تھائی لینڈ کا مساج ، اور بوسانگ کا چھتری بازار

(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
داستان مسرت.. جس میں مسرت صرف نام کو باقی ہے.

گیسٹ ہاؤس میں آرام کرنے کے بعد ہمیں کہا گیا کہ باہر کھانے کیلئے جانا ہے پھر شہر کا چکر بھی لگائیں گے. جبکہ اگر کسی کو دلچسپی نہ ہو تو وہ گیسٹ ہاؤس میں رہ جائے ان کیلئے مساج کا انتظام کیا جارہا ہے.یہ سن کر مجھے تو خوشی ہوئی کہ چلو باہر نکلنے کا موقع ملے گا کم از کم بدبو والے جرابوں سے جان تو چھوٹ جائیگی . پھر شہر بھی دیکھ لیں گے. رہی مساج کی بات تو ہم نے کیا کرنا. بچپن میں داجی گل نے اپنے چپل اور ہاتھوں سے اتنی تواضع ہماری کی ہے داجی گل ) والد( اسے )چاپی ( مساج کہا کرتے تھے کہ اس سے عقل آتی ہے . پتہ نہیں عقل اس سے آئی یا ابھی تک خیر خیریت ہے لیکن ہماری توبہ مساج سے .

ویسے تو پشاور کے جناح پارک بھی مساج کے حوالے سے مشہور ہیں لیکن مساج کی آڑ میں کیا کیا ہوتا ہے ہم نے سنا بھی تھا اور سڑک کنارے کچھ مظاہرے دیکھے بھی تھے اس لئے میں نے مساج سے معذرت کی کہ اس میں دلچسپی نہیں البتہ شہر دیکھنا چاہونگا البتہ بھارت سے تعلق رکھنے والی سمیتا اور نینا نے مساج میں دلچسپی ظاہر کی اور وہ وہاں پر رک گئی . پھر پتہ نہیں کہ مساج میں کیا ہوا نہ یہ ہماری دلچسپی تھی اور نہ ہی کسی سے کبھی پوچھا لیکن ہم دیگر ساتھیوں کے ہمراہ نکل گئے- ویسے تھائی لینڈ مساج کے حوالے سے بہت مشہور ہیں.اور ہمارے بہت سے جاننے والے اور کچھ صحافی بھی ان مساج گھروں کے بارے میں بہت کچھ کہتے ہیں. اللہ جانے حقیقت کیا ہے. لیکن نہ تو اس چاپی کے ہم شوقین تھے ، نہ ہیں اور نہ رہیں گے.

چنگ مائی شہر کو اگر درختوں کا شہر کہا جائے تو بے جانہ ہوگا ، پہاڑی علاقہ اور خوبصورت پکی سڑکیں اور لمبے لمبے درخت جنہیں دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ یہ لوگ جنگلات کو کتنا محفوظ رکھتے ہیں جبکہ ایک ہم ہیں جنگلات سے ہمیں پتہ نہیں کیوں دشمنی ہیں. گھروں میں درخت تک نہیں لگاتے . چھوٹے پودوں تک نہیں لگاتے. کچھ جگہوں کا دورہ کیا اور پھر ایک جگہ پر لے گئے جہاں پر کشتی میں بیٹھ کر کھانے کا پروگرام کیا گیاتھا وہاں پر کھانے میں سب کچھ تھا لیکن اپنی قسمت میں ابلے ہوئے چاول اور مچھلی ، اور وہ بھی ایسی جس پر نہ کوئی مصالحہ ، نہ مٹھاس ، نہ کڑوی ، ہمارے تمام ساتھی مزے لیکر کھاتے رہے ایک ایک ڈش ، جبکہ مجھے تو ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں" ذائقے کے چکر میں" حرام چیز نہ کھاؤں ، اس لئے دل پر پتھر رکھ کر بے ذائقہ مچھلی اور ابلے چاول کھائے. ساتھ میں یہ سوچ بھی رہا تھا کہ اگر ایسی ہی تربیت پورے پندرہ دن رہی تو پھر تو اللہ ہی حافظ ہے.

بھارتی خواتین نینا اور سمیتا کو کھانے کیلئے بلایا گیا تھا جس کے بعد ہمیں بوسانگ کے بازار میں لے جایا گیا جہاں پر اندازہ ہوگیا کہ جو لوگ اپنے ہنر مندوں پر فخر کرتے ہیں اور انہیں مواقع فراہم کرتے ہیں تو پھر دنیا ان کی دیوانی کیوں ہوتی ہے.اور کیسے اپنے ہنرمندوں کی بدولت وہ ملک ترقی کرتا ہے ہمیں بوسانگ کے بازار میں لے جایاگیا جو کہ چھتریاں بنانے کا مشہور بازار تھا تقریبا دو سو کے قریب چھتریاں بنانے والے ہنر مند یہاں پر کام کررہے تھے جن میں بیشتر خواتین تھی کچھ بوڑھی خواتین بھی تھی کچھ مرد بھی تھے لیکن زیادہ تعداد خواتین کی تھی یہ ہنر مند ہاتھوں سے لکڑی کی چھتریاں بناتے تھے اور اس پر ڈریگن کا مشہور نشان بناتے تھے مختلف مراحل میں بنائے جانیوالے چھتریوں کی قیمتیں پانچ بھات سے لیکر دو سو بھات تک کی تھی .

یہ چھتریوں کا واحد بازار ہے جہاں پر دنیا بھر کے سیاح نہ صرف خوشی سے اسے دیکھنے آتے ہیں بلکہ یہاں پر خریداری بھی بخوشی کرتے ہیں کیونکہ جس انداز سے یہ لوگ چھتریاں بناتے ہیں وہ قابل دید ہے ، کسی سے بات نہیں کرتے بس اگر سوال کرو تو مسکرا کرکر اشارے سے بتا دینگے کہ وہاں جو مقامی لوگ کھڑے ہیں ان سے معلومات کریں. اتنی پیارے انداز میں چھتریاں بنی ہوتی ہیں کہ دل کرتا ہے کہ سارے خاندان کیلئے تھائی لینڈ کے مقامی لوگوں کے ہاتھوں سے بنائی گئی چھتریاں لے جائیں لیکن ہائے ہماری غریبی.. پیسہ بھی بہت نعمت ہے. اگر یہ ہو تو ہر چیز بدل جاتی ہیں. حتی کہ گدھا بھی .. لیکن اگر نہ ہو توانسان کی اوقات گدھے سے بھی بدتر ہوتی ہیں-

بوسانگ کا یہ بازار 1878 میں ایک بس کنڈیکٹرنے شروع کیا تھا جس میں اس نے اپنے علاقے کے لوگوں کو لا کر یہاں پر آباد کیا اور پھر نہ صرف ہنر مندوں کی پروموشن ہوتی گئی بلکہ اس سے اس کنڈیکٹر کی زندگی ہی بدل دی اور وہ کروڑوں کا مالک بن گیا . اگر آپ کے پاس پیسہ ہے تو چھتری پر کوئی بھی ڈیزائن بنا کر دیدیںآپ کو مل جائیگا- ایک اچھا تحفہ بھی ہے اور مقامی صنعت کی ترقی کا بھی طریقہ ہے.

(سال 2012 میں میری لکھی گئی تھائی لینڈکے دورے کے دوران پشتو زبان میں لکھے گئے سفر نامے کی سترھویں قسط)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Musarrat Ullah Jan

Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 329 Articles with 176452 views »
40 year old working journalist from peshawar , attached with National & international media. as photojournalist , writer , blogger, VJ also.. View More
23 May, 2018 Views: 918

Comments

آپ کی رائے