اسلام میں درجہ بندی اور اقربہ پروری ۔۔۔!!

(جاوید صدیقی, کراچی)

ہندو مذہب میں اونچ نیچ ،ذات پات کا دخل سب سے زیادہ ہے جبکہ یہی حال سوائے دین محمدی ﷺ کے سب میں پایا جاتا ہے ، بھارت دنیا کے ممالک میں سب سے زیادہ متعصب ملک ہے جہاں انسانوں کیساتھ دوہرہ رویہ اختیار کیا جاتاہے، خاص کر دلت قوم کے لوگ سب سے زیادہ اونچی ذات کے ظلم کا شکار ہوتے ہیں، بھارت میں دلت قوم ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے زندگی کی بنیادی حقوق سے محروم ہوتے ہیں جن میں خاص طور پر تعلیم، ہنر اور بہتر روزگار پر پابندی عائد ہوتی ہے ، دلت قوم میں ہندو مذہب میں شودر ہیں، زمانے کے ساتھ ساتھ دلت قوم کے لوگ مذہب اسلام میں داخل ہورہے ہیں لیکن یہاں بھی انہیں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، دلت قوم کا پیشہ گندی صاف کرنا ہے جسے عام طور پر بھنگی بھی کہتے ہیں ، انہیں بھارت میں مذہب اسلام میں داخل ہونے والے دلت جو پسماندہ مسلمان بھی ہیں وہ مسجدوں میں اس صف اور ایک جاں تو نظر آتے ہیں مگر مسجد کے باہر انہیں تقسیم کردیاجاتا ہے جو سراسر دین محمدی ﷺ کے بر خلاف ہے، دین اسلام نے تمام مسلمانوں کو یکساں حیثیت دی ہے مگر صرف تقویٰ کی بنیاد پر کچھ عزت زیادہ بڑھادی لیکن اس کا مقصد ہرگز نہیں کہ کسی بھی مسلمان کو چھوٹا بڑا تصور کیا جائے، بھارت میں ہندو مذہب کے منفی اثرات کی وجہ سے ابھی بھی کچھ جگہوں میں سید، صدیقی ،فاروقی،علوی،شیخ جیسی ذات کو اس قوم پر زیادہ فوقیت دی جاتی ہے جبکہ قرآن و حدیث میں اس بابت ایسا کچھ نہیں کہا گیا ہے ،خود نبی کریم ﷺ کی مجلس میں مسلم تو مسلم کفار بھی شریک ہوتے تھے ،آپ ﷺ کی صحبت سے وہ مسلمان ہوجاتے تھے یہی سنت صحابہ اجمعین، صوفیاکرام میں بھی پائی جاتی ہے، صوفیا کرام نے انسانوں کو معتبر سمجھا اور اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کے پیغام کو احسن انداز میں پیش کرکے اسلام کی روشنی کو پھیلایا ، بھارت کے شہنشاہ اولیا حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری سنجری رحمۃ اللہ علیہ نے ہندو کے درمیان بیٹھ کر ان کی مجلس میں اسلام کے پیغام کو پھیلایا اُس وقت کم و بیش ایک لاکھ ہندوؤں کودائرہ اسلام میں داخل کیا۔۔۔۔ بھارت میں کئی مسالک دین کو پھیلانے میں اپنا اپنا کردار ادا کررہے ہیں ، ان میں حنفی، شافی، مالکی اور تشیع شامل ہیں، بھارتی دلت یہ نہیں جانتے کہ اسلام کس مسلک میں ہے وہ یہ جانتے ہیں کہ یہ سب مسلمان ہیں اور یقیناً یہ درست ہےلیکن مسلک کی بنیاد پر طریقہ ادائیگی یعنی دینی احکامات کو سمجھانے کا طریقہ ذرا مختلف ہے۔لیکن دین کے اراکین ،فرائض و سنت ایک ہی ہیں، سب سے بڑھ کر دین اسلام میں نہ کوئی چھوٹا ہے نہ کوئی بڑا، نہ کسی گورے کو کالے پر اور نہ کالے کو گورے پر فوقیت حاصل ہے ۔۔۔نہ زبان و قبیلے پر اہمیت حاصل ہےیہی وجہ ہے کہ دین اسلام فطرت انسان ہے، اللہ نے دین اسلام کو فطرت کے مطابق بنایا ہے اسی لیئے پوری دنیا میں سب سے معتبر، پر امن، یکساں، با وقار اور حقوق کا علمبردار ہے۔۔۔معزز قائرین!! دلت کو ہندو مذہب میں اس لیئے برا اگر سمجھا جاتاہے کہ وہ انسانوں کی گندی صاف کرتے ہیں تو ایک بار یہ بھی سوچ لیںوہ اپنے گھر میں گندگی خارج کرتے ہیں اور پھر خود ہی پانی سے دھوتے ہیں تو انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ گندگی نکالنا بھی گندہ عمل ہوا یقناً وہ چاہتے ہوئے بھی ایسا ہرگز نہیں کرسکتے کیونکہ ہر جاندار کو کھانے کے بعد اخراج کا عمل لازمی اختیار کرنا پڑتا ہے خاص طور پر اُس وقت جب وہ سو کر اٹھتا ہے، اللہ اور اس کے حبیب ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ تم عبادات سے قبل پاک و صاف ہوجاؤ اس مین نہ کسی پیشے پر پابندی عائد کی گئی نہ کسی پیشے کو معتبر کہا، صرف حکم دیا گیا کہ عبدات سے قبل جسم کی گندگی کو صاف کرلو ،زیادہ گندگی ہو تو غسل کر ورنہ وضو لازم کرو تاکہ تمہاری ضسم و روح کی گندگی صاف ہوجائے اور تم پاک صفوں کا حصہ بن سکو۔۔۔۔ معزز قائرین!! اس بابت بھارت کے مسلم رہنما، مسلم اسکالرز اور مسلم صحافیوں پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دین اسلام کے اصل چہرے کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کریں تاکہ غیر مسلموں کے درمیان اسلام واضع طور پر نمایاں نظر آئے، دین اسلام میں بیہودگی ،بے حیائی، بے شرمی، شراب، سور حرام ہیں لیکن دلت کا پیشہ نہ گندہ ہے نہ حرام !!وہ مسلمان جو شراب، جوا، زنا اور حرام کھاتے ہیں وہ بد ترین کہلائے گئے ہیں، ایسے لوگوں کو اللہ اور اس کے حبیبﷺ نے نا پسند فرمایا ہے چاہے ایسے لوگ نہادھوکر، شفاف لباس تن کرکے ایسا عمل کریں گے وہ انسانیت اور دین اسلام سے دور ہوجائیں گے ، کیا ہمارا عمل دلت سے برا نہیں ؟؟؟ کیا ہم ہر وہ کام نہیں کرتے جس کو اللہ اوراس کے حبیب ﷺ نے منع فرمایا ہے تو پھر ہم کون ہوتے ہیں جو مسلم دلت قوم کو نا پسند کریں ، اسلام بہت محبت کرنے والا، سب کو جوڑنے والا، امن و امان اور دل آزاری سے باز کرنے والا مذہب ہے، دین اسلام میں نہ درجہ بندی ہے اور نہ ہی اقربہ پروری، دین اسلام تو مساوات کی تلقین دیتا ہے ، برابری کے حقوق کا درس دیتا ہے، ادب و احترام کا حکم فرماتا ہے۔۔معزز قائرین !! ہم مسلم ممالک کی جانب جب نظر ڈالتے ہیں تو ہمارے گمراہ سربراہ نظر آتے ہیں پاکستان سمیت بیشتر مسلم ممالک کے سربراہ غرور و تکبر، ظلم و بربریت میں ڈھلے ہوئے دکھتے ہیں پاکستان کو ہی لے لیجئے کہ یہاں سیاسی سربراہ سے لیکر بیوروکریٹس حرام کمانے کو اپنا حق سمجھتے ہیں،عوام کو جیسے غلام اور یتیم سمجھتے ہوئے ان کے تمام حقوق کو سلب کرتے ہیں اور اپنے خاندان کیلئے ملکی دولت کو بے دریغ خرچ کرتے ہیں یہ کہاں کا اسلام ہے اور یہ کہاں کے مسلم رہنما ہیں کیا ایک مسلم رہنما کو ایسا کردار اپنا چاہیئے ؟؟؟ عالم اسلام کو اس بابت سوچنا پڑیگا کہ اسلام کی حقیقت کو سامنے لاتے ہوئے اپنے اپنے کردار کو بہتر بناتے ہوئے دین اسلام کی روشنی کو پھیلانا ہوگا کیونکہ خاص کر با اختیار اور با اثر مسلمان کی ایک چھوٹی سے غلطی سے مذہب اسلام کو بدنام کرنے کیلئے کفار و مشکین کو سہارا ملتا ہے، کفار و مشرکین کے درمیان میں رہتے ہوئے بھی خود کو اسلام کے دائرہ سے خارج نہیں کرنا ،ایسے فعل کو ہرگز نہ اپنا جس کی ممانعت کی گئی ہو ، اللہ مجھ سمیت تمام مسلمانوں کو ہدایت بخشے اور دین اسلام کے فروغ کیلئے ہمیں منتخب کرلے آمین ثما آمین۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔۔!!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: جاوید صدیقی

Read More Articles by جاوید صدیقی: 308 Articles with 157353 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jun, 2018 Views: 493

Comments

آپ کی رائے