عمران خان پاک بھارت مذاکرات کی بحالی چاہتے ہیں؟

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

دہلی میں عمران خان نے شاہ محمود قریشی ، نعیم الحق اور پی ٹی آئی کے دیگر کے ہمران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے جب ملاقات کی تو اس بات چیت میں کیا ہوا۔ کوئی نہیں جانتا۔ جب وہ ایک بار پھر خصوصی طیارہ لے کر بھارت کے دورے پر گئے تو ان کی نریندر مودی سے بات ہوئی۔اس میں کیا ہوا۔ کسی کو معلوم نہیں۔ان ملاقاتوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ مگر آج وہ وقت آن پہنچا ہے کہ جب عمران خان وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد بھارت کے ساتھ بات چیت شروع کر سکتے ہیں۔ اگر چہ آئندہ ماہ ستمبر کو عمران مودی ڈائیلاگ کے کم از کم دو مواقع میسر ہوں گے۔ ایک نیو یارک اور دوسرا دو شنبے میں۔ نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائینز پر دونوں وزرائے اعظم نیو یارک میں موجود ہوں گے۔ جیسے کہ آثار نظر آ رہے ہیں ، دونوں میں بات چیت بھی ہو سکتی ہے۔ جب کہ اس فورم پر سابق وزیراعظم نواز شریف نے برہان وانی کو کشمیریوں کا ہیرو اور آزادی کا مجاہد قرار دیا تھا۔ عمران خان اس موقع پر دنیا کو بھارت کا اصلی چہرہ کیسے دکھا سکیں گے۔ کیا وہ بھارتی حاضر سروس جاسوس کلبھوشن جادیو کا مسلہ اٹھائیں گے۔ دنیا کو بھارت کی سرکاری دہشتگردی کے بارے میں کیسے آگاہ کریں گے، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ کیا وہ اپنی اقتدار کے کیریئر کے آغاز پر کمپرومائز کریں گے یا حقائق اور اصولوں کی سیاست ہو گی۔ نیو یارک میں اگر پاک بھارت وزرئاے اعظم کے درمیان بات چیت ہوئی تو اس کا ایجنڈہ کیا ہو گا۔ ہو سکتا ہے دہلی ڈائیلاگ کو ہی آگے بڑھایا جائے۔ نیو یارک اگر عمران خان نے جانا پسند کیا تو دنیا کے ساتھ یہ ان کا پہلا براہ راست رابطہ ہو گا۔ ان کی سیاست اور سفارتکاری کا یہ پہلا امتحان ہو گا۔ عمران خان اور نریندر مودی کے درمیان آئیندہ ماہ دوسری متوقع ملاقات شنگائی تعاون تنظیم یا ایس سی او کے سربراہ اجلاس کے دوران ہو سکتی ہے۔ بھارت نے گرم جوشی کا ماحول بھی بنا لیا ہے۔ عمران خان کی انتخابی کامیابی پر نریندر مودی کا عمران خان کو ٹیلی فون ڈیڈ لاک توڑنے کی بڑی کوشش سمجھی جاتی ہے۔ اس کے بعد اسلام آباد میں بھارت کے ہائی کمشنر اجے بساریہ نے بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات کی۔ نریندر مودی کا پیغام پہنچایا اور الیکشن جیتنے پر مبارکباد دی۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے نئے دور کی شروعات ہو سکتی ہے۔ مگر اس میں کامیابی کا دارومدار بھی منفرد ہے۔ جیسے کہ عمران خان نے اپنے پہلے کامیابی خطاب میں بھارت کو بات چیت کی پیش کش کی۔ ایسے ہی ان کی طرف سے بھارت کو پیغامات جا رہے ہیں۔ مگر اس میں کامیابی تب ہو گی جب سارک کانفرسز بحال ہوں گی۔ بھارت نے 2016میں سارک کانفرنس سے منہ موڑ لیا۔ جب اسلام آباد میں سربراہ اجلاس ہونے والا تھا۔ بھارت نے عین اس میں شرکت سے انکار کر دیا۔ یہ 19واں سربراہ اجلاس تھا۔ جسے ملتوی کرنے میں بھارت نے افغانستانم بھوٹان اور بنگلہ دیش کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا۔ بھارت نے افغانستان اور بنگلہ دیش کی پاکستان سے دوری کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ دونوں ممالک کو پاکستان کے ساتھ نفرتیں بڑھانے پر بھڑکایا۔ ماضی کو یاد کرنے کا ایک فائدہ ضرور ہے کہ اس سے سبق حاصل ہوتا ہے۔ اس سے رہنمائی ملتی ہے۔ پاکستان اور بھارت تلخ ماضی کے یرغمال بنے ہیں۔ دونوں کی کشیدگی دنیا کے لئے اس قدر فائدہ مند ہے کہ ان کے اسلحہ خانے بھی اس جنگی ماحول سے فروغ پاتے ہیں۔ اس وجہ سے پاک بھارت کے تنازعات خاص طور پر مسلہ کشمیر کو حل کرنے میں مفاد خصوصی رکاوٹ بنتے ہیں۔ یہ ممالک یا ان کے اتحادی بیک وقت دونوں ممالک کو جنگی اسلحہ یا ٹیکنالوجی سپلائی کرتے ہیں۔ دونوں میں مقابلہ اور دوڑ لگی ہے۔ جب بھارتی فوج کرگل جنگ کے دوران اپنے ہلاک فوجیوں کے تابوتوں کی خریداری میں فراڈ کرتی ہے اور بوفورس توپوں کی خریداری میں سکینڈل میں ملوث ہوتی ہے تو اس کے مفاد ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ کب چاہے گی کہ بھارت کی سول حکومت پاکستان کے ساتھ دوستی کرے ،تجارت ہویاتعلقات بہتر ہوں۔ یہ چاہے گی کہ مسلہ کشمیر کی طرح مزید مسائل پیدا کئے جائیں تا کہ اس کے مفاد میں راستے کھلیں۔ اسے کک بیکس کے مواقع میسر آئیں۔
 
عمران خان کے سامنے کامیابی اور بین الاقوامی سیاست اور سفارت میں آگے بڑھنے کے مواقع ہیں۔ وہ بھارت کو نتیجہ خیز بات چیت پر آمادہ کرنے کے لئے کام کر سکتے ہیں۔ گو کہ ان کے سامنے چیلنجز ہیں۔ خارجہ اور داخلہ پالیسی پر وہ کام کر رہے ہیں۔ سرمایہ کاری اور معیشت کے فروغ کے لئے سرگرم ہیں۔ پاک بھارت مذاکرات کی بحالی ہو سکتی ہے۔ سب سے پہلے بھارت کو غئر مشروط طور پر اسلام آباد میں سارک سربراہ اجلاس میں شرکت کے لئے فوری آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت سارک کی سربراہی نیپال کے پاس ہے۔ وہ بھی خوشحالی کے لئے سارک کی بحالی اور اسے متحرک کرنے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔ عمران خان کی کامیابی کے بعد ہی نیپال کے وزیرخارجہ پردیپ کمار گیاولی نے بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر سارک کی بحالی کی بات کی ہے۔ یہ پاکستان کے لئے ٹیسٹ کیس ہے کہ وہ پہل کرتے ہوئے اس جانب توجہ دے۔ یہی پاک بھارت بات چیت کی بحالی کا نکتہ آغاز ہو گا۔ جو کہ نتیجہ خیز بھی ہو سکتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 575 Articles with 221891 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
20 Aug, 2018 Views: 345

Comments

آپ کی رائے