ڈاکٹر عبدالمنان وانی شہید کا خواب

(Ghulam Ullah Kyani, Islamabad)

وہ بھارت کی معروف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا طالب تھا۔ مگر تعلیم کو خیر آباد کہہ دیا۔ قلم کو چھوڑ دیا۔ کلاشنکوف اٹھا لی۔ مجاہدین کی صفوں میں شامل ہو گیا۔ جنوری 2018میں جیالوجی میں ڈاکٹریٹ کے بجائے بندوق کا انتخاب کیا۔ مسلح جدوجہد کی زندگی کے 9ماہ کشمیر کے بیابانوں، پہاڑوں، وادیوں، باغات اور جھرنوں میں گزار دیئے۔ وادی لولاب کا یہ سپوت تعلیم یافتہ اور مہذب گھرانے کا چشم و چراغ تھا۔ والد کالج میں پروفیسر ہیں۔ گزشتہ روز انہوں نے بھارتی فورسز کے ساتھ لڑتے لڑتے شہادت پا لی۔26سال کی عمر میں ڈاکٹر عبدالمنان وانی کی شہادت نے آزادی پسندوں کے جذبہ جہاد اور شوق شہادت کو دوبالا کر دیا۔ جس پر ہر آنکھ نم ہے۔ مگر انہوں نے اپنے انمول الفاظ سے تحریک آزادی کو جلا بخشی اور قلم کے بجائے اپنی گردن کٹوا کر مقدس لہو سے تاریخ رقم کی۔سوشل میڈیا پر جب وہ کلانشنکوف کے ساتھ نمودار ہوئے تو اعلان کیا کہ انہوں نے حزب المجاھدین میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے تابناک اور روشن مستقبل ، زندگی کی چمک دمک کو چھوڑ دیا۔ عیش و عشرت کو ٹھوکر مار دی۔ پہاڑوں کو اپنا مسکن بنا دیا۔ قلم اور بندوق کو مظلوم قوم کی آزادی اور اعلائے کلمۃ اﷲ کے لئے استعمال کیا۔ نئی نسل میں نئی روح پھونک دی۔ برہان وانی شہید کے بعد ڈاکٹر عبدالمنان وانی شہید تک کے عرصہ میں کشمیر کی اعلیٰ تعلیم یافتہ نسل جوق در جوق کلانشنکوف اٹھانے لگے۔ زیر تعلم بچے تک اس جانب متوجہ ہوئے۔ مگر تعلیم و تربیت بھی انتہائی ضروری ہے۔ نبی پاک ﷺ نے بھی تعلیم کی اہمیت بیان کی۔ کفار قیدیوں کو صحابہ کرام کی تعلیم کے لئے بروئے کار لایا۔ ایک مثال قائم کی۔ نیز کفار سے ٹکرانے سے پہلے بہت تیاری کی۔ ہر ظلم برداشت کیا۔ تربیت اور فکری ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ اپنے رفقاء کو آپس میں نرم اور کفار پر سخت بنایا۔ تربیت اور تیاری کے بعد نظم و ضبط کے ساتھ میدان میں آئے۔ تقریباً 13سال سے بھی زیادہ وقت تربیت اور تیاری کی۔ صبر کیا۔ رفقاء کومشتعل کبھی نہ ہونے دیا۔ صبر و استقامت کا خود نمونہ بنے۔ بتوں کو مسمار کیا۔ ایک اﷲ کی عبادت کی۔ تقویٰ اور پرہیز گاری پر توجہ دی۔ حقوق اﷲ اور حقوق العباد کی عملی تعلیم دی۔ ہر طرح کی تعلیم و تربیت سے دنیا کی سب سے زیادہ منظم اور پاکبازجماعت تشکیل دی۔ جو دنیا سے ٹکرا گئی۔ بت پاش پاش کر دیئے۔ انسان کو انسان کی غلامی سے نکال کر ایک اﷲ تعالیٰ کا بندہ بنا دیا۔ ایک صالح معاشرہ تشکیل دیا۔ جس پر آج یورپ عمل کر رہا ہے۔ ہم نے اصول ترک کر دیئے۔ انہوں نے انہیں تھام لیااور دنیا پر غالب آ گئے۔ برہان وانی شہید سے لے کر ڈاکٹر عبد المنان وانی شہید تک، 1931کے شہداء سے لے کر شہدائے جموں تک، مقبول بٹ شہید سے لے کر افضل گورو شہید تک یہ سرفروشوں کی جماعت کشمیر میں سر گرم رہی اور آج تک ان کے مشن پر نئی نسل رواں دواں ہے۔ اﷲ تعالیٰ ان کی شہادتیں قبول فرمائے۔ وہ عرش الٰہی سے لٹکتی قندیلوں میں داد عیش دے رہے ہیں۔ انشاء اﷲ۔

بھوپال یونیورسٹی میں عالمی کانفرنس کے دوران ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر عبدالمنان وانی شہید وہ بطل حریت ہیں جنھیں سبھی سلام پیش کر رہے ہیں۔ اب جیسے سارا کشمیر مقبول بٹ شہید، برہان وانی شہید ، ڈاکٹر عبدالمنان وانی شہید اور ان ہزاروں شہداء کے نقش قدم پر چل پڑا ہے۔ جن کا مقابلہ کرنا بھارت کے بس میں نہیں۔ معصوم بچے بھارتی فورسز پر اپنے ننھے ہاتھوں سے کنکریاں پھینک کر اپنی نفرت اور ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ مائیں بچوں کو ان شہداء کی بہادری اور عظمت کے قصے سنا رہی ہیں۔ کشمیری آزادی کے لئے ہر قدم اٹھانے کا عزم کر چکے ہیں۔ وہ آزادی کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں۔ بھارتی عوام کے سامنے حقائق پیش نہیں کئے جاتے۔ بھارتی میڈیا تعصب سے سچ پر پردہ ڈال رہا ہے۔ نریندر مودی کی انتہا پسند حکومت اور اس سے پہلے کانگریسی حکومتیں بھی اپنے عوام سے جھوٹ بولتی رہیں۔ یہ سب کشمیریوں کو غدار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ بھارتی عوام اور دنیا کو بے خبر رکھا جا رہا ہے کہ کشمیر کبھی بھی انڈیا کا حصہ نہیں رہا۔ بلکہ کشمیر پر بھارت نے جبری قبضہ کیا ہے۔ وہ کشمیر پر فوج اور بندوق کی نوک پر زبردستی قبضہ جمائے رکھنا چاہتا ہے۔ اس کے خلاف کشمیری جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس کی پاداش مین بھارتی فورسز کشمیریوں کا قتل عام کر رہی ہیں۔ بچوں اور خواتین کو بھی بدترین مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان تعلیم چھوڑ کر بندوق اٹھا رہے ہیں۔ کیوں کہ انہیں بھارت کی غلامی میں قوم کا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے۔ غلامی کی زندگی کوئی زندگی نہیں۔ عظیم مجاہد ٹیپو سلطان کا یہی قول ہے کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سال کی زندگی سے بہتر ہے۔ ڈاکٹر عبدا لمنان وانی شہید نے بھی کفار سے ٹکرا کر یہ ثابت کر دیا کہ مسلح جدوجہد ہی بھارت کی غلامی سے نجات کا مسلمہ فارمولہ ہے۔ مگرسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کی تعلیم و تربیت اور زبردست ٹریننگ اور تیاری کے بغیر مسلح جدوجہد میں شمولیت کا تحریک کو فائدہ نہیں ہو سکتا۔ اگر یہی بچے ڈاکٹر عبدا لمنان وانی شہید کے نقش قدم پر چلتے ہوئیتعلیم اورتربیت ، نظم و ضبط اور مکمل تیاری کے ساتھ بھارت کے ساتھ ٹکراجائیں تو بھارت کا کشمیر پرناجائز تسلط قائم رکھنے کا خواب پاش پاش ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہ سکے گا۔ڈاکٹر عبدالمنان وانی شہید سمیت تمام شہداء کا یہی خواب تھا کہ کشمیر بھارت کے قبضہ سے آزاد ہو جائے۔ ڈاکٹر عبدالمنان وانی مضامین لکھ کر بھی بے ضمیروں کا ضمیر بیدار کرتے رہے۔ ان کی تحریر کی وجہ سے سرینگر کی نیوز ایجنسی کے خلاف تادیبی کارروائی کی گئی۔ ان کی قلم کو خاموش کیا گیا۔ پھر کسی نے درست کہا کہ اگر قلم کو روکو گے تو یہ بندوق بن جائے گی۔مگر بھارت نے ان کی قلم آخر کار بندوق سے خاموش کر دی۔ کشمیر کے طلباء ڈاکٹر صاحب کی شہادت کے ردعمل میں بھارت کے خلاف منظم جدوجہد کی تیاری کریں تو تحریک آزادی کو نئی جلا بخش سکتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 575 Articles with 221525 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
16 Oct, 2018 Views: 387

Comments

آپ کی رائے