مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کش کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ۔۔۔۔؟

(Qadir Khan Yousuf Zai, Lahore)

 دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک مرتبہ پھر اقوام عالم کو آگاہ کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر رہا ہے جو عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی افواج نے باندی پورہ میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ڈاکٹرمحمد فیصل نے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، پاکستان کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی مذمت کرتا ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ 2017 میں بھی سامنے آیا تھا اور اس وقت کے ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے بین الاقوامی برادری سے مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ قابض بھارتی انتہا پسند فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم بات یہ بھی ہے کہ پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں نہتے مسلمانوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کرنے کے حوالے سے تحقیقات کے مطالبے پر بھارت نے ابھی تک کوئی تردید بھی جاری نہیں کی۔بھارت مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو پاکستان سے محبت کرنے کی پاداش میں بہیمانہ طریقے سے مسلم نسل کشی کی پالیسی و اقدامات پر عمل پیرا ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر سفارتی سطح پر باقاعدہ بھارتی قابض افواج پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا سنگین الزام عاید کیا ہے۔ پاکستان کی وزرات خارجہ کی جانب سے قابض بھارتی افواج پر کیمیائی ہتھیاروں کا نہتے کشمیری مسلمانوں پر استعمال کرنے کا الزام انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں ۔جس کی تحقیقات کے لئے عالمی برادری سے مطالبہ بھی کیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے اسرائیلی پیلٹ گنز کا اندھا دھند استعمال کرکے سینکڑوں نہتے کشمیریوں کو بینائی سے محروم اور اپاہج بنانے کی روش اپنا رکھی ہے تو دوسری جانب اسرائیل اور امریکا سے حاصل کردہ کیمیائی ہتھیاروں کو بھی مقبوضہ کشمیر میں استعمال کیا جارہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کی جانب سے سوشل میڈیا میں بھارتی جرائم کو بے نقاب کئے جانے پر مودی حکومت نے جہاں گورنر راج نافذ کیا تو دوسری جانب اعلانیہ مقبوضہ کشمیر فوج کے حوالے کرکے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی کیا۔عالمی قوانین کے تحت دوران جنگ بھی کسی قسم کے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ کیونکہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے وسیع پیمانے پر انسانی ہلاکتوں کے ساتھ دیگر مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ بھارت اس وقت پاکستان کے خلاف ایک کھلی جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہے اور اپنے جنگی عزائم کی تکمیل کے لئے امریکا اور اسرائیل سے تباہ کن ہتھیار، اسلحہ بارود کے ذخائر جمع کررہا ہے۔ کولڈ اسٹارٹ (ملٹری ڈاکٹرائن) پر عمل پیرا بھارت کے جنگی جنون نے پورے خطے کو ایٹمی جنگ کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے۔امریکی ٹرمپ انتظامیہ کی نوازشوں سے بھارت اپنے جنگی عزائم میں شدت پیدا کررہا ہے اور اس کے اس جنونی کھیل میں جہاں ایک طرف بھارتی میڈیا اپنی عوام میں نفرت کو فروغ دے رہا ہے تو دوسری جانب پاکستان سے جنگ چھیڑنے کی صورت میں اقوام عالم کے لئے بھی سنگین خطرات پیدا کررہا ہے۔یہ امر باعث تشویش ہے کہ بھارت اس وقت پوری دنیا میں اسلحہ کا سب سے بڑا خریدار ہے ۔ امریکا ، اسرائیل کے علاوہ روس سے بھی جدید میزائل اور ہتھیار خریدنے کے معاہدوں سے بھارتی جنونیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔2011میں کولڈ اسٹارٹ ( ملٹری ڈاکٹرائن )کی پہلی کوشش کو پاکستان نے کمال مہارت کے ساتھ ناکام بنادیا تھا تاہم بھارت چین کا بہانہ بنا کر پاکستان کے خلاف جہاں مشرقی سرحدوں پر اپنی فوج جمع کرچکا ہے تو دوسری جانب شمال مغربی سرحدوں پر پاکستان کی سا لمیت پر اوچھا وار کرنے کی منصوبہ کئے بیٹھا ہے۔

قابض بھارتی فوج کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال ، بھارتی آرمی چیف بپن راوت کی سرجیکل سڑائیکس کی گیڈر بھبکیاں اور سرپرائز جنگ مسلط کرنے بڑھکیں ، مودی حکومت کی مذموم سازشوں اور عزائم کو عیاں کررہے ہیں۔ اب ایسا بھی نہیں ہے کہ بھارت یہ سب کچھ چھپ چھپا کر کررہا ہو ، بلکہ وہ علیٰ اعلان دہشت گردی کو جاری رکھنے ، پاکستان میں نام نہاد علیحدگی پسندوں کی فنڈنگ اور سہولت کاری سمیت مشرقی پاکستان ( بنگلہ دیش) میں فوجی مداخلت کا اعتراف کرچکا ہے بلکہ پاکستان کے خلاف کی جانے والی سازشوں کو اپنی فتح سمجھتا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے بھارتی جنونیت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوجاتا ہے کہ وہ پاکستان کی نفرت میں اتنا آگے نکل چکے ہیں جہاں اُن کے نزدیک انسانیت بھی کوئی معنی نہیں رکھتی۔

پاکستان بار بار اقوام عالم کو بھارتی جنگی عزائم کے مضر اثرات سے آگاہ کررہا ہے اور کیمیائی ہتھیاروں کے سفاکانہ استعمال کی بھی نشاندہی کی ہے۔ لیکن عالمی قوتیں اپنے ذاتی مفادات کے لئے چپ سادھ رکھی ہے۔ حالانکہ امریکا نے کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کو جواز بنا کر عراق پر حملہ کیا تھا اور عراق میں لاکھوں انسان مخصوص مفادات کے لئے غلط رپورٹ کی بھینٹ چڑھ گئے۔ برطانیہ اعتراف کرچکا ہے کہ عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کی سی آئی اے کی رپورٹ جھوٹی تھی۔ تاہم شام میں بشار الاسد کی فوج اور جنگجو ملیشیاؤں کی جانب سے بشار مخالف گروپ پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال دنیا کے سامنے کئی بار آچکا ہے ۔ یہاں تک کہ امریکا نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کرنے پر بشار الاسد کے فوجی مقامات کو میزائل سے نشانہ بھی بنایا تھا اور مزید کاروائی کی بھی دھمکی دی ۔ لیکن مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر امریکا ، روس سمیت سلامتی کونسل کے رکن ممالک کی جانب سے خاموشی ایک بڑی ایٹمی جنگ کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔کیونکہ پاکستان بھارت کے کولڈ اسٹارٹ (ملٹری ڈاکٹرائن) کو ایک مرتبہ ناکام بنا چکا ہے ۔ اب دوبارہ بھارت اپنے مذموم عزائم کے ساتھ پاکستان کی سرحدوں پر اپنی فوج جمع اور اسلحہ کا بڑا ذخیرہ بھارت اکٹھا کررہا ہے۔ بھارتی حکومت مسلسل جنگی تیاریوں میں مصروف ہے۔ 2017کے بعد دوبارہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال نے ان خدشات کو بڑھا دیا ہے کہ بھارت اپنے جنگی جنون میں انسانیت کش کیمیائی ہتھیاروں کا بھی استعمال کرے گا جس کا جواب پاکستان کو اُسی کی زبان میں اپنی ایٹمی طاقت کے ذریعے دینا ہوگا۔ کیونکہ اس بار پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑی جانے والی جنگ روایتی نہیں رہے گی بلکہ یہ ایک ایسی ایٹمی جنگ ہوگی جس میں لاکھوں انسانوں کا ایٹمی جنگ کا سامنا ہوگا ۔ جس کی ذمے داری انتہا پسند بھارت پر عائد ہوگی۔

بھارت نے دسمبر2001 میں پارلیمنٹ حملوں کی آڑمیں پاکستان کے خلاف جنگ کے خلاف باقاعدہ جنگ کا اعلان بھی کردیا تھا تاہم اپنی فوجوں کو پاکستان کی سرحدوں تک لانے میں ایک مہینے سے زیادہ وقت لگنے کے سب پاک افواج نے بھارتی جنگی عزائم کو بھانپ کر 24گھنٹوں کے اندر اندر پاک سرزمین کے دفاع کی تیاریاں کرلیں تھی جس کے بعدبھارت عالمی دباؤ کی وجہ سے بھی جارحیت سے با ز رہا ۔ کیونکہ اُس وقت عالمی قوتوں کو اپنے مفادات کے لئے پاکستان کی ضرورت تھی ۔تاہم خطے میں اس وقت صورتحال تبدیل ہوچکی ہے اور عالمی طاقتوں کو اپنے مفادات کے لئے بھارتی حمایت درکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت اپنے مذموم عزائم کو کامیاب بنانے کے لئے امریکا ، روس ، اسرائیل سمیت کئی ممالک سے اربوں ڈالرز کے ہتھیار خرید رہا ہے اور اپنی فوج کی تعداد میں مسلسل اضافہ کررہا ہے۔حالاں کہ پاکستان واضح طور پر کہہ چکا ہے کہ وہ کسی قسم کے جنگی عزائم نہیں رکھتا اگر خطے میں اسلحہ کی دوڑ ہے تو اس کی وجہ بھارت ہے۔ پاکستان بار بار امن اور بامعنی مذاکرات کی پیش کش کرچکا ہے اور ہر مرتبہ امن کے قیام کو یقینی بنانے کے لئے پاکستان نے ہی پہل کی ہے ۔ اس کے باوجود بھارت چین کا بہانہ بنا کر پاکستان کے وجود کے خلاف سازشوں سے باز نہیں آرہا ۔جب کہ بھارت کے خلاف نہ تو پاکستان جنگ چاہتا ہے اور نا ہی چین ۔۔
لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ ، گولہ باری اور نہتے شہریوں کو نشانہ بناکر شہید کرنے کا واحد مقصد پاکستان کو اشتعال دلانا ہے ۔ لیکن پاکستان ، بھارت کی سازش کو سمجھ چکا ہے کہ وہ کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کی ناکامی کے باوجود ایک بار اُسے دوبارہ آزمانے کے لئے پَر تول رہا ہے۔بھارت دوسری جنگ عظیم میں جرمن کی جانب سے استعمال کئے جانے والی’ بلٹس کریگ اسٹریجی ‘ کو استعمال کرنا چاہتا ہے ۔ بھارت پاکستان پر حملہ کرکے24گھنٹے میں واپس اپنی افواج کو بھارت کی سرحد کے اندر اُس حد تک لے جانا چاہتا ہے جس میں پاکستانی فوج اپنے دفاع میں بھارت کو پسپائی پر مجبور کرتے ہوئے اتنے آگے بڑھ جائیں کہ بھارت دنیا بھر میں یہ پروپیگنڈا کرسکے کہ پاکستان نے بھارت پر حملہ کیا ہے۔ لیکن بھارت کی اس اسٹریجی کو مئی اور دسمبر2011کو سدرشن شکتی،وجے بھاؤ نامی جنگی مشقوں کے دوران حملہ کرنے کی سازشوں کو پاکستان ناکام بنا چکا ہے۔ بھارت اُس وقت اپنے 50ہزار فوجی جمع کرچکا تھا ۔ پاکستان عالمی برادری کو بروقت بھارتی جنگی عزائم سے باخبر رکھتا ہے اور بار بار بھارت کی جانب سے عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں کئے جانے پر آگاہ کرتا رہتا ہے۔ اسی ضمن میں گذشتہ دنوں وزارت خارجہ کے ترجمان نے انکشاف کیا کہ بھارت نے دوبارہ مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔اس سے قبل جولائی2017ء میں بھیپاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا تھا کہ قابض بھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کروائی جائیں- اُس وقت کے ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں انکشاف کیا تھا کہ ہمانو اور کاکپورہ میں بھارتی فورسز کے تباہ کیے گئے گھروں سے ملنے والی کشمیری نوجوانوں کی لاشیں اتنی بری طرح جلی ہوئی تھیں کہ ان کی شناخت ممکن نہیں رہی تھی۔2018میں باندی پورہ میں دوبارہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے معاملے پر پاکستان نے اقوام عالم سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو جنگی جنون سے روکے ۔2017اور2018میں پاکستان نے عالمی اداروں سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے کہ اگر بھارتی فورسز کی جانب سے کشمیریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ بین الاقوامی قوانین اور کیمیکل ہتھیاروں کے کنونشن کی خلاف ورزی ہوگی۔ بھارت کی اشتعال انگیزیاں اور سرجیکل اسٹرائکس کے جھوٹے دعوؤں سے بھارت کی غیر سنجیدگی عیاں ہے، کیونکہ ایسے دعوے خطے میں قیام امن اور استحکام کے لیے نقصان کا سبب بنتے ہیں۔

بھارت جنگی جرائم کو چھپانے کے لئے پاکستان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا میں مصروف ہے اور مذاکرات اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے کے بجائے فرار کی راہ اختیار کرتا ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں سینکڑوں شہادتوں پر تحقیقاتی کمیشن بنانے کا خیر مقدم کیا تھا لیکن بھارت نے اس سے بھی فرار کی راہ اپنائی۔ مقبوضہ کشمیر میں گھر گھر تلاشی کے بہانے نوجوانوں کو شہید کیا جاتا ہے۔ شہید ہونے والے نوجوانوں کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد شریک ہوتے ہیں، آزادی کے نعرے اور پاکستانی پرچم لہراتے ہیں جو بھارت کے لئے ناقابل برداشت عمل بن جاتا ہے۔
کشمیری مسلمانوں کا یہی ’’جرم ‘‘ہے کہ وہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں ۔ انہوں نے اپنا معیاری وقت پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق رکھا ہوا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے نہتے مسلمانوں پر ظلم اس لئے کیا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے مظاہروں و احتجاج میں پاکستان کا پرچم اٹھا کر بھارت سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں ۔ شہید ہونے والے کشمیری نوجوان کو پاکستان کے پرچم میں دفن کرتے ہیں ۔ قبر کے چہار اطراف پاکستانی پرچم سے سجاتے ہیں۔ جب قابض فوج قبر سے پاکستانی پرچم ہٹاتی ہے تو شہدا کے ورثا دوبارہ قبر کو پاکستانی پرچم سے ڈھانپ دے دیتے ہیں۔ بھارت کے لئے ناممکن ہوگیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں اٹھنے والی آزادی کی تحریک کو کچل سکے ۔ سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداﷲ اعتراف کرچکے ہیں کہ کشمیر ان کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے۔ انڈیا کے معروف کالم نگار شیکر گپتا کا کہنا ہے کہ کشمیر کی جغرافیائی سرحدیں محفوظ ہیں لیکن انڈیا نفسیاتی اور ذہنی لحاظ سے کشمیر کھو رہا ہے ۔کشمیر میں جو تبدیلی ہے وہ انڈیا کے لیے باعث تشویش ہے۔ یہاں تک کہ اعلیٰ فوجی حکام بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ حالت انتہائی سنگین اور نازک ہے۔

حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے بھی احتجاج کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بھارتی فوج نے بانڈی پورہ میں سرچ آپریشن کے دوران کیمیائی ہتھیار استعمال کیے، شہید نوجوان کا چہرہ مسخ ہوا تو غیرملکی حریت پسند قرار دے کر دفنا دیا۔علی گیلانی نے انٹرنیشنل کرمنل ٹریبونل سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔قابض فوج کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی شروعات بھارتی وزیر اعظم کے دورہ اسرائیل کے بعد ہوئی۔2017میں پلوامہ کے علاقے بہمنو میں بھارتی فوج کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ذریعے تباہ کیے گئے تھے۔ 4 مکانوں کے ملبے سے 3 کشمیری نوجوانوں جہانگیر کھانڈے، کفایت احمد اور فیصل احمد کی جھلسی ہوئی لاشیں ملی تھی، نوجوانوں کی میتیں اس حد تک جھلس گئی تھیں کہ وہ ناقابل شناخت ہو چکی تھیں۔بھارتی جارحیت کے بعدہزاروں افراد نے شہید نوجوانوں کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد بھارتی فوج کے خلاف سخت مظاہرے کیے، جبکہ قابض فوج کی جانب سے پامپور کے علاقے کاکا پورہ میں بھی 3 نوجوانوں کو شہید اور مکان کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا تھا۔نوجوانوں کی شہادت کے بعد کشمیر بھر میں بھارت کے خلاف شدید مظاہرے کیے گئے، جن میں بچوں اور خواتین نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین نے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہیں ۔

اقوام عالم کو بھارتی قابض فوج کی جانب سے انسانیت کش اقدامات پر ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے پہلی بار متنازع علاقے کشمیر میں بھارت کی جانب سے مبینہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر رپورٹ جاری کی۔ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے سربراہ زید رعد الحسین نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات کی بڑے پیمانے پر تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ انسانی حقوق کونسل پر زور دیں گے کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات پر ایک جامع بین الاقوامی تحقیقات کرنے والے کمیشن آف انکوائری (سی او آئی) قائم کرنے پر غور کرے۔سی او آئی اقوام متحدہ کی اعلیٰ سطح تحقیقات میں سے ایک ہے جو عام طور پر بڑے بحرانوں کی تحقیقات کرتا ہے۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے سربراہ نے کشمیر میں انسانی حقوق پامالیوں کی صورتحال سے متعلق الزامات کے حوالے سے اعلی سطحی بین الاقوامی تحقیقات کی سفارش پرایک مفصل رپورٹ شائع کرکے بھارت کے چہرے کوبے نقاب کر چکی ہے۔ سوئٹزرلینڈکے شہر جنیوا میں 49 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کرتے ہوئے اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے حقوق انسانی زیدرعدالحسین نے کشمیر میں سنگین نوعیت کی انسانی حقوق کی پامالیوں اورمرتکب بھارتی کے فوجی اہلکاروں کو استثنی دیئے جانے کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں کونسل کے سرابراہ نے خبردارکیاہے کہ 7دہائی پرانا تنازعہ کشمیراب تک ہزاروں لاکھوں زندگیوں کونگل چکاہے۔اقوام متحدہ کی کشمیر پرمفصل تحقیقاتی رپورٹ میں واضح طور پربتایاگیاکہ کشمیری عوام کو سنگین نوعیت کی خلاف ورزیوں اور پامالیوں کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ رپورٹ میں ایسے متعدد واقعات کا حوالہ دیاگیاہے کہ جہاں حقوق انسانی پامالیوں اورخلاف ورزیوں کے مرتکب بھارتی فوج سے وابستہ افسروں اوراہلکاروں کو مختلف قوانین کے تحت چھوٹ دی گئی اور ان کیخلاف کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ اقوام متحدہ میں انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے نمائندے مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی عصمت دری کا ذکر کرتے ہوئے رو پڑے تھے۔انہوں نے روتے بلکتے اقوام متحدہ سے بھارتی فوج کی بربریت کے خلاف قرار داد منظورکرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھارت کا اصل چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا تھا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اقوام متحدہ کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت و نہتے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو روکنے کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا ۔ پیلٹ گنوں اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد خطے میں بھارت کی جنگی جنونیت عالمی امن کو بھی خطرے میں ڈال چکی ہے ۔ خطے کو تباہی سے بچانے کے لئے اقوام متحدہ کو موثر اقدامات اٹھانے ہونگے ۔ اگر مزید خاموشی روا رکھی گئی تو یہ پورے خطے کے نقصان دہ ہوگا۔پاکستان بار بار عالمی برادری کو امن کی خواہش کی راہ میں بھارت کی جانب سے رکاؤٹ ڈالے جانے پر آگاہ کررہا ہے۔ عالمی برادری کو بھارتی جنگی جنونیت سے روکنے کے لئے اقدامات کرنا ہونگے۔

مقبوضہ کشمیر میں مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی طرف سے علی گڑھ مسلم یونیوسٹی کے سابق ریسرچ اسکالر منان بشیر وانی و دیگر دو کشمیریوں کی شہادت کے بعد پہیہ جام ہڑتال کی جارہی ہے۔ خاص طور پرمقبوضہ کشمیر میں برہان وانی کے بعد جوتصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں ان میں ایک تازہ اضافہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں پی ایچ ڈی سکالر عبدالمنان وانی کی تصویر ہے برہان وانی کی تصاویر کی طرح کشمیر کے نوجوانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔شمالی کی خوبصورت وادی لولاب سے تعلق رکھنے والا یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کشمیر میں تیزی سے فروغ پذیر اس رجحان کی عکاسی کر رہا ہے جس کے تحت وادی کے مقامی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان مسلح جدوجہد کی طر ف مائل ہو رہے ہیں۔پچیس سالہ عبدالمنان وانی چار سال سے بھارت کی تاریخی دانش گاہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں زیر تعلیم تھا اور چھٹیاں گزارنے گھر آیا تھا کہ اسی دوران نوجوان کی تصویریں سوشل میڈیا میں عام ہوئیں جن میں وہ ایک پی ایچ ڈی سکالر کی بجائے ایک مزاحمتی نوجوان کی شکل میں سامنے آگیا۔عبدالمنان وانی کا پروفائل لوگوں کو مزید حیرت زدہ کر گیا کہ وہ علم دوست گھرانے کا فرد ہے اور برہان وانی کی طرح اس کے والد بھی سرکاری کالج میں لیکچرار ہیں۔نوجوان کا بھائی جو نیئر انجینئر کے طور پر کام کررہا ہے۔حیرت انگیز طور پر برہان وانی ہی کی طرح یہ نوجوان بھی بھارتی فوجیوں کی بدسلوکی کے باعث غصے اور ردعمل میں معمول کی زندگی تج کر بندوق تھامنے چل پڑا۔متعدد بار بھارتی فوجیوں نے اس کی وضع قطع کے باعث طعن اور تضحیک کا نشانہ بنایا۔روح کو گھائل اور انا کو مجروح کرنے والے ان سوالات اور تحقیر آمیزسلوک نے عبدالمنان وانی کی ذہنی کایا پلٹ میں بنیادی کردار ادا کیا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qadir Khan Yousuf Zai

Read More Articles by Qadir Khan Yousuf Zai: 376 Articles with 149891 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Oct, 2018 Views: 316

Comments

آپ کی رائے