اقتدار ِ عمران۰۰۰ نئے دور میں ہند ۔ پاکستان

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

وزیراعظم ہندوستان نریندرمودی نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو سب سے بڑی پارٹی کی حیثیت سے کامیابی حاصل کرنے پر انہیں مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ہندو پاک کے درمیان حالات کبھی بہتر تو کبھی کشیدہ رہے ہیں خصوصاً کشمیر کے مسئلہ کے حل کیلئے دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب بھی آئے اور دور بھی ہوئے۔ہندوپاک کے درمیان بہتر تعلقات کے لئے ہوسکتا ہیکہ 11؍ اگسٹ اہم دن ثابت ہو۔ کیونکہ اُس روز عمران خان وزیر اعظم پاکستان کی حیثیت سے حلف لے رہے ہیں۔ عمران خان نے اپنی پارٹی ’’پاکستان تحریک انصاف‘‘ کی کامیابی پر پہلی تقریر کرتے ہوئے جس طرح ہندو پاک کے درمیان بہتر تعلقات کو اہم موضوع قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان خوشگواراور دوستانہ تعلقات کیلئے اگر ہندوستان ایک قدم آگے بڑھاتا ہے تو پاکستان بھی دو قدم آگے بڑھائے گا کیونکہ کشمیر کا مسئلہ مل بیٹھ کر ہی حل کیا جاسکتا ہے ۔عمران خان کا کہنا تھا کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر اور خوشگوار تعلقات ہی دونوں ممالک کی ترقی و خوشحالی کیلئے فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔ہندوستانی حکومت نے بھی پاکستانی عوام کا جمہوریت پریقین کا خیر مقدم کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا ہیکہ ہندوستان پاکستان کے ساتھ امن اور وہاں ایک خوشحال اور ترقی پسند ملک کو دیکھنا چاہتا ہے ۔ہندوستان نے اس امید کا اظہار بھی کیاکہ اسلام آباد کی نئی حکومت دہشت گردی اور تشدد سے پاک محفوظ اور مضبوط جنوبی ایشاء بنانے کیلئے تعمیری کردار ادا کرے گی۔پاکستان کے عام انتخابات میں کسی بھی پارٹی کو حکومت بنانے کیلئے سادھا اکثریت حاصل نہ ہوسکی ،سب سے زیادہ نشستیں پاکستان تحریک انصاف یعنی عمران خان کی پاٹی کو حاصل ہوئیں ہیں انہیں جملہ 116نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی جبکہ مسلم لیگ ن دوسری اور پاکستان پیپلز پارٹی تیسری پارٹی کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی۔ اس طرح عمران خان کو حکومت بنانے کیلئے مزید چند نشستوں کی ضرورت ہے جو امکان ہیکہ حاصل ہوجائینگی۔ اب دیکھنا ہیکہ پاکستان میں عمران خان وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ملک کے حالات کس موڑ اختیار کرتے ہیں ۔ ویسے عمران خان سب سے پہلے پاکستان میں کرپشن کے خاتمہ کے لئے پہل کرینگے انہوں نے عوام کو روزگار سے جوڑنے اور خوشحال پاکستان بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا اب دیکھنا ہیکہ انہیں اس میں کس حد تک کامیابی حاصل ہوتی ہے اور پڑوسی ملک ہندوستان کے ساتھ وہ کسطرح کے تعلقات استوار کرتے ہیں۔ پاکستان کی نئی حکومت پر عالمی قائدین کی نظریں بھی مرکوزہیں۔عمران خان کی کامیابی کے بعد بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا امیج بہتر ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ دیکھنا ہیکہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان جو کشیدگی ہے اسے نئی پاکستانی حکومت کسی طرح کم کرسکتی ہے اور 11؍ اگسٹ کے بعد پاکستان میں کس قسم کے حالات پیدا ہوتے ہیں ، دہشت گرد تنظیموں کے خاتمہ کیلئے عمران خان اپنے دورِ اقتدار میں کیا لائحہ عمل ترتیب دیتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔پڑوسی ملک ہندوستان نئی بننے والی پاکستانی حکومت سے اچھی امیدیں لگائی بیٹھی ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھتی جارہی ہے ۔ گذشتہ دنوں ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کے جواب میں امریکہ کو دھمکی دی تھی کہ اگر امریکہ ایران پر حملہ کیا تو ’’امریکہ کے پاس جو کچھ ہے ایران اسے تباہ کردے گا‘‘۔ایرانی فوج کے خصوصی دستوں کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کرتے ہوئے کہاکہ اگر امریکہ جنگ شروع کی تو اسلامی جمہوریہ ایران اسے ختم کردے گا۔ ایرانی میجر جنرل جو انقلابی گارڈ کی کرد فورسز کے سربراہ ہیں کا یہ بیان ٹرمپ کی اس ٹویٹ کے بعد سامنے آیا جس میں صدر امریکہ نے لکھا تھا کہ ’’کبھی بھی امریکہ کو دھمکی مت دینا‘‘، امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے علحدگی اختیار کئے جانے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی میجر جنرل کا کہنا تھا کہ ایک سپاہی ہونے کے ناطے یہ میرا فرض ہے کہ میں ان دھمکیوں کا جواب دوں۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھ سے بات کریں صدرایران روحانی سے نہیں، یہ صدر کا کام نہیں ہے کہ وہ ایسی باتوں کا جواب دیں۔‘‘انہوں نے امریکی صدر پر الزام عائد کیا کہ وہ نائٹ کلبس اور جوئے خانوں کی زبان استعمال کررہے ہیں۔ ایرانی میجر جنرل امن اور جنگ کے سلسلہ میں بات کرتے ہوئے کہاکہ ایران کے ساتھ امن ہر طرح کے امن کی ماں ہے اور ایران کے ساتھ جنگ تمام جنگوں کی ماں ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر نے ایرانی صدر حسن روحانی کے بیان کے جواب میں ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ اگر ایران نے اب امریکہ کو دھمکی دی تو اسے اس کا وہ خمیازہ بھگتنا پڑے گا جس کی تاریخ میں نظیر مشکل سے ہی ملتی ہے۔انہوں نے روحانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کو اب کبھی دوبارہ مت دھمکانا ورنہ وہ نتائج بھگتنا پڑینگے جن کا سامنا تاریخ میں چند ہی کو ہوا ہے۔ اسی بیان پرایران کے خصوصی فوجی دستوں کے کمانڈر نے امریکہ کو کڑا جواب دیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہیکہ جس طرح شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی جنگ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا لیکن دونوں ممالک کے صدور نے اپنی خطرناک روش کو بدلتے ہوئے ایک دوسرے سے ملاقات کرنے پر آمدہ ہوئے اور عالمِ انسانیت پر جو خطرناک موت کے بادل منڈلارہے تھے وہ ختم ہوئے۔ایران اور امریکہ کے درمیان بھی ایسا ہی کچھ نظر آرہا ہے ، ایران امریکہ پر حملہ کرنے طاقت و قوت رکھتا ہے یا نہیں الگ بحث ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ ایران مشرقِ وسطی میں موجود امریکی فوج کو نشانہ بناسکتا ہے یہی نہیں بلکہ اسرائیل پر بھی ایران حملہ کردے گا جس کا انداز امریکہ کو ہے اسی وجہ سے امریکہ بہت ہی سوچ سمجھ کر ایران کے خلاف فیصلہ کریگا۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان حالات سنگین موڑ اختیارکرلیتے ہیں اور ایران امریکہ پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو وہ مشرقِ وسطی اور افغانستان وغیرہ میں موجود امریکی فوج اور اسکے دفاعی تنصیبات پر بھی حملہ کرسکتا ہے۔ ایران کے تعلقات افغانستان کے ساتھ بھی خراب ہوتے محسوس ہورہے ہیں ۔ افغان کے فوجی عہدیداروں نے اس سلسلہ ایران پر شدید تنقید کی ہے۔افغان فوج کے ایک سینئرعہدیدار نے ایران پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اس پر دہرے معیار پرچلنے اور دوستی کی آڑ میں افغانستان سے دشمنی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔افغان فوج کے بریگیڈ’207 ظفر‘ کے کمانڈر جنرل نوراﷲ قادری نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران مسلسل ہمارے ملک کے اندر مداخلت کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی مداخلت کی وجہ سے جنوب مشرقی صوبے فراہ کا امن تباہ وبرباد ہوچکا ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ ماہ کے وسط میں افغان پولیس کے چیف فضل احمد شیرزاد نے ایک پریس کانفرنس میں ایران پر طالبان کو اسلحہ اور جنگی سازو سامان فراہم کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔فارسی زبان کی ویب سائیٹ ’سلام نیوز‘ کے مطابق جنرل قادری نے کہا کہ کابل کے حوالے سے ایران دوغلی پالیسی اختیار کیا ہوا ہے۔ وہ ایک طرف افغان قوم سے دوستی کا ڈھونگ رچاتا ہے اور دوسری جانب دوستی کی آڑ میں دشمنی کا مرتکب ہے۔افغان فوجی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب کہ ہم بیرونی دشمنوں کی سازشوں سے نبرد آزما ہیں۔ ہم ایران کو بھی دوست سمجھتے تھے مگر ایران ہم سے دشمنی کا مرتکب ہے۔قبل ازیں ہفتے کو افغان رکن پارلیمنٹ کرام الدین رضا زادہ نے انکشاف کیا تھا کہ ایرانی حکومت افغان طالبان کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کررہی ہے۔ اس طرح افغان فوج ایران کو اپنا دشمن سمجھنے لگی ہے اب دیکھنا ہے کہ اس کے جواب میں ایران خاموشی اختیار کرکے واقعی طالبان کی مدد کرتاہے یا اس سے انکار کرتا ہے۔چونکہ افغانستان میں امریکی دفاعی سسٹم اور فوج موجود ہے ایران، افغانستان اور امریکہ کو ایک ساتھ ڈرانے کی کوشش بھی کرسکتا ہے۔تجزیہ نگاروں کے مطابق بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہیکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جو لفظی جنگ چل رہی ہے یہ صرف ایک دکھاوا ہے اور دونوں ممالک اندرونی طور پر آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ امریکہ اور مغربی و یوروپی طاقتوں نے ایک طرف عراق، افغانستان ، شام پاکستان وغیرہ پرپر فضائی حملے کرکے جس طرح لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا اور لاکھوں مسلمانوں کو زخمی و بے گھر کیایہی نہیں بلکہ ان حملوں کی وجہ سے عالمِ اسلام کے کئی ممالک معاشی اعتبار سے تباہ و تاراج ہوگئے اور ان کی قدیم تاریخ ملیامیٹ ہوگئی۔جبکہ دوسری جانب یعنی ایران اور امریکہ کے درمیان نظر ڈالتے ہیں تو یہ بات سمجھ سے دور نظر آتی ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف صرف بیان بازی کرتا ہے ،دونوں ممالک کے درمیان سخت الفاظ کا تبادلہ ہوتا ہے یہی نہیں بلکہ ایران پر اقتصادی پابندی عائد کرنے کا ڈھونگ بھی نظر آتا ہے ۔ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عالمِ اسلام پر خوف و ہراس کا ماحول بنائے رکھنے کے لئے امریکہ ، ایران کے ساتھ ایسی چال چلتا ہے کہ عالمِ اسلام کے حکمراں اسے سمجھنے سے قاصر ہیں یا پھر سب کچھ جان بوجھ کر یہ اپنے اقتدار کو بچائے رکھنے کے لئے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور کروڑوں ڈالرس کے فوجی سازو سامان اور ہتھیاروں کی خریدی امریکہ سے کی جارہی ہے تاکہ امریکہ کے ساتھ ان ممالک کے دوستانہ تعلقات قائم رہیں یا کم از کم امریکہ ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی سے اجتناب کریں۔جس طرح شمالی کوریاکے صدر کے خلاف امریکی صدر کے رویہ میں نرمی آگئی اور انہوں نے اپنا فیصلہ بدلتے ہوئے شمالی کوریا کے صدر کے ساتھ ملاقات کی اسی طرح31؍ جولائی کو امریکی صدر ٹرمپ نے حسن روحانی سے ملاقات کا عندیہ دیا ہے اورگذشتہ دنوں سخت الفاظ کے تبادلے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ صدر امریکہ، ایرانی صدر کے ساتھ جب چاہے جہاں چاہے ملاقات کرینگے۔امریکی صدر کے اس بیان کے بعد اب دیکھنا ہیکہ سعودی عرب و دیگر عرب و اسلامی ممالک اور اسرائیل کس قسم کے ردّعمل کا اظہار کرتے ہیں۔کہیں امریکہ کروڑہا ڈالرس ہتھیانے کے لئے یہ ڈرامہ تو نہیں کررہاہے۔ اس سلسلہ میں 31؍ جولائی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کرنے کے ارادے سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔

امریکی صدرکی ایرانی صدرسے ملاقات کی خواہش
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایرانی قیادت سے بغیر کسی شرط کے جہاں چاہے اور جب چاہے ملنے کے لیے تیار ہیں،حسن روحانی کے ساتھ ملاقات امریکہ، ایران، ہمارے اور دنیا بھر کیلئے بہتر ثابت ہوگی،بات چیت پر یقین رکھتا ہوں اور کسی سے بھی مل سکتا ہوں، طاقت یا کمزوری کی بات نہیں مذاکرات کو مناسب سمجھتا ہوں۔وائٹ ہاؤس میں اطالوی وزیر عظم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایرانی قیادت سے ملنے کیلئے تیار ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ایرانی قیادت بھی ان سے ملنا چاہے گی چنانچہ ایرانی قیادت جہاں ملاقات چاہے میں تیار ہوں اس کیلئے کوئی پیشگی شرط نہیں ہے۔ٹرمپ کا کہنا ہیکہ سابق امریکی حکومت کا ایران سے جوہری معاہدہ کاغذ کا ضیاع تھا میں ایران کے ساتھ ایک بامعنی معاہدہ چاہتا ہوں۔امریکی صدر نے کہا کہ ایرانی صدر حسن روحانی کے ساتھ ملاقات امریکہ، ایران، ہمارے اور دنیا بھر کے لیے بہتر ثابت ہوگی۔صدر ٹرمپ کی جانب سے دیئے جانے والے بیان کے بعد ایرانی صدر کے مشیر حامد ابو طالبی نے ٹویٹ کے ذریعے جواب میں کہا کہ 'جوہری معاہدے میں واپسی' اور 'ایرانی حق خود ارادیت' کو تسلیم کرنے کے بعد ہی ملاقات کی راہ ہموار ہو سکے گی۔واضح رہے کہ 1979 میں آنے والے ایرانی انقلاب کے بعد سے کسی ایرانی صدر نے امریکی ہم منصب کے ساتھ ملاقات نہیں کی۔صدر ٹرمپ کا مصالحتی بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے صدور کے درمیان گذشتہ دنوں سخت الفاظ کا تبادلہ عمل میں آیا تھا جو ابتداء میں بتایا گیا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے مئی میں سابقہ امریکی صدر بارک اوباما کے دور میں کیے گئے ایرانی جوہری معاہدہ سے باہر نکل گیا تھا جس کے سبب ایران پر سے بین الاقوامی پابندیاں اٹھا لی گئی تھیں۔معاہدے سے نکل جانے کے بعد اب امریکہ متعدد ممالک کی جانب سے اختلاف کے باوجود ایران پر ایک بار پھر پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیاریاں کر رہا ہے۔ ان ممالک میں برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی شامل ہیں اور یہ تمام ممالک 2015 میں کیے جانے والے جوہری معاہدے کا بھی حصہ تھے۔امریکی حکومت کو مشرق وسطیٰ میں ایرانی کردار پر شکوک ہیں اور وہ ایران کے دو روایتی حریف، سعودی عرب اور اسرائیل کے اتحادی ہیں۔جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہیکہ صدر ٹرمپ کا یہ بیان اسی صورتحال کی یاد دلاتا ہے جب انھوں نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے مسلسل سخت الفاظ کے تبادلے کے بعد اچانک ملاقات کا فیصلہ کیا اور جون کے مہینے میں ان دنوں رہنماؤں نے سنگاپور میں ملاقات کی ۔ایران کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی جانب سے دیے جانے والے بیان کے بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ وہ اس ملاقات کی حمایت اس صورت میں کرینگے اگر ایران اپنا رویہ بدلنے کو تیار ہو۔امریکی صدر کے اس بیان کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ جس طرح شمالی کوریا سے بات چیت کے ذریعہ دنیا کو سنگین صورتحال سے بچانے یا اپنے آپ کو سنگین حالات سے محفوظ رکھنے کیلئے یہ فیصلہ کیا تھا اور آج ایران نے بھی امریکہ کے سامنے جس طرح آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کی ہے اس کے جواب میں امریکہ نہیں چاہتا کہ حالات خراب ہوں اور اس کی ساکھ بین الاقوامی سطح پر متاثر ہو۔ امریکہ نے شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ جس قسم کی پالیسی اپنانے کی کوشش کی ہے اس میں وقتی طور پر تو بہتری دکھائی دے رہی ہے کیونکہ اگر جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے جنگ لڑی گئی تو اسکا اثر پوری دنیا پر پڑسکتا ہے اور خود امریکہ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔اب دیکھنا ہے کہ ایران اور امریکی صدور کے درمیان بات چیت کے مراحل طئے پانے کیلئے کس قسم کے حالات پیدا ہوتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت ،ایران کے روایتی حریف سعودی عرب اور اسرائیل کیلئے کتنی سودمند ہوتی ہے۔

فلسطینی مجاہدہ عہد تمیمی امتِ مسلمہ کیلئے باعث فخر۰۰۰ترک صدر
سترہ سالہ فلسطینی مجاہدہ عہد تمیمی کو اسرائیلی جیل سے آٹھ ماہ تک قید رہنے کے بعد رہائی مل گئی۔عہد تمیمی کی رہائی پر ترکی کے صدررجب طیب اردغان نے عہد تمیمی کو مبارک باد پیش کی۔ ترک صدر نے کہاہے کہ ننھی فلسطینی مجاہدہ عہد تمیمی کی جرأت، بہادری اورعزم وحوصلہ فلسطینی قوم اور پوری امتِ مسلمہ کیلئے باعث فخر ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق عہد تمیمی نے ترک صدر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ترک قوم اور حکومت نے ہمیشہ فلسطینی قوم کا ساتھ دیا اور مظلوم فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کی ہے۔واضح رہے کہ اسرائیلی حکام نے عہد تمیمی کو گذشتہ دنوں جیل سے رہا کیا تھا۔ وہ آٹھ ماہ تک صہیونی ریاست کی قید میں رہیں۔خیال رہے کہ 18 دسمبر 2017 اسرائیلی فوج کی 20 پارٹیوں میں شامل100 اہلکاروں نے النبی الصالح میں عہد تمیمی کو حراست میں لے کرقید خانے میں ڈال دیا تھا۔اسرائیلیوں نے عہد تمیمی پر 12 مختلف نوعیت کے الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی۔ فرد جرم میں تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے، دھمکیاں دینے، تشدد پراکسانے، فوجیوں کے سیکیورٹی امور میں مداخلت کرنے اور فوجیوں کی توہین جیسے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ان ہی الزامات کے تحت عہد تمیمی کے خلاف مقدمہ چلایا گیا اور انہیں8ماہ قید اور 6000شیکل جرمانہ کی سز سنائی گئی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 256 Articles with 96502 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Aug, 2018 Views: 278

Comments

آپ کی رائے