کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں!

(Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed, Karachi)

 پاکستان کو بعض لوگوں نے اُکھاڑ پچھاڑ کا اکھاڑا بنا یا ہوا ہے۔میرے قائد اعظم کے الفاظ شاعر نے تو اس طرح قیامِ پاکستان کے حوالے سے ادا کئے تھے۔ ’’ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے ،اس ملک کو رکھنا میرے بچو! سنبھال کے!‘‘مگر بد طینت فوجی حکمرا نوں نے اس ملک کا حلیہ ہی بگاڑ کے رکھ دیا ہے۔یہاں ووٹ کی عزت کو بار بار پامالکیا جاتا رہا ہے۔رہا سہا معاملہ پس پردہ قوتوں نے بگاڑنا شروع کیا ہوا ہے۔جن کا معاملہ یہ ہے کہ ،’’چوہے کو مل گئی ہلدی کی گانٹھ ،پنساری بن بیٹھا‘‘اقتدارکے ایوانوں میں آج حکومت اُن کی ہے جو اس ملک پر من مرضی کے نا اہل لوگوں کو مسلط کرنے کے درپے ہیں۔ان کی آبیاری بعض طاقت کے نشے میں چور پسِ پردہ افراد مسلسل کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ان لوگوں کو جو یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں جمہوریت مضبوط ہویہ احساس ہو چلا ہے کہ مسلم لیگ ن کو ووٹ کے ذریعے ہرانا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔2018 کے انتخابات میں ن لیگ کواقتدار ملا ہی ملا!لہٰذا ان قوتوں نے پسِ پردہ رہ کر ایسے کھیل شروع کروادیئے ہیں کہ ہونے والے الیکشن وقت پر نہ ہو پائیں۔اس کھیل میں پی ٹی آئی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔اور ان کی حامی قوتیں اس کی پشت پر مکمل قوت کے ساتھ کھڑی ہیں۔

پی ٹی آئی ایماندار اور فرشتوں کی جماعت جو اپنے آپ کو جمہوریت کی سب سے بڑی علمبردار ظاہر کر رہی ہے۔اس کے چیئر مین عمران خان نیازی نے اقتدار کی خاطر غدارِ پاکستان پرویز مشرف کو جی بھر کر سپورٹ کیا۔اس کے ساتھ ہی ریفرنڈم میں لوگوں سے اس کیلئے ووٹ کی بھیک مانگی۔پرویز مشرف نے جب غیر مشروط طور پر امریکہ کا ساتھ دینے پر آمادگی ظاہر کی تو موصوف مکمل طور پر ان کے حامی اور مددگار تھے اور جب 2002 میں ان کے وزیر اعظم بنانے کے خواب کی پرویز مشرف نے تکمیل نہ کی تو موصوف اپنے پروموٹر پر ہی بپھرنے کے ڈرامے کرتے دیکھے گئے۔جب موصوف نے پاکستان کی معیشت کا بیڑا غرق کرنے کیلئے جعلی ملے کے ساتھ مل کر دہرنے دیئے توایمپائر انگل ان کے پیچھے لہرا رہی تھی۔جس کا بھانڈا جاوید ہاشمی نے پھوڑا اور ایمپائر کا مکمل حوالہ پیش کیا ۔تو یو ٹرن خان نے اُس ایمپائرکی انگلی کو نعوذ باﷲ ،اﷲ کی انگلی قرار دیدیا! یہ اس شخص کے ایمان کی کیفیت ہے۔ایسے بے ضمیر آ دمی کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سربراہ بنانے پر بعض نا عاقبت اندیش اپنے مذموم مقاصد کی خاطرتلے ہوئے ہیں۔

نواز شریف نے تو میڈیا پر چلتی ہوئی بات اپنے انٹرویو میں بیان کردی تو اُن پر غداری کا بلیم پی ٹی آئی اور اس کے پروموٹرز نے لگانے شروع کر دیئے ہیں،جبکہ یو ٹرن خان اپنے ماضی کے پروموٹرز کو بھی شب و شتم کا نشانہ بنانے پربعض وقت آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔کیا ہندوستانی میڈیا پر کہی ہوئی بات موصوف کو یاد دلانی پڑے گی؟جب یہ ہندوستانی میڈیا پر بیٹھ کر کہہ رہے تھے کہ ’’پاکستان میں کوئی سیاسی تبدیلی فوج کی مرضی کے بغیر نہیں آسکتی ہے‘‘آج جب کوئی اور یہ بات کہتا ہے تو خلائی مخلوق کا حامی اسکو غدار وطن کے خطاب سے نوازتا ہے۔جو چاہیں سو آپ کہیں ہم کو عبث بد نام کیا۔

2018 کے انتخابات کو وقت پر ہونے نہ دینا پی آٹی آئی کے فیور میں جاتا دکھائی نہیں دیا، تو موصوفٖ نے ان انتخابات کو وقت پر نہ ہونے دینے کے لئے اپنے طور پر ااور اپنے پروموٹر کے ذریعے انتخابی عمل کو ناکام بنانے کے کھیل شروع کر دیئے پنجاب میں سوچ سمجھ کر اور بھر پور مشورے کے بعد وزیرِ اعلیٰ کانام منظور کر لیا تھا۔جب وزیرِ اعلیٰ کے نام کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا گورنر کو خط لکھ دیا گیا،اور ہر جانب سے پنجاب عبوری وزیرِ اعلیٰ کی تعریف ہونے لگی ،مگر جب ن لیگ کے سربراہ نواز شریف نے اس نام کی تعریف کی تو گویا قیامت برپا ہوگئی مگر حقیقتاََ یہ بات تو بہانہ تھی۔جس پر عمران نیازی نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ جن کانام بڑے غور و فکر کے بعد منظور کیا گیا تھاکواچانک ہیمسترد کر کے دستبردار ہونے کا عمران نیازی نے اعلان کر دیا۔مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ کسی طرح انتخابات کا التواء کرا لیا جائے۔اسی طرح کے پی کے میں وزیر اعلیٰ کے ایک نام پر اتفاق کر لینے کے بعد اُس نام کو بھی متنازعہ بنا کررد کر دیاگیا۔تاکہ کسی طرح انتخابات کے التوا کا جواز پیدا ہوجائے۔بلوچستان میں بھی کچھ اس قسم کا کھیل رچایا گیا ہے۔

اس سارے کھیل کا واضح مقصد یہ ہی دکھائی دیتا ہے کہ ایمپائر انگلی ہلائے اور اور اس کے سپورٹرنادیدہ مخلوق جم کر اس کا ساتھ دیں۔مگر ان کے لئے سب سے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی تمام ہی سیاسی قوتیں آج اس بات پر متفق ہیں کہ چاہے جو ہوجائے انتخابات وقت پر ہونے چاہئیں۔انتخابات کا التواء کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔

دنیا کے اخبارات اور میڈیا بھی چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ آنے ولا الیکشن ن لیگ کا ہی ہے۔چاہے کوئی جج یا جرنیل اس پر کتنا ہی زور لگا لے۔عوام ووٹ کی عزت کو برقرار رکھنے میں اب پیچھے نہیں ہٹیں گے۔یہ بات بھی حقیقت ہے کہ الیکشن کا التوا کسی کے بھی حق میں بہتر نہیں ہے۔ عمرن خان جیسے سیاسی بچونگڑے کو اب بلونگڑا بن کر سیاست کرنی چاہئے۔ہم نہیں دنیا کہہ رہی ہے کہ حوش کے ناخن لوملک کوجمہوریت کی پٹڑی سے مت اتارو! اس کھیل میں کسی کے بھی کچھ ہاتھ نہیں آئے گا ۔یہ باتیں جو کی جاریہ ہیں زمانے میں پنپنے کی نہیں ہیں۔ملک کو چلنے دو کپتان یا ججوان کی انگلی کے طرف مت دیکھو!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed

Read More Articles by Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed: 285 Articles with 120619 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jun, 2018 Views: 253

Comments

آپ کی رائے