امریکی دورہ، پاکستان کا اطمینان، امریکہ کی خوشی ، مسئلہ کشمیر عدم توجہ کا شکار

(Athar Masood Wani, Rawalpindi)

امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات عمومی طور پر خفیہ نوعیت کے رہے ہیں۔پشاور کے قریب ’بڈ پیر‘ کے ہوائی اڈے کو خفیہ طور پر روس کے خلاف امریکہ کو جاسوسی کے لئے دینا ہو، شمسی ایئر بیس، پاکستان پر امریکی ڈرونز کے حملے ،سمندری راستے سے بلوچستان کے ذریعے ہزاروں امریکی فوجیوں کی بھاری جنگی ساز و سامان سمیت افغانستان جانے کا معاملہ یا دیگر کئی امور، دونوں ملکوں کے تعلقات زیادہ تر خفیہ طور پر ہی استوار چلے آ ئے ہیں۔ہاں امریکہ کی پاکستان کو شاباش یا سرزنش سے عوام کو یہ ضرور معلوم ہو جاتا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کس نوعیت کے جا رہے ہیں۔

وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی سربراہی میں امریکی وفد کے دورے کے بعد پاکستان میں اس بات پہ اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والا تعطل ختم ہوا ہے۔امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کے دورے پر روانگی کے وقت کہا تھا کہ اگر پاکستان نے فیصل کن اقدامات کی بات تسلیم نہ کی تو پھر وہی ہو گا جو امریکی جنرل کہہ چکے ہیں۔انہی دنوں امریکی حکام کی طرف سے کہا جا رہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ اعلی سطح پر فوجی رابطہ قائم ہے ۔گزشتہ دنوں ہی امریکہ نے پاکستان کے لئے ملٹری لیڈر شپ کورس کی 66سیٹیں روک کر دیگر ممالک کو دینے کا فیصلہ کیا اور پاکستان کے لئے امدادی فنڈ بھی روک دیئے گئے۔تاہم امریکی دفاعی بجٹ میں افغانستان کے ساتھ سرحد کو محفوظ بنانے اور اس متعلق کاروائیوں کے لئے پاکستان کے لئے15کروڑڈالر رکھے جانے کا اعلان بھی کیا گیا۔

پاکستانی حکومت کا اظہار اطمینان تو قابل سمجھ ہے لیکن امریکی وزیر خارجہ کی طرف سے پاکستان سے ہونے والے مزاکرات پر خوشی کا اظہار معنی خیز ہے۔امریکی وفد کی پاکستانی حکام سے ملاقا ت سے متعلق خبروں،امریکی وزات خارجہ کے ترجمان کے بیان،امریکی وزیر خارجہ کے بیان اور اس کے بعد پاکستانی وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس سے یہ واضح ہوا ہے کہ پاکستان امریکہ تعلقات ’’ ڈیڈ لاک‘‘ کا شکا رنہیں ہوئے،پاکستان کی افغان مسئلے کے حل کے لئے سیاسی کوششوں کو تیز کرنے پر امریکی اتفاق بھی سامنے آیا ہے۔ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کے امریکی مطالبے کی جزئیات کیا ہیں اور پاکستان نے امریکی مطالبے پر اپنے کس کردار سے اتفاق کیا ہے کہ جس پر اتفاق ظاہر کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ’’ کہ اگر ہم نے اپنی مغرب کو توجہ دینی ہے تو مشرق میں سہولت چاہئے۔‘‘وزیر خارجہ کا یہ کہنا کہ ’’ ماضی میں سول اور فوجی الگ الگ ملاقاتیں چہ مگوئیوں کا باعث بنتی تھیں۔ آج کی مشترکہ ملاقات سے سول ملٹری یک جہتی کا پیغام گیا ہے‘‘ ، بھی معنی خیز ہے کہ فوج نے اس بار امریکہ کے سامنے جوابدہ ہونے کے بجائے سول حکومت کو سامنے کیا ہے۔تاہم ابھی یہ بات بھی واضح نہیں ہے کہ افغانستان کے حوالے سے امریکی مطالبات کے پیش نظر پاکستان کی طرف سے کیا حکمت عملی اپنائی جاتی ہے۔امریکہ کے ساتھ اتفاق اور اس اتفاق کے حوالے سے پاکستان کے عملی اقدامات سے صورتحال کے واضح ہونے میں مدد ملے گی۔

پاکستان کی نئی حکومت نے اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے امریک وفد کی روانگی کے بعد اس بات پر زور دیا کہ امریکہ نے ’’ ڈو مور‘‘ نہیں کہا۔جبکہ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان کے جاری کردہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ ’’ ڈو مور‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا لیکن امریکی مطالبات کی نوعیت’’ ڈو مور‘‘ سے بڑھ کر ہے۔جہاں تک بات پاکستان کو مشرقی سرحد کی طرف سہولت فراہم کئے جانے کی مطالبے کی ہے تو اغلب یہی ہے کہ پاکستان کو امریکہ کی طرف سے یہی’’ لالی پاپ‘‘ دینے کی کوشش کی جائے گی کہ پہلے پاکستان مغربی سرحد کی جانب امریکی مطلوبہ اقدامات کرے، اس کے بعد ہی پاکستان کو مشرقی جانب سے سہولت کاری کی توقع کی جا سکے گی۔ یہاں یہ امکان بھی پایا جا تا ہے کہ پاکستان کو مغربی سرحد پہ امریکی مطالبات کے مطابق کاروائیاں کرنے کے لئے مشرقی سرحد کو پاکستان کے خلاف دباؤ کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔پاکستان امریکہ تعلقات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جوں جوں امریکہ اور انڈیا قریب سے قریب تر آتے گئے،توں توں امریکہ نے اپنی پالیسی کو سخت سے سخت کرتے ہوئے پاکستان سے متعلق تادیبی حربے بھی استعمال کرنا شروع کئے ہیں۔

ابھی کل کی بات ہے کہ پاکستان دفاعی، فوجی،اقتصادی اور سیاسی شعبوں ہی نہیں بلکہ انڈیا کے ساتھ تعلقات اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھی امریکہ پر گہرا انحصار رکھتا تھا۔دفاعی، فوجی اوراقتصادی شعبوں کی صورتحال تو کافی حد تک واضح ہے تاہم مشرقی سرحد پر امریکہ سے سہولت کاری کی بات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انڈیا کے معاملے میں پاکستان اب بھی امریکہ پر ’’ آس‘‘ لگائے بیٹھا ہے۔امریکی وفد کے اس اہم دورے سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ پاکستان افغانستان سے متعلق امور اور امریکی ناراضگی کو کتنی اہمیت دیتا ہے اور مسئلہ کشمیر عملی طور پر پاکستان کی ترجیحات میں اتنا مقام بھی نہیں رکھتا کہ پاکستان اپنے ایک اہم ترین مسئلے کے طور پر اس کا کوئی تذکرہ کرے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Athar Massood Wani

Read More Articles by Athar Massood Wani: 621 Articles with 320976 views »
ATHAR MASSOOD WANI ,S/o KH. ABDUL SAMAD WANI
• 2006 to 2009
Press & Publication Officer
Prime minister Secretariat, Govt. of Azad Jammu & Kashm
.. View More
07 Sep, 2018 Views: 384

Comments

آپ کی رائے