پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کا دورہ کیلاش

پرستان اور پریوں کی کہانیاں بچپن میں سنا کرتے تھے اور ہمیشہ سنا تھا کہ اپنے وطن عزیز میں کافرستان ایک خوبصورت دلکش جگہ ہے جو پر ستان سے ملتی ہیں اور وہاں پریوں کا بسیرا ہے مگر یہ ایک خواب ہی تھا اس خوا ب کو حقیقت کا روپ دھا رنے کے لیے پا کستان فیڈریشن آ ف کا لمسٹ نے اپنا کردارادا کیااور ایک آ فیشل ٹو ر کا آ ہتما م کیا فیڈ ریشن کے نو جوان صدر سلمان ملک کی کو ششوں نے اس ٹور کو ممکن بنایا ۔ ایک روز مجھے ایک ایس ایم ایس آیا کہ آپ کیلاش ٹور کیلئے جانا چا ہتی ہیں میں نے کہا میں آپ کو کل بتاؤں گی ۔ لیکن فوراََ ہی مجھے خیال آیا اوہ یہ تو اسی پرستان کی بات کر رہے ہیں جہا ں جانے کی خواہش پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک کے لوگ کرتے ہیں ۔ اگلے دن میں نے انہیں فون کر کے بتایا کے میں جاؤں گی ۔ فیڈریشن کیلاش کے سب سے بڑے تحوار چلم جوشی فیسٹیول میں شرکت میں جا رہی تھی جو بڑی خوشی کی بات تھی بتایا گیا تھا کہ بیس رکنی وفد جائے گا لیکن بڑھتے بڑھتے وفد ساٹھ افراد پر مشتمل ہوگیا جس میں 45کالم نویس 15پرڈیوسر ز کیمرا مین اور دیگر نمائندے بھی شامل تھے ۔ اتنا برا وفد لے کر جانا کوئی آسان بات نہ تھی ۔ وفد میں پاکستان بھر سے کا لمسٹ اور اینکرز شامل تھے ۔ ان کیلئے ٹرانسپورٹ طعام و قیام کا بندوبست کرنا صدر سلیمان ملک کی کاوشوں کا نتیجہ تھا ۔ انہوں نے کے پی کے کی حکومت علیم خان اور دیگر سے رابطہ کیا لیکن مایوسی ہوئی ۔ کسی نے بھی ای میل وٹس ایپ یا خطوط کا جواب نہیں دیا ۔ بلآخر حکومت پنجاب سے رابطہ کرنے کا سوچہ گیا ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی آر شاہد اقبال سے رابطہ کیا ۔ انہوں نے کمال مہر بانی دکھا کر مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ۔ اور وفد کیلئے 5ہائے روف اے سی گاریوں کا بندوبست کیا ۔ میڈیا کوریج کا بھی مسئلہ تھا جسے اشتیا ق گوندل اور ممتاز صاحب کی کوششوں سے ڈی جی آئی ایس پی آر سے این او سی حاصل کیا گیا ۔ تمام مراحل سے گزرنے کے بعد طے پایا کہ 12مئی کوساڑھے 11بجے AFOHSکلب سے روانہ ہوں گے ۔ روانگی سے قبل کلب کے روح رواں قیصر رفیق ایڈمسٹریٹر کرنل ساجد نے وفد کے اعزاز میں ایک پر تکلف عشائیہ دیا اور وفد کے اعزازی شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں ۔ اس تقریب کے مہمان خصوسی لاہور پریس کلب کے صدر اعظم چوہدری تھے ۔ یہ ایک خوبصورت مو سم میں خوبصورت تقریب تھی ۔ ہلکی بوندا باندی کے ساتھ ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں ۔ جس سے سب کے چہرے کھل اٹھے تھے ۔ ہمارے خوبصورت سفر کا آغاز ہو چکا تھا ۔ قافلہ صبح 6بجے اسلام آباد پاکستان ٹوارزم کے موٹل فلش مین پہنچا جہاں ناشتہ اور ٹھرنے کا بندوبست کیا گیا تھا۔ 4گھنٹے مختصر قیام کے بعد دوبارہ سفر کا آغاز ہوا ور ہم چترال کیلئے روانہ ہوئے ۔ اپر دیر پہنچتے پہنچتے رات ہو گئی ۔ اپر دیرکے بیس پو ائنٹ وا ڑ ی میں تحر یک انصا ف کے امید وار ملک طا رق نے وفد کے مقا م اور طعام کا بند و بست اپنی رہا ئش گا ہ پر کیا خوا تین کے ٹھہر نے کے لیے علیحدہ گھر میں رہا ئش کا انتظا م کیاگیا ۔ گھر کی خوا تین نے انتہا ئی گر مجو شی سے استقبا ل کیا صبح نا شتے کے بعد چترا ل کے لیے رو انہ ہوئے دوشوار گزار را ستہ انتہا ئی گھٹن تھا لیکن ڈرا ئیور ز بہت ما ہر تھے بڑی مرمہا رت سے را ستہ طے کر رہے تھے لو ا ر ی ٹنل کا ذکر نہ کرنازیادتی ہو گی خوبصورت لو اری ٹنل جسے پہا روں کو بیچ سے کا ٹ کر را ستہ بنا یا گیا جو اپنی خو بصورتی کے لحا ظ سے بھی بے مسل ہے اور اس کا کر یڈ ٹ سا بق صدر جنر ل (ر)پر ویز مشر ف کو جا تا ہے چترا ل پہنچے تو گور نر کا ٹیج میں کھا نے کا اہتما م کیا گیا تھا ضلعی ناظم مغفرت شا ہ کاتعلق جما عت اسلا می سے ہے جما عت اسلا می کے ڈ پٹی سکر ٹیر ی اطلا عا ت قیصر شر یف نے غلعی نا ظم چترا ل سے طعا م اور قیا م کا بند و بست کر وا یا ہو ا تھا ڈ پٹی کمشنر چترا ل اور ضلعی نا ظم سے غیر رسمی گفتگو ہو ئی ضلعی ناظم نے بتا یا کہ جب سے لواری ٹنل بنا ہے چترا ل کے لو گو ں کے لیے آ سا نی ہو گئی ہے اس سے قبل چترا ل کا موسم سر ماہ میں ملک بھر سے زمینی را بطہ یکسر متو قع ہو جا تا تھا لو گ نقل مکا نی پر مجبو ر ہو تے تھے را ت چترا ل میں وفد میں شا مل خوا تین کو خو اتین کے ہا سٹلز میں ٹھہرا یا گیا یہ رات بھی نہ بھو لنے وا لی تھی سا دہ خو بصور ت دلکش حسین بچیاں میک آپ اور مصنو عی ادا ؤں سے بے نیاز مہما ن نو ازی میں مصرو ف تھیں۔ ان کو دیکھ کر سفر کی تمام تھکان دور ہو چکی تھی ۔ رات بھر ہم نے ان کے ساتھ علاقائی رقص اور نغمے گائے ۔ نہ گانوں میں لچک پن تھا نہ رکس میں بے حیائی ۔ سادگی ہی سادگی تھی ۔ سازوں کے بغیر تالیوں کے ردھم میں نغمے بکھیرتے صبح ہو گئی ۔ اور پھر سب نے سفر کی تیاری شروع کر دی ۔ دل نہ چاہتے ہو ئے بھی ان بچیوں سے رخصت لی اور کیلاش کیلئے روانہ ہوئے۔ دشوار کزار کچے دلدل سے بھرے راستوں سے کزر کر شام 4بجے وادی کیلاش پہنچے ۔ ڈپٹی کمشنر چترال ارشاد علی سدھر دی پی او نے خوش آمدید کہا اور سکیورٹی سمیت ہر قسم کا تعاون کیا ۔ سارے راستے بھی پی آر او نے رابطہ رکھا موسم کی صورتحال اور راستے کی دشواری تک تمام معاملات میں باقائدگی سے اپڈیٹ دیتے رہے ۔ انہوں نے بری فراخ دلی سے 60 افراد پر مشتمل وفد کے قیام اور طعام کا بندوبست کیا ۔ ڈپٹی کمشنر ہر چیز کی خود نگرانی کر رہے تھے ۔ چلم جوشی فیسٹیول اپنے عروج پر تھا ۔ ڈھول کی تھال پر رقص نے سما ں باندھ رکھا تھا ۔ میلے کے درمیان میں کیلاشی نوجوان اپنے روایتی انداز میں جنگ لڑ رہے تھے ۔ رنگ بھرنگے لباسوں میں سجی سجائی کیلاشی لڑکیاں واقعی پڑیاں لگ رہی تھیں ۔ سکیورٹی کے حوالے سے بہترین انتظامات کیے گئے تھے ۔ ہر طرف مقامی انتظامیہ اور پاک آرمی کے دستے مستعد سکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے ۔ وفد میں آئے ہوئے خواتین اور مردوں نے بھی کیلاشی خواتین کے ساتھ رقص کر کے خوب انجوائے کیا ۔ بے شمار تصاویر بھی بنوائیں ۔ وادی کیلاش قدرت کا حسین شا ہ کا ر ہے جنت نظیر بلندوبا لاپہا ڑو ں کے درمیا ن قدرت کا تحفہ اس جگہ تک پہنچنا بھی جا ن جوکھوں کاکام ہے جہا ں رقص کے لیے جگہ محصو ص ہے وہاں پہنچنے کے لیے طو یل سیڑ یاں چڑ کر جا نا پڑ تا ہے با رش اور کیچڑ کی وجہ سے بہت سمبھل کر چلنا پڑ ا اچھے اچھوں کا سا نس پھو ل جا تا ہے اوپررقص کی جگہ پر پہنچ کر سفر کی تھکا ن سب بھو ل جا تی ہے نو جو ا ن لڑ کے لڑ کیاں اور ہر عمر کے مرد خوا تین رنگ بر نگ اپنے مخصوص کیلا شی مبلوسا ت میں دنیا کی کو ئی اور مخلوق ہی لگتی ہے وہ اپنی ہی دھن میں محورقص تھے ۔ڈپٹی کمیشنر ارشاد سدھر ایک اچھے میزبان کی طرح فیسٹیول سے متعلق بتاتے رہے ڈی پی او چترال نے بھی اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی ،وہاں کے رسم و رواج کے متعلق بتا تے رہے ۔ ساتھ ساتھ دنوں پہلے کے انتظامات پر بھی نظر رکھے ہوئے تھے۔ رات کو ڈپٹی کمیشنر کی طرف سے یہ تکلف عشائیہ کا بند وبست کیا گیا تھا ۔ راستہ دشوار گز ار تھا ۔کیچڑاور بارش کے سبب رات کو واپسی ممکن نہیں تھی چنانچے رات وہاں ہی ٹھہرنے کا بندوست کیا گیا ۔ صبح واپسی کے سفر کا آغاز کیا چترال روانہ ہوئے اپردیر پر پھر تحر یک انصاف کے رہنما طارق ملک نے پر تکلف چائے کا بندوبست کیا۔ انھوں نے وہاں کی روایات اور تحریک انصاف سے متعلق بتایا کہ یہاں کیا پوزیشن ہے ۔ ان سے اجازات لیکر رات گئے اسلام آباد پہنچے پی ٹی ڈی سی کے موٹل میں ٹھہرنے اور سحر ی کا انتظام کیا گیا تھا ۔ صبح 10بچے ایم ڈی چوہدری عبد العفور سے ملاقات رکھی گئی تھی ۔ فرد اً فرداًسب سے تعارف کے بعد انھوں نے پی ٹی ڈی سی میں کیے جانے والے اقد امات کے متعلق بتایا ۔ وفد کے ساتھ تصاویر بنوائی گئیں اور ہم لاہور کیلئے رخصت ہوئے ۔ یہاں میں اپنے صدر سلمان ملک کی بھی تعریف کر ونگی انھوں نے ہر طرح سے ہرایک کوا کاموڈیٹ کرنے کی کوشش کی ۔ سب کو سلانے کا انتظام کرتے ہوئے اور سب کو کھانا کھلا کر کھاتے اور یہی کہتے رہے کوئی کمی رہ گئی ہے تو درگزر کر دیں ۔ پہلا روزہ تھا ڈرائیوز نے کمال دکھایا اور افطاری سے قبل ہی لاہور پہنچا دیا۔اس طرح ہم نے پہلی افطاری اپنے اہلخانہ کے ساتھ ہی کی آخر میں یہی کہنا چاہتی ہوں ہمارا ملک بہت خوبصورت ہے اللہ نے اسے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے خو بصورت وادیاں دلکشن نظارے سب ہمارے ہیں وادی کیلاش میں بے شمار غیر ملکی سیاح آئے ہوئے تھے اگر ہم راستوں یعنی سڑکوں کو ٹھیک کرلیں سیاحیوں کو مزید سہولتیں فراہم کریں تو یقیناًوادی کیلاش کے لوگوں کیلئے روز گار کے بہترین مواقع دستیاب ہوسکتے ہیں اور ہم اپنے کیلاش کی تہذیت اور روایات کو ختم ہونے سے بچا سکتے ہیں ۔ اس منفرد تہذیت کو بچانے کیلئے تاکہ وہ نقل مکانی نہ کریں انھیں روز گار کے موقع فراہم ہوں۔

Ehtsham
About the Author: Ehtsham Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.