مجاہد اول

(Mona Shehzad, Calgary)

آج Navy Academy میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب تھی۔ مجھے سٹیج پر آکر "مجاہد اول " اور اس کے افسران کی کہانی سنانے کی درخواست کی گئی۔میں مجاہد اول کے پورے سٹاف میں سے بچنے والا واحد زی روح تھا۔میں بھی یہی چاہتا تھا کہ "مجاہد اول" اور اس کے جاں باز سپاہیوں کی کہانی نئی نسل کو منتقل کر جاوں۔ یہ کہانی میرے سینے میں شہیدوں کی ایک امانت تھی۔میں نے قرطاس ماضی کے صفحات پلٹے اور اپنی یادداشتوں کو ترتیب دیا۔میں نے نیچے بیٹھے تابندہ چہروں کو دیکھا اور بولا:
مجاہد اول " ایک کہانی نہیں بلکہ ہمت و جرات کی رہتی دنیا تک کی مثال ہے۔مجھے یاد ہے کہ ہم "مجاہد اول " کے پہلے تعنیات شدہ عملہ تھے۔یہ آبدوز تیز رفتار اور خاموش ترین تھی۔ ہم دو ہفتے کی بحری مشق پر تھے ،ہمیں آبدوز پر آئے پانچ روز ہوچکے تھے کہ ایک رات میری آنکھ شدید جھٹکے سے کھلی،میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا، مجھے تھوڑا سا وقت لگا یہ جاننے کے لئے کہ میں کہاں تھا۔جب میرے حواس بیدار ہوئے تو مجھے یاد آیا کہ میں "مجاہد اول" پر تھا ۔"مجاہد اول" پاکستان بحریہ کی جدید ترین اور تیز رفتار آبدوز تھی۔ میں نے بنک بیڈ سے چھلانگ ماری اور سیدھا کنٹرول روم کی طرف بھاگا۔کنٹرول روم میں سب اپنی اپنی پوزیشن پر کام میں مصروف تھے ۔ اسامہ حسب عادت اپنا پسندیدہ ملی نغمہ "اے وطن پیارے وطن، پاک وطن " گنگنا رہا تھا۔ بارہ لوگوں پر مشتمل یہ "مجاہد اول" کا عملہ پاکستان بحریہ کے بہترین افسران پر مشتمل تھا۔ ہمارا کپتان ولید حسن تیس سال کا خوبرو نوجوان تھا، اس کے گھر اسی ہفتے خوشخبری متوقع تھی، مگر وہ اپنے فرض کو نبھاتا، سمندر کی عمیق گہرائیوں میں بحری مشق میں شریک تھا۔ زمین پر ہمارا رابطہ صرف بحری ہیڈ کوارٹرز سے تھا۔ اسامہ آبدوز کا نائب کپتان تھا۔ اٹھائیس سالہ یہ وجیہہ وشکیل نوجوان پچھلے ہفتے ہی رشتہ ازدواج میں بندھا تھا۔اس کی آنکھیں ہر وقت مسکراتی رہتی تھیں ۔میں نبیل اعجاز میری پچھلی دو نسلیں اس ملک کی حفاظت کرتے کرتے شہادت کے منصب پر فائز ہوئی تھیں ۔میری دو خوبصورت بیٹیاں اور ایک فرمانبردار شریک حیات تھی۔ غرض ہمارا پورا عملہ سرفروشوں پر مشتمل تھا۔ ہماری نظریں عقاب کی طرح اپنی سمندری حدود کی حفاظت پر جمی ہوتی تھیں ۔
ایک صبح جب نماز فجر پڑھ کر میں تلاوت قرآن پاک میں مصروف تھا۔تو اس آیت پر میں خودبخود رک گیا۔
- سوره بقره، آیه ۱۵۴:
«و لا تقولوا لمن یقتل فی سبیل‌الله اموت بل احیاء ولکن لا تشعرون»
’’ اور جو لوگ راہ خدا میں قتل ہوجاتے ہیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہے‘‘
میرے دل کی گہرائیوں سے ایک دعا نکلی ،میں نے بے اختیار ہی سجدے میں سر رکھا اور اللہ تعالی سے عرضداشت کی۔
"یا میرے مولا ! مجھے شہید کی زندگی سے سرفراز کرنا۔"
ایک دم مجھے ایسے محسوس ہوا کہ میرے دل پر جیسے سکون نازل ہوگیا ہو۔ میں اپنی ڈیوٹی پر کنٹرول روم میں پہنچا تو حالات معمول پر تھے۔ اسامہ مختلف چارٹز پر کام کررہا تھا ۔اچانک فصیح نے رپورٹ کیا کہ ایک آبدوز خاموشی سے ہماری سرحدوں میں داخل ہوگئی ہے ، پوری آبدوز میں ہائی الرٹ اناونس ہوگیا۔ ولید حسن نے آبدوز کی آئی سے خاموشی سے دشمن آبدوز کا جائزہ لیا ،اس کے کشادہ ماتھے پر تفکرات کا جال بچھ گیا۔ اس نے فورا ہیڈ کوارٹرز سے رجوع کیا، تو پتا چلا کہ ٹڈی دل دشمن اپنے منجھے ہوئے "را" کے ایجنٹ اور" یورنیم " پاکستان کی گوادر پورٹ پر اتارنا چاہ رہا ہے،ہیڈ کوارٹرز نے ہمیں" آپریشن ضرب کاری" کرنے کی کلیرنس دے دی۔۔ ہم جانتے تھے کہ یورنیم سے ذخیرہ شدہ آبدوز کو اڑانے میں ہماری آبدوز کا کیا حشر ہوگا۔
میں نبیل اعجاز بے اختیار ہی قرآن پاک کی آیت باآواز بلند دہرا گیا۔اسامہ ،ولید حسن اور تمام عملہ باآواز بلند بول پڑا:
"یا اللہ ہماری شہادت قبول فرما۔"
پورا کنٹرول روم نعرہ تکبیر اللہ اکبر سے گونج اٹھا۔
پورے کنٹرول روم میں ہلچل مچ گئی ۔ہم سب اپنی اپنی پوزیشن پر جم گئے ۔ولید حسن کے اشارے پر جیسے ہی دشمن آبدوز ہماری رینج میں آئی ہم نے میزائل فائر کردیا۔ہم جانتے تھے کہ دشمن آبدوز کے خاتمے کا مطلب ہماری شہادت تھا، مگر ہم سب اللہ کی راہ میں قربان ہونے کے لئے تیار تھے دشمن ۔آبدوز بے خبری میں ہمارے میزائل کا نشانہ بن گئی۔ایک زوردار روشنی کا دھماکہ تھا اور میرے حواس جاتے رہے۔
میری آنکھوں میں ہلکی ہلکی روشنی پڑی تو میں نے بے اختیار آنکھیں کھولیں ۔میں پاک بحریہ کے ہسپتال میں ایڈمٹ تھا۔میری بیٹیاں اور بیوی میری طرف لپکے ۔ہمارے ایڈمرل صاحب بھی موجود تھے ۔ میرے منہ سے بے اختیار نکلا:
سر ! "مجاہد اول " اور اس کا عملہ؟
انھوں نے نفی میں سر ہلایا، میرا دل دھک سے رہ گیا۔ میرے دوست شہادت کے منصب پر فائز ہوچکے تھے۔ میں "مجاہد اول " سے بچنے والا واحد زی روح تھا۔میں کیسے نیم بے ہوش حالت میں ساحل پر پہنچا تھا ،تمام لوگوں کی عقل دنگ تھی، میں دل ہی دل میں اللہ تعالی سے شکوہ کناں تھا:
یا رب تو نے غازی بنایا مگر شہادت کے منصب سے محروم کردیا۔
مگر اچانک مجھے حضرت خالد بن ولید یاد آگئے جو شہادت کے لیے انتھک لڑے مگر موت ان کو بستر پر آئی ۔میں اللہ کی رضا میں راضی ہوگیا۔
میں صحت مند ہوا تو پاک بحریہ کی طرف سے تقریب انعامات رکھی گئی۔
میری بہادری پر مجھے اور میرے شہید ساتھیوں کو تمغہ جرات سے نوازا گیا۔میں لنگڑاتا ہوا اپنی وردی پہنے سٹیج پر پہنچا ،ایڈمرل صاحب نے مجھے تمغہ جرات سے نوازا ،مجھے ایسے لگا جیسے میرے کانوں میں اسامہ اپنی سریلی آواز میں گنگنا رہا ہو،
"اے وطن پیارے وطن! پاک وطن ۔۔۔۔"
میری آنکھوں میں شہیدوں کے لئے آنسو آگئے۔ میں نے سروس کے دوران بے شمار معرکوں میں حصہ لیا ،مگر میری شہادت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔
میں نے اپنی یادداشت سنا کر سر اوپر کیا تو تمام نیول کیڈٹ مجھے سلیوٹ کررہے تھے پھر پوری نیول اکیڈمی تالیوں سے گونج اٹھی۔ میں نے اپنے آنسو صاف کئے اور صاف آواز میں بولا:
Gentlemen! Now It's your turn to prove yourselves.
جی ہاں میں نبیل اعجاز اب نیوی اکیڈمی کا ہیڈ ہوں اور میں پاکستان بحریہ کے لئے بہترین اور فرض شناس جیالوں کی تربیت کرکے ان کو عملی میدان میں بھیجتا ہوں۔ میں اکثر سوچتا ہوں ۔
ہمارا جوش جنون باقی ہے۔۔۔
سر فروشی کی تمنا باقی ہے ۔۔۔
جب تک ہے دم میں دم ،
شہادت کی تمنا باقی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 174904 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
08 Oct, 2018 Views: 1491

Comments

آپ کی رائے