امام کعبہ ڈاکٹر صالح الطالب کی ظالمانہ گرفتاری اور علما کی ذمہ داری

(ڈاکٹر سید وسیم اختر, بہاولپور)
خدا نخواستہ اس لا ابالی جوان کے اسلام مخالف اقدامات جاری رہے تو اس کے اثرات صرف سعودی عرب تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے اثرات پورے عالم اسلام تک پہنچیں گے ایک طرف عالمی سطح پر اسلام کا چہرہ مسخ کرنے کے لئے سیکولر ازم کو فروغ دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف مسلمانوں کے مرکز میں جید علما کو اسلام کی تبلیغ کرنے پر جیل میں ڈالا جا رہا ہے وہ سرزمین جہاں سے اسلامی تعلمیات کا آغاز ہوا وہاں اب صورت حال یہ ہوچکی ہے کہ شراب نوشی اور نا محرموں کے ساتھ میل ملاپ کے خلاف بات کرنا بھی جرم ٹھرا ہے۔
محمد بن سلمان اور ان کا ساتھ دینے والے نام نہاد علما یہ بات یاد رکھیں کہ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے اسلامی تعلمیات کے فروغ کے لئے کام کیا ان کا نام تاریخ میں ہمیشہ جگمگاتا رہے گا جبکہ جن لوگوں نے اسلامی تعلیمات کو مسخ کرنے کی کوشش کی ان کا مقدر صرف ذلت ورسوائی ٹھری اب بھی وقت ہے کہ سعودی ولی عہد ذلت و رسوائی کمانے کی بجائے عزت کمانے کے لئے اسلامی تعلیمات کو مسخ کرنے کی بجائے اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے کے لئے کام کریں۔

امام کعبہ کی ظالمانہ گرفتاری

گزشتہ روز میرے ذاتی دوست امام کعبہ ڈاکٹر صالح الطالب کی گرفتاری کی خبر مجھ پر بجلی بن کر گری گرفتاری کی وجوہات کے بارے میں سعودی عرب میں رہائش پذیر دوسرے دوستوں سے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ڈاکٹر صالح الطالب کو محرمات سے اجتناب کی تلقین کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔جب سے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے نئی اصلاحات کا اعلان کیا ہےبہت سے اسلام پسند علما کو ناصرف زبان بند رکھنے پر مجبور کیا گیا بلکہ ان میں سے اکثر کو جیل میں ڈال دیا گیا

ان سب کا قصور صرف یہ تھا کہ یہ لوگ اپنی آنکھوں سے اسلامی احکامات کی بے حرمتی نہیں دیکھ سکتے تھے اسی لئے اسلامی احکامات کی تبلیغ سے باز نہیں آئے اسی لئے سعودی مقتدر حکومت کے کارندوں نے ان کو جیل میں ڈال میں دیا لیکن ان کے برعکس کچھ ایسے بھی نام نہاد علما تھے جنہوں نے ناصرف محمد بن سلمان کی اصلاحات کی حمایت کی بلکہ جوا خانوں اور شراب خانوں کے افتتاح کرنے پہنچ گئے سابق امام کعبہ عادل الکلبانی کا جوا خانوں کا افتتاح ریکارڈ پر ہے عادل الکلبانی جیسے جید علما ایسے مذموم اعمال کے ذریعے جیل جانے اور اپنی جان بچانے میں تو کامیاب ہوگئے لیکن یہ لوگ ضمیر کے مجرم ٹھرے۔ گو کہ سعودی جیلوں میں ظلم وستم سہتے علما میں سے کچھ نامور علما ہیں لیکن ان میں سے کسی کی شخصیت ڈاکٹر صالح الطالب کے ہم پلہ نہیں ہے ڈاکٹر صالح الطالب کو ناصرف سعودی عرب بلکہ دنیا بھر میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اسی طرح ان کا علم و تقوی کی سعودی عرب میں مثال نہیں ملتی یہی وجہ ہے کہ جب وہ امام کعبہ کی حیثیت سے پاکستان تشریف لائے تو لاکھوں لوگ ان کی زیارت اور ان کے پیچھے نمازپڑھنے کے شرف سے بہرہ مند ہونے کے لئے گھروں سے نکلے۔ ایک ایسی شخصیت کو صرف اس وجہ سے جیل میں ڈالنا کہ وہ اصلاحات کے حامی نہیں ہیں قابل افسوس ہے معتبر ذرائع کی خبر کو اگر درست مان لیا جائے تو موجودہ حالات میں خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان عملی طور پر بے اختیار ہیں وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتے۔لیکن محمد بن سلمان کی اصلاحات کا اس وقت نقصان صرف آل سعود کو نہیں ہو رہا بلکہ دین مقدس اسلام بھی اس لا بالی جوان کے نشانے پرہے۔ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ دین کا درد رکھنے والے دنیا بھر کے علما ڈاکٹر صالح الطالب کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے سعودی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ ایسی جید شخصیات کو جیل میں ڈالنا یا اسلامی تعلمیات کو نقصان پہنچانے سے محمد بن سلمان کے ہاتھ ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں آئے گا۔
خدا نخواستہ اس لا ابالی جوان کے اسلام مخالف اقدامات جاری رہے تو اس کے اثرات صرف سعودی عرب تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے اثرات پورے عالم اسلام تک پہنچیں گے ایک طرف عالمی سطح پر اسلام کا چہرہ مسخ کرنے کے لئے سیکولر ازم کو فروغ دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف مسلمانوں کے مرکز میں جید علما کو اسلام کی تبلیغ کرنے پر جیل میں ڈالا جا رہا ہے وہ سرزمین جہاں سے اسلامی تعلمیات کا آغاز ہوا وہاں اب صورت حال یہ ہوچکی ہے کہ شراب نوشی اور نا محرموں کے ساتھ میل ملاپ کے خلاف بات کرنا بھی جرم ٹھرا ہے۔

محمد بن سلمان اور ان کا ساتھ دینے والے نام نہاد علما یہ بات یاد رکھیں کہ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے اسلامی تعلمیات کے فروغ کے لئے کام کیا ان کا نام تاریخ میں ہمیشہ جگمگاتا رہے گا جبکہ جن لوگوں نے اسلامی تعلیمات کو مسخ کرنے کی کوشش کی ان کا مقدر صرف ذلت ورسوائی ٹھری اب بھی وقت ہے کہ سعودی ولی عہد ذلت و رسوائی کمانے کی بجائے عزت کمانے کے لئے اسلامی تعلیمات کو مسخ کرنے کی بجائے اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے کے لئے کام کریں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ڈاکٹر سید وسیم اختر

Read More Articles by ڈاکٹر سید وسیم اختر: 26 Articles with 11141 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Aug, 2018 Views: 257

Comments

آپ کی رائے