یہ کاغذی جھنڈیاں عظمت کا نشان ہیں!

(Babar Alyas, Cheecha Watni)
14 اگست 1947 کو میرے نانا جان ہجرت کر کے پاکستان میں آۓ تھے. یہ ہجرت میرے نانا جان اپنے خاندان کے تین افراد کی شہادت اور ایک بہن جو معذور تھی ساتھ اپنا ہجرت کا سفر جاری نہیں رکھ سکتی اسکو پانی کا ایک مٹکا اور تھوڑے سے چنے بطور خوراک دے کر سپرد خدا کر کے پاکستان کی فضاوں میں قدم رکھا.... لیکن میں اپنے نانا جان کو آخری دنوں میں ہر پل اور میری نانی جان کے بقول یہ عالم انکا اکثر رات کو ھوتا تھا کہ وہ اٹھ اٹھ روتے تھے اپنے ہجرت کے وقت کے خاندان کو یاد کر کر کے......

اہل وطن کہنے کو تو محض کپڑے کا صرف ٹکڑا ہی ھوتا ھے مگر جب یہ کپڑا کسی خاص وجہ, مرتبہ, تناسب اور مخصوص رنگوں کے باعث پرچم کی شکل اختیار کر لیتا ھے تو محض کپڑے کا ٹکڑا ھونے کے باوجود کپڑے کا ٹکڑا نہیں رہتا...

بلکہ یہ اس ملک, قوم, قبیلے, جماعت, علاقے کی عزت ؤ وقار, شان ؤ شوکت کی علامت بن جاتا ھے...
نام قومی پرچم میں تبدیل ھو جاتا ھے اور یہ قومی پرچم پہچان اور شناخت کا درجہ اختیار کر چکا ھوتا ھے.... یہ پرچم پھر آزادی ؤ خود مختاری کا نشان بن جاتا ھے...

یہ جھنڈا ایسے ہی نہیں ملا بلکہ اس پرچم کو تھامنے کے لیے ,اسکی سربلندی کے لیے, دنیا کے نقشے پر لہرانے کے لیے ہمارے بڑوں کی لاتعداد قربانیاں ,ہماری بہنوں کی عزت کی پامالی شامل ھے...

پاکستانی پرچم کا ڈایزائن جناب امیر الدین قدوانی صاحب نے تیار کیا تھا. پاکستان کو آزاد خود مختار ھوۓ ستر سال کا عرصہ بیت گیا مگر افسوس ہم نے اس پرچم, ملک, کا حق ادا نہ کیا... یہ پڑھی لکھی قوم ھونے کے باوجود کم علمی کا مظاہرہ کرتی نظر آتی ھے... پرچم کئ عزت و احترام, مرتبہ, آداب جاننے سے قاصر ہیں... اور نہ ہی ہمارے سکولوں, کالجوں, گھروں میں یہ بات یاد کروائی جاتی ھے کہ پرچم کے بھی کچھ آداب ھوتے ہیں....
اگست کا آغاز ھوتے ہی 14.اگست تک پورے ملک میں آزادی کا جذبہ عروج پر ھوتا ھے لیکن ادب و احترام کا جنازہ ہر طبقہ نکالتا ھے...
رات کے وقت پرچم کو مصنوعی مدھم روشنی میں لہرانا...
پرچم کو ہمیشہ اونچا لہرانا.
پرچم کو لازمی طور پر پاؤں, جوتوں, زمین, اور کسی بھی گندی جگہ سے بچانا.
پرچم کو طلوع آفتاب کے بعد لہرانا.
غروب آفتاب سے پہلے اتارنا.
میرے ہم وطنو!
14اگست کے موقع پر لازمی طور پر اپنی خوشی کا, آزادی کا اظہار کریں اپنے گھروں, سکولوں, عمارتوں, پر قومی پرچم لہرا کر,جھنڈیاں لگا کر, لیکن براۓ مہربانی.... براۓ مہربانی جھنڈیوں سے سجاوٹ ضرور کریں اور لازمی کریں مگر ایک بات کا خیال خاص بھی رکھے کہ جنھڈیاں لگا کر بھول نہیں جانا بلکہ مقررہ وقت یا دنوں کے بعد جب جنھڈیاں اپنی رنگت کھو جایں اور وقت آزادی گزر جاۓ ,اتارنی مقصود ھو تو مناسب اور قابل احترام عمل یہ ھے کہ انکو اسی اہتمام سے اتارا بھی جاۓ جس ادب و احترام سے لگائی گئی تھیں... کاغذ کی جھنڈیوں کو اتار کر زمین پر گرنے سے بھی بچاۓ تاکہ پرچم کئ عظمت پر کوئی حرف نہ آۓ.

یہ جھنڈا ہماری ناصرف پہچان ھے بلکہ ہمارے لیے عزت ؤ احترام, قوت ؤ طاقت, شان ؤ منزلت کی بنیاد ھے لہذا ہر پاکستانی کا فرض ھے کہ اپنے بچوں کو, محلے داروں کو, رشتے داروں کو بھی آگاہی دیں کہ وہ انکو محض کاغذ کے جھنڈے نہ سمجھیں بلکہ کلی طور پر پرچم پاکستان کی عظمت کا خیال رکھیں. اللہ پاک اس پرچم کو تا قیامت آباد رکھے.... آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 286 Articles with 98193 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
12 Aug, 2018 Views: 252

Comments

آپ کی رائے