برُے کام کا برا انجام

(Haq Nawaz Jilani, Islamabad)

کاش کوئی فکر کریں کہ جوروز مرہ زندگی میں ہم دیکھتے ہیں بعض اوقات افسوس اور غم کا اظہار بھی کرتے ہیں لیکن سبق حاصل نہیں کرتے حالاں کہ یہ سب کچھ اﷲ تعالیٰ انسانوں کو سبق دینے کیلئے عیاں کرتا ہے کہ میرا بندہ اس واقعے کو دیکھے اور اس سے سبق حاصل کریں کہ ہم جو بوتے ہیں وہی کاٹنا ہوتا ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ گندم بویا جائے اور آپ چاول کی فصل کاٹے ‘ہر برے کام کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔ ننھی زینب اور دوسری بچیوں کو ہوس اور قتل کرنے والا درندرہ صفت انسان عمران اپنی انجام کو پہنچ گیا ۔سزائے موت توان کو اس دنیا میں مل گئی ۔ قبر میں اﷲ کو کیا جواب دینگے کہ میں نے ان فرشتہ جیسی بچیوں کو قتل کیوں کیا؟کاش والدین اپنے بچوں کیلئے حلال وحرام میں تمیز کیے بغیر دولت اکٹھا کرنے کی بجائے اپنے بچوں کی صحیح معنوں میں پرورش کریں ۔ آج والدین بچوں کی تر بیت کرنے کی بجائے ان کو پیسوں کا لالچ دے کر خود بھی زندگی برباد کرتے ہیں اور بچوں کی زندگی بھی برباد ہوجاتی ہے۔

براک حسین اوباما سابق امریکی صدر کی بیٹی جب یونیورسٹی سے ڈگری لے رہی تھی تو اس دن کنوکشن میں اپنی ٹوپی پر لکھا تھا کہ بچوں کا والدین پر حق تعلیم کا ہے اور یہ ہمارے رسول پاک نے کہا ہے یعنی والدین اپنے بچوں کو مال ودولت نہ دے بلکہ صرف تعلیم دینے کا حق ادا کرے کہ جس سے وہ ایک اچھا شہری بن جائے ۔یہ تعلیم ہمارے آقا نے ہمیں دی ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جہاں آج والد ین بچوں کی تر بیت سے غافل ہے وہاں ہمارے تعلیمی ادارے بھی بچوں کو اخلاقی تعلیم دینے سے قاصرہے ۔ ہمارے مساجد میں زیادہ تر سیاسی گفتگو اور دوسروں پر تنقید کی جاتی ہے لیکن اگر امام مسجد اور اساتذہ عوام کی اخلاقی تر بیت پر توجہ دے تو بہت سے مسائل کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ سکو لوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اخلاقی تر بیت ناگفتہ بہ ہے۔ اسلئے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اساتذہ کا احترام اور عزت اب ختم ہوتی جارہی ہے جس پر ہمارے علمائے کرام سمیت پروفیسر صاحبان کو توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ جو بچے معاشرہ میں مثبت کردار ادا نہیں کرتے بلکہ منفی روحجانات کی طرف مائل ہوتے ہیں اس کا قصوار کون ہوتا ہے ؟ اس بات پر توجہ دینی کی ضرورت ہے کہ بحیثیت معاشرہ ہم کس طرف جارہے ہیں ۔ دوسرا سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جزا وسز ا کا عمل امیر کے لئے الگ اور غریب کیلئے الگ کیوں ہے۔ اس تفریق سے معاشرہ تباہ ہوجاتا ہے‘اس تفریق کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

آج ہم دیکھتے ہیں کہ غریب آدمی کو تو سزا ہوجاتی ہے ان کو ہتھکڑیاں اور جیل میں بند کیا جاتا ہے لیکن جنہو ں نے ملک کو لوٹا ہے ان لوگوں کو صرف تاریخیں دی جاتی ہے ۔گزشتہ دنوں چیف جسٹس اف پاکستان ثاقب نثار صاحب نے لاہور میں تقریر کی تو معلوم ہوا کہ ان کو سب چیزوں کا پتہ ہے کہ غریب کو صر ف عدالتوں میں تاریخیں دی جاتی ہے عشروں پر فیصلے نہیں ہوتے جبکہ امیروں کیلئے فیصلے جلدی ہوجاتے ہیں ۔ امیر وں اور ملک کو لوٹنے والوں کیلئے قانون کی کتاب الگ نہیں لیکن عملی طور پر اور حقیقت اس کے برعکس ہے جن کی وجہ سے ملک تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے ۔ جن افراد کی جائدادوں میں ہزار ہزار گنا اضافہ ہوا ان کیلئے کوئی پھانسی اور سزا نہیں جب ایک عدالت سے سزا ہوجاتی ہے دوسری عدالت ان کی سزا معاف کرد یتا ہے ۔ انصاف کے اس دوہرے نظام نے معاشرے اور ملک کوتباہ کر دیا ہے ۔ آج اس تباہی اور ناانصافی کی وجہ سے غریب خودکشیا ں کررہاہے۔ دوسری طرف ملک کو تباہ کرنے والوں کیلئے ناصرف میڈیاپر جھوٹا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے بلکہ ان کے ساتھی اپنے لیڈروں کیلئے اتنا جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ خدا کا پناہ جس کی ایک جھلک ہم نے ضمنی انتخابات میں بھی دیکھ لیا کہ جب تمام اپوزیشن جماعتوں کے مشترک ن لیگ امیدواروں نے لاہور میں کامیابی حاصل کی تو اس کو الیکشن کی کامیابی سے زیادہ ن لیگ رہنماؤں نے کرپشن کیسز اور سزاؤں کو معطل کرنے کا پروپیگنڈا کیا گیا کہ عوام ہمارے ساتھ کھڑی ہے ہماری قیادت نے کوئی کرپشن نہیں اورسیاست دانوں کو عدالتیں نہیں بلکہ عوام کی عدالتیں سزا دیتی ہے اور عوام کی عدالت نے ن لیگ کے حق میں فیصلہ کرلیا ۔ اب شریف برداران پر کیسز کو ختم ہونا چاہیے ۔ یہ حمزہ شہباز شریف اور ن لیگ رہنماؤں نے میڈیا کو بتایا کہ جیسا کہ سارے لوگوں نے ان کے حق میں فیصلہ کرلیا کہ شریف برداران بے گنا ہ ہے اور تبدیلی سرکار دو ماہ میں ناکام ہوگئی ۔

مجرم کوسز ا یا جزا عدالت دیتی ہے وہ میڈیا بیانات یا الیکشن میں پانچ سیٹیں حاصل کرنے سے تبدیل نہیں ہوتی ۔ ضمنی الیکشن میں اپوزیشن خاص کر ن لیگ کی کامیابی میں پی ٹی آئی قیادت کے فیصلوں کا ہاتھ ہے کہ تحر یک انصاف کا کارکن لکیر کا فقیر نہیں کہ جن کا پی ٹی آئی سے تعلق نہیں تھا ان کو ٹکٹ دے کر جیتی ہوئی سیٹ پی ٹی آئی نے ہار دی ۔ سعد رفیق کے مقابلے میں ولید اقبال کو ٹکٹ دیا جاتا تو وہ سیٹ جیت جاتا ، پی ٹی آئی ووٹرز نے قیادت کو پیغام دیا کہ ہم روایتی سیاست کے خلاف ہے اور جب پی ٹی آئی روایتی سیاست کریں گی توان میں اور ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں کیا فرق رہ جاتا ہے ،اس طرح اٹک میں تحریک انصاف کے رہنما پی ٹی آئی امیدوار کی بجائے ن لیگی امیداوار کا ساتھ اور ووٹ مانگ رہے تھے جس پر قیادت کو ایکشن لینے کی ضرورت ہے لیکن اس کے باوجود کہ جب تمام جماعتیں پی ٹی آئی کے خلاف کھڑی تھی اس میں اکیلے پی ٹی آئی نے سب سے زیادہ نشستیں جیت لی ہے ۔ پی ٹی آئی کو ضمنی الیکشن میں بعض جگہوں پر شکست ان کی اپنی غلط پالیسوں کی وجہ سے ملی یعنی ہر برے کام کا انجام آخربرا ہی ہوتا ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ عام آدمی کو ریلیف دینے کے وعدوں پر عمل کرنا چاہیے ناکہ بجلی ، گیس اور پٹرول ریٹ بڑھا کر عام آدمی پر مہنگائی کا بم گرایا جائے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Haq Nawaz Jillani

Read More Articles by Haq Nawaz Jillani: 268 Articles with 129392 views »
I am a Journalist, writer, broadcaster,alsoWrite a book.
Kia Pakistan dot Jia ka . Great game k pase parda haqeaq. Available all major book shop.
.. View More
18 Oct, 2018 Views: 705

Comments

آپ کی رائے