مم --- کوئٹہ کی ایک دیو مالائی داستاں

(Munir Bin Bashir, Karachi)


میں چونکا --- اورمیرے سوا کوئی نہیں چونکا --حالانکہ ارد گرد بیسیوں ممالک کے گوریاں اور گورے پھر رہے تھے -اٹلی - جرمنی - انگلستان - فرانس - امریکہ -کینڈا - یوگو سلاویہ - چیکو سلواکیہ- وہ چونکتے بھی کیوں ؟ انہوں نے کوئٹہ دیکھا ہی نہیں تھا
اس وقت وہاں پر میں اکیلا ہی تھا جو کوئٹہ سے تعلق رکھتا تھا -

یہ مصر کا قصہ ہے - اسوان کی طرف جاتے ہوئے ہمارا قیام خصوصی طور پر ایک مشہور قصبے "لکسر" میں کرایا گیا تھا کہ یہاں قبل مسیح عہد فراعنہ کی عمارات موجود ہیں - اور بلا شبہ ہم اس شہر نہیں جاتے تو یہ وزٹ تشنہ اور نا مکمل ہی رہتا -
ہاں تو میں کہہ رہاتھا کہ میں چونکا -

یہ تھی بھی حیران ہونے کی بات - میرا تعلق کوئٹہ کے اس دور کے افراد سے تھا جو کوئٹہ کی 'مم ' کی داستان سن سن کر بچپن سے لڑکپن اور پھر روٹی روزی کے دور میں داخل ہوئے تھے -
مصر میری دونوں طرف کوئٹہ کی 'مم' کے بیسیوں مجسمے پڑے ہوئے تھے اور میں ان کے سامنے سے گزر رہا تھا

کوئٹہ کی مم کیا شے تھی ؟
کوئٹہ کی مم کیا شے تھی جس کا نام لے کر مائیں اپنے بچوں کو ڈراتی تھیں - بچے خوف کے عالم میں باہر
اونچے پہاڑ کوہ مردار کو دیکھنے لگ جاتے تھے اور پھر آنکھیں بند کر لیتے تھے -
ہم بچے تھے اور اس کے بارے میں بات کرتے رہتے تھے - کسی نے کہا کہ اس کی قبر بھی چمن افغانستان جانے والی شاہراہ کے قریب ایک پہاڑی ٹیلے پر واقع ہے - کسی دوسرے بچے نے نے تصحیح کی وہ پہاڑی ٹیلہ نہیں ہے بلکہ انگریزوں کے زمانے کا بنا ہوا قلعہ ہے - جس کے چاروں طرف خندق کھدی ہوئی ہے وہاں اس کی قبر موجود ہے -ایسی باتیں سن سن کر ساتویں جماعت تک پہنچ گئے - اب تھوڑے سے بڑے ہو گئے تھے اور ہم میں کچھ اعتماد آچکا تھا - آخر ایک دن فیصلہ ہوا کہ خود جا کر دیکھا جائے - کونے کی دکان سے دو سائکلیں کرائے پر لیں اور چمن افغانستان کی شاہراہ کی جانب چل پڑے- خالد بشیر کے کسی رشتے دار کا گھر یہیں کہیں تھا -اسے راستے کی کچھ شد بد تھی اسی لئے وہ رہنمائی کر رہا تھا - - شہر سے تقریبا" باہر ہی نکل آئے تھے - اب خوف محسوس ہونے لگا تھا - قربان علی نے خالد سے پوچھا "زوءے تم کو پتہ بھی ہے راستہ یا نہیں " ( زوءے کوئٹہ میں بیٹے کو کہتے ہیں اور لڑکے بالے ایک دوسرے کو اسی طرح خطاب کیا کرتے ہیں ) خالد بشیر سنی ان سنی کرکے سائیکل کے پیڈل مارتا رہا اور آخر ہم اس مقام پر پہنچ گئے جہاں مم کی قبر تھی - قبر پر ایک عجیب سا مجسمہ بنا ہوا تھا جس کا دھڑ شیر کی مانند تھا اور سر انسان سے ملتا جلتا تھا - قبر پر انگریزی میں کچھ لکھا ہوا تھا جو دوری کے سبب پڑھا نہیں جارہا تھا - قریب بھی ہوتا تو ہمیں سمجھ نہیں آتا کیوں کہ ہم اردو میڈیم کے بچے تھے اور ابھی چھٹی جماعت میں ہی انگریزی پڑھنا شروع کی تھی - - اس زمانے میں چھٹی جماعت سے انگریزی پڑھائی جاتی تھی -

یہ تھا کوئٹہ کی مم سے پہلا تعارف -

اس کے بارے میں کوئٹہ میں جو افسانوی داستانیں مشہور ہیں وہ اس طرح کی ہیں کہ انگریزوں کے زمانے میں ایک بلا کوئٹہ میں نمودار ہوئی تھی - اس بلا یا جانور کا حلیہ عجیب قسم کا تھا -سر کسی انسان کی طرح اور دھڑ شیر کی طرح تھا - وہ دو ٹانگوں پر چلتی تھی لیکن دوڑتے وقت چاروں پیر استعمال کرتی تھی - اس کی دھاڑ ایسے ہوتی تھی کہ آدمی کا خون ہی جمادیتی تھی - یہ بلا کسی آدمی کو اغوا کر کے لیجاتی اور کچھ نہیں کرتی سوائے اس کے کہ اس کے تلوے چاٹتی -اس طریقے سے وہ مغوی کا خوں چوس لیتی تھی - اور مغوی مر جاتا تھا - اس بلا کو مارنے کی بہت کوششیں کی گئیں لیکن سب ناکامی سے دوچار ھوئیں -

آخر ایک انگریز نے اس کو مارنے کا بیڑہ اٹھایا - وہ اس کے تعاقب میں کوہ مردار (کوئٹہ کے مشرق میں واقع ایک اونچا پہاڑ ) کے اس غار تک پہنچ گیا جہان اس بلا کا مسکن تھا - وہاں اس بلا اور اس انگریز کا سخت مقابلہ ھوا -اور اس مقابلے میں انگریز اپنی جان سے ھاتھ دھو بیٹھا - پھر داستان سنانے والے کہتےکہ اس انگریز کی قبر قلعے کے قبرستان میں خندق کے ساتھ ہی ھے -
اس دیو مالائی داستان میں کتنی حقیقت ھے یہ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں -لیکن جو اس کو محض دیو مالائی داستاں سمجھتے وہ بھی جب قبر کا تذکرہ سنتے تو ایک تذبذب میں مبتلا ھو جاتے تھے - قبر نظر ضرور آتی لیکن اس پر کیا تحریر ہے واضح نہیں ہوتا تھا -

مصر سے واپس آکر دوبارہ کوئٹہ اس قبر پر گیا - یہ قبرستان سڑک کے ساتھ ہی واقع ہے -لیکن فوج کے کنٹرول میں ہے کیوں کہ اندر قلعہ بھی بنا ھوا ھے - چنانچہ قبرستان اور قلعہ کی حدود کو ایک خندق اور اس کے باھر ایک سلاخوں والی گرل یعنی جالی کی مدد سے بیرونی سڑک سے الگ کیا گیا ھے -یہ سب انگریزوں کے
انتظامات تھے -- ایک عام آدمی کی اندر تک رسائی ناممکن تھی - اس پر کچھ عبارت لکھی نطر آئی لیکن فاصلہ ھونے کے سبب وہ سمجھ نہ آئی -

بہت عرصے کے بعد کسی نے یو ٹیوب کے کچھ لنک بھیجے تو پتہ چلا کہ قبر پر افراد کے نام لکھے ھوئے ہیں - اور پھر مزید معلومات کیں تو پتہ چلا کہ اس کا مم سے کوئی تعلق نہیں ھے - یہ قبر انگریزوں کے دور میں اینگلو افغان یعنی افغانستان اور انگریزوں کے درمیان ہونے والی جنگ کی اشارتی علامت ہے - -اس جنگ میں جس فوجی رجمنٹ نے شرکت کی تھی اس رجمنٹ کی تخلیق و تربیت مصر میں ہوئی تھی - اسی لئے اس رجمنٹ کو لکسر مصر کے ان مجسموں کا نشان الاٹ کیا گیا تھا -
یہ رجمنٹ مصر سے ہندوستان آئی اور انگریزوں کی جانب سے افغانستان جنگ میں حصہ لیا
انگریزوں نے-- افغانستان جنگ میں - اس مصری رجمنٹ کے فوت ہونے والے افراد کو خراج - تحسین ادا کرنے کے لئے یہ یادگار بنائی - اور قبر پر اس مصری رجمنٹ کا لکسر کے مجسمے کا امتیازی نشان تعمیر کر دیا-

ایکسپریس ٹرائیبیوں نے اپنے سنڈے میگزین 15 اپریل 2012 کی اشاعت میں بھی کچھ ایسا ہی تذکرہ کیا کہ
کوئی نہیں سوچ سکتا تھا کہ مصرمیں تخلیق پانے والی ایک فوجی رجمنٹ کا نشان ہزاروں میل دور کوئٹہ جا کر ایک دیومالائی قسم کی کہانی کی تصدیق کر نے کا نشان بن جائے گا - 1990 میں بھارت میں بابری مسجد کا سانحہ ہوا - اس کے ردعمل کے طور پر پاکستان میں مسلمان مشتعل ہو گئے
مندروں کو گرایا جانے لگا- بت ڈھائے جانے لگے - ان ہنگاموں کی زد میں یہ قبربھی آگئی- حالانکہ ہندؤں کا اس سے کوئی واسطہ نہیں تھا - اب قبر کا نام و نشاں بھی مٹ چکا ہے -
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 559 Print Article Print
About the Author: Munir Bin Bashir

Read More Articles by Munir Bin Bashir: 102 Articles with 134561 views »
B.Sc. Mechanical Engineering (UET Lahore).. View More

Reviews & Comments

Language: