اس راؤنڈ کی فتح

(Amjad Siddique, Lahore)

اہل جمہوریت ایک بار پھر موم کی گڑیا ثابت ہوئے ہیں۔غیر جمہوریت عناصرکو اسے موڑنے اور من چاہی شکل دینے میں بڑی کامیابی مل رہی ہے۔جب چاہاانہیں طلب کرلیا۔جہاں چاہا۔بٹھالیا۔جہاں چاہا کھڑے کرلیا۔پہلے ایک کینیڈین کو ریاست بچانے کے لیے فنکاری دکھانے کا موقع دیا۔جتایا گیا کہ تم بڑے سیاست دان ہو۔تھوڑا شغل میلہ کروتو تمہیں مراد مل جائے گی۔یہ مولانا صاحب ایک بار پھر نامراد ہوئے۔اس سے قبل انہیں ایک باوردی شخص کو صدر بنانے کے لیے گلی گلی جی ہاں قوم کو مشر ف کی ضرورت ہے کی گردان کرتے دیکھا گیا تھا۔تب بھی ان کی محنت رائگاں گئی۔اس بار بھی ریاست بچاؤ ڈرامہ کے دوران مولانا صاحب قسمیں کھاتے اپنی عاقبت خراب کرنے کے باوجود نامراد رہے۔مولانا کے بعد عمران خاں کی کمر ٹھونکی گئی۔کہا گیا کہ کوئی مائی کا لعل تمہیں چھونہیں سکتا۔کھل کھیلو۔ خاں صاحب اس بے گانی بندوق کے آسرے ادھر ادھر نشانے لگاتے رہے۔ زرداری باوا کوبھی آزما یا گیا۔مگر جس میدان کے کھلاڑی ہیں۔وہ روزروز نہیں لگایا جاسکتا۔ان سے سینٹ جیسے پروگرام تو چلوائے جاسکتے ہیں۔مگر اس بار عوامی پاور شو رکرنے کی بات تھی۔زرداری باوا نے حامی نہ بھری۔ ڈرائینگ روم میں بیٹھ کر تھوڑا تم کھاؤ تھوڑا ہم کھائیں کی مفاہمتی سیاست سڑکوں گلیوں اور محلوں میں نہیں چلتی۔

جو نتائج مالک چاہ رہے ہیں۔نہ مولانا صاحب دے پائے۔نہ خاں صاحب کی پہنچ ہوئی۔اور نہ زرداری صاحب کی دال گل رہی ہے۔اب جب کہ نئے الیکشن آن پہنچے اس ناکامی کا باقاعدہ اعلان کرنے کے سواکوئی چارہ نہیں رہا۔جس طرح کی آئیں بائیں شائیں نوازشریف مخالفین کررہے ہیں۔اس سے ان کی دل شکستگی کااندازہ لگایا جاسکتاہے۔محترمہ کلثوم نواز کی بیماری کو لے کر سابق وزیر اعظم کے مخالفین منفی پراپیگنڈہ کررہے ہیں۔یہ الزام لگایا جارہاہے کہ محترمہ کی بیماری کو لے کر شریف فیملی سیاست کررہی ہے۔کبھی اس بیماری کوڈھونگ کہا جارہا ہے۔اور کبھی کہا جارہاکہ کلثوم نواز اب دنیا میں نہیں رہیں۔ان کی وفات کو قصدا چھپایا جارہاہے۔
 
سبھی جماعتیں نوازشریف کی حکمت عملی دیکھنے کے بعد اپنی حکمت عملی مرتب کررہی ہیں۔پچھلے پانچ سالوں میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے کھاتے میں بیسیوں کریڈٹ ہیں۔اگر اسے دی بیسٹ نہیں کہا جاسکتا تو دی ورسٹ کہنا بھی غلط ہوگا۔مشرف ارر زرداری ادوار سے یہ ھکومت بدرجہ ہا بہتررہی ہے۔اگر نوازشریف کی پارٹی اگلا الیکشن جیت جاتی ہے تو اس میں کسی کو حیرت نہ ہوگی۔جتنے بھی عوامی سروے کروائے جارہے ہیں۔عوام میں نوازشریف کی مقبولیت سبھی دیگر قائدین سے زیادہ ہے۔پانچ سالہ کارکردگی کی بنیا دپر مسلم لیگ ن کو اگلے الیکشن میں کامیابی مل سکتی ہے۔مخالفین کے پاس کہنے کو کچھ ہے نہ دکھانے کو کچھ اس لیے وہ منفی پراپیگنڈے کے ذریعے کام نکالنا چاہتے ہیں۔محترمہ کلثوم نواز کی بیماری ایک ایسا معاملہ ہے جس سے مخالفین پریشان ہیں۔اس سے عوامی ہمدردیاں مل رہی ہیں۔جس طرح سے سابق وزیر اعظم نے سو سے زائد پیشیاں بھگتی ہیں۔اس سے امتیازی احتساب کیے جانے کا شبہ ہوتاہے۔اس سے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔عوام نے مشرف اور زرداری ٹولے کو الیکشن میں مسترد کرکے ان کے بددیانت اور نااہل ہونے کا فیصلہ سنایا تھا۔مگر نظام احتساب ان دونوں ٹولوں سے مطمئن ہے۔جب کہ نوازشریف کوعوام نے دوتہائی اکثریت سے حمایت بخشی اور وہ روزانہ کی بنیاد پر پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ایسے حالات میں عوامی حمایت بڑھنا عمومی بات ہے۔اس حمایت میں محترمہ کلثوم نواز کی بیماری نے مذید اضافہ کیا۔ان کی بیٹی اور شوہر کو ان کی عیادت کی اجازت نہیں دی گئی جس کا عوامی سطح پر اچھا تاثر نہیں بنا۔اب جبکہ محترمہ کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے۔دونوں ان کی عیادت کو موجود ہیں تو مخالفین کے لیے برداشت کرنا مشکل ہورہا ہے۔

عوام ان کے لندن میں قیام کو جائز اور مناسب تصور کرتی ہے۔محترمہ کلثوم نوازکی بیماری کو ڈھونگ کہنے والے اور انہیں اس دنیا سے کوچ کرجانے کا طعنہ دینے والے غالبا وینٹی لیٹر کی اصطلاح سے نابلد ہیں۔وینٹی لیٹر پر مریض کو اسی حالت میں متنقل کرتے ہیں۔جب بظاہر دوسری تمام تدبیریں اور علاج بے اثر ہوجائیں۔یہ ایک طرح کا متبادل نظام زندگی ہوتاہے۔جس میں مریض کے اعضاء کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مریض کو آپ طبی طور پر بے جان بھی تصور کرسکتے ہیں۔ کبھی یہ ریکور بھی کر جاتاہے۔مخالفین کی طرف سے محترمہ کلثوم نواز کی بیماری کو لے کر منفی پراپیگنڈا کرنا مناسب نہیں۔وہ اس معاملہ پر سیاست کرنا چاہتے ہیں۔شاید انہیں خو ف ہے کہ سابق وزیر اعظم اب واپس نہ آئیں۔مگر یہ سوچ صحت مندانہ نہیں۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ تہی دامنی کے شکارہیں۔ان کے پاس اب کہنے کو کچھ نہیں، وہ اب بے تکے پن اور فضولیات پر آچکے ہیں۔یہ بے چینی اور چڑچڑا پن ان کی ہار نظر آنے کی دلیل ہے۔یہ ثبوت ہے کہ نوازشریف اپنی ثابت قدمی۔اور حوصلے کے سبب یہ راؤنڈ بھی جیت گئے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amjad Siddique

Read More Articles by Amjad Siddique: 222 Articles with 65286 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Jun, 2018 Views: 240

Comments

آپ کی رائے