فسادی (قسط نمبر ٢)

(Kanwal Naveed, Karachi)

چور لٹیرے تو ہر جگہ ہوتے ہیں ۔ بیٹیوں کو عزت دینے والے لوگ بھی بہت ہیں ۔ اصل مسلہ تعلیم کی کمی کا ہے۔

اس کی امی کو اس کی یہ عادت اور بھی ذیادہ بُری لگتی تھی۔ وہ تحقیق کے ساتھ لڑائی کرتی کوئی اس کو پچھاڑ ہی نہیں سکتا تھا۔ اس نے دل ہی دل میں کہا ۔ میں اپنا گھر خود بناوں گی ۔ اس کی ایسی کی تیسی جو مجھے نکالے ۔
اپنے ارد گرد ہونے والی نا انصافیوں میں جو سب سے بڑی نصرت کو نظر آتی وہ جنس کے نام پر لڑکی اور لڑکے میں کیا جانے والا تضاد تھایا پھر یہ اس کا ماضی تھا جس نے اس کی سوچوں کو منفی رُخ دے دیا تھا ۔ اسے معاشرے میں پنپنے والے دیگر ناسور نظر ہی نہیں آتے تھے۔
اسے لگتا کہ لڑکیوں کو معاشرے میں ردی پیپر سمجھا جاتا ہے۔ کسی لڑکے کو تو اس تضاد پر کوئی اعتراض نہ تھا ، ہوتا بھی کیوں لڑکے کے حصے میں چارپائی اور لڑکی کے حصے میں چٹائی ۔ یہی قانون ہے ہمارے معاشرے کا۔نصرت کی سوچ یہ ہی تھی ۔نصرت کو سمجھ نہیں آتا تھا کہ اسلام کے نام پر یہ فرق روا کیوں رکھا جاتا ہے۔ اس نے پورے قرآن کا ترجمہ پڑھ ڈالا ، اللہ نے کہیں بھی عورت اور مرد کی اس طرح تقسیم نہیں کی ،جس طرح معاشرہ نے کی ہے۔مرد کو نگہبان بنانے کاذکر ہے حاکم بنانے کا نہیں ، تراجم کی غلطیوں نے عورت کی زندگی کو ہی غلط بنا کر رکھ دیا۔ ایسی ایسی احادیث بیان کی جاتی ہیں کہ نہ تو ان کی اصل کا ذکر کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے اور نہ منقول کرنے والا اپنا تعارف کروانا ضروری سمھتاح ہے۔ نصرت نے جب سے ہوش سنبھالا تھا ۔ اس کے دل و دماغ اس تقسیم کو شدید ناپسند کرتے تھے جو جنس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں رائج ہے۔وہ مجازی خدا کے تصور سے ہی نفرت کرتی تھی۔ پیدا ہونے کا عمل لڑکے کا اور لڑکی کی ایک سا ہوتا ہے۔ خون کا رنگ ایک سا ، درد سہنے ،رونے کا طریقہ ایک سا۔ پھر مقدم ہونے کا سوال ہی کہا ں پیدا ہوتا ہے۔ نصرت کی ایک دوست نے اس کی دُکھتی رگ پر ایک بار ہاتھ رکھ ہی دیا۔ایک سوال اور نصرت کا چہرہ سُرخ چہرہ اور خاموشی۔فرزانہ نے نصرت کے چہرے کی بدلتی رنگت کے زیر اثر مذید سوالات کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سغرہ نے جب تین ہزار روپے ماہوار کا سنا تو خوشی سے اس کے چہرے کی رنگت بدل گئی۔رمشہ کو آپ رکھ لو باجی ، اپنی بیٹی سمجھنا ، ذیادہ ڈانٹنا نہیں۔باجی میری بچیاں بڑی سمجھدار ہیں ۔ آپ جو کام کہو گئی کرے گی۔ عارفہ نے کچھ دیر رمشہ کی طرف دیکھا اور کہا۔ کام تو میں اس سے زیادہ نہیں لوں گی۔ بس بچوں کو دیکھنا ہے ۔ الٹی سیدھی حرکت نہ کریں ۔ کھیلنے کی چیزوں سے کھیلیں ۔عارفہ نے رمشہ کو رکھ لیا۔ رمشہ ابو بکر اور عاتکہ کے کھیلونوں کو دیکھتے ہی ہر ایک کو چھونے اور کھیلنے کے لیے بے چین تھی مگر کبھی وہ سغرہ اور کبھی عارفہ کی طرف دیکھتی۔۔ ۔ وہ ان کے جانے کا انتظار کر رہی تھی۔
جیسے ہی وہ کمرے سے نکلی ،رمشہ نے گلابی گڑیا کو لیا اور اس کے بال سہلانے لگی ہی تھی کہ عاتکہ نے اسے ٹانگوں سے کھینچ لیا۔ رمشہ نے سر سے اسے پکڑے رکھا۔ یہاں تک کہ گڑیا دو حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ ابو بکر چلایا ۔ مما مما۔ رمشہ کو عاتکہ پر بہت غصہ آیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نصرت نے بی اے کر لیا تھا اور اب اس کے لیے شادی کے پیغام آنے لگے ۔ وہ آگے پڑھنا چاہتی تھی۔ ابو جی نے اسے پیار سے پاس بیٹھا کر سمجھایا ۔ بیٹا دیکھو تم پی ایچ ڈی بھی کر لو ،بیلنی توتمہیں روٹیاں ہی ہیں تو اس قدر تعلیم پر پیسہ ضائع کرنے کا فائدہ۔ نصرت ابو جی کے سامنے اپنے باغیانہ خیالات کو رکھ کر جوتے نہیں کھانا چاہتی تھی ۔ اس نے خاموشی سے ابو جی سے کہہ دیا ۔ جو آپ مناسب سمجھیں کریں ۔ مگر جب کو ئی رشتہ لینے آتا تو اس کا رویہ بکری جیسا نہیں بلکہ شیرنی جیسا ہوتا۔ وہ منہ نیچے کر کے بیٹھنے کی بجائے سوال و جواب اور تکرار کرتی۔ رشتے دیکھنے کے لیے آنے والی عورت سمجھ جاتی کہ وہ ان کے بیٹے کی جوتی کی نوک پر فٹ نہیں آئے گی تو وہ مایوسی سے رخصت ہو جاتیں ۔ امی کو ان سب حالات کا علم تھا جبکہ ابو جی کو کچھ پتہ نہ تھا۔
نصرت ابو جی کے پاس گئی اور منت سماجت کے انداز میں بولی ۔ ابو جی میں گھر میں فارغ رہ کر کیا کروں ، مجھے پڑھنے کی اجاذت دے دیں ۔ میرے پاس کافی پیسے ہیں جو میں نے جمع کیے ہیں ۔ کچھ سیمسٹر تو ان سے کر ہی سکتی ہوں ۔ ابو جی کو اس کی بات معقول لگی ۔ ان کے تمام بچوں میں سے کسی نے ایم اےنہیں کیا تھا۔ وہ خود بھی کم تعلیم رکھتے تھے ۔ ایسے میں نصرت نے خوشامد کا طریقہ اپنا۔ جبکہ امی اچھے سے جانتی تھی۔ ہاتھی کے دانت کھانے کے اوردیکھانے کے اور ہیں ۔ نصرت اور کسی کی تعریف۔ دو الگ باتیں تھیں۔ ابو جی نے خوشامد کو سنتے ہی نصرت کا ساتھ دینے کی حامی بھر لی ۔ امی نے ابو جی کو لجاحت سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ہمارے خاندان میں تو کسی لڑکے نے ایم نہیں کیا۔ کون رشتہ کرےگا اپنے سے ذیادہ پڑھی لکھی لڑکی سے۔ نصرت نے غصے سے امی کی طرف دیکھا۔ اس سے نہ رہا گیا اس نے دھیرے سے کہا اب سب لنگڑے ہوں تو میں بھی اپنی ٹانگ کاٹ لوں ۔ امی نے تو نصرت کی بات سن لی پر ابو جی اپنی سوچوں میں گم تھے وہ انجان رہے کہ نصرت نے سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک دیا اور سب کو لنگڑا کہہ دیا۔ قسمت انسان کے لیے ہر دروازے پر دستک نہیں دیتی بلکہ دروازوں کو توڑنے کی اہلیت بھی رکھتی ہے۔
نصرت کی قسمت نے اس کا ساتھ دیا اور اس نے ایم اے میں داخلہ لے لیا۔ کچھ باشعور لوگوں کے ساتھ اس کے دماغ میں مذید وسعت آ گئی۔ اس کا باغی پن ایک خاص سمت کی طرف جانے لگا، وہ باقائدگی سے عورتوں کے حقوق پر لکھنے لگی ۔ اس کی تحاریر پڑھ کر ہر عورت کو اسے داد دینے کا دل کرتا ۔ مگر اس کا ساتھ دینے کی ہمت کسی میں نہیں تھی۔ اس نے طلبہ سے مل کر ایک یونین بنائی جو عورتوں کو ان کے حقوق کے بارے میں بتانے کے لیے لیکچر کا اھتمام کرتی تھی۔ اس میں بہت کم خواتین شریک ہوتی۔ ایک دفعہ نصرت کو ایک عورت نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی داستان سنائی ۔ اس نے اپنے شوہر کو ظالم جابر ثابت کرتے ہوئے بہت سی باتیں کیں ۔ نصرت نے اسے ایک این جی او کا پتہ دیا اور وہاں چلے جانے کا کہاتو وہ رونے لگی اور کہنے لگی ۔لوگ کیا کہیں گئے ۔ بے عزتی ہو گی۔ میرے بچوں کا کیا ہو گا۔ نصرت نے اسے دیکھا تو ہزاروں خوف اس کی انکھوں سے چھلک رہے تھے۔ نصرت کو اس دن انای ئی افسوس ہوا کہ عورت کا کچھ نہیں کیا جا سکتا جب تک وہ خود اپنے ہر خوف کو کچل کر نہ رکھ دے ۔یہ کام کوئی اور کسی کے لیے نہیں کر سکتا ۔یہ ایسے ہی ہے کہ دوائی بیمار کو ہی لینی ہوتی ہے۔ وہ اس عورت کو کافی دیر سمجھانے کی کوشش کرتی رہی ،مگر اس عورت نے ہزار شکائتوں کے باجود بھی شوہر اور گھر کو چھوڑنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔
یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران اس کی ملاقات آفاق سے ہوئ۔عورتوں کے عالمی دن پر آفاق اپنی ٹیم کے ساتھ یونیورسٹی آیا تھا۔ وہ پروفیسر اور سماجی کارکن تھا ۔ نصرت کو مقابلہ مضمون نویسی میں اول آنے پر اس نے مبارک باد تھی۔ آفاق کا تعارف اس کے ٹیچر نے اس سے کرواتے ہوئے کہا۔ نصرت یہ بھی عورتوں کے حقوق کے بہت بڑے حامی ہیں ۔ ان کی این ۔جی ۔او ۔ عورتوں میں شعور اور آگہی پھیلانے میں سر گرم ہے ۔ آفاق نے مسکراتے ہوئے کہا میں نے عورت سے متعلق غزل پڑھی ہے آپ کی۔ مجھے تو اس کے سارے اشعار ابھی بھی یاد ہیں ۔ کیا لکھا ہے۔ٹیچر جا چکی تھی پر آفاق اور نصرت ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ آپ نے کیا خوب اشعار لکھے ہیں۔وہ شعر دہرانے لگا۔
جسم سے نکل کر تھوڑی سی زندگی چاہیے
میرے وجود کو جیون کو کچھ تو آزاد ہونے دو
عزت و وراثت نہ ہی شے ہوں کسی کی کوئی
مجھے بھی سانس لینے دو دنیا میں آباد ہونے دو
تخلیق کا موجد رب ،مقام ملے اسے خدائی کا
باعث تخلیق ہوں مجھ پر، اب اجتہاد ہونے دو
محور فساد میں تھی ! نہ ہو سکتی ہوں فسادی
میں ناشاد ہوں تو جہاں کو بھی ناشاد ہونے دو
جلتے ہوئے چہرے، کہیں لٹتی ہوئی عصمت
فقط جنس کے باعث نہ عورت برباد ہونے دو
نصرت نے ہلکی سی مسکراہٹ سے کہا۔ آپ کا حافظہ خوب ہے

نصرت کو اپنے میگزین میں لکھنے کی آفر کے ساتھ آفاق نے اسے اپنا کاڑڈ دیا۔ اس نے نصرت سے دھیمے لہجے میں کہا۔ اگر آپ کے پاس وقت ہو تو ہماری این ،جی ، او میں آئیں ۔ ہمارے سماج کو صفائی کی ضرورت ہے۔ باہر کے گند کے بارے میں تو اکثر باتیں ہوتی ہیں مگر اندر کی گندگی کا کوئی نام بھی نہیں لیتا۔ آئے دن ایسے ایسے روح کو جھنجوڑنے والے حادثے ہوتے ہیں کہ خداکی پناہ۔ نصرت اس کی باتیں سنتی رہی ۔ وہ اپنے لیکچر میں اس قدر متحمقن تھا کہ اس نے سوچا بھی نہیں کہ نصرت کتنی دیر سے اس کی باتیں خاموشی سے سن رہی ہے۔ اگرچہ یہ اس کا پسندیدہ موضوع تھامگراس نے تنگ آ کر اپنی کلائی میں پہنی ہوئی گھڑی دیکھی ۔ آفاق کو اندازہ ہوا کہ وہ کافی دیر سے اسے خواہ مخواہ کی کہانیاں سنا رہا ہے۔ جن سے وہ بھی اُتنی ہی واقف ہے جتنا کہ وہ۔
آفاق نے مسکراتے ہوئے کہا۔ سوری میرا خیال ہے کہ میں نے آپ کا ذیادہ وقت لے لیا ۔ میڈم فرحت میری کزن ہیں ۔ آپ جانتی ہوں گی ،انہیں ۔ نصرت نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔ جی وہ اردو والی۔ آئی نو دیٹ ۔آفاق نے پھر دور سے میڈم فرحت کو دیکھا تو وہ اتفاق سے انہی کی طرف آ رہی تھی۔ نصرت نے دل ہی دل میں شکر کا کلمہ پڑا ۔ میڈم فرحت نے نصرت کو مبارک پیش کرتے ہوئے کہا۔ تم تو چھا گئی ۔ اپنے قلم کو کبھی نہ روکنا۔ آفاق ، یہ دیکھو یہ ہے ہمارا مستقبل ۔ آج کی عورت ۔ وہ وقت دور نہیں جب ہمارے معاشرے کی عورت بھی اپنے تمام ہنر کا اظہار کر سکیں گئیں ۔نصرت نے مسکراتے ہوئے کہا۔ انشااللہ ۔
نصرت نے میڈم فرحت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ میڈم بہت دیر ہو رہی ہے ۔ مجھے اب جانا چاہیے ۔ اللہ حافظ۔
نصرت اور میڈم فرحت ایک ہی گاڑی میں آتے جاتے تھے ۔ راستے میں بات جیت نے نصرت اور میڈم فرحت کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ میلاد اور گھر میں ہونے والے فنگشن میں نصرت میڈم فرحت کو بھی بلاتی ۔ ان کی شادی دبئی میں کام کرنے والے سے ہوئی تھی۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ ہی رہتی تھیں ۔ ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔نصرت اور میڈم فرحت کے ہم اہنگ خیالات نے انہیں ایک دوسرے کے قریب کر دیا تھا۔
میڈم فرحت سے اکثر بات جیت میں نصرت اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کرتی ۔ میڈم فرحت نے اسے این جی او جوائن کرنے کا مشورہ دیا۔ نصرت جانتی تھی کہ اس کے گھر والوں کو منانا ، لوہے کے چنے چپانے کے برابر تھا ، مگر وہ جانتی تھی کہ کیسے سب کو راضی کرنا ہے ۔ اس نے میڈم فرحت کو اپنی امی سے بات کر کے منانے کی درخواست کی تو وہ راضی ہو گئی ۔ جب وہ نصرت کی امی سےملی تو انہیں منا نہیں پائیں ۔ میڈم فرحت نے پھر تنہائی میں کہا۔ یار تمہارے گھر والے تو بہت بیک ورڈ ہیں۔ بُرا نہیں منانا ، مجھے تو لگا تھا ،تمہاری امی ،تمہاری طرح ہوں گی لیکن ۔ نصرت مسکرانے لگی۔ کوئی بات نہیں میم آپ نے کوشش تو کی ۔ وہ دونوں ہنسنے لگی۔ اچانک سے ابو جی کی آواز آتے ہی نصرت نے کمرے کا پردہ اُٹھا کر بلایا۔ ابو جی یہ میری میم ہیں ۔ کالج میں پروفیسر ہیں ۔ ابو جی نے اندر آ کر سلام کیا تو میم فرحت کھڑی ہو کر ان کا جواب دینے لگی۔ ابو جی ،وہ یہ امی سے کہہ رہی تھی کہ میں ایک دو ماہ ان کی مدد کروں ۔ جب تک ایم ،اے کا رذلٹ نہیں آتا۔
ابو جی نے صوفہ پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔ مدد ، کیسی مدد۔ نصرت نے فوراً سے کہا، غریبوں کی مدد۔ ان کی این ،جی ، او خدمت خلق کرتی ہے نا۔ جیسے ایدھی والے کرتے ہیں ۔ بس ایسا ہی ادارہ ہے ، ان کا بھی ۔ ابو جی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ تمہارے تو امتحان شروع ہو رہے ہیں نا۔ نصرت نے کہا۔ جی ابو جی ۔ یہ امتحان کے بعد کا کہہ رہی ہیں ۔ یہ خود بھی ہوتی ہیں وہاں تین سے پانچ بجے تک ۔ ابو جی نے حیرت سے کہا۔ صرف دو گھنٹے کے لیے۔ نصرت نے فوراً کہا ابو جی مختلف اوقات کے لیے مختلف لوگ ہیں ۔ کام کے لیے ۔ اب فری میں کوئی سارا دن خدمت خلق تھوڑا ہی کرتا ہے۔ مگر دُعا کے لیے کچھ تو کر ہی سکتے ہیں نا۔ ابو جی نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ہاں توٹھیک ہے دو ماہ کے لیے ٹیچر کی بات سنی جا سکتی ہے ۔ کر لو۔ نصرت نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ امی نے تو منع کر دیا۔
ابو جی نے مہر ثبت کرتے ہوئے کہا۔ کر لو ، کر لو ۔کچھ نہیں ہوتا ۔ میم فرحت اور نصرت مسکرانے لگی ۔ ابو جی اُٹھ کر کمرے سے جا چکے تھے۔ میڈم فرحت نے کہا ۔ تم نے تو حقوق نسواں کا نام ہی نہیں لیا۔ وہ ہنس کر بولی ۔ میرے ابو جی عورت کو حقوق دینے کے حق میں نہیں ، مگر بیٹی کا معاملہ اور ہے ان کے نزدیک ۔ آپ نہیں سمجھ سکتی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رمشہ کو گالی دیتے سن کر عارفہ کو شدید غصہ آیاس نے وارننگ دے کر اسے چھوڑ دیا۔ اس کا جی چاہا کہ وہ وقار سے اس کا تذکرہ کرے مگر اس نے سوچا کہ وہ اسے فوراً رمشہ کو ہٹانے کا بول دے گئے۔ وہ کھیلونوں کو سمیٹنے اور چھوٹے چھوٹے کاموں میں عارفہ کے کے بہت اچھی تھی۔
عارفہ کی بہن نمرہ جب اس سے ملنے آئی تو رمشہ کو دیکھ کر افسردگی سے کہنے لگی ۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو کام پر لگا دینا کس قدر ظلم ہے، عارفہ نے حامی بھرتے ہوئے کہا۔ کہہ تو آپ ٹھیک رہی ہیں ۔ اگر ہم جیسے لوگ انہیں کام نہ بھی دیں تو ، انہوں نے کون سا پڑھنا لکھنا ہوتا ہے ۔ کاغذ چننے سے تو اچھا ہے نا کہ انہیں ہماری وجہ سے اچھا کھانا چھت اور اچھا ماحول میسر آتا ہے۔ جب میں اسے رکھنے لگی تھی تو مجھے بھی ایسا ہی لگا کہ اتنی چھوٹی بچی کو کام پر رکھ لینا ،پتہ نہیں اچھا ہے یا نہیں ۔ مگر اب میں سوچتی ہوں ۔یہاں اسے کھیلنے کے لیے کھیلونے ۔ کھانے کے لیے کھانا اور پھر ایک ماہ کا تین ہزار روپیہ ملتا ہے۔ جو نہ صرف اس کے لیے بلکہ اس کی فیملی کے لیے بھی اچھا ہے۔
باجی جب یہ آئی تھی تو بہت گندی رہتی تھی ، میں نے اسے کپڑے لےکر دیے ۔ اب بچوں کے ساتھ ہر وقت ہوتی ہے تو ،میں بچوں کی طرح ہی اس کا خیال رکھتی ہوں ۔ نمرہ نے مسکرا کر کہا ،یہ تو تم بہت اچھا کرتی ہو۔ اللہ اجر دینے والا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امتحان ہو چکے تھے اور نصرت نے این ، جی ،او جانا شروع کیا۔ وہاں اس کی ملاقات روز ہی معاشرے کی ستائی ہوئی اور زخم خوردہ خواتین سے ہوتی مگر ایک کیس کو دیکھ سن کر اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔ وہ عروج کا کیس تھا۔ وہ چودہ سال کی بچی تھی۔ وہ کسی سے بھی بات جیت نہیں کرتی تھی۔ جب اسے ایک آدمی این ،جی ،او چھوڑ کر گیا تو اس کا چہرہ گرد آلود تھا۔ نصرت نے اسے پانی دیا۔ تو اس نے ایسے پیا ۔ جیسے صدیوں کی پیاسی ہو۔بہت کوششوں کے بعد جو ایک لفظ اس کے منہ سے ادا ہوا ،وہ اس کا نام تھا۔ عروج کو اپنا گھرادارے میں چھوڑنے کے بعد جب میڈم فرحت اور نصرت واپس آ رہی تھیں تو میڈم فرحت نے افسردگی سے کہا۔ پتہ نہیں کیا مسلہ ہو گا اس بچی کے ساتھ ۔ کیسا معاشرہ ہے ہمارا۔ بچیاں اپنے ہی گھروں میں محفوظ نہیں ۔ کون تحفظ دے گا انہیں؟نصرت نے میڈم فرحت کی بات سننے کے بعد سوچتے ہوئے کہا۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کوئی اغوا کا کیس ہو۔ میڈم فرحت نے کہا۔ نہیں ۔ میں نے اسے کہا گھر جانا ہے تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔ اس کی انکھوں میں ابھرتے آنسو کوئی اور ہی کہانی کہہ رہے تھے۔ کل جا کر پتہ کرتے ہیں ۔ جب دوسرے دن فرحت اور نصرت اس لڑکی سے ملی اور محبت اور ہمدردی سے گلے لگایا تو وہ رونے لگی۔
فرحت کو اس کی امی نے فون کر کے اپنے پاس آ نے کو کہا۔ نصرت کو اس لڑکی کے پاس چھوڑ کے فرحت واپس گھر چلی گئی ۔ اس نے نصرت سے کہا وہ دو گھنٹے بعد اسے آ کر پک کر لے گی ۔ وہ جاننے کی کوشش کرئے کہ لڑکی کے ساتھ مسلہ کیا ہے۔نصرت نے بہت کوشش کی کہ اسے کچھ پتہ چلے مگر عروج تھی کہ منہ کھولنے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔ وہاں کام کرنے والی عورت نے بتایا کہ بی بی جی یہ تو پیٹ سے ہے اور اس کا معاملہ بھی پیچیدہ ہے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ حمل ساقط بھی نہیں کروا سکتے ۔ عارف صاحب ،نے تو ڈاکٹر سے کہا ہے کہ یہ خود تیرہ ، چودہ سال کی بچی ہے مگر ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ جان چلی جائے گی اس کی ۔ وہ یہ کام نہیں کرئے گا۔ نصرت نے افسردگی اور حیرت سے کہا۔ یہ تو چھوٹی سی ہے ۔ وہ کام کرنے والی تمسخر خیز لہجہ میں بولی ۔ یہاں تو اس سے بھی بہت چھوٹی چھوٹی آتی ہیں ۔
نصرت نے دوبارہ عروج سے پوچھا ،جو اس کی اور کام والی کی باتیں سن رہی تھی۔ تم کہاں کی ہو۔ ماں باپ کہاں ہیں تمہارے۔ وہ رونے لگی۔ نصرت نے اسے گلے لگا لیا تو اس نے دھیرے سے کہا۔ مر گئے۔ نصرت کی انکھیں بھی بھیگ گئیں ۔ نصرت نے پھر پوچھا ۔ یہ بچہ کس کا ہے؟اس نے اسی طرح گھٹی ہوئی آواز میں کہا۔ پتہ نہیں ۔
نصرت نے اسے گلے سے ہٹا کر اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔ تم نے اسے دیکھا نہیں ۔ وہ کون تھا ،جس نے تمہاری زندگی برباد کر دی۔ اس نے منہ کے آگے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔میرے خالو اور ان کا بیٹا۔ نصرت نے حیرت سے کہا۔ کیا ؟ انہیں ذرا رشتے کا پاس نہیں ہوا۔ کیسے گھٹیا لوگ ہو ں گئے ۔
تمہارے اور رشتے دار نہیں تھے ۔ تم نے ان سے مدد کیوں نہیں لی؟ اس نے روتے ہوئے کہا۔ میری خالہ مجھ سے بہت پیار کرتی تھیں ۔ میرے بابا تو جب میں دو سال کی تھی مر گئے ۔ میری ماں بھی چار سال بعد مر گئی تو میری خالہ مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر لے آئیں ۔ وہ مجھے اپنی بیٹی کی طرح چاہتی تھی۔ وقت گزرتا رہا۔ میرے خالو کی کب گندی نظر مجھ پر پڑی ۔ مجھے بھی نہیں پتہ ۔ پڑھائی میں میرا دل نہیں لگتا ۔ خالہ مجھے پڑھائی کے فائدے گنواتی ۔ میں چاہ کر بھی انہیں کچھ بتا نہیں پا رہی تھی۔ پھر ایک دن خالہ کو تو نہیں ،ان کے بیٹے وقار کو پتہ چل گیا۔ اس نے بھی ،اس بات کا فائدہ اُٹھایا۔
دونوں باپ بیٹا خبیث تھے۔نصرت نے افسوس سے کہا۔ تم نے اپنی خالہ کو کیوں نہیں بتایا۔ پتہ نہیں کہہ کر وہ سسکیاں بھرنے لگی ۔ نصرت نے اسے پانی دیا۔
کافی دیر کی خاموشی کے بعد نصرت نے اس سے پوچھا ۔ پھر تم یہاں کیسے پہنچی۔ نصرت کے پوچھنے پر اس نے بے بسی سے کہا۔ خالہ کو میرے حمل ٹھہرنے کا پتہ چل گیا۔ جب انہوں نے مجھ سے پوچھا تو میں نے سب کچھ صاف صاف بتا دیا۔ پہلے تو وہ حیرت سے مجھے دیکھتی رہی ، پھر انہوں نے خاموشی اختیار کر لی ۔ تقریباً تین دن کے بعد انہوں نے اپنے بیٹے سے میری شادی کا فیصلہ کیا۔ جسے خالو اور (میرے کزن)نے ماننے سے انکار کر دیا۔ میری خالہ نے جب انہیں دھمکی دی کہ وہ ان کا کیا ۔پورے خاندان کو بتا دیں گی ،تو خالو نے انہیں بہت مارا۔ میری خالہ نے مجھے بتایا کہ خالو اور وقار مجھے بدکرداری کا الزام دے کر قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔ انہوں نے مجھے گھر سے بھاگ جانے کا مشورہ دیامگر یہ تو بتایا ہی نہیں کہ میں جاوں کہاں ۔ میں وہاں سے بھاگ نکلی ۔ خالہ کے دیے ہوئے پیسے میرے پاس تھے ۔میں نے رکشہ والے سے جب کہا میرا کوئی گھر نہیں ہے تو وہ کوئی بھلا آدمی تھا مجھے این جی او چھوڑ گیا۔ ۔ وہ روتے روتے سسکیوں میں اپنی چودہ سالہ زندگی کو چودہ منٹ میں بیان کر چکی تھی ۔ جو اس نے نہ جانے کیسی کیسی اذیت سہتے ہوئے گزاری تھی۔ دل خراب ہونے کی وجہ سے وہ ان چودہ منٹ میں سات دفعہ قہ کر چکی تھی۔ نصرت نے بھرے ہوئے دل میں ایسے گھٹیا مردوں کے لیے شدید نفرت محسوس کی۔ وہ افسردگی سے عروج کے معصوم چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ جس پر زندگی زوال کی طرح مسلط تھی۔
وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی ۔ جرم کرنے کی شہ ساری معاشرہ دیتا ہے۔ مرد کھلے سانڈ کی طرح جہاں چاہے سینگ مارتے پھرتے ہیں۔ عورت معاشرے میں کیا مقام رکھتی ہے۔ عروج کی خالہ اگر کسی طریقے سے اپنی خبیث اولاد اور شوہر کا منہ دنیا کے سامنے کالا کروا دیتی تو شاہد چیونٹی کے ننھے قدم جتنی تو حرکت ہوتی ۔کتے کو اگر ڈر نہ ہو تو قصائی کی ساری دوکان میں جگہ جگہ چھتڑے ہی چھتڑے ہوں ۔
اوہ میرے اللہ وہ اپنے دل میں واقعات کا تجزیہ کر ہی رہی تھی کہ میڈم نصرت آ گئی ۔ کچھ دیر بات جیت کے بعد وہ واپس گھر آ گئی۔ وہ اتنا روئی تھی کہ اس کا پورا تکیہ بھیگا ہوا تھا۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کاش میں اس کے لیے کچھ کر سکتی۔وہ جانتی تھی کہ وہ کچھ نہیں کر سکتی ۔۔۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی ۔ کیا واقعی اللہ تعالی کی ذات ہے ، اگر ہے تو بے بس اور لاچار لوگوں کی مدد کیوں نہیں کرتا۔ اب غلط کام کرنے والے سور اور بندر کیوں نہیں بنتے ۔ ظلم کرنے والوں کو کسی کا کوئی ڈر نہیں ۔ بے بس لوگ سسک سسک کر دم توڑ دیتے ہیں ۔ شکووں کا ایک انبار لیے وہ کب سوئی، اسے خود پتہ نہیں چلا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نصرت نے میڈم فرحت سے عروج سے متعلق بات جیت کرتے ہوئے کہا۔ کیا ہم عروج کے لیے اور کچھ نہیں کر سکتے۔ وہ اب کیا کرئے گی۔ میری تو سمجھ میں نہیں آ رہا۔ اس کے بچے کا کیا ہو گا۔ سوچ سوچ کر دماغ خراب ہوتا ہے مگر مسلہ کا حل نہیں سوجھتا۔ میڈم فرحت نے افسردگی سے کہا۔ ہمارا کلچر ایسا ہے کہ ایک طرف تو بیٹیاں عزت ہوتی ہیں دوسری طرف انہی کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ خیر تبدیلی آ رہی ہے ۔ ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں ۔ مرد وں میں بھی ذیادہ تر محافظ ہی ہیں ۔ چور لٹیرے تو ہر جگہ ہوتے ہیں ۔ بیٹیوں کو عزت دینے والے لوگ بھی بہت ہیں ۔ اصل مسلہ تعلیم کی کمی کا ہے۔ نصرت نے تردید کرنے والے انداز میں کہا ۔ تعلیم اور تربیت دو مختلف چیزیں ہیں ۔ بہت علم رکھنے والے لوگ جو پوری دنیا کے ساتھ سلوک کرنا جانتے ہیں ۔ اپنی بیوی سے ان کا رویہ اور سلوک نوکروں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک سے بھی بدتر ہوتا ہے۔آپ ایسے لوگوں کے بارے میں کیا کہیں گی۔میڈم فرحت نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ تم ٹھیک کہہ رہی ہو ۔ مگر ایسے لوگ بہت ہی کم ہوتے ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ تعلیم کسی نہ کسی حد تک انسان کو متاثر کرتی ہی ہے۔
میڈم فرحت نے جب نصرت کو مایوس پایا تو پیار سے بولی ، اللہ بہتر کرئے گا۔ عروج کم سے کم اچھی جگہ تو ہے ۔ غلط لوگوں کے ہاتھ میں نہیں ہے۔
کچھ دن بعد جب وہ دوبارہ ایک دوسری عورت کو اپنا گھر چھوڑنے گئی تو نصرت نے وہاں کام کرنے والی عورت سے عروج کا پوچھا۔ نصرت کو اس نے بتایا کہ اسے تو اس کے خالو لے گئے ۔ نصرت نے سر پکڑ کر کہا۔ خالو۔
نصرت نے چیختے ہوئے کہا ۔ وہ کیسے چلی گئی۔ کام کرنے والی نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ بڑے بااثر لوگ تھے جی ۔ ادارے کو اچھا خاصا ڈونیشن بھی دیا ہے ۔انہوں نے ۔ان کا کہنا تھا کہ بچی کا دماغ خراب ہے ۔ کسی نے اس کا فائدہ اٹھا لیا ۔
نصرت نے غصے سے کہا۔ پیسوں کے لیے عروج کو ان کتوں کے حوالے کر دیا۔ نصرت روتے ہوئے گھر واپس آئی تو اس کی امی پریشان ہو گئی۔ وہ نصرت کے پاس بیٹھ کر پوچھنے لگی مگر نصرت بے بسی سے صرف روتی رہی ۔اس سے ایک لفظ ادا نہ ہوا ۔ ہوتا بھی کیسے ۔ جہاں بے بسی زندہ ہو زبانیں مفلوج ہو جاتی ہیں ۔
اس نے روتے ہوئے کہا۔ امی یہاں کچھ نہیں ہو سکتا۔ اس کا دل بیٹھ گیا۔ اس نے دوسرے دن میڈم فرحت سے کہا وہ اب اس سلسلے کا کوئی کام نہیں کرئے گی۔ فرحت نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔ ہم اپنی سی کوشش تو کر سکتے ہیں ۔ کوشش ہی زندگی ہے۔ ممکن ہے کہ ہماری کوشش آج نہیں تو ایک صدی بعد رنگ لائے ۔ ہماری کوشش ہماری اولاد کو اس تفریق سے نکال دے ، جس کا شکار ہم ہیں ۔ نصرت نے روتے ہوئے کہا۔ آپ کو میں نے سب بتا دیا تھا۔ آپ اس کے لیے کچھ نہیں کر سکی ۔ میں نہیں کر سکی۔ یہ سب دیکھاوا پھر کس لیے۔ ہم نے کچھ نہیں کیا۔ بس پکڑ کر اسے چھوڑ آئے ، مرنے کے لیے۔ بات تو تب ہو کہ ہم سہارا بنیں ۔ دس بھیڑیں مل کر چرواہا نہیں بن سکتیں ۔ ہم سہارا نہیں ہیں ۔ میم کوئی سہارا نہیں ہے۔ آپ کو یہ این ،جی ، او بند کر دینی چاہیے ۔ میگزین نکالنے اور کہانیاں لکھنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ ہم مفلوج لوگ ہیں ۔ فرحت کو لگا وہ اسے قائل نہیں کر سکے گی ۔ اس نے کہا ، ٹھیک ہے نصرت ۔ جیسے تمہاری مرضی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفاق کی امی تنزیلہ اداسی سے بیٹھی تھی اور ان کی بہن انہیں تسلیاں دے رہی تھیں ۔ تنزیلہ نے افسردگی سے کہا۔ کوئی لڑکی بھی دیکھاو ۔آفاق کو کوئی نہ کوئی نقص نظر آ ہی جاتا ہے تیس سال کا ہو گیا ہے اور شادی کا نام لو تو کہتا ہے ڈھونڈیں نا کوئی لڑکی میں کب نہ کرتا ہوں ۔ امی آپ کی خوشی میں میری خوشی ۔ لڑکی دیکھنے کے بعد کہتا ہے ۔ آپ کہیں گی تو کر لوں گا مگر یہ یہ یہ نقص ہے اس میں ۔ ایسے میں بھلا کیسے کرواوں اس کی شادی۔
فرحت اپنی امی اور خالہ کی باتیں سن رہی تھی۔ اس نے پاس آتے ہوئے کہا۔ میں دیکھاوں ایک لڑکی آپ کو ۔ اس کی فیملی کو میں جانتی ہوں ۔ اگر آپ چاہیں ۔ مجھے لگتا ہے آفاق کے لیے اچھی ہے۔ دونوں کےخیالات بھی ملتے ہیں اور حالات بھی۔ تنزیلہ اور فائقہ نے حیرت سے دیکھتا تو فرحت نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ارے بھئی دونوں کنوارے ہیں ۔ وہ دونوں ہنسنے لگیں ۔ یہ بات ہنسی سے نکل کر سنجیدگی میں چلی گئی جب میڈم فرحت نے گھر آ کر نصرت کی امی سے اجاذت طلب کی کہ وہ نصرت کا رشتہ اپنے ایک کنزن کے لیے لانا چاہتی ہیں ۔ نصرت کی امی سے بات ہوتی ہوئی جب ابو تک پہنچی تو انہوں نے اجاذت دے دی ۔ نصرت کا ایم اے کا امتحان ہونے والا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ جلد سے جلد اب نصرت کی شادی ہو جائے۔ انہیں اس کی ڈھلتی ہوئی عمر کا احساس تھا۔ آفاق کو جب اس کی ماں نے نصرت کا نام لے کر بتایا کہ وہ اس کے گھر جا رہی ہیں تو آفاق نے رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا۔ وہ اس سے ملا ہے اور اس نے اسے دیکھا ہوا ہے ۔ اگر اس کے گھر والے مان جائیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔ اس کی ماں کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ دونوں گھرانوں نے ایک دوسرے کو پسند کیا۔ نصرت کو جانچا پرکھا نہیں گیا ، نصرت کو حیرت تھی۔ میڈم فرحت نے اس کے دل میں یہ غلط فہمی ڈال دی تھی کہ آفاق کو وہ پسند آ گئی ۔
اس کی شادی کر دی گئی ۔ اس بار نصرت کی نہ چل سکی۔ آفاق سے متعلق جتنی اسے معلومات تھیں ان کے مطابق وہ عورتوں کے حقوق کے لیے لڑ رہا تھا۔ اس کی این ، جی ، او اور اس این جی او سے ملحقہ میگزین اسی بات کی عکاسی کرتا تھا۔ وہ بہت سی امیدوں اور خواہشات کے ساتھ اس کے انگن میں داخل ہوئی ۔شادی کی خوشی اور ماتم کا سوگ ذیادہ دن نہیں چلایا جا سکتا ۔ زمہ داریاں اور دنیا داری انسان کو اپنی طرف کھینچ ہی لیتی ہیں۔
آفاق اور نصرت کی نئی زندگی کا آغاز ہو چکا تھا۔شادی کے چودہ دن ہی گزرے تھے کہ آفاق اور نصرت کی پہلی لڑائی ہوئی ۔ جب نصرت نےکام کرنے اور کالج جانے کی بات کی تو آفاق کی ماں نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ اس گھر کو کسی ہنستے کھیلتے کھلونے کی ضرورت ہے۔ نصرت ان سے تو کچھ نہ بولی مگر کمرے میں اس نے آفاق سے جب دوبارہ بات کی تو آفاق نے بے نیازی سے کہا۔ امی کی بات نہیں سنی تم نے۔
نصرت نے جب اصرار کیا تو آفاق نے اسے پیار سے سمجھانے کی کوشش کی ۔ اس نے بڑے ہی تحمل سے اسے ماں کی عظمت کا لیکچر دیتے ہوئے ، ان کی خواہش کا احترام کرنے کو کہا۔ نصرت نے افسردگی سے کہا۔ جب کچھ ایسا ہو گا تو وہ کالج میں پڑھانا چھوڑ دے دے گی۔ فی الحال اس میں کیا بُرائی ہے۔پرائیویٹ کالج ہے ہمارے رشتہ داروں کا۔ آفاق نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔ میں ہوں نا ۔کام کرنے کے لیے ۔ تم بس گھر کا خیال رکھو۔ اچھے اچھے کھانے پکانے سیکھو۔
نصرت نے مایوسی سے کہا مجھے جتنے کھانے بنانے آتے ہیں کافی ہیں ۔ مجھے خانسامہ بننے کا نہ شوق تھا نہ ہے۔ آپ جانتے ہیں مجھے۔ میں کچھ کرنا چاہتی ہوں ۔ آفاق نے الجھتے ہوئے کہا۔ پہلے تو تمہیں اس گھر اور اس گھر کے لوگوں کے حق کا سوچنا چاہیے۔ میں اس گھر میں سب سے بڑا ہوں ۔ ابو نہ ہونے کی وجہ سے اس گھر کا سربراہ ہوں ۔ میری بیوی ہونے کے ناطے تمہارا فرض ہے کہ تم میری اور میرے گھر والوں کی خوشی کا خیال رکھو۔ میری ماں میرے لیے ہر شے سے مقدم ہے اور اگر وہ کچھ کہہ دیں تو میں جہاں تک ہو سکے کوشش کرتا ہوں کے پورا کروں ۔ تم بھی ایسا ہی کرو گی۔ آخری الفاظ ادا کرتے ہوئے اس کی زبان میں سختی آ گئی تھی۔
نصرت نے کٹے ہوئے لہجے میں کہا اور اگر میں ایسا نہ کروں ۔ آفاق اچھل کر کھڑا ہو گیا۔ دیکھو نصرت ، میرا خیال ہے کہ ایک بات تم اچھی طرح سمجھ لو ۔ اگر تمہیں اس گھر میں میری زندگی میں رہنا ہے تو ویسے رہنا ہو گا، جیسے میں چاہتا ہو۔ ورنہ ۔ اس نے دانتوں کو پیستے ہوئے اسے گھورا۔
وہ کمرے سے جا چکا تھا۔نصرت کو احساس ہو چکا تھا کہ اس کی ماں بار بار اسے کیا سمجھانے کی کوشش کرتی تھیں۔ اس کے دل میں آفاق کے لیے عجیب سے خیالات جنم لے رہے تھے ۔ ایک طرف وہ اسے منافق کہہ رہی تھی تو دوسری طر ف خود غرض۔ نصرت نے آئینہ کے سامنے جا کر دیکھا اور خود سے کہنے لگی۔ شادی کا مطلب میں نے مفت میں خود کو بیچ دیا۔ اب خریدار طے کرئے گا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ کیا نہیں کرنا۔ میری زندگی کا مقصد بھی وہی طے کرئے گا۔وہ اپنی انکھوں میں جھانکنے کی کوشش کر رہی تھیں جو کبھی کسی موقع پر نہیں جھکیں تھیں ۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر میں نے اس گھر میں رہنا ہے تو اس کی مرضی اور اس کے حکم کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا اور اگر مجھے اس کے گھر میں رہنا ہی نہ ہو توَ؟
غصے سے اس کے پورے جسم میں کپکپاہٹ ہو رہی تھی ۔ آفاق کی امی کمرے میں داخل ہوئیں ۔ انہوں نے نصرت کو دیکھتے ہی کہا۔ نصرت بیٹا میرے بھائی آ رہے ہیں ۔ اچھے سے تیار ہو جاو۔ وہ شادی پر نہیں آ سکے ۔ پولیس والوں کی نوکری بھی نا۔ وہ شہر سے باہر تھے ۔ میرے بھائی ، میرے لیے سب کچھ ہیں ۔ انہوں نے آفاق کے لیے بہت کچھ کیا۔ وہ تو اپنی بیٹی بھی دینا چاہتے تھے مگر آفاق نے کہا بہت چھوٹی ہے ،عاتکہ۔ مجھے تو اپنے بیٹے کی خوشی سب سے آگے ہے ۔ جلدی سے تیار ہو جاو۔ وہ کمرے میں اس طرح گھوم کھوم کر چیزیں ٹھیک کر رہی تھیں ،جیسے ہر شے اپنی جگہ پر نہ ہو۔ انہوں نے بات ختم کرنے والے انداز میں کہا۔ سنو بیٹا ، اپنے کمرے کو ذرا صاف رکھا کرو ۔ آج کل لڑکیوں کو ماں باپ سکھاتے ہی نہیں ہیں کہ سب سے پہلے گھر اور شوہر ۔ میں تو اپنی آمنہ کو سمجھاتی رہتی ہوں ۔ یہ پڑھنا لکھا، اتنا اہم نہیں ہے ، سلیقہ ہی عورت کا اصل گہنا ہے۔ میرا آفاق بڑا غصے والا ہے ۔ جب بھی بات کرو ، موقع دیکھ کر کرنا۔ شوہر ، شوہر ہوتا ہے بیٹا۔ اس کے ابو تو غصے میں مجھ پر ہاتھ اُٹھا جاتے تھے۔ نصرت نے ان کی تمام باتوں میں پہلی دفعہ ان کی طرف مڑ کر دیکھا اور حیرت سے کہا۔ تو آپ کیا کرتی تھیں ؟
تنزیلہ نے منہ بھسوڑتے ہوئے کہا۔ کرنا کیا تھا۔ شوہر سے محبت اتنی ہو جاتی ہے کہ اس کی ذیادتیوں پر غصہ نہیں آتا ، افسوس ہوتا ہے۔ نصرت نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا۔ آپ کا مطلب آپ کچھ بھی نہیں کرتیں تھیں۔
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ایک دو دن چپ چاپ رہتی تھی۔ پھر وہی میں ، وہی تو۔ میاں بیوی ایک ہی ہوتے ہیں ۔نصرت سے نہ رہا گیا۔ اس نے اپنی ساس کی طرف دیکھتے ہوئے فوراً کہا ، پھر تو بیوی کو بھی غصے میں لگا جانا چاہیے نا۔ میاں بیوی ایک جو ہوتے ہیں ۔ وہ ہنسنے لگیں ۔ نصرت کو ایسا لگا کہ انہوں نے اس کی بات کو کوئی مذاق سمجھا ہے۔ وہ بولیں ۔ اگر عورت اپنے میاں کو مارے گی تو سوچو! میاں چھوڑے گا کیا۔ اللہ نے مرد کو طاقت ور بنایا ہے اور عورت کو کمزور۔
نصرت نے یہ بات اپنی ماں کے منہ سے بھی کہیں بار سنی تھی۔ اس نے ایک لمبی سانس لیتے ہوئے کہا۔ آج کل جنگیں ، عقل سے جیتی جاتی ہیں طاقت سے تو جانور لڑتے ہیں۔ پہلی بار نصرت کی ساس نے اسے گھورا اور وہ قدرے غصے سے بولیں ، تم میرے بیٹے کو جانور کہہ رہی ہو۔ نصرت سے حیرت سے انہیں دیکھا۔ آپ جو اتنی دیر سے عورتوں کی توہین کر رہی ہیں ، آنٹی۔ میں نے تو نہیں کہا آپ میری بات کر رہی ہیں ۔ آپ عورتوں کی بات کر رہی ہیں اور میں مردوں کی۔بس ۔ اس سب میں آفاق کہاں سے آ گیا۔ وہ غصے سے اُٹھیں اور کمرے سے رفو چکر ہو گیں۔ وہ دھیرےدھیرے کچھ کہہ رہی تھیں ، مگر نصرت نے سننے کی کوشش نہ کی۔
نصرت سوچ رہی تھی کہ وہ تیار ہو یا نہیں ہو۔ ساس صاحبہ تو یوں بھی خفا ہیں۔ میاں جی بھی کپڑے جھاڑ کر گئے ہیں تو کیوں نہ کوئی مووی ہی دیکھ لی جائے ۔ ہر شے سے ذرا دور جانے کا یہی ایک طریقہ ہے ۔ اس نے کمپیوٹر آن کیا اور فلم دیکھنے کے لیے سرچ کرنے لگی۔ابھی سرچ مکمل بھی نہیں ہوئی تھی ۔ آمنہ ، آفاق کی بہن نے کھٹاک سے دروازہ کھولا اور اندر آ گئی ۔
اس نے نصرت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ارے بھابھی آپ ابھی تیار نہیں ہوئیں ۔ آپ کو پتہ ہے نا ماموں آ رہے ہیں ۔ ہمارے ماموں جی صرف آپ کو دیکھنے آ رہے ہیں ۔ ان کی پوری فیملی بھی ہو گی ساتھ۔ کچھ بنا نا بھی ہے ۔ تیار ہونے کے بعد کچن میں آئیں ۔ امی نے یہ بڑی سی لسٹ دی ہے ۔ کھانا آپ ہی نے بنانا ہے ۔ وہ فل سٹاپ لگائے بغیر بول رہی تھی۔ نصرت کا دماغ گھوم رہا تھا۔ اس نے اپنے لہجے پر قابو رکھتے ہوئے کہا۔ کسی کے کمرے میں آنے سے پہلے ناک کی جاتی ہے۔ ۔۔۔نہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عارفہ نے چیخ کر کہا ۔ تم کر کیا رہی ہو۔ رمشہ نے ابو بکرسے دور ہوتے ہوئے ، اپنے کپڑے ٹھیک کرنے کی کوشش کی۔ عارفہ نے اس کے قریب آ کر ذور دار طمانچہ اس کے منہ پر مارا۔ ابو بکر حیرت سے مما کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے پہلی دفعہ اپنی ماں کو ہاتھ اُٹھاتے دیکھا تھا۔ رمشہ رو رہی تھی۔ عارفہ نے غصے سے کہا۔ آپ کو مما نے کہا تھا نا کوئی بھی آپ کو اگر غلط طریقے سے ٹچ کرئے تو آپ مما کو بتائیں گئے۔ ابو بکر نے روتے ہوئے کہا۔ وہ مما رمشہ آپی نے کہا تھا کہ وہ اس کے بعد میرے ساتھ ہائیڈ اینڈ سیک کھیلیں گیں۔پھر ہم ریس بھی کریں گئے۔ انہوں نے کہا اگر میں نے اس گیم کا آپ کو بتایا تو وہ مجھ سے کچھ نہیں کھیلیں گیں۔ عارفہ کو رمشہ پر اس قدر غصہ آ رہا تھا کہ اس کا جی چاہ رہا تھا اس کی مذید پٹائی کرئے ۔ مگر اس نے اس کا ہاتھ پکڑا اور باہر لے آئی ۔
عارفہ نے اسے بچوں کے کمرے میں جانے سے منع کر دیا۔ رمشہ کافی پریشان دیکھائی دے رہی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اب کیا کرئے۔عارفہ نے غصے سے کہا۔ کتے کو گھی ہضم نہیں ہوتا۔ میری ہی غلطی تھی کہ تمہیں اپنے بچوں کی طرح سمجھا ، اتنی گھٹیاحرکت کرتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آئی۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 182285 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
30 Jun, 2018 Views: 2910

Comments

آپ کی رائے