بھارت کا منفی چہرہ

(Raja Tahir Mehmood, Rawat)

پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد بھارت کو ایک قدم کے بدلے میں دو قدم آگے آنے کا مثبت پیغام دینے کے باوجود بھارت کی طرف سے پاکستان دشمنی کھل کر سامنے آ گئی جب بھارت کی طرف سے پہلے ہاں اور پھر ناں میں جواب دیا گیا کچھ لوگ اسے بھارت میں ہونے والے انتخابات سے جوڑ رہے ہیں جو کہ حقیقت کے عین مطابق ہے کیونکہ بھارت میں پاکستان دشمنی کو سامنے رکھ کر ووٹ کے حصول کی کوشش کی جاتی ہے اورپاکستان دشمنی کو بڑھا چڑھا کر ووٹ کے حصول کی کوشش ہوتی ہے اور ہر بار جب بھی الیکشن ہو تا ہے تو یہی ڈرامہ سامنے آتا ہے اب کی بار بی جے پی کی طرف سے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے عوامی ووٹ کو پاکستان دشمنی کے ذریعے ہتھیانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے پہلے ہاں پھر ناں سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ بی جے پی کو پتا ہے کہ اگر انھوں نے اس موقع پر پاکستان سے مذاکرات کرنے کی کوشش کی تو آنے والے انتخابات میں نتائج کچھ بھی ہو سکتے ہیں اسی تناظر میں بھارت کی طرف سے پاکستان پر محدود جنگ کی بھونڈی دھمکی دی گئی جس پر ساری دنیا کی طرف سے بھارت کو جگ ہنسائی کا سامان کرنا پڑا کیونکہ دینا جانتی ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے اوراس کی ایٹمی ٹیکنالوجی کئی ممالک سے اچھی ہے اور بھارت سے تو کئی گناہ اچھی اور بہترین ہے پاکستان کے پاس جو مذائل ہیں وہ بھارت میں کسی بھی مقام کو نشانہ بنانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ یہ کہا جائے تو بے جانہ ہو گا پورا بھارت پاکستان کے نشانے پر ہے بھارت اپنی گیدڑ ببھکیوں کی وجہ سے اپنی عوام میں بھی خاصا مذاق بنا چکا ہے اور بھارت کی طرف سے گزشتہ سال کی جانی والی نام نہاد اور جعلی سرجیکل سڑائیک کا بھانڈہ تو خود ان کے اراکین پارلیمنٹ بھی پھوڑ چکے ہیں۔دوسری طرف سی پیک بھارت کی آنکھ میں کھٹک رہا ہے وہ اسے پاکستان کے ایشین ٹائیگر بننے کی نظر سے دیکھ رہا ہے اور کسی بھی طور پر اس منصوبے کے پایہ تکمیل تک پہنچنے سے پہلے اسے ختم یا بند کرنا چاہتا ہے اور پاکستان کے ساتھ چین کے اس معاہدے سے ان کے مفادات خطرے میں ہیں جو اس کی غلط فہمی ہے اگر اس معاہدے پر اس کی روح ے مطابق عمل ہوتا ہے تو خطے کے دیگر ممالک بھی اس سے مستفے ہو سکتے ہیں بھارت کو بھی فائد ہ ہو سکتا ہے اگر وہ اس میں شامل ہو کر اپنی بھوکی ننگی عوام کو دو وقت کا کھانا دے سکتا ہے بھارتی تعصب جیسی سوچ دیگر کئی بھارتی ہمنواء ملک بھی سوچ رہے ہیں جسے پاکستان اور اس کے عوام خوب اچھی طرح جانتے ہیں اور جن کا توڑ ہماری حکومت اور ہماری مسلح افواج بڑے بہتر انداز سے کر رہی ہیں بھارت خطے میں پاکستان مخالف سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے اور ہر طرح سے پاکستان پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے کہ کسی طرح پاکستان چین اقتصادی معاہدے میں کوئی رکاوٹ پیدا ہو جائے اس لئے بھارت کی طرف سے تواتر کے ساتھ ایسی کارروائیاں کی جارہی ہیں جو خطے میں کشیدگی کا باعث ہیں لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ اور سیز فائر کی خلاف ورزی تو بھارت کی طرف سے ایک معمول بن چکا ہے ہمیشہ سے ہی بھارتی فوج کی جانب سے فائرنگ میں پہل کی جاتی ہے معصوم بچوں کو شہید کیا جاتا ہے بلا شبہ بھارتی اشتعال انگیزی خطے کے لئے خطرناک ہے دنیا کو سوچنا چاہیے کہ بھارتی طرز عمل خطے کے لئے درست نہیں بھارت ایک طرف تو کشمیریوں پر ظلم کر رہا اور دوسری طرف عالمی برادری میں مگر مچھ کے آنسو بہا رہا ہے کہ کہ کشمیر میں اس کی فوجوں پر بڑا ظلم ہو رہا ہے دنیا کے کئی ممالک نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔جہاں تک سوال پاکستان سے مذاکرات کا ہے تو یہ بات بھارت کو یاد رکھنی چاہیے کہ دنیا میں دوست تو بدلے جا سکتے ہیں مگر ہمسائے کسی بھی طور پر نہیں بدلے جا سکتے اس لئے بھارت کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اپنی اس عوام کے بارے میں سوچنا چاہیے جو آج بھی فٹ باتھ پر سوتی ہے اور جسے آج بھی دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہے ملک میں ترقی اسلحے کی خریداری سے یا بڑی فوج سے نہیں لائی جا سکتی بلکہ ملک میں ترقی کا واحد حل وسائل کو اپنے عوام پر خرچ کرنا ہے بھارت جو خطے میں اپنی چوہدراہٹ قائم کرنے کی ناکام اور بھونڈی کوشش کر رہا ہے اسے صرف ایک بات یاد رکھنی چاہے کہ اس کا ہمسایہ کوئی عام نہیں بلکہ ایک جدید ایٹمی ملک ہے جس نے اپنے مذائل اور ایٹمی ہتھیار ٹی وی پر دیکھانے کے لئے نہیں بلکہ ملک دشمنوں کے خلاف اپنے دفاع کے لئے تیار کیے ہیں اس لئے بھارت کو تمام تر مسائل کے حل کے لئے مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا اسی میں بھارت کا فائدہ ہے پھر بھی اگر وہ مذاکرات کی طرف نہیں آتا تو پاکستان کو چاہیے کہ بھارت کا مکروہ چہرہ پوری عالمی برادری پر واضح کیا جائے اور جس طرح اس نے کشمیریوں پر ظلم و جبر کے ذریعے ایک جابر حکومت قائم کر رکھی ہے کیونکہ بھارت اس خطے میں امن وا مان کا سب سے بڑا دشمن ہے اور اس کے ظلم سے ناصرف پاکستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں یہی بھارت کا منفی چہرہ ہے جسے عالمی برادی کو دیکھانے کی ضرورت ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: rajatahir mahmood

Read More Articles by rajatahir mahmood : 304 Articles with 134707 views »
raja tahir mahmood news reporter and artila writer in urdu news papers in pakistan .. View More
28 Sep, 2018 Views: 390

Comments

آپ کی رائے