عوامی محاصرہ بنام سیاست

عوامی محاصرہ بنام سیاست
تحریر: ڈاکٹر طالب علی اعوان
۔۔۔۔۔
عالمی سیاست آج ایک ایسے اسٹیج پر کھڑی ہے جہاں امن کے نعرے اسٹیج کی روشنیاں ہیں اور پسِ پردہ طاقت کے ہتھیار چمک رہے ہیں۔ لفظ "انسانی حقوق" اب مرہم نہیں رہا، بلکہ اکثر اوقات زخم چھپانے کا پردہ بن چکا ہے۔ جو قوتیں خود کو دنیا کی اخلاقی سرپرست سمجھتی ہیں، وہی قوتیں دنیا کے نقشے پر نئے زخم کھینچنے میں سب سے آگے دکھائی دیتی ہیں۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی حالیہ عالمی حکمتِ عملی اسی تضاد کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ وینزویلا، ایران اور دیگر ممالک کے خلاف اختیار کی گئی پالیسیاں بظاہر قانون، امن اور عالمی نظم کے نام پر ہیں، مگر حقیقت میں یہ طاقت کے اس ہتھوڑے کی ضربیں ہیں جو ہمیشہ کمزور دیواروں پر آزمائی جاتی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب توپوں کی جگہ پابندیاں ہیں اور حملوں کی جگہ معاشی گھیراؤ، مگر نتیجہ وہی بھوک، بے روزگاری، خوف اور بے یقینی۔
وینزویلا کو دیکھ لیجیے۔ ایک ایسا ملک جو تیل کی دولت پر بیٹھا ہے، مگر اس کے عوام بنیادی ضروریات کو ترس رہے ہیں۔ عالمی طاقتیں اسے سیاسی اصلاح کا نام دیتی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ جب دوا بیمار تک نہ پہنچے، روٹی دسترخوان سے غائب ہو جائے اور معیشت سانس لینا بھول جائے تو اسے اصلاح کہا جائے یا اجتماعی سزا؟ اگر جمہوریت کا راستہ بھوک سے ہو کر گزرتا ہے تو پھر آمریت اور جمہوریت میں فرق ہی کیا رہ جاتا ہے؟
ایران کے معاملے میں بھی کہانی مختلف نہیں، صرف اس کے کردار بدل گئے ہیں۔ ایک معاہدہ، جو مکالمے کی علامت تھا، اسے طاقت کے نشے میں توڑ دیا گیا۔ اعتماد کی اینٹ نکال لی گئی اور پھر دیوار کے گرنے پر حیرت کا اظہار کیا گیا۔ یہ وہ سیاست ہے جس میں پہلے آگ لگائی جاتی ہے اور پھر دھویں پر افسوس کیا جاتا ہے۔ ایسے میں امن محض ایک نعرہ رہ جاتا ہے، حقیقت نہیں۔
ان حالات میں جب امن کے "نوبل انعام" جیسے عالمی اعزازات زیرِ بحث آتے ہیں تو معاملہ محض سفارتی نہیں رہتا، بلکہ اخلاقی تماشہ بن جاتا ہے۔ یہ انعام اس ہاتھ کے لیے نہیں تھا جو دباؤ بڑھائے، محاصرے سخت کرے اور دنیا کو مزید منقسم کرے۔ اگر امن کے پیمانے وہی بن جائیں جو طاقت کے ہیں تو پھر تاریخ کے قاتل اور معمار ایک ہی فہرست میں آ کھڑے ہوں گے۔
اسی پس منظر میں ایک خاموش سوال بن کر ابھرتا ہے کہ کہیں نوبل انعام کے لیے نامزدگی کی "تجویز" کہیں دوبارہ نہ ہو جائے۔ شاید یہ فیصلہ سفارتی بساط پر ایک چال ہو، مگر ہر چال کامیاب نہیں ہوتی۔ کچھ چالیں بعد میں ضمیر کے سامنے صفائی مانگتی ہیں۔ ایک ایسا ملک جو خود جنگوں کی آگ میں جھلس چکا ہو، جس کی گلیوں میں لاشیں گری ہوں اور جس کی معیشت نے عدم استحکام کی قیمت چکائی ہو، اس سے یہ توقع فطری ہے کہ وہ امن کے مفہوم کو محض طاقتور کی تعریف کے مطابق قبول نہ کرے۔
ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے طاقت کی سیاست کا ایندھن بننے کی قیمت نسلوں سے ادا کی ہے۔ اسی لیے ہماری اخلاقی ذمہ داری دوسروں سے زیادہ ہے۔ اگر ہم بھی اصولوں کے بجائے مصلحت کو اپنا قبلہ بنا لیں تو پھر شکایت کا حق بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔
دنیا کو آج مزید پابندیوں، مزید دھمکیوں اور مزید نمائشی اعزازات کی نہیں، بلکہ آئینہ دکھانے والی سچائی کی ضرورت ہے۔ امن تلوار کے سائے میں نہیں پلتا، وہ انصاف کے سائے میں سانس لیتا ہے۔ اور تاریخ کا حافظہ بہت تیز ہوتا ہے۔ وہ یہ یاد نہیں رکھتی کہ کون کتنا طاقتور تھا، وہ یہ ضرور یاد رکھتی ہے کہ کس نے ظلم کو خوبصورت الفاظ میں چھپایا اور کس نے خاموشی توڑنے کی جرأت کی۔
کیونکہ آخرکار۔۔۔!!
طاقت وقتی ہوتی ہے،
مگر اصول ہمیشہ حساب مانگتے ہیں۔
۔۔۔۔۔
(ڈاکٹر طالب علی اعوان) 
Dr. Talib Ali Awan
About the Author: Dr. Talib Ali Awan Read More Articles by Dr. Talib Ali Awan: 57 Articles with 107767 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.