الیکشن کمیشن کی غلطیاں یا منظم دھاندلی

(Shoukat Ullah, Banu)

انتخابات ایک پُرامن انعقاد کے بعد اپنے اختتام کو پہنچے۔ اگرچہ صوبہ بلوچستان میں پولنگ سٹیشن کے باہر پولیس وین پر خود کش حملہ ہوا لیکن مجموعی طور پر ملک بھر کے اندر انتخابات کا ماحول پُرامن رہا ۔ اس بار ووٹ ڈالنے کے لئے وقت ایک گھنٹہ زیادہ رکھا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنا رائے حق دہی استعمال کریں کیوں کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر ووٹ کی اہمیت کو بھر پور انداز میں اجاگر کیا گیا تھا اور توقع تھی کہ اس بار ٹرن آؤٹ پچھلے انتخابات کی نسبت زیادہ ہو گا۔ پولنگ کے اختتامی لمحات میں پاکستان مسلم لیگ ( ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے پریس کانفرنس کی اور الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ووٹ ڈالنے کا عمل سست روی کا شکار ہے لہٰذا مزید وقت دیا جائے ۔ اُن کی پریس کانفرنس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنا ہنگامی اجلاس طلب کیا ۔ جس میں انہوں نے خواجہ سعد رفیق کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن پہلے ہی ایک گھنٹہ وقت بڑھا چکی ہے لہٰذا مزید گنجائش نہیں ہے اور اس سے نتائج تاخیر کا شکار ہوجائیں گے۔ خواجہ سعد رفیق کا مطالبہ نہایت معقول تھا کیوں کہ پولنگ سٹیشنوں پر سکیورٹی کے جو سخت انتظامات اور حصار قائم کیے گئے تھے ، اُن کو عبور کرنا اور ووٹ ڈالنا خاصہ وقت لے رہا تھا یہی وجہ تھی کہ ووٹ ڈالنے کا عمل سست روی کا شکار تھا۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں قائم پچاسی ہزار پولنگ سٹیشنوں پر آٹھ لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات تھے۔ انتخابات کے دوران یہ وہ پوائنٹ تھا جہاں سے دھاندلی کا شور اُٹھنا شروع ہوا۔ جونہی ووٹنگ کا وقت ختم ہونے میں دس، پندرہ منٹ باقی رہ گئے تو اس وقت پولنگ سٹیشنوں خصوصاً عورتوں کے سٹیشنوں پر ووٹروں کا رَش جمع کیا گیا۔قانون کے مطابق جو لوگ پولنگ سٹیشن کے احاطہ میں موجود ہوتے ہیں وہ وقت ختم ہونے کے بعد بھی اپنا ووٹ کاسٹ کر سکتے ہیں۔ووٹروں کے رَش اور پولنگ عملہکی دن بھر کی تھکن کے باعث شناخت اور تصدیق ویسے نہیں کی گئی جیسے وہ صبح سے کر رہے تھے۔ پس جلدی جلدی ووٹ کاسٹ کروائے گے او ر یوں غلطی دھاندلی میں تبدیل ہوگئی۔ اگر الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک گھنٹہ مزید وقت بڑھا دیتا تو شاید یہ نوبت نہ آتی۔ ووٹنگ عمل میں سست روی کی دوسری بڑی وجہ ووٹر لسٹیں تھیں۔ جن میں اتنی بے ترتیبیپائی گئی کہ پولنگ ایجنٹ اور پولنگ عملہ ووٹر کا نام ، سلسلہ نمبر وغیرہ ڈھونڈنے میں کافی وقت صرف کرتے تھے اور اوپر سے الیکشن کمیشن کی ایس ایم ایس سروس بھی کام نہیں کر رہی تھی۔ راقم الحروف جس وقت یہ مضمون تحریر کررہا ہے اس وقت بھی 8300 کی سروس کام نہیں کررہی ہے۔ واضح رہے کہ اس سروس کو آئی سی پی ایس 2013 کے عالمی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے ۔

ووٹنگ کا وقت اختتام پذیر ہوااور گنتی شروع ہوئی۔ سکیورٹی کے خطرات کے پیش نظر ووٹوں گنتی بند کمروں میں کی گئی ۔ یہ عمل اگرچہ درست تھا لیکن پولنگ ایجنٹوں کی غیر موجودگی میں گنتی کروانا الیکشن کمیشن کے قوانین کے منافی تھا۔ جب اُمیدواروں کی جانب سے اعتراض اُٹھائے گئے تو الیکشن کمیشن جواب دینے کے لئے میڈیا کے سامنے آگیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ پولنگ ایجنٹ اپنی مرضی سے چلے جاتے ہیں۔ یہ دوسری غلطی تھی اور یہاں سے دھاندلی کا شورذرا زیادہ اُٹھنے لگا۔ جب الیکشن کمیشن کو یہ پتہ تھا کہ پولنگ کا وقت ختم ہونے یا پریزائیڈنگ آفسروں کی جانب سے غیر حتمی نتائج کے اعلان کے بعد پولنگ ایجنٹ وہاں سے چلے جاتے ہیں اور وہ فارم 45 اور 46 کی تیاری تک نہیں رُکتے ، تو انہیں چاہیے تھا کہ فارم 45 پر پولنگ ایجنٹوں کے دستخط کا قانون نہ بناتے بلکہ جس طرح پولنگ کے آغازپر اُن سے دستخط لئے جاتے ہیں ، ویسا ہی فارم بنایا جاتا جس پر پولنگ ایجنٹ سٹیشن چھوڑتے وقت اپنے دستخط کرتے۔ یوں الیکشن کمیشن کے پاس ایک مضبوط جواز ہوتا کہ پولنگ ایجنٹ اپنی مرضی سے فارم 45 کی تیاری تک نہیں رُکے۔

فارم 45 اور 46 کی تیاری کے بعد پریزائیڈنگ آفسروں نے آراواز کے دفاتر کا رُخ کیا اور وہاں دیگر انتخابی مواد سمیت نتائج جمع کروائے۔ یہاں سے دھاندلی کا شور مزید اُٹھنے لگا کہ پولنگ سٹیشنوں پر فارم پینتالیس پولنگ ایجنٹوں کو نہیں دیا گیا۔ اس پر الیکشن کمیشن پھر حرکت میں آیا اور کہا کہ جن کو شکایت ہو تو وہ فارم پینتالیس کی کاپیاں متعلقہ آراواز سے حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کی گئی تیسری غلطی تھی۔ پہلی غلطی ووٹنگ کا وقت نہ بڑھنا ، دوسری ووٹنگ کے اختتام پر پولنگ ایجنٹوں کی غیر موجودگی میں گنتی کا عمل اور تیسری غلطی فارم پینتالیس کی کاپیاں آراواز کے دفاتر سے لینا تھی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اس بیان کو سیاسی جماعتوں نے خوب آڑے ہاتھوں لیا اور انہوں نے فارم پینتالیس کے پریزائیڈنگ آفسروں سے آراواز کے دفاتر تک کے سفر کو دھاندلی قرار دیا۔ یہاں الیکشن کمیشن کہہ سکتی تھی کہ فارم اُن کو پولنگ سٹیشنوں پر آویزاں مل سکتے ہیں۔ الیکشن قوانین کے مطابق پریزائیڈنگ آفسر نتائج کی ایک کاپی پولنگ سٹیشن میں چسپاں کرنے کا پابند ہوتاہے۔ پس وہ اپنی غلطیوں کو دھاندلی بلکہ منظم دھاندلی کی شکل میں نہ صرف تبدیل کرتا رہا بلکہ اس کا خمیازہ تا حال بھگت رہا ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی چوتھی بڑی غلطی آر ٹی ایس سسٹم کی ناکامی تھی۔ جوں جوں نتائج آنے کا سلسلہ شروع ہوا کہ اچانک خبر آئی کہ آر ٹی ایس سسٹم میں تیکنیکی خرابی پیدا ہوگئی ہے اور اَب پریزائیڈنگ آفسر نتائج فارم پینتالیس پر صرف جمع کروائیں۔ یہ سسٹم نتائج کی بروقت ترسیل اور وصولی کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا ۔ پہلے تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ اس سافٹ وئیر کو مکمل ٹیسٹنگ کے مراحل سے گزارا جاتا اور اس میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کیا جاتا۔دوسرا یہ کہ اگر اس سافٹ وئیر کو مخصوص حلقوں تک محدود رکھا جاتا تو بہتر نتائج کی توقع رکھی جاسکتی تھی اور سب سے بڑی بات پہلا نتیجہ اپنے مقررہ وقت سے پہلے آسکتا تھا۔ لیکن اس میں تاخیر کو منظم دھاندلی کے کھاتے میں ڈالا گیا۔ یہ تمام حقائق قارئین کی خدمت میں اس مقصد کے لئے پیش کئے گئے تاکہ وہ اپنا صحیح نتیجہ بیان کر سکیں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان ان غلطیوں کی روشنی میں آئندہ قوانین مرتب کر سکے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 128963 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Aug, 2018 Views: 501

Comments

آپ کی رائے