سیاست اور محبت

(Akram Saqib, Sahiwal)

اس دنیا میں محبت ایک ایسی چیز ہے جسے ہر کام نکلوانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر خلوص دل سے محبت ہو تب بھی اور اگر دکھاوے کی محبت ہو یعنی سیاسی محبت ہو تب بھی یہ بڑے کام کی چیز ہے۔ گزشتہ کئی دہایئوں سے ہم یہ دیکھتے آ رہے ہیں کہ سیاست ہی محبت ہی کا نام ہے۔ کرسی سے محبت ،کرپشن سے محبت،شہرت دوام سے محبت،عیش و عشرت سے محبت اور ہر دنیاوی نفع کمانے سے محبت۔ سیاست کو محبت کا دوسرا نام دیا جا چکا ہے۔ پہلے لوگ محبت میں قربانی دیا کرتے تھے اب ہر سیاست دان جب بھی حکومت میں آتا ہے وہ یہی کہتا ہے کہ عوام قربانی دینے کے لئے تیار رہے،قربانی مانگتا ہے۔ یہ بھی ایسے ہی ہے کہ پہلے تعلقات نبھائے جاتے تھے اب استعمال کئے جاتے ہیں۔ استعمال کرنے کے بعد یکسر نظر انداز کر دئے جاتے ہیں۔
 
جیسے جسیے دنیا جدید تر ہوتی جا رہی ہے محبت بھی نئے تقاضوں کے ساتھ جلوہ گر ہو رہی ہے۔ محبت کے معنی بدل گئے ہیں اب یہ صرف اپنے لئے کسی چیز کی ضرورت کو کہا جاتا ہے۔ جیسے ہمارے بڑے سیاستدان ہیں۔ اگر ہم عوام سے شروع کریں تو بات کچھ ایسے بنتی ہے کہ عوام کو اپنے لیڈر سے محبت اس لئے ہوتی ہے کہ وہ اس کے ناجائز کام نکلواتا ہے۔ لیڈر اس لئے محبت عوام کے جذبہ لازوال میں مبتلا ہوتا ہے کہ اس کے الیکشن کے لئے اے ٹی ایم عوام ہی ہوتے ہیں۔ کوئی بینر چھپواتا ہے تو کوئی سٹکر ،کوئی جھنڈیا ں بنوا کر دیتا ہے اور کوئی وال چاکنگ کرواتا ہے۔ کسی کے ذمے پوسٹر چسپاں کرنا ہے تو کوئی الیکشن آفس کا خرچہ اٹھاتا ہے۔ یہ سارے کام محبت میں ہی کئے جاتے ہیں۔ جب وہ لیڈر یا امیدوار کامیاب ہوتا ہے تو اس کو محبت نہ کرنے والے بھی محبت کا اظہار کرنے جا پہنچتے ہیں۔مبارک باد دینے کے ساتھ ہی محبت نامے لیڈر کے ہاتھ میں تھما دئے جاتے ہیں کہ وہ انہیں کوئی لائسسنس ٹھیکہ عہدہ نوکری ضرور دے ورنہ اگلے الیکشن میں ووٹ اور نوٹ اپنے استعمال کرنا پڑیں گے۔

ہماری بڑی بڑی سیاسی جماعتیں بھی اسی محبت کے زیر اثر ہیں کہ محبت واقعی ایک بلا ہے۔ وہ پارٹی جو پورے پاکستان میں دوسروں کو کرپٹ قرار دے کر نا اہل کروا رہی ہے اسے اپنے نا اہل لوگوں سے اتنی محبت ہے کہ وہ تمام اصول بھول بھال کر اپنے ہر جلسے میں اس سے محبت کا اظہار کرتی ہے اور اسے سٹیج پر مدعو کرتی ہے۔ اسے خدشہ ہے کہ اگر اس اے ٹی ایم سے محبت کا اظہار نہ کیا تو ہیلی کاپٹر سمیت بہت سی سہولیات سے محروم ہونا پڑے گا۔ اسی محبت کا یہ خاصہ بھی ہے کہ ایک پارٹی کا سربراہ جو کرپشن ایجاد کرنے والوں میں شمار ہوتا ہے اس کا لخت جگر اپنے والد محترم کی محبت میں پوری دنیا کو کرپٹ قرار دیتا ہے اور اگر کوئی پوچھ لے کہ آپ کے والد محترم تو وہ کہتے ہیں کہ انہیں کرپشن کرنا جچتا ہے۔

یہ ہے آج کی محبت اور ہمیں بھی کچھ ایسی ہی لگن ہو گئی ہے خود نمائی کی کہ دوسروں کو برا کہے بغیر اب گزارا ہی نہیں ہوتا۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: akramsaqib

Read More Articles by akramsaqib: 71 Articles with 32315 views »
I am a poet,writer and dramatist. In search of a channel which could bear me... View More
02 Jun, 2018 Views: 185

Comments

آپ کی رائے