2018 انتخابات اور تلخ حقائق

(Ghulam Mustafa, )

حکومت تحلیل ہوچکی ہے سیاسی اکھاڑا لگ چکا ہے اور ساتویں نگران وزیراظم ناصر الملک صاحب کرسی پر براجمان ہوچکے ہیں ،ہر سیاستدان اپنا سیاسی کیرئیر محفوظ کرنے کے چکروں میں ہے جس کے باعث پارٹیوں میں جوڑ توڑ زوروں پر ہے۔ جب سے ترجمان الیکشن کمشن کی طرف سے پچیس جولائی کی تاریخ طے ہوئی ہے بیشتر سیاستدان موسمی پرندوں کی طرح اڑان بھر چکے ہیں اور اپنے درخت کو چھوڑ کر نئے درخت پہ بسیرا کرچکے ہیں۔ کچھ اضلاع کی انتخابی حلقہ بندیاں عدالت کی طرف سے کالعدم قرار دی جا چا چکی ہیں بلکہ کچھ مزیددرخواستیں انتخابی حلقہ بندیوں کے ضمن میں ،عدالت میں زیر سماعت ہیں ممکن ہے کہ کالعدم اضلاع کی بنا ء پرالیکشن تاخیر کا شکار ہوں لیکن نگران وزیر اعظم ناصرالملک صاحب نے فرمایا ہے کہ الیکشن پچیس جولائی کو ہی ہونگے ان میں تاخیر نہیں ہوگی۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی یکے بعد دیگرے آئینی مدت پوری کرنے کے بعد اکثر ووٹرز کی طبیعت اور سوچ میں کافی بدلاؤ آچکا ہے جن میں کثیر تعداد نئے ووٹرز کی ہے جو کہ اب نئی پارٹی(تحریک انصاف) کو ملک کا اقتدار سونپنے کے متمنی دکھائی دیتے ہیں اور تو اور کافی سیاستدان اپنی سابقہ پارٹیوں کو چھوڑ کرجوق در جوق تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں اور عمران خاں صاحب بھی انھیں بڑی گرم جوشی سے ویلکم کر رہے ہیں اور ایک دفعہ بھی خاں صاحب نے یہ نہیں سوچا کہ جس ایک حلقے سے تین ،تین یا چار ،چار ایم این ایز کو انھوں نے پارٹی میں شمولیت دی ہے ان میں سے اپنی پارٹی کی ٹکٹ کس کو دیں گے(ظاہر ہے ٹکٹ ایک کو ہی ملنی ہوتی ہے باقی جو رہ گئے وہ ناراض ہو جائیں گے)بلا شک و شبہ خاں صاحب کا رویہ اس عمل کے ضمن میں کافی غیر سنجیدہ ہے ۔اورسیز پاکستانیز اور پڑھا لکھا طبقہ عمران خاں صاحب کو کافی پسند کرتا ہے لیکن ان کے غیر سیاسی بیانات اور غیر سیاسی روئیے کی بدولت یہ ووٹ بنک بھی کسی حد کم ہوا ہے۔

ن لیگ نے اپنے پانچ سال مکمل کرلئے ہیں اس لیے ن لیگ مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس دفعہ ن لیگ نے آئینی حکومت کا دورانیہ پورا کرلیاہے۔ن لیگ عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ پچھلی حکومت(پیپلز پارٹی) کے مقابلے میں ن لیگ نے معیشت کو بجاطور پر پہلے سے بھی زیادہ مستحکم کردیا ہے بلکہ بجلی کا بحران بھی پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہوگیا ہے جبکہ حقیقت میں ہم بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے بے انتہا دب چکے ہیں اور اس پہ گردشی قرضوں کا بوجھ الگ سے شامل کرلیں اس کے علاوہ سابق وزیر اعظم نواز شریف صاحب کا وزارت خارجہ کا قلمدان بھی اپنے پاس ہی رکھنا کوئی تک نہیں بنتی تھی کیونکہ بلاشبہ وزارت خارجہ کسی بھی ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور سونے پہ سہاگہ کشمیر کمیٹی مولانا فضل ارحمن کے سپرد کردی گئی تھی تاکہ مسئلہ کشمیر کبھی حل نہ ہو سکے لیکن پاکستانی عوام کبھی بھی احتساب نہیں چاہتے اور جو احتساب چاہتے ہیں اور ملک کو ترقی پر گامژن کرنا چاہتے ہیں ایسے لوگ چیدہ چیدہ ہی ہیں ان سب باتوں سے قطع نظر ن لیگ ملک میں بہت بڑے ووٹ بنک کی مالک ہے جس کا جمود توڑنااکیلے عمران خاں صاحب کے بس کی بات نہیں ہے۔

چلیں ہم قومی اسمبلی کی سیٹوں کا ایک سر سری سا جائزہ لیتے ہیں۔قومی اسمبلی کی کل 270 سیٹیں ہیں ان میں سے سندھ سے 65 سیٹیں ہیں اور سندھ میں عمران خاں صاحب کا ووٹ بنک بالکل صفر ہے یعنی خاں صاحب کو سندھ سے کوئی سیٹ نہیں ملنے والی اس صوبے سے ایک آدھ سیٹ ملی بھی تو کیا ملی ۔ بلوچستان کی کل 13 سیٹیں ہیں ان میں سے بھی کوئی سیٹ بظاہر نظر نہیں آتی یعنی دونوں صوبوں میں تحریک انصاف کا ووٹ بنک صفر ہے گر پھر بھی ان دونوں صوبوں سے ایک دو سیٹیں مل بھی جائیں تو بھی کوئی خاطر خواہ اثر نہیں پڑے گا۔ اب آتے ہیں خیبر پختونخواہ کی طرف ، خیبر پختونخواہ کی کل 40 سیٹیں ہیں ان میں سے یہ زیادہ سے زیادہ 15 سیٹیں لے جا سکتا ہے یا شاید ممکن ہے کہ ایک آدھ زیادہ لے جائے ۔اب آتے ہیں پنجاب میں، پنجاب کی کل 140 سیٹیں ہیں ان میں سے نواز لیگ تقریبا 80 کے لگ بھگ سیٹیں لے جائے گی ،دو سے تین ق لیگ،15 سے 20 پی پی پی کچھ آزاد امیدوار جیتیں گے تحریک انصاف زیادہ سے زیادہ 35 سے 40 سیٹیں لے جا سکتی ہے۔اگر تحریک انصاف کی سیٹوں کوجمع کریں تو یہ 60 اور 70 کے درمیان رہنے کاقوی امکان ہے اور تقریبا اتنی سیٹیں پی پی پی بھی لے جائے اور ن لیگ بھی 80 اور 90 کے درمیان سیٹیں لے جائے گیا ایسی صورت حال میں تحریک انصاف کبھی بھی اپنا وزیر اعظم نہیں بنا سکتی ۔

اب پھر شروع ہوگی جوڑ توڑ کی کہانی جس کے بنا پاکستانی سیاست ادھوری ہے جو بھی پارٹی جوڑ توڑ میں مہارت دکھا گئی اگلی حکومت اسی پارٹی کے حصے میں آئے گی یقین مانئے اس دفع اسٹیبلشمنٹ بھی چکرویو میں ہے کہ جانے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے 71کے انتخابات کے بعد سے حکومتوں کے بن نے اور بگڑنے میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار نظر انداز نہیں کیا جاسکتا لیکن اس دفع صورت حال کافی پیچیدہ ہے کچھ بھی ممکن ہے ۔تحریک انصاف کو گر حکومت بنانے میں دلچسپی ہے تو پھر مخلوط حکومت ہی بن سکتی ہے اس کے لیے ضروری ہوگا کہ تحریک انصاف کے چیرمین اپنے روئیے میں لچک پیدا کریں اور کسی پارٹی سے اتحاد کرلیں ظاہر ہے یہ ن لیگ سے تو اتحاد کریں گے نہیں تو پھر رہ گئی پیپلز پارٹی، اب بات صاف ظاہر ہے دیر کرنا تحریک انصاف کے مفاد میں بلکل نہیں ہے۔

اگر پی پی پی اور ن لیگ کا اتحاد بن جاتا ہے تو یہ بہت ہی آسانی سے حکومت بنا سکتے ہیں اور پھرسونے پہ سہاگہ دونوں جماعتوں کی سینیٹ میں(33+ 23) 56 سیٹوں کے ساتھ واضح اکثریت ہو گی جس کا سیدھا سادا مطلب ہے کہ چند دیگر چھوٹی جماعتوں کے ساتھ آئین میں آسانی سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ ترامیم بھی کروا سکتے ہیں۔جب کہ تحریک انصاف کے پاس سینیٹ میں صرف 13 سیٹیں ہیں اس کیلیئے ابھی بہت سی مشکلات موجود ہیں اس لحاظ سے پیپلز پارٹی بے انتہا خوش قسمت دکھائی دیتی ہے کہ اس کے بنا حکومت بنتی دکھائی نہیں دیتی اور اس کے پاس بہرحال یہ آپشن موجود ہے کہ وہ ن لیگ یا عمران پارٹی میں سے کسی کے ساتھ بھی اتحاد کر سکتی ہے اور تحاد کی مد میں اپنی خواہشات و شرائط بھی لاگو کرسکتی ہے۔

ہوسکتا ہے میرا یہ سرسری جائزہ قارئین کو گراں گزرے لیکن ان سب سے قطع نظر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ ان تین پارٹیز میں سے جو دو پارٹیز اتحاد کر گئیں حکومت کا قلمدان وہی دو پارٹیز سنبھالیں گی اور وہ پارٹیز کونسی ہونگی قبل از وقت کچھ بھی کہنا ممکن نہیں ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Mustafa

Read More Articles by Ghulam Mustafa: 12 Articles with 4333 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Jun, 2018 Views: 316

Comments

آپ کی رائے