یہ آگہی عذاب ہے یا رب!

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

‎اب سے بیس برس پہلے کی بات ہے ہمارے ساتھ ایک ایسا سنگین حادثہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں ہماری جان بھی جا سکتی تھی ۔ جان تو بچ گئی مگر صرف ڈیڑھ ماہ کی قلیل مدت میں ہمارے دو میجر آپریشن ہوئے ۔ ایک ڈاکٹر کی غفلت اور غیرذمہ داری اور سٹاف کی بھی لاپرواہی کی وجہ سے ہمارا بہت کم وقفے سے دو بار پیٹ چاک ہوا ۔اندر جو حال ہو چکا تھا وہ ناقابل بیان ہے ہمارے پیٹ کو کسی برتن کی طرح سے دھویا گیا اس کے باجود دو تھیلیاں ڈرین کی خون اور پیپ سے بھر گئی تھیں ۔ تکلیف اتنی تھی کہ بس ایک موت نہیں آ رہی تھی ۔

‎دوسری بار کے چند گھنٹے بعد کا ذکر ہے جب ہم روم میں شفٹ کئے جا چکے تھے تو وہاں ہمارے ساتھ موجود لوگ یکلخت ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئے جیسے ہوا میں تحلیل ہو گئے ہوں اور عین ہماری آنکھوں کے سامنے کمرے کی چھت سے ذرا نیچے فضا میں ایک بالکل سفید دودھ جیسا ہیولہ نظر آنے لگا جس کے خال و خد بالکل بھی واضح نہیں تھے مگر اس کی شبیہہ اور جسامت بالکل انسانی جسم جیسی تھی بس ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی بادل یا دودھیا غبار سے بنا ہؤا کوئی پیکر ہو ۔ ہماری کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آخر یہ کیا ماجرا ہے؟ پھر دائیں جانب کمرے کی سفید دیوار پر ایک عجیب منظر دکھائی دیا ۔ تقریباً آٹھ دس کفن پوش ایک قطار میں چلتے ہوئے نظر آئے اب تو ہمارا خوف سے برا حال ہو گیا اور ہمیں یقین ہو گیا کہ ہمارا آخری وقت آن پہنچا ہے اور یہ جو سامنے سفید دودھیا غبار جیسا ہیولہ نظر آ رہا ہے یہ ضرور موت کا فرشتہ ہے اور ہماری روح قبض کرنے آیا ہے ۔ ہم اپنے جسم یا زبان کو حرکت دینے سے بالکل قاصر تھے بہت بےبسی اور کرب کی کیفیت تھی ۔ ہم نے دل ہی دل میں اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور کچھ اور جینے کی مہلت بھی ۔ ہم ابھی تھوڑا اور جینا اور بہت سا کام کرنا چاہتے تھے اس بات کا یقین ہونے کے باوجود کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے اور وہ ٹل نہیں سکتی پھر بھی ہم نے خدا سے اپنی زندگی مانگی اور وہ ہمیں مل بھی گئی ۔ ایک بہت بڑے بحران سے نمٹنے کے بعد ہم زندگی اور دنیا کی طرف لوٹ آئے ۔

‎دو عشرے بیت چکے ہیں اس واقعے سے پہلے اور بعد میں بھی ہم نے کئی بار موت کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور اکثر ایسی چیزیں بھی جو عام طور پر انسانی آنکھ کو نظر نہیں آتیں ۔ اس میں ہماری کسی خواہش یا کوشش کا دخل نہیں ہوتا یہ تو ایک مصیبت ہے جو ہم پر مسلط ہے نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔ کبھی کبھی رات کو گہری نیند سے آنکھ کھل جاتی ہے اور بالکل سامنے الجھے ہوئے دھاگوں یا تاروں کا ایک گنجلک گولہ سا ہوتا ہے جب ہم اس کی طرف دیکھنے لگتے ہیں تو وہ پیچھے سرکنا شروع ہو جاتا ہے اور سرکتا سرکتا جا کر چھت میں مدغم ہو جاتا ہے ۔ بیس برسوں میں پچاسوں بار ہم نے یہ تماشہ دیکھا ہے اس سے ہمیں ڈر تو نہیں لگتا نہ ہم نے آج تک کوئی اہمیت دی ہے مگر ایسا ہونے کے بعد پھر نیند بڑی مشکل سے آتی ہے ۔ یہ تو چلیں کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے اس سے بھی بڑا ایک عذاب جو ہم کو لاحق ہے وہ سنیں ۔ کبھی کبھی خواب میں نظر آتا ہے کہ ہمارا کوئی ایک یا کئی دانت ٹوٹ گئے ہیں پھر ساتھ ہی خاندان کا کوئی مرحوم یا ایک سے زیادہ فوت شدہ لوگ نظر آتے ہیں ۔ پھر اس خواب کے کچھ عرصے بعد خاندان میں کسی عزیز کا انتقال ہو جاتا ہے اور ایسا آٹھ دس بار ہو چکا ہے ۔ اب تو جب بھی ایسا خواب نظر آتا ہے اس مرنے والے سے پہلے خود ہم پھانسی لٹک جاتے ہیں ۔ یہ کوئی خوبی یا صلاحیت والی بات نہیں ہے کہ آپ کو پہلے معلوم ہو جائے کہ گھر یا خاندان میں کوئی عزیز وفات پانے والا ہے ۔ یہ ان چاہی آگہی ایک بہت بڑا عذاب ہوتی ہے بعض معاملات میں بےخبری اور لاعلمی اللہ کی بڑی نعمت ہوتی ہے ۔ ہم نے بارہا اللہ سے دعا کی ہے کہ وہ ہمیں ان دونوں قسم کی تکلیف دہ صورتحال سے چھٹکارہ عطا فرمائے ۔ ابھی تک تو ہماری سنی نہیں گئی ۔

‎لگے ہاتھوں آپ سے اپنی ایک اور یاد شیئر کر لیتے ہیں بینظیر بھٹو کی شہادت سے چار روز پہلے کی بات ہے ہم نے خواب میں دیکھا کہ وہ نیچے کچی زمین پر بیٹھی ہوئی آٹا گوندھ رہی تھیں ان کے چہرے پر سخت تکلیف اور اذیت کے آثار نظر آ رہے تھے اور وہ اسی لباس میں نظر آ رہی تھیں جو انہوں نے واقعتاً اپنی شہادت کے وقت پہن رکھا تھا ۔ پھر کسی نے ان کے ہاتھوں سے وہ آٹے کی پرات لے لی اور خود گوندھنا شروع کر دیا ۔ پھر شاید ڈیڑھ دو مہینے بعد کی بات ہے ہم نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا میدان اور اس میں ہزاروں لوگ پالتی مارے زمین پر صفیں بنائے بیٹھے ہیں اور بی بی صاحبہ سب سے اگلی صف کے بالکل درمیان میں بیٹھی ہیں پھر وہ تھوڑا آگے سرک کر اٹھ کھڑی ہوتی ہیں اور کچھ فاصلے پر ایک اور ہجوم ہوتا ہے اور وہ جا کر اس میں نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 175 Articles with 1050858 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jun, 2018 Views: 10941

Comments

آپ کی رائے