ریبار کی ترجمانی

(Roshan Khattak, Peshawar)

 تبصرہ
کتاب کا نام: ریبار کی ترجمانی
مصّنف و مترجم ـ: فضل ربی خان سرتیز
اشاعتِ اوّل : جنوری 2015(پشتو)
اشاعتِ دوم : دسمبر 2017 (ترجمہ)
رابطہ :حجرہ حاجی فضلِ ربی تحصیل جہانگیرہ ضلع نوشہرہ
تبصرہ : روشن خٹک

مرکہ پبلیکشنز مردان سے شائع شدہ 183صفحات کی کتاب ’’ریبار کی ترجمانی ‘‘ احساسات و جذبات سے لبریز

شاعر ’’ حاجی فضلِ ربی خان سرتیز ‘‘ کے علمی،فکری، سماجی، سیاسی حقائق و مشاہدات،پختون والی اورقومی و بین الاقوامی مد و جذر کا مجموعہ ہے۔اس کتاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے اس سے قبل پشتو زبان میں شائع شدہ اور مقبولِ عام اپنی کتاب ’’ریبار ‘‘ کا اردو ترجمہ بھی خود کیا ہے ۔جس کی وجہ سے کتاب کا سحر نہیں ٹوٹا۔۔اس کتاب میں مصنف نے جا بجا اسلامی فکر،جملہ الہامی کتابوں،خصوصا قرآن سے استفادہ کی تلقین کی ہے۔کتاب پڑھنے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاعر نے بڑے فلسفی انداز میں تمام حقائق کو طشت از بام لا کر عوام الناس کی آنکھیں کھولنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ جرگہ، عزّت، نفس،آنکھیں،آئینہ،نا پیدا وارثان جیسے نظموں میں اور انسانیت کے نام انتساب ،ان کی سچائی اور دور اندیشی کو اجاگر کرتا ہے۔ صفحہ 68نظم ’’ ناپیدا وارثان ‘‘ میں لکھتے ہیں ’’ میں سرِ عام یہ دعویٰ کرتا تھا کہ جو ملک نیا نام لے کر آزاد ہو جائے جیسے اپنا ملک پاکستان‘ اس کے اصل وارث کہیں تیسری نسل میں جا کر پیدا ہوتے ہیں، کیو نکہ آزادی کے وقت مو جود نسل کے خون میں لاکھ قر بانیوں کے با وجود بھی ماں دھرتی کا احساس نہیں جاگتا۔دوسری نسل ماں دھرتی کے احساس کے ساتھ ساتھ پہلی نسل سے بھی متا ثر ہو تی ہے،کہیں تیسری نسل پہ جا کر اس نام کے ملک کے اصل وارث پیدا ہو جاتے ہیں‘‘۔۔ گویا شاعر نے جہاں غم و الم یا درد و کرب کا روّیہ اختیار کیا ہے ، وہیں تعمیری اور مثبت انداز میں آگے بڑھنے اور عزم و حوصلہ کی بات بھی کی ہے۔

الغرض پورا مجموعہ تعمیری اور فکر افزا ہے۔اس کتاب کو پڑھنے کے بعد شاعر کے تعلق سے جو تصویر ابھرتی ہے، اس سے لگتا ہے کہ شاعر نے ہم عصر ماحول اور مسائل کا نہ صرف نہایت سنجید گی اور باریک بینی سے مطالعہ کیا ہے بلکہ تاریخ اور تہذیب و ثقافت کا گہرا ادراک بھی رکھتے ہیں۔ہر فنکار کی یہ تمنا ہو تی ہے کہ اپنے فن کو وہ اس طرح پیش کرے کہ وہ کمال کی انتہائی بلندیوں پر نظر آئے اور یہ تمنا اسی وقت پوری ہو سکتی ہے کہ فنکار اپنی تخلیق پر خونِ جگر صرف کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ’’ فضل ربی خان سر تیز ‘‘ نے جس دید ریزی‘لگن ‘ دلجمعی اور دل بستگی کے ساتھ اپنا خونِ جگر صرف کیا ہے،وہ اس کتاب سے عیاں ہے۔۔۔۔۔۔۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 297 Print Article Print
About the Author: roshan khattak

Read More Articles by roshan khattak: 237 Articles with 122613 views »
I was born in distt Karak KPk village Deli Mela on 05 Apr 1949.Passed Matric from GHS Sabirabad Karak.then passed M A (Urdu) and B.Ed from University.. View More

Reviews & Comments

Language: