آرٹ اینڈ لائیو انٹرنیشنل سوسائٹی کے زیراہتمام ’’نعتیہ مشاعرہ‘‘

(Haseeb Ejaz Aashir, Lahore)

کیفیت اشک بھری دل پہ مرے طاری ہو
اور پھر اسم محمدﷺکا سخن جاری ہو

کیسے ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں ترے روضے پر
اور ہونٹوں پہ زمانے کی طرف داری ہو
رمضان کی بابرکت ساعتوں میں،’’یوم تکبیر‘‘ کے روز ،آرٹ اینڈ لائیو انٹرنیشنل سوسائٹی کے زیراہتمام معروف ادیب و شاعرصدر سوسائٹی زاہد شمسی نے اپنے نئے کاروبار’’ماربل سلیب ‘‘کی افتتاحی تقریب کے موقع پر آپ ﷺ کی ذات اقدس سے والہانہ عشق و عقیدت کے اظہار کے لئے نعتیہ مشاعرے کا بھی اہتمام کیا۔یاسمین حمید کے زیرصدارت اِس نعتیہ مشاعرے میں ڈاکٹر کنور راجہ بحثیت مہمان خصوصی اورڈاکٹر ضیاء الحسن بحثیت مہمان اعزازی کے شرکت کی ۔جبکہ نامور شاعرہ سوسائٹی کی وائس پریذیڈنٹ یاسمین بخاری اورندیم اظہر ساگر سمیت، نامور قلمی شخصیات شہزاد اسلم راجہ، سید سجاد بخاری، میاں محمد اکبر، فرزانہ اکبر اور شہزاد عابد نے بھی شریک ہو کر محفل کی رونق کو خوب دوبالا کیا۔

ابتدائیہ کلمات پیش کرتے ہوئے اِس روح پرور، ایمان افروز محفل کے میزبان زاہد شمسی نے تمام شرکاء سے اظہار تشکرکیا۔ ناظم مشاعرہ ندیم اظہرساگرؔ نے اپنی منفرد اور دل موہ نظامت سے محبان رسول ﷺکو با ربار سبحان اللہ کہنے پر مجبور کردیا۔آغاز میں اپنے اِس شعر کے ساتھ ہی دادوتحسین کے ذریعہ نعتیہ مشاعرہ کے ماحول کو پروان چڑھادیا
تڑپتا دِل لئے آیا ہوں میں آقا کے روضے پر
خدایا فکرِ دنیا سے مرے دل کو رہائی دے

مہمان اعزازی ڈاکٹر ضیاء الحسن نے آپﷺ سے عشق و محبت میں ڈوبے ہوئے نعتیہ کلام سے سامعین کو خوب محظوظ فرمایا
عطا ہو اک نظر یا جس قدر بھی آپ چاہیں
مجھے یا سیدی، یا رحمت اللعالمین

مہمان خصوصی ڈاکٹر کنور راجہ نے بھی آپ ﷺ کے حضور اپنا ہدیہ نعتیہ کلام پیش کر کے آپﷺ کے ذات اقدس پردل کھول کر عقیدت کے پھول نچھاور کئے اور روح و قلب کو خوب پُرنور کر دیا،کہ سامعین بے ساختہ ’’سبحان اللہ سبحان اللہ ‘‘کہے اُٹھے
نیند یہ راز بہ انداز دگر کھولتی ہے
بند کرتی ہے اِدھر آنکھ اُدھر کھولتی ہے

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت، الفت، چاہت، پیار اور عقیدت کا جو جذبہ ،ولولہ او رشدت زاہد شمسی کے کلام میں کچھ ایسی تھا کہ سامعین کو جہاں مسرور کیا وہیں بے تاب نگاہوں کو غمناک بھی کردیا
میں ترے نام کے اک حرف پہ قربان کروں
میرے ہاتھوں میں یہ دنیا بھی اگر ساری ہو

یاسمین بخاری اپنی میٹھی آواز اور منفرد انداز میں کچھ یوں گویا ہوئیں انکے نعتیہ کلام سے رنگ و نور اور آسودگی کے فوارے پھوٹ رہے تھے۔ جسکا سامعین نے عقیدت مندانہ خیر مقدم کیا ۔
آقا مری جانب بھی رحمت کی نظر ٹھہرے
کچھ نخل تمنا کی شاخوں پہ ثمر ٹھہرے

صدر محفل یاسمین حمیدنے شاندار اور یادگار محفل کے اہتمام پر منتظمین کو مبارکباد بھی پیش کی ۔نعتیہ کلام پڑھ کر سامعین کو جذب کی کیفیت میں لاچھوڑا۔
بابِ حرم پہ ہے کہیں لمس مرے بھی ہاتھ کا
فرشِ حرم پہ ہے کہیں میری جبیں کا بھی نشاں

وقتِ افطار تک جاری رہنے والے مشاعرے میں ایک طرف تو شعراء کرام نے خوب سماں باندھا اور نعت نبیﷺ سے محفل کو خوب گرماتے رہے،فضا میں پھیلی درودوسلام سے مشکبو گونج کی قلب و روح میں کیف و سرور کی لذتیں بکھرتی رہیں اور دوسری جانب عاشقانِ مصطفٰے ﷺ کے پروانے خوب ذوق و شوق سے کلام کو بڑی عقیدت کیساتھ اپنی گردنوں کو جُھکا کر سماعت کرتے رہے ۔محفل کے اختتام پر رمضان کی بابرکت ساعتوں سے فیض یاب ہونے کیلئے اور ملک و قوم کی سلامتی کیلئے خصوصی دعائیں بھی کی گئی۔شرکاء زاہد شمسی کی جانب سے اہتمام کئے گئے پُرتپاک افطاری سے بھی بہت محظوظ ہوئے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Haseeb Ejaz Aashir

Read More Articles by Haseeb Ejaz Aashir: 113 Articles with 58239 views »
https://www.linkedin.com/in/haseebejazaashir.. View More
05 Jun, 2018 Views: 360

Comments

آپ کی رائے