ماحول

(Mumtaz Amir Ranjha, Rawalpindi)

عمران خان صاحب نے جب دھرنا دیا تھا تب ہی ایک کالم میں لکھا تھا کہ عوام کو پی ٹی آئی کی تبدیلی کا ککھ فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ جب تک عوام خود تبدیل نہیں ہوں گے یہاں ہمارے ملک میں تبدیلی ممکن ہی نہیں۔آج کے کالم میں اس بات میں نہیں پڑنا کہ نیب اور حکومت کس گٹھ جوڑ سے ن لیگ ،نواز شریف اور شہباز شریف کو بدنام کر رہی ہے۔آج کا کالم اس بات پر ہوگا کہ نئی حکومت نے آ کے ابھی تک کون سے تیر مار لئے ہیں۔

کالم میں کرپشن کے دو واقعات کا ذکر ضروری ہے یہ واقعات اس لئے قلمبند کر رہا ہے کہ میرے ساتھ پیش آئے ہیں اس لئے بتا رہا ہوں کہ میرے جیسے21سال سے کالم لکھنے والے انسان کو بھی کرپٹ مافیا نہیں چھوڑتا توذرا سوچیں عام آدمی کی شلوار کیسے اتارتے ہونگے ؟یہ کرپٹ عناصر۔ہم دنیا نیوز کے ہارون الرشید بھی نہیں کہ لوگوں کو دھمکیاں لگائیں یا انہیں گدھا گدھا کہیں۔

گھر میں سرکاری نلکے والے پانی کی ضرورت تھی۔لیاقت باغ پا نی کی درخواست بنا کر پہنچے تو کھڑکی میں کھڑے ہو کر خاتون کو اپنی پانی کی درخواست جمع کرانے کو دی اس نے کہا کہ ’’بھائی صاحب آپ یہ درخواست اپنے قریب کھڑے لڑکے کو دے دیں‘‘۔

حیران ہو کر پوچھا کہ ’’کیا یہ صاحب یہاں کلر ک ہیں‘‘۔پوچھنے پر پتہ چلا کہ موصوف ہمارے علاقے کی پانی والی ٹینکی کے ایڈمنسٹر یڑ ہیں اور یہ اس درخواست پر پانی لگا دیں گے اور کچھ دنوں تک ڈیمانڈ نوٹس بھی دے دیں گے۔گھر پہنچے تو خوشی چھپائی نہیں جا رہی تھی کیونکہ ہمیں اسی ایڈمنسٹریٹر کی فون کال موصول ہو رہی تھی کہ ’’ممتا ز بھائی آپ 4500روپیہ دے دیں کیونکہ ہم نے کھڈا لگا کر پانی کا کنکشن لگانا ہے اور باقی 3500روپیہ سرکاری فیس کچھ دنوں تک ڈیمانڈ نوٹس کی صورت میں آپ کو بینک میں جمع کروانا ہوگا۔ڈیمانڈ نوٹس ایک ہفتہ بعد آپ کو مل جائے گا‘‘۔

پانی کا کنکشن کیا لگا کیا بتائیں یہ کہانی کرپشن کی عجب غضب کہانی ہے جسے بتاتے ہی سر شرم سے جھک جاتا ہے کیونکہ ہم سمجھے کہ تبدیلی کے دعوے دار اتنے ایڈوانس ہو گئے ہیں کہ پہلے کنکشن لگاتے ہیں بعد میں ڈیمانڈ نوٹس دیتے ہیں۔یہاں بتانا بہت ضروری ہے کہ تقریباً چھے ہفتے سے کنکشن لگایا گیا ہے لیکن مجال ہے جو پانی کا ایک قطرہ بھی پانی کے نل میں آیا ہو۔ہم نے ہر روز موصوف کو فون کیا ۔کبھی فون اٹینڈہی نہ ہوا ،کبھی موصوف بے بہانے بازی کی کہ ابھی پانی کی موٹر جل گئی ہے،کبھی کہا گیا جب آپ کا پانی آئے گا تب ہی آپ کو ڈیمانڈ نوٹس دیا جائیگا وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھائی یہ تونلکے کی پانی کی کہانی تھی۔۔۔۔ابھی تبدیلی کی ایک اور کہانی باقی ہے۔۔۔۔ہم نے گھر کی بالائی منزل پربجلی کا میٹر لگانا تھا۔۔۔درخواست دینے گئے تو واپڈ آفس میں درخواست جمع کرنے والے نے مبلغ چھ ہزار رشوت طلب کی ، ہم نے منت کی کہ بھائی کچھ نہیں تو ہمارے منہ پر داڑھی کا ہی لحاظ رکھو۔۔۔اس نے کہا ممتاز بھائی میٹر نہیں لگانا آپ کی مرضی۔۔۔۔رشوت کے بغیر ہم یہ کام نہیں کر سکتے آخر دوسری منزل کا میٹر ہے۔۔۔۔۔مایوس ہو کر واپس ہو آئے اور آن لائین درخواست ٹھوک ماری۔۔۔۔کچھ عرصے بعد دوبارہ درخواست کی آن لائین رسید اور فائل لیکر وہاں کے کمپیوٹر آپریٹر کے پاس پہنچے اور پرانی داستان سنائے بغیر اپنی جمع شدہ درخواست اوراس کی فائل اس کو تھمادی۔دو تین ہفتے بعد سروے بھی ہو گیا اور مہینے بعد ڈیمانڈ نوٹس جمع کروادیا۔پھر ایک روز میٹر اور تار لینے واپڈا کے دفتر پہنچے تو پتہ چلا کہ ان کا سٹور مین کہیں گیا ہے گیارہ بجے دفتر تشریف لائیگا۔سوا گیارہ پہنچے تو صاحب موجود تھے انہوں نے بڑا سا منہ بنایا ہوا تھا۔میٹر اور تار تھماتے ہوئے کہا ،’’اچھا تو یہ آپ کا سامان تھا اس کی وجہ سے مجھے آج جلدی دفتر آ نا پڑا۔بے فکر ہو جائیں آپ کی تار کی لمبائی بالکل پوری ہے۔لائین مین شام کو لگا جائے گا۔ابھی میں جا رہاہوں ابھی ناشتہ کرناہے‘‘۔حساب لگائیں واپڈا میں بطور سٹور مین جاب کرنے والے کے پاس اٹھارہ لاکھ کی ہنڈا گاڑی تھی۔گاڑی میں بیٹھا ہو مین سڑک پر غائب ہو گیا۔

دو دن فون کالز کرنے کے بعد جب لائین مین کنکشن لگانے آیا تو اس نے کہا کہ’’ جو تا ر واپڈا آفس سے ملی ہے وہ تار تو بہت چھوٹی ہے، کھمبے تک نہیں پہنچ سکتی‘‘۔ہم نے کہا کہ’’ بھائی آپ کے دفتر گیارہ ہزارکا ڈیمانڈ نوٹس جمع کرایا ہے۔پیمائش بھی آپ لوگوں نے کی ہے،میرا کیا قصور ہے‘‘۔خیر بڑے نخروں بعد اس نے نئے میٹر کی تار پہلے لگے میٹر سے کی تار سے نتھی کی اور مجھے کہا کہ ’’مزے کریں آپ کا میڑ لگ گیا‘‘۔

چیف جسٹس صاحب اور جناب وزیر اعظم صاحب کو اس نئی تبدیلی کے واقعات کا علم ہونا بہت ضروری ہیں۔سوچنے اور سمجھنے کی باتیں ہیں ن لیگ ،نواز شریف اور شہباز شریف کا کیا قصور انہوں نے تو کچھ نہ کچھ ڈیلیور کیا ہے۔یقین کریں اس حکومت کے آنے کے بعد بازار جو چیز خریدنے جائیں دو سو گنا مہنگی ملتی ہے۔ہر جگہ بے یقینی کی فضا ہے۔تاجر ،دکاندار،سرمایہ کار،ٹیچر،سیاستدان، صحافی اور مزدور سب کی واٹ لگ گئی ہے۔جن گاڑیوں میں بچے سکول پڑھنے جاتے ہیں ان کا کرایہ دگنا ہو گیا ہے،بجلی کا ریٹ ڈبل ہو گیا ہے۔ہم تو پریشان ہیں پچاس لاکھ گھر کیسے بنے گے،ان میں کون رہیگا اور کیسے رہیگا۔تبدیلی مہنگائی اور مارا ماری کی ہوئی ہے اور یہ تبدیلی کچھ زیادہ ہے ۔تبدیلی والے ایسا ماحول بنائیں کہ عوام ایماندار اور خوشحال ہو جائے۔ایسا ماحول نہ بنائیں کہ جس میں فواد چوہدری جیسا پانچ حکومتوں کا لوٹا اپنے آپ کو دنیا کا کامیاب ترین فرد سمجھے،ایسا ماحول نہ بنائیں کہ ملک کی خدمت کرنے والے شریف برادران اپنی خدمت کرنے پر پچھتائیں۔ایسا ماحول نہ بنائیں کہ عوام تبدیلی کو ووٹ دینے کی سزا بھگتے اور جوتے پی ٹی آئی کی طرف پھینکے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mumtaz Amir Ranjha

Read More Articles by Mumtaz Amir Ranjha: 26 Articles with 9728 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Oct, 2018 Views: 535

Comments

آپ کی رائے