کیا یہی ہے وفاؤں کا صلہ؟

(Abdul Hameed Hamid, )

شہنشاہ معظم شاہد خاقان عباسی صاحب ۔
جان کی امان پائے تو آپ کی سلطنت عالیہ کی مجبور اور بے بس رعایا میں سے ایک گمنام محنت کش کا بیٹا جو بد قسمتی سے آپکے حلقہء انتخاب سے بھی تعلق رکھتا ہے "ظل سبحانی " کے مزاج نازک کی التفات کا طلبگار ہے ۔ عالی جاہ 2002 کے عام انتخابات سے لیکر آج کے دن تک یہ خاک نشین آپ کو ووٹ دیتا رہا اور حسب استعطاعت تگ و دو بھی کرتا رہا مگر آج جب آپکی وزارت عظمیٰ اپنے اختتام کے آخری مراحل میں داخل ہو چکی سلگتے وجود او ر ابلتے زہن سے ابھرنے والے چند سوالات نے قلب و زہن کی گہرائیوں میں وہ محشر برپا کیا کہ مجھے اپنی روح کے ٹانکے ادھڑتے محسوس ہونے لگے کہ چھ بار ممبر اسمبلی منخب ہونے والے شاہد خاقان نے اسقدر ترقی کی کہ وفاقی وزارت کہ علاوہ وزارت عظمیٰ کا تاج بھی انکے سر پہ سج چکا جسکی خوشی میں ابھی تک میرے خطے کے سادہ لوح غریب شادیانے بجا رہے ہیں ۔ عالی جاہ ماضی میں آپکے پاس سب سے آسان بہانہ یہی ہوتا تھا کہ میں اپوزیشن میں ہوں اسلیے کچھ نہیں کر سکتا حالانکہ اسی دور میں جناب نے اپنی زا تی ائر لاین قائم کر کے اپنے زاتی کاروبار کو چار چاند لگا دیے مگر اس بار پہلے چار سال وفاقی وزیر اور قریباؑ ایک سال سے وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھ کر بھی عوام کے لیے کیا کیا جس سے عام آدمی کی زندگی پر عملی اثرات پڑے ہوں ؟ شہنشاہ معظم انتخابات کے فوراٗ بعد آپ اقتدار کے ایوانوں میں یوں کھو گئے جیسے برسوں سے تشنہ لب رند مہ خانے میں کھو جاتا ہے اور ا پنے حلقے کے غریبوں ،مجبوروں ، بے روزگاروں کو اپنے معاون خصوصی جو آجکل اپنے حلیے سے اکبر اعظم کا معاون خصوصی بیر بل نظر آتا ہے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جو آج تک ہم پر عذاب مسلسل کی طرح مسلط ہے اور چن چن کر ہر اس شخص کو عبرت ناک سزا دے رہا ہے جو تین دہائیوں سے بے لوث آپکے نعرے لگا تا رہا ہے۔ وزارت پٹرولیم کی جس کرسی پر آپ اسے بٹھا کر نہ جانے کہاں چلے گئے تھے کاش کبھی ایک بار صرف ایک بار جب وہ دربار لگاتا ہے آپ بھی بھیس بدل کر آٹپکتے تو احساس ہوتا کہ کس بے دردی سے حلقے کے غریبوں ، مظلوموں اور بالخصوص بے روزگار نوجوانوں کو انکی اہلیت اور مفلسی کی کربناک سزا دی جا رہی ہے۔میرے مجبور و بے کس پیر و جوان علی الصبح زہن میں مستقبل کے سہانے سپنے سجا کر انتظار کی قطار میں لگتے ا س ا مید پر کہ شاید انکی بے لوث وفاؤں کی لاج رکھتے ہوئے انکا وزیر ا عظم انکو غر بت و ا فلاس کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر خوشحالی اور با عزت زندگی کی طرف لے جانے کا کوئی پروگرام بنا بیٹھا ہے میرے سامنے لائن میں لگے بے روزگاروں کے وہ اداس چہرے بار بار آ جاتے ہیں جنکی اہلیت انکا جرم بن چکی ہے کہ اپنے سسکتے ارمانوں اور دم توڑتی معصوم خواہشوں کو چہروں پر سجائے وہ بیر بل کا ایسی بے تابی سے انتظار کرتے ہیں جیسے اسکے پاس آب حیات ہو اور یہ سب زندگی کی آخری ہچکی لے رہے ہوں ۔ گھنٹوں طویل مگر اعصاب شکن انتظار کے بعد بیر بل برآمد ہوتا ہے جسے دیکھتے ہی تمام سائلین غداری کے جرم میں قید کاٹنے والے ، زندگی کی بھیک مانگنے والے مجرموں کی طرح اسکی التفات کی بھیک مانگنے کے لیے پل پڑتے ہیں اور معاون خصوصی اپنی نشت پر براجمان ہو جاتا ہے ۔ اسکے ار د گر د حاجت مند یوں حلقہ بناتے ہیں جیسے ہندوستاں کے بھوک سے بلکتے شودر اور دلت روٹی کے لیے برہمن ساہو کاروں کے گرد بنایا کرتے تھے ۔ ہاتھوں میں درخواستیں اور ڈگریاں ، آنکھوں میں سمندروں سے زیادہ گہرا کرب ، چہروں پہ شکستہ لکیریں ، دل میں گہر ا اندوہ اور زبان پہ فریادیں سجائے میرے نوجوان اپنی اپنی آواز اور انداز میں بیر بل کی توجہ حاصل کرنے کی سعی ء لاحاصل کے بعد تھک ہار کر آسمان کی جانب منہ کر کے اپنے عزیز و جبار رب سے نگاہیں ملاتے ہیں اور پوچھتے ہیں اے ہمارے پردردگار ہمیں انسان ہونے کی اور کتنی سزا کاٹنی ہو گی ؟ جو خوش نصیب شہنشاہ اکبر کے معاون خصوصی کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں وہ اپنے آپ پر فخر اور دوسرے حسرت سے انکی جانب دیکھتے رہ جاتے ہیں ۔ معاون خصوصی کے پاس نہ جانے ایسا نایاب نظام کہاں سے آیا کہ ایک وقت میں وہ کم از کم دس بندوں کی بات سنتا ہے اور کان سے لگے فون پر IG سندھ و پنجاب سے لیکر تمام محکموں کے سربراہوں کو ہدایات دیتا ہے" یہ لڑکا آ رہا ہے اسکی بات سنیں اور اسکا کام کر دیں " چونکہ لفظ "لڑکا "سب کے لیے موزوں ہے اس لیے یہ کہنے کے بعد وہ "ملا دو پیازہ " کی طرح ایک ہی لمحے سب کی جانب دیکھ کر آنکھ سے اشارہ کرتا ہے کہ جاؤ تمہارا کام ہو گیا ۔ اسطرح کم از کم دس آدمی فریادیوں کی قطار سے دوسروں کے لیے جگہ خالی کر کے نکل جاتے ہیں ۔ اور دوسرے دن وہی نوجوان پھر قطار میں لگے ہوتے ہیں کہ جناب صاحب تو کہتے ہیں مجھے کوئی فوں نہی آیا ۔

جناب وزیر اعظم؛ صدیوں سے میری مائین اور بہنیں پینے کا پانی جنگلوں اور پہاڑوں کے دشوار گزار راستوں سے گزر کر اپنے مقدس سروں پر اٹھا کر لاتی تھی اور آج بھی لا رہی ہیں ، سامان خورد و نوش اس خطے کا غریب گدھوں پر یا اپنی پیٹھ پر لاد کر لایا کرتا تھا آج بھی لا رہا ہے ۔آزاد پتن کے پل سے لیکر کوہالہ کے پل تک اور دیول سے لیکر کلر سیداں کے آخری گاؤں تک کوئی ایک شخص ایسا دکھا دیں جسکی عملی زندگی پر جناب کے وزیر یا وزیر اعظم بننے سے زرہ برابر اثر پڑا ہو ۔ غریبوں کے لیے ایک منصوبہ ایسا بنایا ہو جسکی وجہ سے انکی زندگیوں پہ چھائے بھوک و افلاس کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں تھوڑی سی بھی کمی آئی ہو۔ حلقے کے وہ محنت کش جنھوں نے اپنے کندھوں پہ بٹھا کر آپکو وزارت عظمیٰ کی کرسی پہ بٹھایا تھا وہ آج بھی کڑکتی دوپہروں میں پگھلتی سڑکوں کے سنگلاخ کناروں پر نوکیلے پتھر کوٹ رہے ہیں اور اپنے زخمی ہاتھوں کی شکستہ لکیروں میں زندگی کی دھندلائی ہوئی تصویر تلاش کر رہے ہیں آپ نے کبھی انکے مسائل کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی ورنہ آپکی32 سالہ " رہبری " میں وہ کچھ حد تک تو حل ہو چکے ہوتے ۔ ہاں البتہ آ پکی سگی ہمشیرہ جو دوبارہ ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے پارٹی سے الگ ہو گئی تھی کو سینیٹر بنوا کر انکی زندگی ضرور دل دی ہے مگر عالی جاہ ان لوگوں کے حوصلوں او ر صبر کا بھی اندازہ لگائیے جو اپنے بیٹوں کو چپڑاسی بھرتی کروانے کی امید پر 32سالوں سے نعرے لگا رہے ہیں مگر انکے بچے ابھی تک بے روزگاری کی گہری کھائیوں میں رینگ رینگ کر زندہ رہنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں اور زبان پر شکوہ پھر بھی نہیں لاتے اور سدھائے ہوئے جانوروں کی مانند آ پ کے پیچھے چلے جارہے ہیں ۔انکی اسی سادگی اور مجرمانہ تابع فرمانی نے آپکی آنکھوں پر چربی چڑھا دی ہے۔ بحیثیت وزیر اعظم ملک کو خارجی اور داخلی محازوں پر درپیش خطرات اور معاشی ابتری سے نمٹنے میں بھی آپکی بصیرت کیں نظر نہیں آئی ۔ جناب والا اپ لوگوں کی سیاست کی معراج وزارت عظمیٰ ہی ہوتی ہے جس پر پہنچ کر بھی آپ ملک تو کیا اپنے حلقے کی پسماندگی ، غربت ، بے روزگاری میں بال برابر کمی نہیں لاسکے تو چند دنوں بعد آپ پھر سے ووٹ مانگنے کے لیے اپنے حلقے کے لوگوں کے پاس آنے والے ہیں ۔ عالی جاہ وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھ کر بھی جن مسائل کو آپ ایک فیصد حل نہیں کر سکے انھیں ساتویں بار ممبر اسمبلی بن کر حل کرنے کا کون سا انقلابی پروگرام آپ کے پاس ہے؟ کیا وہ "انقلابی " پروگرام یہی ہے نا کہ منخب ہونے کے بعد ا گلے پانچ سال کے لیے پھر ایک بار خطے کے بے روزگاروں کو اپنے معاون خصوصی کے ر حم و کرم پر چھوڑ کر خود گم ہو جائیں گے اور پانچ سال تک بیر بل غربت و افلاس کے اندھیروں میں بھٹکنے والے نوجوانوں کی انسانیت کو ننگا ناچ نچاتا رہے گا اور پیرو جوان اسکی آنیاں اور جانیاں دیکھ کر ہاتھ ملتے رہیں گے؟ مسٹر شاہد صدیوں سے پسماندگی اور غربت و افلاس کے اندھیروں میں ڈوبے لوگوں کی سادگی ہی آپکی کامیابی کا راز ہے مگر میری بات لکھ لینا کہ آپکی سیاست کا عروج ہی در اصل زوال کا نقطہ ء آغاز ہے اور مجھے یقین ہے کہایسی سوچ اور سیاست دونوں اپنی موت آپ مرنے والی ہیں جسے میں اور آپ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے انشا ء اﷲ۔ میں میاں نواز شریف کے نعرے "ووٹ کو عزت دو " کا صدق دل سے قائل ہوں اور اسکی حمایت تحریر و تقریر کے زریعے بر ملا کرتا رہا ہوں ، کرتا رہوں گا مگر ووٹ کو عزت دلوانے کا آغاز سب سے پہلے اپنے آپ سے کروں گا اور اسکا اولین تقاضا یہی ہے کہ آپ اور آپ کے معاون خصوصی کے ہاتھوں ووٹ کے قتل عام کے بعد بھی اگر کوئی اسے آپکے قندموں میں ڈالے گا تو وہی شخص ووٹ کی عزت کا سب سے بڑا دشمن ہوگا ۔ میں آپکی حمایتجیسے گناہ بے لزت پر نادم ہونے کے ساتھ پورے خلوص سے توبہ کرتے ہوئے آپکے غریب دشمن پروگرام سے بغاوت کرتا ہوں اور کو چہ و بازار میں آپکی سادگی کے پردوں میں چپھی چالاکی و اداکاری کو طشت از بام کرتا رہوں گا تا کہ ہمارا ووٹ پھر ایک بار اپنی موت آپ مرنے کی بجائے کم از کم ہماری جیب میں ہی رہ جائے کہ اسکا جنازہ بار بار اٹھانے کی اب ہمت بھی نہیں رہی ۔
والسلام
ڈاکٹر عبدالحمید حامد (ابن محنت کش )

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: DR ABDUL HAMEED HAMID

Read More Articles by DR ABDUL HAMEED HAMID: 14 Articles with 6340 views »
Professor Doctor of Biosciences, Quaid e azam University Islamabad.. View More
20 Jun, 2018 Views: 434

Comments

آپ کی رائے