"صوبہ کراچی "شہر قائد کے مسائل کا حل۔

(Rao Imran Salman, )

اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ کراچی کی آبادی 3کروڑ سے کم ہوگی ، کراچی اور اس کے اردگرد کے علاقے آبادی کے لحاظ سے اس قدر پیچیدہ ہوچکے ہیں کہ اس کے لیے ایک الگ سے انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ناگزیر ہوتی جارہی ہے ،یعنی ایک ایساانتظامی ڈھانچہ جس کے پاس مکمل صوبائی اختیارات ہو تاکہ یہ حکومت صرف کراچی اور اردگرد کے علاقوں پر خصوصی توجہ دے سکے، پنجاب یا دیگر جگہوں کے لیے جو بھی انڈسٹریز کا سامان آتاہے اس کی ڈیوٹی کراچی سی پورٹ اور ائیرپورٹ پرہی اداکی جاتی ہے اور انڈسٹریل زون ہونے کے باعث اس سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ کراچی پاکستان کا بزنس حب ہے یہ ہی وجہ ہے کراچی میں اندرون سندھ ہی نہیں بلکہ دوسرے صوبے کے لوگ بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں ،اب سوال یہ ہے کہ سندھ میں کس طرح سے دوصوبوں کی تشکیل دی جائے کہ عوام کو اس کا بھرپور فائدہ مل سکے ؟۔ اس مسئلے کے حل کے لیے یہاں پر بسنے والی تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے کا ہونا بہت ضروری ہے جو اس وقت ایک بہت مشکل کام ہے ،صوبہ پنجاب کو دوصوبے بنانے کی بات کرنے میں پیپلزپارٹی کے رہنما سب سے آگے دکھائی دیتے ہیں مگر بات جب سندھ کی جائے تو انہیں سندھ دھرتی کی تقسیم کا راگ الاپنے کا موقع مل جاتاہے ، فی الحال کراچی ،حیدرآباد اور میر پور خاص کو شامل کرکے ایک انتظامی یونٹ بنایا جاسکتا ہے جو صنعتی صوبے کے طور پر سامنے آسکتاہے جس کا کیپیٹل کراچی ہی رہے اسی طرح دوسری جانب باقی سندھ کا جو حصہ ہے وہ زرعی ہے جو زرعی صوبہ کہلائے گا جو سکھر لاڑکانہ ،جیکب آباد،شکار پور،دادواوراس کے اررد گرد کے علاقوں پر مشتعمل ہو سکتا ہے یہ وہ علاقے ہیں جو زرعی پیدوار میں بہت آگے ہیں اوراس کا کیپیٹل سکھر کو بنایا جاسکتا ۔یعنی ایک زرعی صوبہ تو ودسرا صنعتی صوبہ ۔ اس طرح ایک صوبہ صنعتی خوشحالی سے اپنے دوسرے صوبے کو خوشحالی دیگا تو دوسرا غذائی ضروریات کو پورا کریگا،بنیادی طور پر صوبہ کراچی ایک خوشحال صوبہ ہوگا اگر اس سے جمع ہونے والا ریونیو کراچی پر ہی خرچ ہوتو یہ بغیر کسی اضافی مدد کے ترقی اورخوشحالی میں سب سے آگے ہوگا،میں سمجھتا ہوں کہ سندھ کی تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اس کو مسئلے کو مل بیٹھ کر حل کریں کیونکہ اس میں نہ کسی سیاسی جماعت کو فائدہ ہے اور نہ ہی کسی سیاسی شخصیت کو فائدہ پہنچتا ہے اس سے فائدہ کراچی اور سندھ کی عوام کو ملتاہے اس عمل سے صوبائی عدالتوں سے لیکر اعلیٰ شعبوں کے دفاتر الگ ہوجائینگے جو شخص ہزاروں روپے خرچ کرکے جیکب آباد سے کراچی آتاہے اس کی نسبت سکھر جانے میں اسے زیادہ آسانی ہوگی جس میں اس کا وقت اور رقم دونوں ہی بچتے ہیں ۔مگر جس انداز میں سیاسی جماعتوں نے اس مسئلے کو انا کا مسئلہ بنالیا ہے وہ دراصل انا کا نہیں بلکہ وسائل کی تقسیم کا مسئلہ ہے،سالانہ 2ہزارارب روپے کمانے والے شہر قائد کو اپنے ترقیاتی کاموں کے لیے صرف چند ارب روپے ملتے ہیں اور وہ بھی کاغذی کارروائیوں کی نظرہوجاتے ہیں ،یعنی یوں کہاں جائے کہ پیپلزپارٹی کی نظریں اس صوبے کے وسائل پر تو ہیں مگر مسائل کو حل کرنے پر نہیں ہیں کیونکہ یہ ہی وہ جماعت ہے جو کراچی کو صوبہ بنانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،اس طرح آوازصرف ایم کیو ایم ہی اٹھارہی ہے جبکہ مسلم لیگ نوازکے نئے صدر میاں شہباز شریف بھی اپنے تازہ ترین دورے میں سندھ میں دو صوبے بنانے کا نعرہ لگاکر گئے ہیں اگر کوئی جماعت خاموش ہے تو وہ تحریک انصاف ہے جو اس وجہ سے خاموش ہے کہ انہیں ڈر ہے کہ اس عمل سے ان کا سندھ میں ووٹ بینک نہ متاثر ہوجائے ،اس طرح یہ مسئلہ قیام پاکستان سے لیکر اب تک کالا باغ ڈیم کی طرح بلاوجہ ہی پھنسا چلا آرہاہے،یہ ہی وجہ ہے کہ قائداعظم نے 1948میں جب کراچی کو پاکستان کا صدرمقام بنایا تو اس پر سندھ میں موجود تنظیموں نے اعتراضات اٹھانا شروع کردیئے تھے کیونکہ صدر مقام چاہے وہ کسی بھی صوبے میں ہو اس کا مقام الگ ہوتا ہے جیسے کہ اس وقت اسلام آباد پاکستان کا درالحکومت ہے پنجاب کی حدود میں ہونے کے باوجود پنجاب سے الگ کہلاتاہے، قائداعظم کی یہ سوچ کراچی کی قابلیت تھی جسے سندھ کی تقسیم کا نعرہ لگاکردبانے کی کوشش کی گئی اور یہ کوشش آج تک کی جارہی ہے، پیپلزپارٹی گزشتہ کئی سالوں حکومت بنارہی ہے اور صوبہ سندھ کی سب سے بڑی جماعت ہے جس کے ہاتھ میں یہ جادو کی چھڑی ہے کہ وہ اگر چاہے تو کراچی کو صوبہ بناسکے مگر سوال یہ ہے کہ اس عمل سے پیپلزپارٹی کو سیاسی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے کیونکہ ایک صوبے میں حکومت بنانے کے لیے اندرون سندھ سمیت اور کراچی سمیت اردگرد سے صوبائی اسمبلی کے سیٹیں نکال کر وہ سندھ میں حکومت بناسکتی ہے مگر مجبوری یہ ہے کہ کراچی خاص طور پر حیدرآباد میں پیپلزپارٹی کی سیاسی حیثیت بہت کمزور ہے اور وہ نہیں چاہیں گے کہ جب وہ سندھ پر حکومت کریں تو ان کے پاس نہ صرف رقبہ کم ہو بلکہ ان کے ہاتھ سے انڈسٹریل ایریاز کی حدود بھی نکل جائیں جبکہ اگر پیپلزپارٹی صوبہ سندھ میں دو صوبے بناکر دونوں صوبوں پر راج کرنا چاہتی ہے تو انہیں دونوں صوبوں سے ہی کامیابیاں سمیٹنا ہوگی جو فی الحال ناممکن سی بات ہے یہ ہی وجہ ہے کراچی جیساخوبصورت شہرآج کچرا کنڈی میں تبدیل ہوچکاہے جس کا چہرہ کبھی پھولوں کی رنگت کا سا تھا آج اس شہر کا رنگ کسی بیمار شخص کے چہرے کی طرح ہوچکاہے یہ شہر سیاسی جماعتوں کی ہٹ دھرمیوں اور ان کی کالی سیاست کی بھینٹ چڑھتا جارہاہے، آج سندھ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اگر کراچی اور حیدرآباد جیسے دوبڑے صنعتی علاقے اس کے ہاتھ سے نکل جائینگے تو ان کے پاس کیا آئے گا ؟ ہوسکتا ہے کہ وہ ٹھیک سوچ رہے ہو مگر ایک سوال یہ بھی تو ہے کہ ان دونوں شہروں کے لیے سندھ حکومت نے کیا ہی کیا ہے جو یہاں ووٹ بینک نہ ہونے کے باوجود بھی اپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے فی الحال جس انداز میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کراچی صوبے کا نعرہ زور پکڑ رہاہے وہ صرف پیپلزپارٹی کی کراچی اوراس کے اردگرد والوں کے ساتھ بے اعتناعی کی بدولت ہے،کیونکہ یہاں اب ایک اردو بولنے والے ہی نہیں اس شہر میں بسنے والی تمام قومیں ہی پیپلزپارٹی کی حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے خود کو احساس محرومی کا شکار محسوس کرنے لگی ہیں ، یقین جانیئے کہ اگر پیپلزپارٹی نے کراچی اور حیدرآباد کے ساتھ اس قدر بھیانک سلوک نہ کیا ہوتا یہاں صحت ،تعلیم، صاف پانی کی ضروریات کو پورا کیا ہوتا تو کیا مضائحقہ تھا کہ آج کراچی صوبے کی بات زور پکڑتی جبکہ میرا ماننا ہے پیپلزپارٹی جہاں جہاں سے جیت کر سندھ میں حکومت بناتی ہے وہاں کے لوگوں کو ہی صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کردیں تو ان کا بہت احسان ہوگا، میں یہاں اس بات کا بھی خلاصہ کردینا چاہتا ہوں کہ یہ تحریر میں کسی اردوبولنے والے رہنما کے کہنے پر نہیں لکھ رہا جس کا تعلق ایم کیو ایم یا کسی اور جماعت سے ہے بلکہ میں یہ تحریر کراچی اور سندھ میں بسنے والے انسانوں کی فلاح وبہبود کو سامنے رکھ کر لکھ رہاہوں کیونکہ میری تحریر میں اگر ایم کیوایم کا نظریہ ہوتا تو میں لفظ مہاجر کو ضرور استعمال کرتا یعنی صوبہ کراچی کی بجائے مہاجر صوبہ کا لفظ لگاتااور میں یہ لفظ اس لیے استعمال نہیں کررہوں کہ اس شہر میں اب صرف اردوبولنے والے ہی نہیں بلکہ چاروں صوبوں سے آئے ہوئے ہر رنگ ونسل کے پاکستانی آباد ہے،کیونکہ ہم مہاجر، سندھی ،پنجابی اور پٹھان بعد میں ہیں پہلے ہم پاکستانی ہیں ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rao Imran Salman

Read More Articles by Rao Imran Salman: 75 Articles with 36393 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 May, 2018 Views: 375

Comments

آپ کی رائے