سعودی سفیر نواف بن سعید کی شخصیت

(MUHAMMAD Nasir Iqbal Khan, Lahore)

تقدیراورتدبیر میں بہت فرق ہے ، انسانوں کی تقدیرقطعی طورپر قادروکارسازمعبودبرحق کے رحم وکرم پر ہے جبکہ انسان صرف اپنی ناقص سوجھ بوجھ کے مطابق اپنے معاملات میں آسانی وآسودگی کیلئے ایک حدتک تدبیرکرسکتے ہیں ۔انسان بااختیار ہے مگراس کے اختیارات بہت محدود ہیں۔راقم کابحیثیت انسان اورمسلمان پاکستان کی سرزمین پرپیداہوناقدرت کافیصلہ ہے ،ہمارے بس میں ہوتاتوہم اپنے اپنے پسندیدہ ملکوں اورمعاشروں میں پیداہوناپسندکرتے۔اﷲ تعالیٰ کی رضاپرزندگی بھرراضی رہنا درحقیقت بندگی ہے ۔راقم کوسرزمین مقدس ارض الحرمین الشریفین سے والہانہ عشق ہے ،کاش میں بھی عہدمحمدمصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں مدینہ منورہ کی کسی گلی کے کسی گھرمیں پیداہوا ہوتا اورموت کی صورت میں وہیں ابدی نیندسوجاتا۔حجازمقدس سے جو مردحجاج وطن واپس آتے ہیں ان کی زیارت کرنااوران کے ہاتھ چومناہمارے نزدیک ایک پرنور سعادت ہے۔جولوگ پاکستان سمیت دوسرے ملکوں سے عمرہ،حج یاروزگار کی نیت سے ا رض الحرمین الشریفین جاتے ہیں وہ وہاں مقامی عرب شہریوں کوقدراورانتہائی رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ سراپا رحمت ،سرورکونین حضرت محمدصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے نسبت کے سبب اہل عرب سے ہم پاکستانیوں کی محبت میں قیامت تک کمی نہیں آسکتی ۔ اگرسعودی عرب میں شہریت ملتی ہوتی توراقم اپنے اہل خانہ سمیت اس قطار میں سب سے آگے ہوتا۔ الحرمین الشریفین سے والہانہ عقیدت ومحبت اوراس کی حفاظت ہمارے ایمان کامحور ہے۔ الحرمین الشریفین میں پیدااوردفن ہونیوالے فرزندان اسلام خوش نصیب ہیں۔گرامی قدرجناب نواف بن سعیدالمالکی بھی ارض الحرمین الشریفین میں پیداہوئے ،اس نسبت اورروشن قسمت کی قدروقیمت ہرکوئی نہیں سمجھتا۔ اﷲ تعالیٰ نے نواف بن سعید المالکی کو سحرانگیز شخصیت اورمنفردقابلیت عطاء فرمائی ہے،ان کی خدادادصلاحیت اورقابلیت نے سعودی عرب اورپاکستان کے درمیان برادرانہ تعلقات کی کایاپلٹ دی۔پاکستان کے نومنتخب وزیراعظم عمران خان کااپنے دورحکومت کے آغازمیں سعودی عرب کاکامیاب دورہ نواف بن سعیدالمالکی کی پیشہ ورانہ سفارت کاری کانتیجہ ہے۔ نواف بن سعیدالمالکی کے پرنور چہرے سے خوداعتمادی اورخودداری جھلکتی ہے۔انہیں اپنے اندازگفتگوسے دوسروں کواپناگرویدہ بنانے کاہنرخوب آتا ہے۔ نواف بن سعیدالمالکی سعودی فرما نروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ وفا کاعلم اٹھائے ہوئے ہیں۔

اسلامی ملک سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان برادرانہ اوردیرینہ تعلقات قابل قدراورقابل رشک ہیں،حرمین شریفین کی بدولت پاکستانیوں کے قلوب میں سعودی عرب کیلئے والہانہ محبت اورعقیدت دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کرسکتی ۔دونوں برادراسلامی ملکوں نے ہرعہدمیں سودوزیاں سے بے نیازہوکر ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا۔ سعودی عرب نے قیام پاکستان سے قبل ہی پاکستانیوں کو ہرمرحلے پر تعاون فراہم کیا۔ پاک سعودی تعلقات بہت گہرے ہیں اور اس مثالی دوستی کودنیا بھرمیں سراہاجاتا ہے۔ پاکستان سعودی تعلقات میں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ مزید وسعت اور گہرائی پیدا ہو تی چلی جارہی ہے۔ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان پرخلوص، بھائی چارے کا رشتہ ہے۔ پاکستان نے سی پیک معاہدے اور دیگر اہم منصوبے شروع کئے ہوئے ہیں، جو کہ اس کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ سعودی عرب بھی اب سی پیک میں شامل ہو رہا ہے۔گذشتہ دنوں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے سعودی عرب کا دورہ کیا تو انہیں بہت پذیرائی ملی۔وزیر اعظم عمران خان اوران کے وفد کی سعودی فرما نروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں۔دورے سے واپسی پر وفاقی وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے اس بات کی تصدیق کی کہ سعودی عرب بھی سی پیک میں شامل ہونے جا رہا ہے۔سعودی عرب نے پاک، چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت پاکستان میں 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے جس پر ا ٓئندہ ماہ سے باضابطہ کام شروع کر دیا جائے گا۔یہ رقم اقتصادی منصوبوں کی صورت میں پاکستان کو ملے گی۔ اس اقتصادی پیکیج کے تحت سعودی عرب گوادر میں آئل سٹی بنائے گا جو اس سے پہلے چین بنانے جا رہا تھا اور اس حوالے سے باقاعدہ معاہدہ بھی ہو گیا تھا تاہم پاکستان نے سعودی حکومت کیساتھ معاہدے سے پہلے چین سے مذاکرات کرتے ہوئے دوست ملک کو باقاعدہ اعتماد میں لیا۔سعودی عرب پاکستان کے ساتھ معاشی تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اخوت ، محبت اور ایمان کے رشتے پر قائم ہیں۔ کوئی بھی شر پسند قوت پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو کمزور نہیں کر سکتی۔ارض الحرمین الشریفین کے دشمن پاکستان اور عالم اسلام کے دشمن ہیں۔ پاکستان کے عوام ، افواج پاکستان ، ارض الحرمین الشریفین کے دفاع ، سلامتی اور استحکام کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ پاکستان اور سعودی عرب گزشتہ ستر سال سے باہمی دوستی کے لازوال رشتے میں بندھے ہوئے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے دکھ اور سکھ کے ساتھی ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان ایک جسم اور دو جان ہیں ، دونوں کا رشتہ روز بروز مضبوط ہو رہا ہے۔سعودی عرب پر بھی جب بھی مشکل وقت آ یا ہے پاکستان اس کے ساتھ سب سے آ گے کھڑا ہوتا ہے۔ حرمین شریفین کی حفاظت میں جس طرح پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے ، اسی طرح پاکستا ن کی سا لمیت میں سعودی عرب بھی کبھی پیچھے نہیں رہا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا امت مسلمہ کی بات پاکستان اور سعودی عرب ایک پیج پرہوتے ہیں۔ پاکستان میں سعودی عرب کی طرف سے زیرک ،دانا،انتھک اورمخلص نواف بن سعید احمد المالکی سفیر مقرر ہیں۔ جو ا پنی سحرانگیز شخصیت کی بدولت پاکستان کے ہرطبقہ میں یکساں مقبول ہو چکے ہیں۔ نواف بن سعید احمد المالکی بجاطورپر پاکستان سے اور پاکستان کے عوام نواف بن سعید احمد المالکی سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔کہنہ مشق سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی انتھک محنت،اخلاق اورصادق جذبوں سے پاکستان اور سعودی عرب کے عوام مزیدایک دوسرے کے نزدیک آئے ہیں ۔وہ تین سال تک وطن عزیز پاکستان میں ملٹری اتاشی بھی رہ چکے ہیں اور پاک سعودی تعلقات کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ سفارتی حلقوں میں ان کی پہچان ایک سنجیدہ طبع اور نفیس شخصیت کے طور پر ہے۔ جو احباب باوفااورباصفا نواف بن سعید احمد المالکی کے اوصاف حمیدہ سے بخوبی آشنا ہیں ان کے قلوب میں ان کی بیحدقدر ہے اوروہ سبھی ان کاقرب چاہتے ہیں ۔ سفیر تعینات ہونے پر نواف بن سعید احمد المالکی کا کہنا تھا کہ مجھے یہاں آکر ا یسے محسوس ہوتا ہے کہ میں اپنے دوسرے گھرمیں آگیا ہوں۔ ان کایہ صادق جذ بہ درحقیقت ان کی پاکستان اورپاکستانیوں سے بے پناہ محبت کا اظہار ہے۔ سعودی عرب کے پاکستان میں تعینات سفیر نواف بن سعید المالکی ستمبر2017میں بطور سفیر تعینات ہوئے ۔نواف بن سعید احمد المالکی 1970ء میں ریاض میں پیدا ہوئے، انہوں نے شاہ فہد نیول اکیڈمی جو سعودی عرب کی نیوی کی بڑی اکیڈمی کا حصہ ہے اور شاہ عبدالعزیز نیول بیس میں واقع ہے سے میرین سائنس میں بیچلر ڈگری حاصل کی بعد ازاں انہوں نے کمانڈ اور سٹاف کالج سے ماسٹر ڈگری حاصل کی۔انہوں نے باقاعدہ سعودی نیوی کو جوائن کیا اور رائل بحریہ میں خدمات سرانجا م دیں ، نواف بن سعید احمد المالکی اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے بل بوتے پر رائل بحریہ میں ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے ایڈمرل مقررہوئے۔پاکستان میں سفیر تعینات ہونے سے قبل2014ء میں سعودی عرب نے انہیں ملٹری اتاشی کے طور پر تعینات کیا تھا۔وہ پاکستان کی مجموعی صورتحال سے بخوبی واقف ہیں اور پاکستان کے عوام کے ساتھ ان کی ہم آہنگی کوقدرکی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے۔

پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے اپنی دانائی اورتوانائی استعمال کرتے ہوئے اسلامی دنیا کے دواہم ترین برادر ملکوں سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کودوام اوراستحکام بخشا ۔امسال پاکستان میں عام انتخابات ہوئے تو پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد سب سے پہلے نواف بن سعید احمد المالکی نے حکومت سعودیہ کی طرف سے عمران خان کو مبارکباد پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی قیادت کی طرف سے نیک خواہشات کاپیغام پہنچایا۔ بعد ازاں سعودی فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور سعودی ولی عہد محمد سلمان نے بھی عمران خان کو فون کر کے مبارکباد پیش کی ۔پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی دونوں ممالک کے تعلقات میں مضبوطی کیلئے نہایت موثراور متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔پاکستان میں پی ٹی آئی کی حکومت کے قیام کے بعد انہوں نے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی،وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری،وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر،وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری اوردوسری مقتدرشخصیات سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کرتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کالوہامنوایا۔سعودی وزیر اطلاعات عواد بن صالح الاعواد جب پاکستان کے مختصردورہ پرآئے اور وزیر اعظم عمرا ن خان کو مبارکباد دی تو اس وقت بھی سعودی سفیر نواف بن سعید احمد المالکی اس ملاقات میں شریک تھے۔اب وزیر اعظم عمران خان جب سعودی عرب کے دورے پر گئے تو وہاں ان کا شایان شان استقبال کیا گیا،سعودی عرب کی شاہراہوں پر پہلی بار استقبال کیلئے پاکستان کے قومی پرچم لہرائے گئے،وزیر اعظم عمران خان اور ان کے وفد کیلئے بیت اﷲ کا دروازہ کھول دیا گیا جوبلاشبہ ایک بیش قیمت اعزاز کی بات ہے۔ اسوقت بھی سعودی عرب کے پاکستان میں متعین سفیر نواف بن سعید المالکی وزیر اعظم عمران خان اور ان کے وفد کے ہمراہ تھے۔

بلوچستان پاکستان کا ایک پسماندہ علاقہ ہے جہاں آنیوالی حکومتوں نے ہمیشہ عوام کو محرومیاں دیں،تعلیم کا تصور وہاں نہ ہونے کے برابر ہے۔وہاں وڈیرہ راج قائم ہے اورمفلس وبے بس عوام ایک طرح سے یرغمال ہیں ۔سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی ہدایت پر بلوچستان کے طلبہ کو سعودی عرب کی بہترین جامعات میں اعلیٰ تعلیم کیلئے 50 وظائف دینے کا اعلان کیا ہے۔یہ وظائف گریجویٹ اور انڈر گریجویٹ سطح پر طلبہ کو دیئے جائیں گے تاکہ بلوچستان کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے نادارمگرہونہار طلبہ کے اعلیٰ تعلیم کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں مدد دی جا سکے۔ طلبا کو تعلیم اور دیگر تمام اخراجات کے علاوہ ماہانہ اعزازیہ بھی دیا جائے گا، وظائف کی تعداد آئندہ برس دوگنی کر دی جائے گی۔سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کے اس اقدام سے نہ صرف بلوچستان کے غریب اور مستحق طلبہ سعودی عرب جیسے متمدن اور ترقی یافتہ ملک میں بہتر تعلیم کے مواقع حا صل کریں گے بلکہ یہ قابل تحسین عمل دومسلمانوں ملکوں کی بہترین تعلقات میں مزید نکھارپید اکرے گا۔پاکستان کے عوام سعودی عرب کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں اور کسی بھی پرآشوب گھڑ ی میں پاکستان کے عوا م سعودی بھائیوں کے سا تھ شانہ بشانہ حر مین شریفین کی حفاظت پر اپنا سب کچھ قربان کرنے سے گریز نہیں کرینگے۔سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کا دونوں ملکوں کے مابین رشتوں کی مضبوطی کیلئے کردار انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔نواف بن سعید المالکی پہلے پاکستان میں ملٹری اتاشی رہے ہیں اس لئے وہ پاکستا نیوں کے مزاج کواچھی طرح جانتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستانی قوم بھی سعودی سفیر کے جذبات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔نواف بن سعید المالکی کی انتھک محنت اورخلوص نیت نے پاکستانیوں کوان کاگرویدہ کر دیا ہے ۔پاکستان کے غیور لوگ اپنے کسی محسن کو فراموش نہیں کیاکرتے ۔سعودی سفیرنواف بن سعید احمد المالکی نہ صرف پاکستان کے حکام بلکہ سیاسی و مذہبی پارٹیوں کے قائدین اور میڈیانمائندوں سے بھی موثر رابط استوارکئے ہوئے ہیں ۔چند ماہ قبل نواف بن سعید احمد المالکی نے لاہور میں تشریف آوری کے دوران لاہور چیمبر آف کامرس میں ایک پروقارتقریب سے خطاب کیا جبکہ میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ بھی ان کی خصوصی نشست ہوئی تھی ۔ ایک اسلامی ملک کے سفیر کی حیثیت سے دوسرے اسلامی ملک میں نواف بن سعید احمد المالکی کی پیشہ ورانہ سرگرمیاں قابل تقلید اورقابل قدرہیں۔کسی بھی ملک کا سفیر تعلقات کی مضبوطی کیلئے کلیدی کردارادا کرتا ہے ۔ نواف بن سعید المالکی بحیثیت سفیر دونوں برادراسلامی ملکوں پاکستان اور سعودی عرب کو تعلقات کے اس بلند مقام پرلے آئے ہیں جہاں دنیا کی کوئی طاقت ان کے درمیان دراڑپیدانہیں کرسکتی۔ ہماری دعا ہے نواف بن سعید احمد المالکی دونوں ملکوں سمیت اسلامی برادری کے مابین اخوت کیلئے اپناکلیدی کردار ادا کرتے رہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MUHAMMAD Nasir Iqbal Khan

Read More Articles by MUHAMMAD Nasir Iqbal Khan: 14 Articles with 6069 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Sep, 2018 Views: 319

Comments

آپ کی رائے