی شہید بھی ہوتے ہیں، اور ان کی قربانی قابل احترام ہے۔ مگر چند افراد کا غیر قانونی رویہ پوری فورس کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ پیشہ ورانہ احتساب دراصل اچھے اہلکاروں کے مفاد میں بھی ہوتا ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ ان واقعات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

اگر ایک اہلکار شہری پر تشدد کرتا ہے تو پہلی ذمہ داری اسی اہلکار کی ہے۔ لیکن اگر ایسے واقعات بار بار سامنے آئیں تو پھر سوال کمانڈ، نگرانی، تربیت اور احتساب کے نظام پر بھی اٹھتا ہے۔ کیا اہلکاروں کو طاقت کے استعمال کے قواعد سکھائے جا رہے ہیں؟ کیا شہریوں سے برتاو¿ کے لیے باقاعدہ تربیت دی جا رہی ہے؟ کیا ایسے واقعات پر فوری اور شفاف انکوائری ہوتی ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو مسئلہ انفرادی نہیں بلکہ ادارہ جاتی ہے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ ہر وائرل ویڈیو کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں۔ اگر شہری قصوروار ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، اور اگر اہلکار نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے تو اس کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ریاست کی طاقت کا اصل حسن اس کے ضبط میں ہوتا ہے، غصے میں نہیں۔ وردی عزت کی علامت ہے، خوف کی نہیں۔ اگر شہری ٹریفک اہلکار کو دیکھ کر خود کو محفوظ محسوس کرنے کے بجائے خوفزدہ ہونے لگے تو یہ کسی ایک شخص کی نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی ہے۔

سوال صرف یہ نہیں کہ ایک شیشہ کیوں ٹوٹا یا ایک ہیلمٹ کیوں توڑا گیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں یا طاقت کی حکمرانی؟ اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو اس کا اطلاق بھی سب پر یکساں ہونا چاہیے، چاہے وہ عام شہری ہو یا سرکاری وردی پہننے والا اہلکار۔

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1026 Articles with 792827 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More