اقوام متحدہ کی کشمیر رپورٹ

(Athar Massood Wani, Rawalpindi)

اقوام متحدہ کی طرف سے پہلی بار متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی گئی ہے جس سے مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی ضرورت کا عالمی سطح پہ اعادہ ہوا ہے۔اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمشنر کی تیار کردہ اس رپورٹ میں ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کی تفصیل بتاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو ایک سیاسی مسئلہ قرار دیتے ہوئے ہندوستان اور پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ کشمیریوں کی شمولیت سے بات چیت کے ذریعے یہ مسئلہ حل کریں اور عالمی قانون کے تحت کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا احترام کیا جائے۔ہندوستانی حکومت نے اقوام متحدہ کی کشمیر رپورٹ کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ رپورٹ خاص مفاد کو زیرنظر رکھ کر تیار کی گئی ہے اور اس کی صداقت اور غیرجانبداری پر ہم سوال اٹھا رہے ہیں۔مسئلے ،تنازعہ کے بنیادی فریق کشمیری حلقوں کی طرف سے عالمی ادارے کی اس رپورٹ کو خوش آئند قرار دیا گیاہے ۔دوسری طرف پاکستان کے دفتر خارجہ نے اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لئے کمیشن بنانے کا خیرمقدم کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے خدشات کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی کے برابر نہیں کہا جا سکتا۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں14جون2018کو ایک رپورٹ شائع کی ہے۔26نکات پر مشتمل ایگزیکٹیو سمری میںمسلح گروپ حزب المجاہدین کے22سالہ ایک کمانڈر برہان وانی کی8جولائی2016ء کو بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاکت کے بعدکشمیر میں وسیع پیمانے پر شروع ہونے والے بے مثال مظاہروں سے بات شروع کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسز نے مظاہروں کے خلاف طاقت کا استعمال شروع کیا جس سے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں اور تمام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی لہر چل پڑی،جو 2016سے2018ء میں بھی جاری ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی زیر انتظام کشمیر میںماضی میں بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا،1980ء کے آخر میں،1990کے شروع میں،2008اور2010۔حالیہ مظاہروں کی شدت ماضی کے مظاہروں سے بڑھ کر ہے اور اس میں مزید نوجوان اور خواتین سمیت مڈل کلاس کشمیری بڑی تعداد میں شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں تشدد پھوٹنے کے فوری بعد اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کشمیر میں جاری واقعات اور حالات کے بارے میں پاکستان اور انڈیا کی حکومتوں کے نمائندوں سے ملاقات کی جو کشمیر میں جاری واقعات اور صورتحال کے بارے میں مختلف موقف رکھتے ہیں۔جولائی 2016ء سے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کئی بار انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں سے درخواست کی کہ انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے کشمیر میں غیر مشروط رسائی دی جائے۔انڈیا نے اسے مسترد کیا جبکہ پاکستان نے رسائی دینے کی پیشکش کے ساتھ کہا کہ انڈین زیر انتظام کشمیر میں رسائی لازمی طور پر حاصل کی جائے۔لائین آف کنٹرول کے دونوں طرف غیر مشروط رسائی حاصل نہ ہونے پر ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے آفس نے کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کی مانیٹرنگ شروع کی ۔کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں یہ پہلی رپورٹ اسی مانیٹرنگ کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔یہ رپورٹ کشمیر کے دونوں حصوں ہندوستانی زیر انتظام کشمیر(وادی، جموں اور لداخ) اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر( آزاد جموںو کشمیر اور گلگت بلتستان) سے متعلق ہے تاہم اس رپورٹ کا بڑا حصہ ہندوستانی زیر انتظام کشمیر سے متعلق ہے،جس میںجولائی2016ء سے اپریل2018ء تک وسیع پیمانے پر ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات اور صورتحال کا احاطہ کیا گیا ہے،خاص طور پر بھارتی فورسز کی طرف سے طاقت کا غیر ضروری استعمال کیا گیا جس سے بہت سی شہری ہلاکتیں ہوئیں۔ہندوستانی زیر انتظام کشمیر میں جولائی2016سے شروع ہونے والے مظاہروں کے خلاف فورسز کا بڑی تعداد میں ظالمانہ استعمال کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔سول سوسائٹی کے تخمینہ کے مطابق اس عرصہ کے درمیان 130سے145شہری ہلاکتیں ہوئیں جبکہ اسی عرصہ میں مسلح گروپوں کے ہاتھوں 16سے20افراد ہلاک ہوئے۔اس عرصے میں مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن کا استعمال وسیع پیمانے پر کیا گیا جس سے بڑی تعدا د میں شہری زخمی اور معذور ہوئے۔اسی تناظر میں،1980کے عشرے کے آخر میں متعدد مسلح گروپ ہندوستانی زیر انتظام کشمیر میں متحرک تھے ۔1990ء میں تقریبا بارہ اہم مسلح گروپ موجود تھے جبکہ اب بھی تقریبا چار مسلح گروپ متحرک ہیں۔پاکستان کی حکومت کی طرف سے ایسے کسی گروپ کی حمایت سے انکار کے باوجود ماہرین کو یقین ہے کہ پاکستان کی طرف سے مدد جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق جنوری2016اور اپریل2018میں سول سوسائٹی کی تنظیموں نے الزام لگایا کہ مسلح گروپوں نے سویلین، پولیس اہلکاروں اور فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی کاروائیوں کوآرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ1990 جموں و کشمیر(AFSPA)اور جموں و کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ 1978(PSA)کے ذریعے مکمل تحفظ حاصل ہے ،یوں انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں کے سلسلے سے پیدا شدہ دردناک انسانی صورتحال اور چارہ جوئی کے مواقع میسر نہ ہونا ہندوستان کے لئے بڑا چیلنج ہیں۔مارچ2016سے اگست 2017تک ایک ہزار سے زیادہ تعداد میں شہریوں کو PSAکے تحت قیدکیا گیا۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے جموں وکشمیر کے حکام کو بتایا کہ-17 2016 میں بچوں کو بھی PSAکے تحت قید کیا گیا۔2016میں بھارتی فورسز نے زخمی شہریوں کو ہسپتال لیجانے والی ایمبولنس گاڑیوں پر بھی فائرنگ کی،نقصان پہنچایا ،انہیں روک دیا گیا۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران مسلسل کئی کئی دن کرفیوں لگایا گیا اور لوگوں کو خوراک حاصل کرنے اور علاج کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔کشمیر میں اکثر رابطے کے ذرائع منقطع کر دیئے جاتے ہیں،موبائل،انٹر نیٹ سروسز بند کر دی جاتی ہیں۔2016میںحکام نے وادی کشمیر میںآزادی اظہار پر پابندی سخت کر دی اور میڈیا،صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا۔2016-17میں مظاہروں،مسلسل کئی کئی دن کرفیو، ہڑتالوں سے سکول ،کالجز بند رہے اور یوں طالب علموں کا تعلیم حاصل کرنے کا حق متاثر ہوا۔قانونی تحفظ کی وجہ سے بے دریغ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شہریوں کو گرفتار کرنے کے بعد لاپتہ کر دینا ایک معمول ہے اور جموں و کشمیر میں ایسے ہی لاپتہ افراد کی کئی اجمتاعی قبریں موجود ہیں۔حکام نے فورسز کے افراد کی طرف سے جنسی تشدد کے واقعات پر بھی کبھی کوئی کاروائی نہیں کی۔

رپورٹ میں اسی عرصے(جولائی2016سے اپریل2018) کے دوران پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں بھی انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ، تاہم اس علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نوعیت مختلف قسم کی ہے ،جس کی ساخت ہی الگ قسم کی ہے۔وزیر اعظم پاکستان،وفاقی وزیر کشمیر افیئرزو گلگت بلتستان،وفاقی سول سروس کو آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں حکومتی آپریشنز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ایک این جی او کے مطابق آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے شہریوں کو پاکستان کے آئین کے مطابق حقوق حاصل نہیں ہیں۔آزا د کشمیر کے عبوری آئین میں اس بات پہ پابندی ہے کہ آزاد کشمیر کے پاکستان سے الحاق پر تنقید کی جا سکے،اظہار رائے اور اجتماع پر پابندی ۔ایک مقامی این جی او کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت بعض افراد کو قید رکھا گیا ہے۔گلگت بلتستان کے موقپون ڈیم کے متاثرین کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔پاکستان کے آئین کی طرح آزاد کشمیر کے عبوری آئین میں بھی اسمبلی ممبر کے لئے مسلمان ہونا لازم قرار دیا گیا ہے جو کہ غیر مسلموں کے ساتھ تخصیص کرنا ہے۔اسی طرح توہین مذہب کا قانون آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی نافذ ہے۔انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں کی سے مہیا کردہ اعداد و شمار کے مطابق2016سے 2018تک سیز فائر کی خلاف ورزیوں اور شہری جانی نقصان میں اضافہ ہوا اور بڑی تعدا د میں لوگ اس وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ادارہ کشمیر کے مسئلے کی پیچیدگی ،تاریخی پس منظر اور اس کے سیاسی مسئلہ ہونے کو تسلیم کرتا ہے اور یہ کہ اس سے لائین آف کنٹرول کے دونوں طرف کشمیر کے لوگ انڈیا اور پاکستان میں تقسیم ہیںاورانہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا ہے۔کشمیر میں ماضی اور حالیہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے کو اٹھانے کی اشد ضرورت ہے اور سات دہائیوں سے مصائب کا سامنا کرنے والے کشمیر کے لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔تنازعہ کشمیر کے حوالے سے سیاسی ذرائع کے حل کا عزم پورا کیا جانا چاہئے۔کشمیر میں ماضی میں اور حالیہ تشدد اور انتقامی کاروائیوں کے سائیکل کو ختم کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تدارک کے حوالے سے بنیادی اہمیت کا حامل معاملہ ہے۔ایسا ایک بامعنی مذاکرات سے ہی کیا جا سکتا ہے جس میں جموں و کشمیر کے لوگ بھی شامل ہوں۔

تعار ف کے عنوان کے دوسرے باب میں،23نمبر سے 26تک درج بالا واقعات کا ہی خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔طریقہ کار کے تیسرے باب میں،نمبر وار27سے 31 میں کہا گیا ہے کہ کشمیر کے دونوں حصوں میں رسائی مہیا نہ ہونے کی وجہ سے آفس ہائی کمشنر ہیومن رائٹس( OHCHR)نے اقوا م متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرار داد48/141کے تحت کشمیر کی صورتحال کی مانیٹرنگ کا طریقہ کار اپنایا۔یہ قرار داد ہائی کمشنر ہیومن رائٹس کو انسانی حقوق کی صورتحال کی مانیٹرنگ اور رپورٹنگ کے لئے اختیار دیتی ہے۔اس کے لئے مختلف ذرائع کو استعمال کیا گیا جس میں سرکاری ذرائع بھی شامل ہیں۔براہ راست رسائی حاصل نہ ہونے کی صورتحال میں ،اس رپورٹ کی تیاری میں ثبوتوں کے معیار کا خیال بھی رکھا گیا ہے۔پس منظر کے عنوان کے چوتھے باب میںبتایا گیا ہے کہ 1947سے پہلے ریاست جموں و کشمیر ہندوستان کی سب ریاستوں سے بڑی ایک آزاد ریاست تھی۔انڈیا انڈیپنڈنٹ ایکٹ1947کے تحت آزاد ریاستوں کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ انڈیا یا پاکستان کے ساتھ شامل ہو جائیں یا اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھیں۔اس وقت مسلم اکثریت والی اس ریاست کے ہندو حکمران ہری سنگھ نے ذہنی طور پر آزاد رہنے کا فیصلہ کیا،26اکتوبر1947کو اس نے پشتون فائٹرز کے حملے کے دبائو میں انڈیا سے الحاق کی دستاویز پر دستخط کئے ۔انڈیا اور پاکستان کے درمیان مسلح تصادم ہوا جسے بعدمیں،یکم جنوری1948کو انڈیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے گیا۔پاکستان نے دو ہفتے بعد اس معاملے میں اپنی تشویش بیان کی ۔20جنوری1948کو سلامتی کونسل نے قرارداد نمبر39کے ذریعے قرار دیا کہ اقوام متحدہ کا کمیشن برائے انڈیا اور پاکستان (UNCIP)ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں کے الزامات کی تحقیقات کرے گااور تنازعہ کے حل کے لئے ثالثی کرے گا۔21اپریل1948کوسلامتی کونسل نے قرار داد نمبر47کے ذریعے کمیشن(UNCIP)کے مینڈیٹ میں توسیع کی اور اسے یہ مینڈیٹ بھی دیا کہ جموں و کشمیر میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے لئے کمیشن سہولت فراہم کرے گاکہ ریاست کے لوگ انڈیا کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔اگرچہ کشمیر 1947میں اگست سے اکتوبر تک آزاد ریاست رہا ہے،قرار داد نے کشمیر کے لوگوں کو یہ آپشن نہیں دیا کہ وہ خود مختار رہنے کا انتخاب کر سکیں۔قرارداد نمبر47تجویز کرتی ہے کہ پاکستان قبائلیوں اور پاکستانی لڑاکوں کو ریاست سے نکالے اور ریاست میں لڑائی سے گریز کرے ۔ قرار داد47میں بتائے گئے طریقوں پر عملدرآمد کے بعد رائے شماری کرائی جائے گی۔جولائی1949میں سیز فائر لائین قائم کی گئی اور سلامتی کونسل کی طرف سے اس کو مانیٹر کرنے کے لئے ملٹری آبزرور متعین کئے گئے۔1951میںUNCIPختم کر کے '' یو این ملٹری آبزرور گروپ ان انڈیا اینڈ پاکستان''(UNMOGIP) قائم کیا گیا۔اس ملٹری گروپ نے سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر91کے تحت اپنا کام جاری رکھا ہوا ہے۔سیز فائر لائین سابق ریاست جموں و کشمیر کو ،پاکستان کنٹرولڈ ریاست جموں و کشمیر کا مسلم اکثریتی مغربی اور شمالی علاقہ ،جسے آزاد کشمیر کہا جاتا ہے اور گلگت بلتستان اور اسی طرح انڈیا نے مسلم اکثریت والا علاقہ کشمیر وادی ،جنوب میںہندو اکثریتی جموں اور مشرق میں مسلم و بدھ اکثریت کے لداخ پر کنٹرول حاصل کیا۔سابق ریاست کا کچھ علاقہ چین کے کنٹرول میں آیا۔اگرچہ انڈیا پاکستان کا سوال بدستور 1957تک سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں رہا اور کئی قرار دادوں کا موجب رہا لیکن فورسز کے نکالے جانے اور دوسری شرائط کی تکمیل نہ ہونے سے رائے شماری نہیں ہوئی ۔1967میں سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر122 اسمبلی کے قیام کے بارے میں، آل جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کی جنرل کونسل کی سفارشات، کہ اسمبلی ریاست کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتی،جو کہ سلامتی کونسل اور UNCIPکی قرار دادوں سے قائم ہے۔1965میں انڈیا اور پاکستان کی طرف سے سیز فائر لائین میں معمولی تبدیلیاں کی گئیں۔اس کے بعد 1971کی جنگ کے بعد1972کے شملہ سمجھوتے میں سیز فائر لائین کو لائین آف کنٹرول میں تبدیل کیا گیا۔شملہ سمجھوتے میںمطالبہ کیا گیا کہ بر صغیر میں پائیدار امن کے لئے دونوں ملک لوگوں کی فلاح کے لئے ذرائع استعمال کریں گے اور اپنے تنازعات پرامن طور پر باہمی مزاکرات سے حل کئے جائیں گے۔اس وقت سے انڈیا حکومت دعوی کر رہی ہے کہ شملہ سمجھوتے سے سلامتی کونسل کی سابقہ قراردادوں پر حاوی ہے جبکہ پاکستان نے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ جاری رکھا۔سلامتی کونسل کی پوزیشن یہ ہے کہ UNMOGIPصرف سلامتی کونسل کے ذریعے ہی ختم ہو سکتی ہے،ایسا نہ ہوا اور UNMOGIPاب تک کام کر رہا ہے۔

کشمیر میں بہت بڑی تعداد میں فوج متعین کئے جانے کی وجہ سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ چل نکلا۔سول سوسائٹی کے تخمینہ کے مطابق کشمیر میںپانچ سے سات لاکھ انڈین فوج متعین کی گئی ہے جس سے کشمیر دنیا کو وہ واحد خطہ بن گیا ہے جہاں سب سے زیادہ فوج تعینات ہے۔انسانی حقوق کی خلاف ورزیوںمیں تشدد، زیر حراست ہلاکتیں،ریپ،لاپتہ کرنااور ماورائے عدالتی کاروائی شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ شامل ہے۔اس عرصہ میں مسلح گروپوں پر بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے گئے۔انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سلسلے سے بیروزگاری میں اضافہ ہوا ،مقامی الیکشن میں مداخلت کی گئی اور حق خود ارادیت کی نفی کی گئی۔1999میں دونوں ملکوں کے درمیان لداخ کے علاقے کرگل میں لائین آف کنٹرول پر جنگ ہوئی ۔لائین آف کنٹرول پر دونوں طرف سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے اور2016سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ۔پانچوں باب انڈین زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے عنوان سے ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستانی زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے،انصاف کے ذرائع محدود تر ہونے سے انسانی حقوق کے چیلنجز درپیش ہیں،ریاست میں خصوصی قوانین نافذ ہیںجیسا کہ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ1990(AFSPA)پبلک سیفٹی ایکٹ1978(PSA) ،اس سے قانون کی عام عملداری میں رکاوٹیں پیدا ہوئیںاور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے شکار افراد کو کوئی چارہ جوئی حاصل نہیں۔انڈین پارلیمنٹ میں 10ستمبر1990کو AFSPAمنظور کیا گیا اور5جولائی1990کو اسے کشمیر میں نافذ کیا گیا۔اس ایکٹ سے فورسز کو اانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سمیت کسی بھی معاملے میں عدالتی کاروائی سے آزادی حاصل ہے۔رپورٹ میں ہندوستانی حکومت کے ان خصوصی قوانین کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے جو انڈین فورسز کو ہر طرح کی ظالمانہ کاروائیوں میں ہر طرح کا تحفظ فراہم کرتے ہیں۔انسانی حقوق کے عالمی ماہرین اور اداروں نے مسلسل کئی بار AFSPAکے خاتمے کا مطالبہ کیا ۔2008،2012 اور2017میں اقوام متحدہ کے متعدد رکن ممالک نے AFSPAکے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

2016سے2018کے درمیان یہ سوال سامنے آیا کہ انڈین فورسز کشمیر میں مظاہرین کے خلاف طاقت کا ناجائز استعمال کر رہی ہیں اور انڈین فورسز کی طرف سے کشمیری مظاہرین کے خلاف بھرپور طاقت کا ظالمانہ استعمال ،طاقت کے استعمال کے ملکی اور عالمی معیار کے بر عکس ہے۔جولائی2016سے مارچ2018کے درمیان130سے 145شہری انڈین فورسز کے ہاتھوں ہلاک کئے گئے۔ ۔جنوری2017میں وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے ریاستی اسمبلی میں بتایا کہ 78افراد،جن میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں،ہلاک ہوئے جبکہ12جنوری2018کو ریاستی حکومت نے ریاستی اسمبلی کو بتایا کہ اس دوران51افراد ہلاک ہوئے ہیں۔حکومت نے یہ بھی بتایا کہ اس دوران9042افراد زخمی بھی ہوئے ۔یہ افراد گولیاں،میٹل پیلٹس اور کیمکل شیلز سے زخمی ہوئے۔سول سوسائٹی کا تخمینہ ہے کہ 2016میں جولائی سے دسمبر تک90سے105شہری ہلاک کئے گئے۔سرینگر میں قائم جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی(JKCCS)کے مطابق اس دوران105افراد ہلاک کئے گئے۔ایمنسٹی انٹر نیشنل،ہیومن رائٹس واچ اور انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس نے بتایا کہ2016میں 90سے زائد کشمیری ہلاک کئے گئے۔اس عرصہ میں کشمیر کے طول و عرض میں انڈین فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید تصادم دیکھنے میں آئے۔وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے 23جنوری2018کو اسمبلی کو بتایا کہ 2016سے اب تک172افراد ہلاک ہوئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیشنل قانون کے تحت انٹرنیشنل ہیومن رائٹس لاء اورانٹر نیشنل ہیومینٹیرین لاء کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیا جانا لازم ہے۔ یہ ذمہ داری پوری کرنے کے لئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔عوامی مظاہروں سے ڈیل کرنے کا ایک متعین طریقہ کار ہے کہ ان کے خلاف مہلک طریقے استعمال نہ کئے جائیں۔JKCCSنے رپورٹ کیا ہے کہ2017میں مسلح تصادم کے قریب19شہریوں کو ہلاک کیا گیا جن میں چار خواتین اور ایک لڑکی بھی شامل ہے۔2018میں مسلح تصادم کے مقامات کے قریب انڈین فورسز کی طرف سے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا گیا۔کشمیر میں وسیع پیمانے پر ہونے والے مظاہروں میں بڑی تعداد میں شہری ہلاکتیں ہوئیں۔سکول ،کالجز کے طلبہ ،طالبات نے بھی ان مظاہروں میں بھرپور حصہ لیا۔انڈین فوجیوں نے پتھرائو کرنے والے نوجوانوں کو براہ راست فائرنگ کر کے ہلاک کیا۔رپورٹ میں مظاہرین کے خلاف چھروں والی پیلٹ گن کے بے دریغ استعمال سے ہونے والی ہلاک اور زخمی ہونے کے واقعات کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔فورسز کی طرف سے مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن کا استعمال صرف کشمیر میں ہی کیا جاتا ہے،ہندوستان کے کسی بھی مقام پر مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن کا استعمال نہیں کیا جاتا۔جموں و کشمیر ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق2016میں کشمیر وادی کے دس اضلاع میں 1726 شہری پیلٹ گن کی فائرنگ سے زخمی ہوئے۔جنوری2018میں محبوبہ مفتی نے ریاستی اسمبلی کو بتایا کہ 8جولائی2016سے27فروری2017تک 6221افراد پیلٹ گن کی فائرنگ سے زخمی ہوئے۔وزیر اعلی نے اسمبلی کو بتایا کہ ان میں سے728افراد کی آنکھیں زخمی ہوئیں اور54افراد آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوگئے۔پیلٹ گن کی فائرنگ کی زد میں آ کرکشمیر آرمڈ پولیس کے16اہلکار بھی زخمی ہوئے۔2010میں مسلسل کئی ماہ جاری رہنے والے مظاہروں میں فورسز کی فائرنگ سے ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ۔ بھارتی فورسز کی طرف سے مظاہرین کے خلا ف پیلٹ گن کا استعمال جاری ہے۔۔یکم اپریل2018 کو 40افراد پیلٹ گن فائرنگ سے زخمی ہوئے جن میں سے35کی آنکھیں متاثر ہوئیں۔یہ مظاہرین شوپیاں میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔سول اور سیاسی حقوق کے حوالے سے بھارت انٹرنیشنل کنونشز کا پابند ہے ۔آزادی اور سلامتی کے حق کو نشانہ نہیں بنانا چاہئے اور اس بنیاد پر شہریوں کی گرفتاریاں نہیں ہونی چاہئیں۔کشمیر میں شہریوں کو گرفتار اور قید کرنے کے سلسلے پر انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس تنازعات کے مقامات کا دورہ کر سکتی ہے۔پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کشمیر میں بچوں کو بھی گرفتار کیا جاتا ہے۔سول اور پولیٹکل رائٹس کے عالمی کنونشن کے تحت انڈیا پابند ہے کہ وہ کسی بھی حالت میں(آرٹیکل7) شہریوں کو تشدد کا نشانہ نہ بنائے اور نہ اس بنیاد پر انہیں قید میں رکھے،سزا دے۔فورسز کی طرف سے کشمیر میں تشدد عام ہے۔JKCCSاور ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس اپئیرزکے مطابق 8ہزار افراد انڈین فورسز کی تحویل میں لاپتہ کئے گئے ہیں۔رپورٹ میں انڈیا کی طرف سے کشمیر میں علاج معالجے کی سہولیات میں رکاوٹوں، آزادی اظہار پر پابندی کے ہتھکنڈوں،اخبارات،صحافیوں کے خلاف کاروائیوں ، متعلقہ دیگر پابندیوں ،حق تعلیم کی خلاف ورزیوں،جنسی تشددکے واقعات کا احاطہ بھی کیا گیا ہے۔

آزاد کشمیر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کی سربراہی میں قائم کشمیر کونسل کو آزاد کشمیر کی منتخب اسمبلی پر فوقیت حاصل ہے اور آزاد کشمیر کی عدلیہ کونسل کے فیصلوں کی سماعت نہیں کر سکتی۔( آزاد کشمیر کے عبوری آئین1974کی13ویں ترمیم میں اس متعلق اصلاح کر دی گئی ہے۔اسی طرح آزادی اظہار اور میڈیا سے متعلق کئی اعتراضات بھی13ویں ترمیم کے ذریعے رپورٹ کی اشاعت سے پہلے ہی ختم کئے جا چکے ہیں)واضح رہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے متعلق مقامی این جی اوز کے ذریعے صورتحال کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں لائین آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں میں اضافے کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے ۔رپورٹ میںUNMOGIPکے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 2018میں مارچ تک پاکستان کی طرف سے سیز فائر کی141خلاف ورزیاں ریکارڈ کرائی گئی ہیں،2017میںسیز فائر کی خلاف ورزی کے479واقعات اور2016میں115واقعات درج کئے گئے ہیں۔

نتیجہ اور سفارشات کے عنوان سے نویں باب میں کہا گیا ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیرمیں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی اس حوالے سے تشویش ہے۔رپورٹ میں انڈیا اور پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ لائین آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر فائرنگ اور گولہ باری بند کریں اور کشمیر میں سول سوسائٹی ،صحافیوں،انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرے اور کشمیر میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ہیومن رائٹس ہائی کمشنر کے آفس کی طرف سے سفارشات میں کہا گیا ہے کہ ہیومن رائٹس کونسل کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شکایات کی تحقیقات کے لئے ایک کمیشن قائم کرے ۔سفارشات میں انڈیا سے کہا گیا ہے کہ وہ انڈین زیر انتظام کشمیر میں انٹر نیشنل ہیومن رائٹس لاء کی ذمہ داریوں کو یقینی بنائے، کشمیر سے آرمڈ فورسز ایکٹ ختم کیا جائے اور سول عدالتوں میں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کی جائیں،شہری ہلاکتوں کے واقعات کی تحقیقات کرائی جائیں ،پیلٹ گن کی فائرنگ سے زخمی کرنے کے واقعات کی بھی تحقیقات کرائی جائے،انڈین فورسز کی فائرنگ سے ہلاکتوں کے واقعات کی تحقیقات کرائی جائے،پبلک سیفٹی ایکٹ میں انٹرنیشنل ہیومن رائٹس لاء کی روشنی میں ترمیم کی جائیں،قید افراد کو بھی عالمی قوانین کی روشنی میں دیکھا جائے،بچوں کی گرفتاریوں کا سخت نوٹس لیا جائے،موبائل فون،انٹرنیٹ اور آگاہی کی دوسری سہولیات پر پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے،اخبارات اور صحافیوں پر جبر ،پابندیوں کا سلسلہ ختم کیا جائے،آزادی اظہار اور پریس کی آزادی کو یقینی بنایا جائے،آزادانہ نقل و حرکت اور اجتماع کے حق کا احترام کیا جائے،زیر حراست لاپتہ کرنے کے واقعات کا تدارک کیا جائے،اس کی تحقیقات کی جائے اور انڈین حکومت عالمی قانون کے تحت کشمیر کے لوگوں کے حق خود ارادیت کا کلی طور پر احترام کرے۔سفارشات میں پاکستان سے کہا گیا ہے کہ عالمی حقوق انسانی کی ذمہ داریوں کا پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں احترام کیاجائے،سیاسی عناصر کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قوانین کا اطلاق نہ کیا جائے،آزاد کشمیر کے عبوری آئین میں لازمی طور پر ترمیم کی جائے اور آزادی اظہار اور پرامن اجتماع کی اجازت دی جائے،زیر حراست سیاسی کارکنوں ،صحافیوں اور سول سوسائٹی کے افراد کو رہا کیا جائے اور ان کو اپنی رائے کے اظہا رکرنے دیا جائے۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں مذہبی آزادی دی جائے،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے توہین مذہب کے قوانین ختم کئے جائیں، کشمیر کے لوگوں کے حق خود ارادیت کا احترام کیا جائے جس کی ضمانت عالمی قانون کے تحت دی گئی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Athar Massood Wani

Read More Articles by Athar Massood Wani: 621 Articles with 319725 views »
ATHAR MASSOOD WANI ,S/o KH. ABDUL SAMAD WANI
• 2006 to 2009
Press & Publication Officer
Prime minister Secretariat, Govt. of Azad Jammu & Kashm
.. View More
23 Jun, 2018 Views: 918

Comments

آپ کی رائے