شہباز شریف کا طوطی

(Dilpazir Ahmed, Rawalpindi)

جنگ میں اقدار کو قائم رکھنا ممکن نہیں رہتا۔کراچی ، جس کے باسیوں کا فخر اقدار ہوا کرتا تھا ۔ ایک ایسی جنگ میں الجھ چکے ہیں جس نے ان سے اقدار ہی نہیں چھینیں بلکہ ان کی راہ کی روشنی بھی اچک لی ہے ۔ کراچی ، ۱۹۷۷ سے پہلے باہر سے آنے والی ساری روشنیوں اور اچھوتے نظریات کا استقبال کیا کرتا تھا۔، خیرہ کن اشتہارات والے رسائل کے بنڈل لانے والے سارے جہازاسی شہر میں لینڈ کیا کرتے تھے۔ نئے ماڈل کی گاڑیاں ہی کراچی کی بندرگاہ پر نہیں اترا کرتی تھیں بلکہ نئے فیشن کے ملبوسات کے کنٹینر بھی یہیں کھلا کرتے تھے۔ لوگ کہتے ہیں کراچی میں برداشت کا کلچر ناپید ہو گیا ہے ۔ لیکن یہ کوئی نہیں بتاتا کہ برداشت اور رواداری کو کراچی سے شہر بدر کرنے کے لیے ۱۹۷۷ سے اب تک پچاس ہزار سے زائد چلتے پھرتے انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ جنگجو بدلتے رہے، جنگ کے عنوان تبدیل ہوتے رہے ۔مگر انسانیت کے کلاف جنگ جاری رہی۔ گذشتہ چالیس سالوں میں جوان ہونے والی ہماری نسل کو صرف ایک ہی سبق ازبر ہے ، مارو یا جان بچاو۔ شروع میں گلیوں اور محلوں سے ، نیم خواندہ نوجوانوں کے غول جھنڈے اور ڈنڈے اٹھا کر نکلا کرتے تھے۔ ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی تو راولپنڈی میں دی گئی تھی۔ مگر پیپلز پارٹی کا جنازہ کراچی میں اٹھایا گیا تھا۔کندھا دینے والوں کو مہاجر کہا گیا ۔بتایا یہ گیا مہاجر ان لوگوں کی اولاد ہیں جو اپنی شناخت پاکستان پر نچھاور کر بیٹھے تھے۔ ۱۹۴۷ سے بھارت سے ہجرت کرکے آنے والے کو احساس ہی نہ ہوا مگر ایک مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے انھیں احساس دلایا کہ آپ مہاجرین کی اولاد ہو۔ علیحدہ قوم ہو ، اور اردوزبان پر تمھاری اجارہ داری ہے۔ کراچی اور حیدرآباد آپ کے شہر ہیں ۔ اپنی حکومت بناو اور پیپلز پارٹی والوں کو بھگاو۔ زبانی کلامی، ڈندے سے اور پھر کلاشنکوف سے بھگایا گیا مگر معلوم یہ ہوا کہ اصل دشمن تو اپنے اندر موجود ہیں لہذا اپنوں کو ختم کرنے کے لیے اچھوتے طریقے اپنائے گئے۔البتہ مار نے والے کو احساس تک نہ ہوا کہ جس لاش کی ہڈیاں توڑ کر بوری میں سمائی جا رہی ہے خود اس کا بھائی ہے۔

جنگ جہاں بھی لڑی جا رہی ہو ااس جنگ کے باعث کسی نہ کسی کی تجوری بھری جا رہی ہوتی ہے۔جب انفرادی تجوری بھری جا رہی ہوتو عوام کی جیب ہلکی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

کراچی نے ۹۷۷ا سے ایک سفر طے کیا ہے ۲۰۱۸ میں حالت یہ ہے کہ انسان ایک دوسرے کو مار مار کر تھک گیا ہے، ہر قسم کے تعصب کے نام پر خون بہا جا چکا ہے ، مگر دو عوامل ایسے ہیں جن سے کسی کو بھی انکار نہیں ، ایک یہ کہ کراچی کا نوجوان روزگار کو ترس رہا ہے اور دوسرا کراچی کے کسی باسی کی جیب سے کچھ نہ کچھ نکل کر کسی تجوری میں جمع ہو رہا ہے۔ اب تو لوگ اس تجوری کو بھی پہچان گئے ہیں۔ جہاں غریبوں کے خون پسینے کی کمائی جمع ہوتی ہے۔ اور ان مگر مچھوں کو بھی پہچان گئے ہیں جنھوں نے نوجوانوں کو سیاست کے رستے بے روزگاری کے میدان میں لا کر بے یارو مدد گار چھوڑ دیا ۔

کراچی والوں کو مہاجر کے نعرے نے کچھ دیا نہ بھٹو مخالفت نے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ان کے زخموں پر مرحم رکھا نہ پاک سرزمین پر کوئی سایہ دار شجر چھاوں مہیا کر سکا۔بہادر آباد سے لے کر لیاری اور نائن زیرو سے لے کر ڈیفنس تک سب کٹھ پتلیاں ہی ثابت ہوئے ہیں۔

۲۰۱۸ میں کٹھ پتلیوں کا کھیل عروج پر ہے۔ ایک سرکس ماسٹر دوبئی میں بیٹھا اپنے مہروں کے ذریعے کراچی پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ کراچی کے باسی تو اس کے جال ہوس سے بچ گئے تو اس نے دوسرے شہروں سے کٹھ پتلیاں در آمد کر لی ہوئی ہیں ۔ رالپنڈی بوائز جو باقائدہ ایک سیاسی پارٹی ہے نے اپنا وزن وزارت عظمیٰ کو ترستے ایک سیاست دان کے پلڑے میں ڈال دیا ہوا ہے۔وزارت کے اس شیدائی کا کے پی کے میں اعمال نامہ یہ ہے کہ پچھلے پانچ سالوں جو کچھ ترقیاتی کام ہوا ہے صرف سوشل میڈیا پر ہوا ہے، ان کا شیوہ ہے جھوٹ ڈٹ کر بولو۔ پنجاب میں تو اس کی کسی نے سنی نہیں ہے لہذا اب اس کا سارا زور کراچی پر ہے۔ پچھلے پانچ سالوں سے کراچی میں بھٹو بھی کے الیکٹرک کی شکل میں زندہ ہے ۔ لے دے کے ملک مین نون لیگ ہی رہ جاتی ہے ۔ جس نے پنجاب میں عا�آدمی کے حالات بدلے ہیں ۔ پنجاب مین تعلیم اور صحت کے شعبے میں زبردست کام ہوا ہے۔ پنجاب کے ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر میں نیا ہسپتال بناہے یا پرانا اپ گریڈ ہوا ہے۔ اس وقت پنجاب کے ہسپتالوں میں کے پی کے ، بلوچستان اور سندھ کے علاقوں سے لوگ علاج کران�آآتے ہیں۔ پنجاب مین ہر قسم کا علاج مفت ہے ۔ اور تعلیم میں پنجاب نے پچھلے پانچ سالوں میں بہت زیادہ ترقی کی ہے۔ ہر گریجویٹ کو لیپ ٹاپ حکومت پنجاب کی طرف سے دیا جاتا ہے۔ بیرون ملک یونیورسٹیوں میں پنجاب کی یونیورسٹیوں کے ساتھ معاہدوں کے تحت پاکستانی طلباء اعلی تعلیم حا صل کر رہے ہیں۔ نواز شریف نے پنجاب کی ترقی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ میٹرو بس پرجیکٹ نے پنجاب میں اولیت حاصل کر کے دوسرے صوبوں کو راہ دکھائی ہے۔تیز رفتار ٹرین کا چلنا ایسا کام ہے جو بھارت بھی نہ کر سکا۔ اس بار مقابلہ نعرہ بازی میں نہیں بلکہ عملی ترقی میں ہے اور عملی ترقی میں شہباز شریف کا طوطی بہت اونچی آواز میں بول رہا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dilpazir Ahmed

Read More Articles by Dilpazir Ahmed: 104 Articles with 57219 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Jun, 2018 Views: 435

Comments

آپ کی رائے