کلثوم نواز کا معاملہ اللہ رب العزت کے سپرد

(Mian Khalid Jamil {Official}, Lahore)

*کینسر کی بیماری سے ہونے والی موت کی اذیت صرف وہی جانتا ہے جو اس موذی مرض سے مرتا ہے۔*

*لیکن کلثوم نواز جس تکلیف اور اذیت سے اس جہان فانی سے گئی ہے اس کا اندازہ کرنا بھی نا ممکن ہے۔ اس کے لیے یہ اذیت کینسر کی بیماری کی تکلیف سے کہیں زیادہ تھی کی آخری وقت اس کا خاوند، بیٹی اور داماد جیل کی سزا بُھگت رہے ہیں۔ اور سزا بھی وہ جو اس خاندان کی آنے ولی نسلوں کے لیے کلنک کا ٹیکا بن جائے گی۔ مطلب جب یہ عورت اس دُنیا سے جا رہی تھی تو اس حالت میں کہ شوہر، داماد اور بیٹی مصدقہ کرپٹ۔*

*اور مرنے کے بعد اس کی روح یہ اذیت یقیناً جھیلے گی کہ اپنے دو جوان، تندرست اور کھرب پتی بیٹے ہونے کے باوجود اُس کو لحد میں کوئی اور اُتارے گا۔*

*مال حرام کے انجام کی اس سے بڑی مثال اکیسویں صدی میں اور کوئی نہیں۔ وہ بیٹے جن کو اس غریب عوام کا پیسا لُوٹ لُوٹ کر ساری عمر حرام کھلایا اور حرام کے پیسے سے کھربوں کی جائیدادیں بنا کر دیں اس حرام پر پلے بیٹے نہ تو بوڑھے باپ اور بڑی بہن کو جیل میں ملنے آئے اور نہ ہی ان کو اپنی والدہ کے جسد خاکی کو لحد میں اُتارنا نصیب ہو گا۔*

*اور وہ دوست جو مرحومہ کو رابعہ بصری ثانی ثابت کرنے کےلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہےہیں ان سے صرف ایک سوال ہےکہ اگرمرحومہ اتنی پارسا عورت تھی تو کیا اُس نے غریب عوام کے پیسے کی لُوٹ مار پر اپنے شوہر نامدار اور ناخلف اولاد کو روکنا تو درکنار سززنش بھی کی؟ اور نہ ہی مرحومہ نے اپنے شوہر اور دیور کی ایماء پر ماڈل ٹاون میں قتل کی جانے والی حاملہ خواتین کے بارے میں ہمدردی اور ندامت کا ایک لفظ بھی اپنے منہ سے ادا کیا.*

*اور وہ دانشور جو مرحومہ کو مادر جمہوریت کا خطاب دے رہے ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ مشرف کے خلاف جلسہ جلوس محض اپنے شوہر کی رہائی تک کی جدو جہد تھی اور جیسے ہی مشرف سے ان کا باضابطہ رہائی کا معاہدہ ہوا تو مرحومہ 35 عدد سوٹ کیس اور ذاتی ملازمین کے ساتھ سرور پیلس چلی گئیں اور پھر 8 سال بعد بینظیر کی رکھی شرط پر NRO کی مدد سے وطن واپسی ھوئی*

*ختم نبوت ترمیم رکوانے میں بھی کوئی کردار نہ تھا نہ عاشق رسول غازی ممتاز قادری شہید کی پھانسی رکوانے میں کردار تھا اور جلاوطنی سے قبل کلثوم نواز نے اپنی پارٹی کے جن کارکنان کو اپنے دستخط سے کارڈ جاری کئے تھے کہ اچھا وقت آجانے پر وہ انہیں فوقیت دیں گی۔۔ نومبر 2007ء وطن واپسی سے لیکر ستمبر 2018ء فوت ھونے تک کسی کو ملاقات تک کا ٹائم نہیں دیا اور نہ وعدوں کی تکمیل کی علاوہ این اے 120 کی انتخابی مہم اور MNA بن جانے کے بعد بھی انہوں نے اپنے حلقے کی طرف توجہ دی اور نہ کسی دیرینہ کارکنان کے مسائل حل کرنے کیجانب ایک فیصد توجہ دی اور جلاوطنی سے لیکر 2018ء تک مجموعی طور پر پارٹی کے دیرینہ کارکنان کے سینکڑوں اھل خانہ افراد دنیا سے چلے گئے مگر کلثوم نواز و نوازشریف، مریم نواز کو ان سے افسوس کرنے کیلئے دو الفاظ تک ادا کرنے کیلئے بھی ٹائم نہیں تھا*

*خدارا کسے کے پیار میں اتنے آگے نہ چلے جائیں کہ کل کو روز قیامت اپنے لاتعداد جھوٹ بولنے کی وجہ سے اللہ کی گرفت میں آ جائیں.*

*بہرحال پھر بھی دعا ہے کہ مرحومہ اگر سرور دوعالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی مانتی تھی تو اللہ رب العزت اسکے ساتھ نرمی کا معاملہ فرمائے (آمین)۔*
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mian Khalid Jamil {Official}

Read More Articles by Mian Khalid Jamil {Official}: 333 Articles with 181917 views »
Professional columnist/ Political & Defence analyst / Researcher/ Script writer/ Economy expert/ Pak Army & ISI defender/ Electronic, Print, Social me.. View More
12 Sep, 2018 Views: 243

Comments

آپ کی رائے