نیا پاکستان مبارک ہو

(ڈاکٹر سید وسیم اختر, بہاولپور)
خان صاحب کے راستے کے تمام کانٹوں کو چن دیا گیا تو بہت سے روایتی سیاستدانوں کو مجبور کیا گیا کہ خان صاحب کی انصاف نامی پارٹی میں شامل ہوں اس طرح تمام صادق و امین عمران خان کی پارٹی میں شامل ہو گئے اب جبکہ ۲۵ جولائی کے انتخابات کا پہلے سے طے نتیجہ آ چکا ہے جس کے مطابق تحریک انصاف کو دو صوبائی اسبمبلیوں سمیت قومی اسمبلی کی نشستوں پر برتری حاصل ہے اس برتری کے حصول کے لئے عوام کے ووٹ کا کس طرح استحصال کیا گیا یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ان حالات میں اکثر سیاسی جماعتیں ان بوگس انتخابات کے نتائج کو مسترد کر رہی ہیں ساتھ ساتھ عمران خان اور ان کے حامی نئے پاکستان کا جشن منانے میں مصروف ہیں۔اس نئے پاکستان کی ابتدا کچھ یوں ہوئی ہےکہ حکومت سازی کے لئے آزاد نشستوں پر منتخب ہونے والے ہر شخص کو خریدا جا رہا ہے خان صاحب کی اے ٹی ایمز نے ایک بار پھر اپنے دہانے کھول دیئے ہیں اور خان صاحب کے صادق و امین ساتھی جہاز آزاد امیدواروں کی دہلیز پر لے جا کر ان کو خرید رہے ہیں۔ ایم ایم اے کی حب الوطنی کا اندازہ اس بات سے کیجئے کہ اس جماعت نے ہر اس شخص کو جماعت میں لینے سے انکار کر دیا جس کا دامن جرائم سے پر تھا آج انصاف کی دعوے دار جماعت ایم ایم کے ٹھکرائے ہوئے دہشت گردوں کے حامیوں سے ہاتھ ملا رہی ہے۔کون نہیں جانتا کہ مرحوم اعظم طارق کے بیٹے معاویہ طارق ایک متنازع شخصیت ہیں ان پر لا تعداد سنگین الزامات ہیں لیکن تحریک انصاف ایسے شخص کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے ہر طرح کی کوشش کر رہی ہے۔
ان حالات میں قوم کو نیا پاکستان مبارک ہو وہ پاکستان جس میں اقتدار کے لئے قوم کے قاتلوں کو قوم کے سروں پر مسلط کیا جاتا ہے۔

نیا پاکستان

تحریک انصاف کے رھنما عمران خان کا سب سے بڑا ہدف وزیر اعظم بننا تھا اس ہدف کے حصول کے لئے انہیں جس بھی کھٹن راستے پر چلنے کا کہا گیا خان صاحب آنکھیں بند کر کے اس راستے پر چل پڑے اخلاقی تقاضوں کو مد نطر رکھتے ہوئے خان صاحب کی ذاتی زندگی کو چھوڑ بھی دیا جائے تو سیاسی زندگی میں عمران خان صاحب نے ہمیشہ ایسی ایسی بری مثالیں پیش کیں کہ جس کی مثال نہیں ملتی عمران خان صاحب نے بذات خود نوجوانوں کی تربیت اس انداز سے کی کہ ان کے پرستاروں نے ہر طرح کی تہذیب و اخلاق سے اپنا ناطہ توڑ لیا اور ان کے منچلے پرستاروں کے نزدیک پاکستان کے تمام مسائل کا واحد حل عمران خان کا وزیراعظم بننا تھا اس ہدف کے حصول کے لئے ایک طرف عمران خان کے پرستاروں نے اپنے مخالفین کو گالم گلوچ سے نوازا تو خود عمران خان بھی اس میدان میں کسی سے پیچھے نہ رہے اور وطن عزیز کے انتہائی قابل قدر لوگوں کے بارے میں انتہائی بازاری قسم کی زبان استعمال کی۔ اور وزیر اعظم بننے کے لئے ہر اس آستانے پر دستک دی جہاں سے ان کو مدد کی تھوڑی سی بھی امید تھی حتی ان کے اردگرد موجود بعض توہم پرستوں نے ان کو مشورہ دیا کہ فلاں پیرنی سے شادی کر لیں تو آپ وزیر اعظم بن سکتے ہیں اقتدار کے لئے ہلکان ہوتے خان صاحب نے یہ بھی کام کر دکھایا اور پانچھ بچوں کی ماں کو طلاق دلوا کر اس سے شادی رچا لی اسی طرح بعض سیاسی پنڈتوں نے ان سے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر اقتدار ملنا تقریبا نا ممکن ہے لہذا خان صاحب بعض خفیہ ہاتھوں میں کھیلنے لگے اور جب نواز شریف کے خلاف دھرنا دیا تو اپنے مددگاروں کی انگلی اٹھنے کا انتظار کرنے لگے لیکن انگلی نہ اٹھی تو خان صاحب نے مایوس ہونے کی بجائے خفیہ ہاتھوں کی اطاعت میں اضافہ کر دیا جب مقتدر طاقتوں نے خان صاحب کی غیر معمولی اطاعت دیکھی تو اس کے سر پرہاتھ رکھنے کا فیصلہ کر لیا اسی لیے ان خفیہ ہاتھٔوں نے خان صاحب کے راستے کے تمام کانٹوں کو چننا شروع کر دیا ایک دم عدالتی فیصلےآنے لگے جن میں خان صاحب کے مخالفین مجرم جبکہ خان صاحب کی پارٹی میں آنے والے تمام لوگ پارسا اور صادق و امین ٹھرے۔

خان صاحب کے راستے کے تمام کانٹوں کو چن دیا گیا تو بہت سے روایتی سیاستدانوں کو مجبور کیا گیا کہ خان صاحب کی انصاف نامی پارٹی میں شامل ہوں اس طرح تمام صادق و امین عمران خان کی پارٹی میں شامل ہو گئے اب جبکہ ۲۵ جولائی کے انتخابات کا پہلے سے طے نتیجہ آ چکا ہے جس کے مطابق تحریک انصاف کو دو صوبائی اسبمبلیوں سمیت قومی اسمبلی کی نشستوں پر برتری حاصل ہے اس برتری کے حصول کے لئے عوام کے ووٹ کا کس طرح استحصال کیا گیا یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ان حالات میں اکثر سیاسی جماعتیں ان بوگس انتخابات کے نتائج کو مسترد کر رہی ہیں ساتھ ساتھ عمران خان اور ان کے حامی نئے پاکستان کا جشن منانے میں مصروف ہیں۔اس نئے پاکستان کی ابتدا کچھ یوں ہوئی ہےکہ حکومت سازی کے لئے آزاد نشستوں پر منتخب ہونے والے ہر شخص کو خریدا جا رہا ہے خان صاحب کی اے ٹی ایمز نے ایک بار پھر اپنے دہانے کھول دیئے ہیں اور خان صاحب کے صادق و امین ساتھی جہاز آزاد امیدواروں کی دہلیز پر لے جا کر ان کو خرید رہے ہیں۔ ایم ایم اے کی حب الوطنی کا اندازہ اس بات سے کیجئے کہ اس جماعت نے ہر اس شخص کو جماعت میں لینے سے انکار کر دیا جس کا دامن جرائم سے پر تھا آج انصاف کی دعوے دار جماعت ایم ایم کے ٹھکرائے ہوئے دہشت گردوں کے حامیوں سے ہاتھ ملا رہی ہے۔کون نہیں جانتا کہ مرحوم اعظم طارق کے بیٹے معاویہ طارق ایک متنازع شخصیت ہیں ان پر لا تعداد سنگین الزامات ہیں لیکن تحریک انصاف ایسے شخص کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے ہر طرح کی کوشش کر رہی ہے۔

ان حالات میں قوم کو نیا پاکستان مبارک ہو وہ پاکستان جس میں اقتدار کے لئے قوم کے قاتلوں کو قوم کے سروں پر مسلط کیا جاتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ڈاکٹر سید وسیم اختر

Read More Articles by ڈاکٹر سید وسیم اختر: 26 Articles with 11037 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Jul, 2018 Views: 407

Comments

آپ کی رائے